قبائلی خواتین:ڈیجیٹل دور پر تعلیم سے محروم
تحریر: حیران مومند
پاکستان کے موجودہ ڈیجیٹل اور تیز رفتار ترقی کے عہد میں یہ سوال زیادہ تلخ اور تکلیف دہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے قبائلی (سابقہ فاٹا) اور دور افتادہ اضلاع کی خواتین اور بچیاں اب بھی ابتدائی اور بعد از ابتدائی تعلیم سے بڑی حد تک محروم کیوں ہیں۔ آج گھروں میں موبائل فون کی روشنی موجود ہے، مگر علم کی روشنی اکثر نہیں پہنچتی؛ انٹرنیٹ کے سگنلز ملتے ہیں مگر اسکول کی گھنٹی شاذ و نادر ہی بجتی ہے۔ یہ محرومی محض ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ قومی ترقی، امن، جمہوری شرکت، معیشت، صحتِ عامہ اور آئینی مساوات کے بنیادی اصولوں سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔
پاکستان کی مجموعی تصویر سامنے رکھی جائے تو 2023ء کی مردم شماری کے مطابق ملک میں خواندگی کی شرح تقریباً 60.65 فیصد ہے: مرد 68 فیصد اور خواتین 52.84 فیصد۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں یہ شرح مزید کم ہے، اور خواتین کی تعلیم تو اس سے بھی زیادہ پیچھے ہے۔ یہ فرق تاریخی محرومی اور علاقائی عدم مساوات کو بے نقاب کرتا ہے۔ خاص طور پر قبائلی اضلاع میں یہ شرح قومی اوسط کے مقابلے میں کہیں زیادہ تشویشناک ہے۔
سابقہ فاٹا کی 2017ء کی مردم شماری کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہاں مجموعی خواندگی کی شرح صرف 36 فیصد تھی۔ 2018ء میں جب یہ اضلاع صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم ہوئے تو یہ شرح ایک بڑے تعلیمی خلا کے ساتھ صوبائی ڈھانچے میں شامل ہوئی۔ نتیجہ یہ کہ آج بھی ’’نئے ضم شدہ اضلاع‘‘ میں خواتین اور بچیوں کی تعلیمی صورتحال صوبے کے باقی حصوں کی نسبت نہایت کمزور ہے۔
یہ بحران صرف خواندگی تک محدود نہیں بلکہ تعلیم کے ہر مرحلے پر لڑکیاں نظام سے خارج ہوتی ہیں۔ یونیسف کے مطابق ملک بھر میں پرائمری تک تعلیم مکمل کرنے کی شرح 67 فیصد ہے، جو لوئر سیکنڈری میں 47 فیصد اور اپر سیکنڈری میں محض 23 فیصد رہ جاتی ہے۔ ان تمام سطحوں پر لڑکیاں لڑکوں سے پیچھے ہیں، اور یہ فرق قبائلی و پسماندہ علاقوں میں کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
مثال کے طور پر ضلع باجوڑ میں حالیہ برسوں تک لڑکیوں کے صرف چند درجن مڈل اسکول، پندرہ کے قریب ہائی اسکول اور محض ایک ڈگری کالج موجود تھا۔ ایک کثیر آبادی والے ضلع میں اتنی محدود نشستیں سیکنڈری اور پوسٹ سیکنڈری تعلیم کے امکانات کو خود بخود مسدود کر دیتی ہیں۔ مزید برآں، 120 کے قریب مقامات ایسے رپورٹ ہوئے جہاں لڑکیوں کے لیے کوئی اسکول ہی موجود نہیں۔ جب اسکول ہی نہ ہوں تو فاصلے، سفری اخراجات، سماجی خدشات اور روایتی قدغنیں والدین کے لیے بیٹیوں کو تعلیم دلوانے کے فیصلے کو مزید مشکل بنا دیتی ہیں۔
یہ مسئلہ صرف ڈھانچے کا نہیں بلکہ عملداری کا بھی ہے۔ خیبر پختونخوا محکمۂ تعلیم کی انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ (IMU) کی رپورٹس کے مطابق ضم شدہ اضلاع کے کئی اسکولوں میں طلبہ کی حاضری رجسٹر میں تو درج ہے مگر عملی طور پر غیر حاضری 40 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جو بچے اسکولوں میں “اندراج شدہ” ہیں، وہ بھی مستقل تعلیم حاصل نہیں کر پا رہے، بالخصوص لڑکیاں جنہیں گھریلو کام اور سماجی پابندیاں مزید محدود کر دیتی ہیں۔
سیکنڈری سطح پر لڑکیوں کی شمولیت کا اشاریہ (Gender Parity Index) ان اضلاع میں نہایت کم ہے۔ ایک معتبر منصوبہ جاتی رپورٹ کے مطابق ضم شدہ اضلاع میں ثانوی سطح پر لڑکیوں کا مجموعی اندراجی تناسب صرف 6 فیصد ریکارڈ ہوا، جب کہ صوبے کے دیگر اضلاع میں یہی شرح 32 فیصد ہے۔ یہ صرف اعداد نہیں، بلکہ زندگی کے امکانات میں واضح فرق کی نشاندہی ہے۔
خواتین اساتذہ کی کمی بھی اس بحران کو شدید بناتی ہے۔ بہت سے اسکول قائم ہونے کے باوجود مستقل خاتون استاد نہ ہونے کے سبب طالبات کی حاضری متاثر رہتی ہے۔ جہاں مقامی خواتین دستیاب نہیں، وہاں باہر سے آنے والی معلمات کے لیے رہائش، ٹرانسپورٹ اور تحفظ کے انتظامات نہ ہونے کے باعث اسکول “موجود” تو ہیں مگر “فعال” نہیں۔
قبائلی علاقوں میں برسوں سے ’’گوسٹ اسکول‘‘ اور غیر فعال عمارتوں کا مسئلہ بھی رپورٹ ہوتا رہا ہے۔ تنازعات، نقل مکانی اور قدرتی آفات نے بھی کئی تعلیمی اداروں کو متاثر کیا۔ بعض اسکول عمارتیں دیگر غیر تعلیمی استعمال میں لائی جاتی رہیں۔ اگرچہ صوبائی حکومت نے وقتاً فوقتاً ان کی بحالی کے اقدامات کیے ہیں، لیکن ضرورت کے مقابل یہ رفتار ناکافی دکھائی دیتی ہے۔
یوں، قبائلی اضلاع کی خواتین آج بھی تعلیم کے حق سے محروم ہیں۔ روایت کی سختیاں، رسم و رواج کی زنجیریں، حکومتی اداروں کی عدم توجہ اور بنیادی ڈھانچے کی کمی ان کے راستے میں یکجا ہو کر رکاوٹ بن چکی ہیں۔ نتیجہ یہ کہ یہ خواتین زندگی بھر بچے پیدا کرنے، ان کی پرورش اور گھریلو خدمت تک محدود رہ جاتی ہیں— جبکہ دنیا تیزی سے ڈیجیٹل اور تعلیمی ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے۔
اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے فوری اور ہمہ جہتی اقدامات درکار ہیں۔ تعلیم کے انفراسٹرکچر کی توسیع، خواتین اساتذہ کی بھرتی، محفوظ ٹرانسپورٹ کی فراہمی، سماجی رویّوں میں تدریجی تبدیلی، اور ہنر مندی و ڈیجیٹل تربیت جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ اگر ریاست اپنی آئینی اور انسانی ذمہ داری ادا نہیں کرتی تو یہ خطے کی نصف آبادی کو ہمیشہ کے لیے تاریکی میں دھکیلنے کے مترادف ہوگا۔
پاکستان کو ڈیجیٹل دور کی ترقی کا حقیقی حصہ دار بننے کے لیے لازم ہے کہ وہ قبائلی خواتین کو بھی اس روشنی میں شریک کرے۔ ورنہ یہ خلا محض تعلیمی نہیں، بلکہ معاشرتی اور قومی سطح پر ایک ایسا زخم ہے جو ترقی کے ہر دعوے کو ادھورا رکھے گا۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

