Latestتعلیم و صحتمتفرق

پانی کی آغوش میں چھپی بیماریاں

تحریر: حیران مومند

پاکستان میں بارش ہمیشہ سے زندگی کی علامت رہی ہے۔ کسان آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر بارش کی دعا کرتے ہیں کہ کھیت لہلہا اٹھیں، ندی نالے بھرجائیں اور زمین کے زخم دھل جائیں۔ بارش کا پہلا قطرہ جب خشک زمین کو چھوتا ہے تو اس سے اٹھنے والی خوشبو امید اور خوشحالی کا پیغام دیتی ہے۔ مگر اسی بارش کے پردے میں ایک اور چہرہ بھی چھپا ہوتا ہے، ایسا چہرہ جو خوشبو نہیں بلکہ تعفن لاتا ہے، جو زندگی نہیں بلکہ بیماری کی شکل میں موت کا پیغام بن کر اترتا ہے۔ حالیہ بارشوں اور سیلاب کے بعد پاکستان کے کئی علاقے اسی حقیقت سے گزر رہے ہیں۔ بستیوں میں پانی کا سمندر پھیل گیا ہے، اور اس پانی کے ساتھ بیماریوں کا ایک نہ ختم ہونے والا قافلہ بھی اتر آیا ہے۔

جب پانی گھروں میں داخل ہو جاتا ہے، کچے مکانوں کی دیواروں کو بہا کر لے جاتا ہے، گلیوں کو جھیلوں میں بدل دیتا ہے، تو یہ منظر محض قدرتی آفت نہیں رہتا، یہ انسان کی بقا پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ سیلاب صرف مکان نہیں گرाता، یہ جسموں کی چھتیں بھی توڑ دیتا ہے۔ جب پانی کے ریلے کم ہو جاتے ہیں اور سطح زمین پر سکوت طاری ہوتا ہے، تو بیماریوں کا شور اٹھنے لگتا ہے۔ وہ شور جو ہسپتالوں میں کراہتے مریضوں سے سنائی دیتا ہے، وہ شور جو ماؤں کے آنسوؤں میں چھپ جاتا ہے، اور وہ شور جو میڈیا کی سرخیوں میں محض اعداد و شمار کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

پانی جب زمین پر جم جاتا ہے تو وہ زندگی کے بجائے موت کا نرسری گھر بن جاتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے جوہڑ اور کھڈے مچھروں کی افزائش گاہ میں بدل جاتے ہیں۔ مچھر وہ ننھے قاتل ہیں جو انسانی جسم میں ڈینگی اور ملیریا جیسے زہریلے ہتھیار داخل کرتے ہیں۔ یہ بیماریاں خاموشی سے پھیلتی ہیں اور پورے گاؤں کو یرغمال بنا لیتی ہیں۔ ڈینگی بخار جب کسی بچے کے جسم کو جکڑتا ہے تو وہ بخار محض درجہ حرارت نہیں ہوتا، وہ ماں باپ کے ارمانوں کو جلاتا ہے۔ ملیریا کا وائرس جب کسی مزدور کو کمزور کرتا ہے تو وہ مزدور اپنے ہی گھر کی چھت کے نیچے بوجھ بن جاتا ہے۔

پانی میں جمے تعفن نے صرف مچھروں کو نہیں بلایا، مکھیوں کی بھی دنیا آباد کر دی ہے۔ یہ مکھیاں امدادی کیمپوں میں کھانے کے برتنوں پر بیٹھتی ہیں اور اپنے ساتھ ہیضہ، پیچش اور ٹائیفائیڈ جیسے تحفے لے آتی ہیں۔ کیمپوں میں لوگ پہلے ہی بھوک اور پیاس کے مارے کمزور ہوتے ہیں، اور جب یہ بیماریاں حملہ آور ہوتی ہیں تو جسم ٹوٹ جاتے ہیں۔ بچے سب سے پہلے شکار بنتے ہیں۔ ان کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے، ایک چھوٹا سا جرثومہ انہیں بستر سے قبر تک لے جاتا ہے۔ اور جب ایک خیمے کے اندر ماں اپنے بچے کی لاش کو لپٹا کر روتی ہے تو یہ رونا صرف ایک خاندان کا غم نہیں رہتا، یہ ایک پورے معاشرے کی ناکامی کا ماتم بن جاتا ہے۔

سیلاب کے بعد جب لوگ گھروں سے بے گھر ہو کر کیمپوں میں آتے ہیں تو وہ محض چھت ڈھونڈتے ہیں۔ مگر ان کیمپس میں چھت کے ساتھ ساتھ بیماریاں بھی سایہ کرتی ہیں۔ آلودہ پانی پینے پر مجبور لوگ ہیپاٹائٹس کے جراثیم اپنے جگر میں اتارتے ہیں۔ طبی سہولتوں کی کمی ان بیماریوں کو مزید پھیلنے کا موقع دیتی ہے۔ ادویات کی کمی، ڈاکٹروں کی غیر موجودگی، اور بروقت ویکسینیشن نہ ہونا متاثرین کو موت کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں۔ یہ سوال بار بار اٹھتا ہے کہ کیا حکومت نے سیلاب کے ساتھ آنے والی ان بیماریوں کے لیے تیاری کی تھی یا نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اکثر اوقات انتظامیہ کا سارا زور خیمے اور راشن تقسیم کرنے پر ہوتا ہے، جبکہ اصل دشمن بیماریوں کے روپ میں چھپا رہتا ہے۔

سیلابی پانی کے ساتھ ایک اور خطرہ بھی چھپ کر آتا ہے، وہ ہیں سانپ اور بچھو۔ جب زمین کے بل کھلتے ہیں تو یہ زہریلے جانور انسانی آبادی کی طرف نکل آتے ہیں۔ کیمپوں یا اجڑے گھروں میں جب لوگ واپس جاتے ہیں تو یہ سانپ ان کے قدموں کے منتظر ہوتے ہیں۔ ایک ڈنک، ایک کٹ، اور زندگی لمحوں میں رخصت ہو جاتی ہے۔ دیہات میں فوری طبی امداد نہ ہونے کے باعث سانپ کے ڈسنے کے بعد اکثر مریض اسپتال تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتے ہیں۔ یوں سیلاب کے پانی کے ساتھ زہر بھی بہہ کر آتا ہے اور بستیوں کو اجاڑ دیتا ہے۔

یہ تمام خطرات محض خدشے نہیں، بلکہ حقیقت ہیں۔ عالمی ادارہ صحت اور مقامی ماہرین بار بار خبردار کرتے ہیں کہ ہر سیلاب کے بعد وبائی امراض کا پھیلنا یقینی ہے۔ ماضی کے تجربات ہمارے سامنے ہیں۔ 2010 کے سیلاب میں لاکھوں لوگ ملیریا، ہیضہ اور سانپ کے ڈسنے کا شکار ہوئے۔ ہزاروں بچے ڈائریا اور نمونیا سے مر گئے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ان تجربات سے کچھ سیکھا؟ یا ہم نے پھر وہی پرانی فائلیں بند کر کے اگلے سال کا انتظار کیا؟

پاکستان میں صحت کا نظام پہلے ہی کمزور ہے۔ دیہی علاقوں میں بنیادی صحت کے مراکز کاغذوں پر موجود ہیں مگر عملی طور پر خالی ہیں۔ سیلاب جیسے بڑے بحران کے وقت یہ کمی دوچند ہو جاتی ہے۔ متاثرین کو فوری علاج نہیں ملتا، دوا دستیاب نہیں ہوتی، اور حکومت کا ردعمل سست رہتا ہے۔ یوں ایک آفت دوسری آفت کو جنم دیتی ہے۔

پانی کے بہاؤ کو ہم روک نہیں سکتے، مگر بیماریوں کے بہاؤ کو روکنے کے لیے منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔ اگر امدادی کیمپوں میں صاف پانی کے پلانٹس لگا دیے جائیں، اگر ہر خاندان کو مچھر دانی فراہم کر دی جائے، اگر ویکسینیشن ٹیمیں فوری پہنچا دی جائیں، تو بہت سی زندگیاں بچ سکتی ہیں۔ مگر افسوس یہ ہے کہ ہم ہر بار وقتی اقدامات کرتے ہیں، مستقل منصوبہ بندی کبھی نہیں۔ ہم سیلاب کو تو قدرتی آفت کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں، مگر بیماریوں کے سیلاب کو اپنی بدانتظامی سے دعوت دیتے ہیں۔

یہ کالم محض ایک تنقید نہیں، یہ ایک سوال ہے جو ہر قاری کے دل پر دستک دیتا ہے۔ کیا ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کو اسی پانی میں ڈوبنے کے لیے چھوڑ دیا ہے؟ وہ پانی جو کبھی اناج اگاتا ہے، آج لاشیں اگا رہا ہے۔ وہ بارش جو خوشبو لاتی تھی، آج تعفن لا رہی ہے۔ وہ سیلاب جو زمین کو زرخیز بناتا تھا، آج جسموں کو بے جان کر رہا ہے۔

یہ جنگ اصل میں بیماریوں کے خلاف ہے، اور یہ جنگ خاموش ہے۔ نہ توپ چلتی ہے نہ گولہ، مگر لاشیں گرتی ہیں۔ نہ میڈیا کی کیمرہ لائٹس ساتھ دیتی ہیں نہ سیاست دانوں کی تقریریں۔ یہ جنگ خیموں کے اندر لڑی جاتی ہے، جہاں مائیں بچوں کو سینے سے لگا کر بیٹھتی ہیں، جہاں باپ دوائی کی تلاش میں میلوں چلتے ہیں، جہاں بزرگ اپنی سانسوں کو شمار کرتے ہیں۔ یہ جنگ اگر ہم نے نہ جیتی تو آنے والے برسوں میں ہر بارش ہمارے لیے موت کی دستک بن کر آئے گی۔

ہمیں ماننا ہوگا کہ سیلاب صرف پانی نہیں لاتا، یہ بیماریوں کا سمندر بھی لے کر آتا ہے۔ اس سمندر کو روکنے کے لیے ہمیں ہنگامی نہیں بلکہ مستقل حل تلاش کرنے ہوں گے۔ صحت کے بجٹ میں اضافہ، بنیادی مراکز صحت کو فعال کرنا، طبی عملے کی تربیت، اور وبائی امراض پر قابو پانے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ ورنہ تاریخ بار بار وہی سوال دہراتی رہے گی: کیا ہم نے اپنی ذمہ داری نبھائی یا محض اعداد و شمار گنے؟

پانی کے بہاؤ کو روکا نہیں جا سکتا، مگر بیماریوں کے بہاؤ کو روکنا ممکن ہے۔ یہ صرف حکومت کا نہیں، معاشرے کا بھی فرض ہے۔ ہر شہری کو اپنی سطح پر حفاظتی اقدامات اپنانے ہوں گے، ہر تنظیم کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تب ہی ہم بارش کی خوشبو کو بچا سکیں گے اور سیلاب کے زہر کو روک سکیں گے۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *