تغافل کی طنزیہ جمالیات اور عہدِحاضر
تحریر: حیران مومند
غالب کا یہ شعر—
’’ہم نے مانا کہ تغافل نہ کروگے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم، تم کو خبر ہونے تک‘‘
اردو شاعری میں تغافل، انتظار، اور انسانی لاچاری کے لطیف ترین اظہاروں میں سے ہے۔ غالب اپنی بات کو اس انداز میں کہتے ہیں کہ وہ محض ایک عاشق اور معشوق کے مکالمے کی حدود میں قید نہیں رہتا بلکہ انسانی تاریخ، سماجی حقیقتوں اور تہذیبی المیوں کی تہوں میں اتر کر کائناتی صداقتوں کو چھو لیتا ہے۔
اس شعر میں ایک طرف محبوب کے بے نیازی کے انداز کو طنز اور شکوے کے لہجے میں بیان کیا گیا ہے، اور دوسری طرف انسانی زندگی کی ناپائیداری کا ایک ایسا المیہ اجاگر کیا گیا ہے جو وقت اور حالات کی بے رحمی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ محبوب کا تغافل محض ایک رومانوی رویہ نہیں بلکہ اس میں اقتدار کی بے حسی، سماج کی بے خبری اور تاریخ کے جبر کا استعارہ بھی جھلکتا ہے۔ غالب کو یقین ہے کہ محبوب بالآخر متوجہ ہوگا، لیکن تب تک وہ خود فنا کے پردے میں جا چکے ہوں گے۔ یہی وہ جمالیاتی تضاد ہے جو شعر کو ابدی بنا دیتا ہے۔
اب اگر اس شعر کو موجودہ حالات کے آئینے میں دیکھا جائے تو اس کے کئی پرت کھلتے ہیں۔ پاکستان میں حالیہ برسوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب ہوں، سیاسی و اقتصادی بدحالی ہو، یا امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال—ہر منظرنامہ غالب کے اس شعر کو حقیقت کے قریب تر کر دیتا ہے۔
سیلابی صورتحال میں ہم نے دیکھا کہ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، کھیت و کھلیان بہہ گئے، اور انسانیت کی بقا سوالیہ نشان بن گئی۔ ریاست اور ادارے، جنہیں فوراً متوجہ ہونا تھا، دیر تک تغافل کی کیفیت میں رہے۔ امداد کے وعدے، اجلاسوں کی گونج، اور عالمی سطح پر امدادی اعلانات ہوئے، لیکن جب تک عملی اقدامات کی صورت میں کوئی تبدیلی آئی، ہزاروں خاندان اپنی زندگیاں اور زمینیں گنوا بیٹھے۔ گویا عوام کی زبان پر یہی صدا تھی:
“ہم نے مانا کہ تغافل نہ کروگے لیکن، خاک ہو جائیں گے ہم، تم کو خبر ہونے تک۔”
سیاسی و اقتصادی منظرنامے میں بھی یہ شعر کم و بیش اسی طرح فٹ بیٹھتا ہے۔ عوام کے بنیادی مسائل—مہنگائی، بیروزگاری، بجلی اور گیس کے بحران—روز بروز شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ سیاست دان اپنی اقتدار کی لڑائیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ عوام کی فریاد اور کرب ان کے کانوں تک پہنچنے میں دیر کر دیتا ہے، اور جب تک حکمران طبقہ حقیقت کا ادراک کرتا ہے، معاشرہ مزید زوال کی دلدل میں دھنس چکا ہوتا ہے۔ یہی تغافل عوام کے دلوں میں مایوسی اور بے بسی کو بڑھا دیتا ہے۔
امن و امان کی بگڑتی صورتحال کو دیکھیں تو یہ شعر ایک اور پہلو سے سامنے آتا ہے۔ دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اور بدامنی نے بالخصوص خیبرپختونخوا اور ضم شدہ اضلاع میں عوام کی زندگی کو اذیت ناک بنا دیا ہے۔ بار بار کے حملے، روزانہ کے خطرات، اور بے یقینی نے عام انسان کو نفسیاتی اور جسمانی طور پر تھکا دیا ہے۔ عوام دہائی دیتے ہیں، لیکن ریاستی اداروں کا ردِ عمل اکثر تاخیر سے آتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ نقصان ہو چکا ہوتا ہے اور جانیں مٹی میں مل چکی ہوتی ہیں۔ یہاں بھی غالب کے الفاظ عہدِ حاضر کے حالات پر منطبق ہوتے ہیں۔
غالب کا تغافل دراصل ایک فلسفیانہ طنز ہے۔ وہ یہ باور کراتے ہیں کہ انسانی زندگی کی ناپائیداری اور وقت کی تیزی اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتی کہ ہم دیر تک کسی کے التفات کے منتظر رہیں۔ مگر عملی دنیا میں انسان اسی انتظار کا قیدی ہے۔ محبوب ہو یا ریاست، فرد ہو یا ادارہ—سب اپنے وقت پر متوجہ ہوتے ہیں، لیکن تب تک حالات کسی نہ کسی کو “خاک” بنا چکے ہوتے ہیں۔
یہ شعر ہمیں نہ صرف معاشرتی بے حسی پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ تغافل اور تاخیر کے نتیجے ہمیشہ المناک ہوتے ہیں۔ اگر سیلاب کے دوران بروقت انتظامات کیے جاتے تو ہزاروں زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں۔ اگر معیشت کی پالیسیوں پر وقت رہتے اتفاق رائے پیدا ہوتا تو آج مہنگائی کی یہ لہر اتنی تباہ کن نہ ہوتی۔ اگر امن و امان کے معاملات پر بروقت توجہ دی جاتی تو شاید عوام کو یوں خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور نہ ہونا پڑتا۔
غالب کے اس شعر کی روح یہی ہے کہ “خبر” آنے تک سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ عہدِ حاضر میں یہ خبر کبھی میڈیا رپورٹس کے ذریعے آتی ہے، کبھی عالمی اداروں کے اعداد و شمار کے ذریعے، اور کبھی عوام کے احتجاج کی صورت میں۔ مگر جب تک حکمران اور فیصلہ ساز طبقہ اس خبر پر بیدار ہوتا ہے، عوام کی اکثریت اپنی امیدیں، خواب اور زندگیاں کھو چکی ہوتی ہے۔
یوں یہ شعر ایک آئینہ ہے جس میں ہم نہ صرف ماضی کی بے حسی دیکھ سکتے ہیں بلکہ حال کے سانحات اور مستقبل کے خدشات بھی۔ غالب کا کمال یہی ہے کہ وہ اپنے رومانی احساس کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ وہ ہر زمانے کے اجتماعی شعور پر منطبق ہوتا ہے۔ آج کے پاکستان میں یہ شعر عوام کی زبان حال ہے اور ہمارے اجتماعی ضمیر کے لیے ایک کڑا سوال بھی: آخر کب تک تغافل کے پردے میں زندگیاں مٹی میں ملتی رہیں گی؟
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

