دائرے کا کھیل
تحریر: آصف امین
جمہوریت کے بارے میں ایک قول مشہور ہے: “یہ سرمایہ دارانہ نظام کی لونڈی ہے”۔ بظاہر یہ فقرہ تلخ اور مبالغہ آمیز محسوس ہوتا ہے، مگر حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ نہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ جمہوری ممالک میں بھی وہی طاقت کارفرما ہے جو دولت پر قابض ہے۔ وہاں بھی اقتدار کے فیصلے عام آدمی کی رائے سے زیادہ ان طبقات کے مفادات طے کرتے ہیں جو سرمایہ اور ذرائع ابلاغ کے مالک ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں اس کھیل کو مہذب انداز میں کھیلا جاتا ہے۔ پاکستان چونکہ ایک اسلامی جمہوریہ کے طور پر وجود میں آیا، اس لیے یہاں جمہوریت کے ساتھ ساتھ ایک نظریہ بھی ریاستی ڈھانچے میں پیوست کر دیا گیا۔ مزید برآں بابائے قوم نے بھی اس کو اسلام کی تجربہ گاہ قرار دیا تھا، لہٰذا بابائے قوم کے اس قول کی لاج رکھتے ہوئے وطنِ عزیز میں وہ وہ تجربات کیے گئے، الامان الحفیظ۔
وقت کے ساتھ ساتھ مقتدرہ نے نظریۂ پاکستان کو نہ صرف اپنی طاقت کے تحفظ کا جواز بنایا بلکہ اسے ایک ایسے آلے میں ڈھال دیا جو حسبِ ضرورت مذہبی جذبات کو بھڑکانے، سیاسی جماعتیں بنانے اور مصلحتوں کے مطابق نظریات تشکیل دینے کے کام آتا رہا۔ یہ عمل دراصل اس وقت شروع ہوا جب ریاست نے مذہب کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ مذہب جو انسان کے باطن کی اصلاح کا وسیلہ تھا، اقتدار کے کھیل میں بطور ہتھیار استعمال ہونے لگا۔ کبھی اسلام کے نام پر جہاد کو فروغ دیا گیا، کبھی نظریۂ پاکستان کے تحفظ کے نام پر مخالف آوازوں کو دبایا گیا۔ اسٹیبلشمنٹ نے مذہب اور حب الوطنی کو اس طرح گڈمڈ کیا کہ اب ان کے درمیان فرق کرنا ممکن نہیں رہا۔ جو ان کے بیانیے سے متفق ہو، وہ محبِ وطن اور دیندار؛ جو اختلاف کرے، وہ غدار اور ایمان فروش۔
ریاستی تاریخ اس حقیقت سے بھری پڑی ہے کہ جب بھی مقتدرہ کو اپنے مفادات کے تحفظ کی ضرورت محسوس ہوئی، اس نے کسی نہ کسی جماعت یا گروہ کو مذہبی رنگ دے کر میدان میں اتارا۔ افغان جہاد کے زمانے میں مذہبی تنظیموں کو سپر پاورز کی حمایت کے ساتھ پروان چڑھایا گیا۔ سپاہِ صحابہ، جیشِ محمد، حرکت المجاہدین اور درجنوں ایسی تنظیمیں اسی حکمتِ عملی کی پیداوار تھیں۔ ان گروہوں کو اسلام کے نام پر مالی و عسکری امداد فراہم کی گئی، ان کے لیڈروں کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا گیا، اور عوام کے دلوں میں یہ تاثر بٹھایا گیا کہ وہ ریاست کے اصل محافظ ہیں۔
پھر وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا آیا ہے۔ جنہیں طاقت دی گئی، وہ طاقت کے خمار میں خود مختار ہونے لگے۔ جنہیں اقتدار کے دروازے دکھائے گئے، انہوں نے وہی دروازے خود کے لیے کھولنے کی کوشش کی۔ یوں ریاست اور اس کے بنائے ہوئے گروہ آمنے سامنے آ گئے۔ محبت کے رشتے نفرت میں بدل گئے، اور جنہیں کل تک ملک و ملت کا فدائی کہا جاتا تھا، وہی آج ریاست کے لیے خطرہ ٹھہرے۔
یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب طاقتور مقتدرہ اپنے ہی بنائے ہوئے پودے کو جڑ سے کاٹ دیتی ہے۔ یہ کھیل نیا نہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ ایسے منصوبوں سے بھری پڑی ہے۔ کبھی مذہبی جماعتوں کو سہارا دے کر عوامی سیاست کا توازن بگاڑا گیا، کبھی سیاسی رہنماؤں کو حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے اور پھر انہی سے وہ سرٹیفکیٹ واپس لے لیے گئے۔ جب کوئی جماعت عوامی اثر حاصل کر لیتی ہے تو مقتدرہ کو خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ کہیں طاقت کا توازن بگڑ نہ جائے۔ اس وقت پورا ریاستی نظام متحرک ہوتا ہے تاکہ اس جماعت یا رہنما کو بے اثر کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے میڈیا، عدلیہ اور قانون — سب استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ کہنا اب کوئی مبالغہ نہیں کہ بطور ریاست ہم نے شدت پسندی پر باقاعدہ سرمایہ کاری کی ہے۔ افغان جنگ کے دوران ڈالر اور نظریہ دونوں بہتے رہے۔ مذہب کو جوش دلانے کے لیے استعمال کیا گیا، مگر جب جنگ ختم ہوئی تو وہی جذبہ جو دشمن کے خلاف برتا گیا تھا، ملک کے اندر اپنا رخ بدلنے لگا۔ وہ نوجوان جو جہاد کے نعرے سے متاثر ہو کر بندوق اٹھائے نکلے تھے، وہ اب بے مقصد اور بے سمت ہو گئے۔ یوں شدت پسندی ایک عادت بن گئی، اور فرقہ واریت نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
اس پالیسی کا سب سے بڑا نقصان مذہب کو ہوا۔ مذہب جو امن، برداشت اور عدل کا پیغام دیتا ہے، اسے غصے، انتقام اور نفرت کا استعارہ بنا دیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عام آدمی کے دل میں مذہبی نعرے نے احترام کے بجائے خوف پیدا کر دیا۔ اب جب بھی کوئی نعرہ لگتا ہے، لوگ دعا کرتے ہیں کہ خدا خیر کرے، کہیں پھر کوئی نیا طوفان نہ اٹھے۔
جمہوریت کے نام پر بننے والی حکومتیں بھی اسی کھیل کا حصہ رہیں۔ ہر سیاسی رہنما کسی نہ کسی وقت مقتدرہ کے سائے میں پروان چڑھا، اور جب اس نے خود مختاری دکھانے کی کوشش کی تو اسی سائے نے اسے نگل لیا۔
بھٹو سے لے کر عمران خان تک، سب اس دائرے کے قیدی رہے۔ یہاں سیاسی وفاداری نہیں، وفاداری کی تشریح اہم ہے — جو مقتدرہ کے دائرے میں رہے وہ محب وطن، جو باہر نکلے وہ سازشی۔
ان مسلسل تجربات نے ملک کو ایک فکری بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ ریاست کے ادارے ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے، عوام کو یقین نہیں رہا کہ ان کی رائے کوئی معنی رکھتی ہے۔ مذہب، سیاست، نظریہ، وفاداری — سب کچھ دھندلا گیا ہے۔
اس دائرے کے کھیل کو دیکھ کر میر تقی میر یاد آ گیا:
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کیا
چاہتے ہیں سو آپ کریں، ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

