غزہ میں انسانیت کا قتلِ عام عالمی ضمیر
تحریر: محمد حمید شاہد
غزہ کی پٹی پر جاری سنگین صورت حال نے ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ محض ایک علاقائی تنازعہ نہیں، بلکہ عالمی انسانی حقوق اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ وقت محض تبصرہ کرنے کا نہیں، بلکہ عمل کرنے اور حقیقت کو تسلیم کرنے کا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور دیگر انسانی حقوق کے اداروں کی حالیہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ غزہ میں خوفناک تباہی مچی ہوئی ہے۔ حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 ء کے بعد سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 37,000 سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں زیادہ تر تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ زخمیوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے بھی زیادہ ہے، اور ہزاروں لوگ بمباری سے تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ طبی عملے کی محدود رسائی اور ضروری ساز و سامان کی قلت کے سبب، ہزاروں زخمیوں کے جسمانی اعضا کو کاٹنے جیسے انتہائی مشکل فیصلے کرنے پڑے ہیں تاکہ ان کی جانیں بچائی جا سکیں۔ تقریباً اٹھارہ سو سے زائد طبی کارکنان زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ غزہ میں ایک شدید انسانی بحران جنم لے چکا ہے، جہاں خوراک، پانی، ادویات اور بجلی کی قلت سے قحط اور وبائی امراض کا خطرہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
غزہ کا موجودہ بحران ایک طویل اور پیچیدہ تاریخی عمل کا نتیجہ ہے۔ پہلی عالمی جنگ میں سلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد جب برطانیہ نے فلسطین کا کنٹرول سنبھالا، تو اسی وقت غزہ کے بحران کی بنیاد رکھ دی گئی تھی۔ 19 ویں صدی کے آخر میں صیہونی تحریک کا آغاز ہوا، جس کا مقصد فلسطین میں یہودیوں کے لیے ایک قومی وطن کا قیام تھا۔ دو نومبر 1917 ء کو برطانوی وزیر خارجہ آرتھر جیمز بالفور نے صیہونی رہنماؤں کو ایک خط لکھا جسے بالفور اعلامیہ کہا جاتا ہے۔ اس اعلامیے میں برطانیہ نے فلسطین میں یہودی وطن کے قیام میں بھرپور مدد دینے کا وعدہ کیا تھا۔ 1882 ء کے بعد سے یورپ سے یہودیوں کی بڑے پیمانے پر فلسطین میں آباد کاری شروع ہوئی تھی، جسے بالفور اعلامیہ کے بعد برطانوی سرپرستی بھی حاصل ہو گئی۔ اس آباد کاری اور زمینوں کی خرید و فروخت پر فلسطینی عرب آبادی نے شدید مزاحمت کا آغاز کیا۔ 1947 میں اقوام متحدہ نے فلسطین کو عرب اور یہودی ریاستوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ دیا جسے عربوں نے مسترد کر دیا۔ 14 مئی 1948 ء کو برطانوی کنٹرول کے خاتمے کے بعد ریاست اسرائیل کے قیام کا اعلان ہوا۔ اس کے فوراً بعد عرب اسرائیل جنگ شروع ہو گئی، جس کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر مہاجر بنا دیے گئے۔ 1967 ء کی چھ روزہ جنگ میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی، مغربی کنارہ (بشمول مشرقی یروشلم) اور دیگر عرب علاقوں پر قبضہ کر لیا، جس نے تنازع کی شدت کو مزید بڑھا دیا۔ غزہ کی پٹی پر 2007 ء سے فلسطینی تنظیم حماس کا کنٹرول ہے، اور 7 اکتوبر کے حملے کے بعد سے اسرائیل کی طرف سے حماس کو ختم کرنے کے بہانے فلسطینوں کی نسل کشی کے لیے شدید بمباری اور زمینی کارروائیاں جاری ہیں۔
یاد رہے عالمی طاقتوں نے تنازع کے حل کے لیے دو ریاستی تصور پیش کیا گیا ہے جس کے تحت اسرائیل کے ساتھ ساتھ ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جانا ہے، جو عام طور پر 1967 ء کی سرحدوں پر مبنی ہو اور مشرقی یروشلم اس کا دارالحکومت ہو۔ تاہم، اسرائیل کی موجودہ دائیں بازو کی حکومت اس حل کی سخت مخالف ہے اور مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی مسلسل توسیع اس حل کو عملی جامہ پہنانے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ حماس اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے اور پورے فلسطین کی آزادی کا مقصد رکھتی ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی قومی پالیسی بھی دو ریاستی حل کے حق میں ہے۔
اس بحران کے دوران، مصر، قطر اور امریکہ جیسے ممالک بظاہر ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں، لیکن فریقین کے درمیان گہرا عدم اعتماد اور نظریاتی اختلاف اس عمل کی کامیابی کے امکانات کو انتہائی مشکل بنا رہے ہیں۔ اس کا ایک بڑا سبب امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی مسلسل غیر مشروط حمایت اور جنگی وسائل کی فراہمی ہے، جو عالمی برادری میں مفادات کے ٹکراؤ اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں پر دوہرے معیار کو واضح کرتا ہے۔ دنیا بھر میں اسرائیل کی غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی مذمت میں احتجاج ہو رہا ہے لیکن مسلم ممالک کے حکمرانوں کی طرف سے یکسو ہو کر اس جانب عملی قدم اٹھانے میں جو سستی برتی جا رہی ہے اس سے اسرائیل کو مزید اپنے حملوں میں شدت لانے کی چھوٹ دے رکھی ہے۔
جنوبی افریقہ کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کا مقدمہ دائر کرنا اس بحران کی سنگینی کو بین الاقوامی قانون کے تحت لاتا ہے۔ عالمی برادری پر یہ لازم ہے کہ وہ ان قانونی کارروائیوں کا احترام کرے اور جنگ بندی کو یقینی بنائے۔ یہیں ٹرمپ کے بیس نقاط پر مشتمل امن منصوبے کا ذکر بھی ہو جانا چاہیے جو ان کے گزشتہ دور حکومت میں سامنے آیا تھا اور مسلم ممالک کے سربراہوں کی حالیہ ملاقات کے بعد جس پر پہلے پہل یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ اس کے ذریعے مسئلے کا حل نکل آیا ہے۔ ہمارے وزیر اعظم شہباز شریف نے اس کے خیر مقدم میں بیان بھی جھونک دیا تھا مگر مگر جب عوامی ردعمل سامنے آیا تو پریس کانفرنس اور قومی اسمبلی میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے میں وہ اہم نکات شامل نہیں جو پاکستان نے سات دیگر مسلم ممالک کے ساتھ مل کر تجویز کیے تھے۔ کیا اس منصوبے پر مزید پیش رفت ممکن ہوگی جب کہ شک کیا جا رہا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کی منشا کے مطابق منصوبے میں ردو بدل کر لیا ہے۔ اور اب ٹرمپ نے دھمکی دے دی ہے کہ اگر حماس نے ان کا منصوبہ نہ مانا تو اس پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔
میں سمجھتا ہوں کہ پائیدار امن صرف تب ہی ممکن ہے جب انصاف، مساوات، اور انسانی احترام کو مقدم رکھا جائے۔ امریکہ اسرائیل نواز رویہ ترک کرے اور مسلم ممالک متحد ہو کر آگے بڑھیں۔ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ صرف امداد پر اکتفا نہ کرے، بلکہ ایک ایسا جامع اور فعال سیاسی عمل شروع کرے جو دونوں قوموں کو امن اور سلامتی کے ساتھ شانہ بشانہ رہنے کی راہ دکھائے۔ غزہ میں بہنے والا خون ایک گواہی ہے کہ عالمی ضمیر کا امتحان ابھی جاری ہے۔ انسانی جانوں کا یہ بے ضیاع اور اس خطے کا استحکام مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

