غزل ۔ ۔ ۔ طاہؔر مجید
شاعر: طاہؔر مجید
رنگ چہروں کا اب نرالا ہے
جب سے سورج نے سر نکالا ہے
دل ہی باقی بچا تھا اس گھر میں
تو نے اس کو بھی توڑ ڈالا ہے
جب سے اس شہر میں ہم آئے ہیں
خود کو کس کس طرح سے ڈھالا ہے
روشنی مجھ سے چھیننے والو
میرے گھر میں ابھی اجالا ہے
میں ہی کیا اس جگہ مقید ہوں
چاند کے گرد بھی تو ہالہ ہے
حاکموں کو تو یہ خبر ہوگی
کس پہ اب ظلم ہونے والا ہے
شہر والے نئے سے لگتے ہیں
شہر تو میرا دیکھا بھالا ہے
کتنے چہرے بکھر گئے پل میں
کس نے اک چاند کو اچھالا ہے
وہ ہی طاہؔر کی جان لے لے گا
اس نے جس درد کو سنبھالا ہے

