Latestاردوتاریخقومیمتفرقمعاشرہ

سانحہ ٹوپی کےپُرآشوب ایمان افروزواقعات

تحریر: امتہ القدوس خان جرمنی

(قسط اوّل)

لوٹنے نکلے تھے وہ امن وسکون بیکساں
خود انہی کے لٹ گئے حسن وشباب زندگی

ایک دلی خواہش تھی کہ حضرت محمد صلی للہ علیہ و سلم اور ان کے عاشق صادق حضرت مسیح الموعود علیہ السلام کے ذندہ و قادر خدا کا میری اپنی ذندگی میں پیش آنے والا یہ ایک واقعہ جس میں قدم قدم پر ہم نے اس کے نشان دیکہے، اپنے مختصر تعارف کے ساتھ آپ کے ساتھ شیئر کروں۔

میرا نام امتہ القدوس ہے۔ والد صاحب کا نام صوبیدار عبدالغفور خان ہے۔ ہمارے دادا جان صوبیدار خوشحال خان نے حضرت خلیفةالمسیح الثانىؓ کے ہاتھ پر ایک رویا کی بناء پر بیعت کر کے ہمارے خاندان کو احمدیت کی برکات میں شامل کیا اور پھر ہمیشہ جلسہ سالانہ پر حضور کے ساتھ افسر حفاظت خاص کی ڈیوٹی دیتے جب ذرا عمر رسیدہ ہوئے تو حضور سے اس ڈیوٹی کے لئے معذرت کی، کہ اب اتنا لمبا کھڑا ہونا گھٹنوں میں درد کی وجہ سے مشکل ہے تو حضور نے از راہ شفقت ان کے لئے سٹیج پر کرسی رکھنے کا حکم دیا اور دادا جان سے فرمایا کہ ڈیوٹی تو آپ ہی دیں گے انہوں نے یہ حکم بصد خوشی قبول کیا۔ کچھ عرصہ بعد جب وہ ٹوپی مسجد سے جمعہ پڑھ کر واپس اپنے گاؤں مینئی جارہے تھے تو راستے میں مخالفین احمدیت نے آپ کو شہید کر دیا۔ ہمارے اباجان اور ایک چھوٹے چچا دونوں پیدائشی احمدی تھےاور ہمیشہ  بہت بہادری سے ہر میدان میں اپنے احمدی ہونے کا اقرار کیا۔ اباجان اور ان کے بھائیوں نے تعلیم قادیان سے حاصل کی اور فوج میں بھرتی ہوئے مگر کچھ عرصہ بعد یہ نوکری چھوڑکر گاؤں آے اور اپنا کاروبار شروع کیا لیکن جس وقت حضور کا پیغام آیا کہ حضور کو ان کی ضرورت ہے تو وہ سب کچھ اسی طرح چھوڑکر قادیان چلے گئے اور قادیان میں افسر حفاظت خاص کے فرائض انجام دیتے رہے اباجان بتاتے تھےکہ ایک دن حضور قادیان میں مسجد مبارک میں مجھے   اپنے ساتھ اوپر چھت پر لے کر گئے اور فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے یہ چاردیواری کی جالیاں کیوں بند کرائی ہیں پھر خود ہی فرمایا کہ جب تمہارے ابا پہلی بار ادھر اوپر آئے تو ان جالیوں کو دیکھ کر اس نے کہا کہ یہ تو بہت خطرناک ہیں کیونکہ ہر ایک کو پتہ ہے کہ حضور ادھر تشریف فرما ہوتے ہیں تو دشمن کے لئے ادھر سے نشانہ لگا کر نقصان پہنچانا بہت آسان ہے، تو ان کے کہنے پر یہ جالیاں بند کی گئیں۔ جب 1947ء میں ہجرت کا وقت آیا تو اباجان درویشان قادیان میں رہ گئے مگرجلد ہی حضور نے انہیں واپس پاکستان بلا لیا کہ ہمیں ان کی یہاں ذیادہ ضرورت ہے اباجان پاکستان آگۓ یہاں بھی اباجان حضور کے ساتھ افسر حفاظت خاص کے فرائض انجام دیتے رہے، چند سال کے بعد واپس آ گئے مگر جب حضور پر چاقو کا حملہ ہوا تو حضور نے دوبارہ انہیں پیغام دے کر بلایا، اور پھر کچھ سالوں تک حضور کے ساتھ افسر حفاظت کا شرف حاصل ہوا۔ الحمدللہ

ہماری چھوٹی پھوپھی کے ایک بیٹے فیض محمد خان نے اٹھارہ سال کی عمر میں مختلف مذاھب کا مطالعہ کیا اور کئی مذاہب کے مطالعہ کے بعد کامیاب امتحانات کے بعد احمدیت کو سب سے بہتر پاکر احمدیت کو قبول کیا۔ وہ دس گیارہ سال کی عمر میں ہی اپنی والدہ کی وفات کے بعد ہمارے ساتھ رہنے لگے تھےاور1971ء میں ان کی شادی میری بڑی بہن سے ہوگئی، شادی کے بعد ہمارے ٹوپی والے گھر میں رہنےلگے۔

 ٹوپی میں میرے چچا کرنل احمد خان صاحب کا گھر اورہمارا گھر ساتھ ساتھ تھے۔ خدا کے فضل سے ہمارا پورا خاندان بہت خوشحال، پیارومحبت اور اتفاق کی ذندگی گزار رہا تھا۔ پھراباجان اور چچاجان نے اپنی زمینوں، خوشحال آباد میں بھی ساتھ ساتھ گھر بنانے کا ارادہ کیا تو چچا جان نے خواہش ظاہر کی کہ وہ ہم سے دور اپنی زمینوں میں گھر نہیں بنانا چاہتے تو اباجان نے ان کو اپنی زمین (اباجان کی زمین) پر گھربنانے کی اجازت دی کہ جہاں اور جتنی زمیں پر گھر بنانا چاہتے ہو بنالو۔ اس طرح 1971ء میں پہلے ان کا گھر بنایا چچا جان کا گھر مکمل ہوا تو سب اس میں شفٹ ہوئے۔ پھر 1974ء میں  ہمارے گھر کا کام شروع ہوا مگر حالات نے اسے مکمل ہونے نہ دیا۔

انہیں دنوں اباجان نے ایک رویا دیکھا کہ “میں اپنے اہل و عیال سمیت اپنے گھر سے ہجرت کر کے جا رہا ہوں اچانک دیکھتا ہوں کہ میرے سامنے ایک سیدھی دیوار کے مانند پہاڑ ہمارے راستے میں حائل ہے۔ میں نے خداتعالىٰ پر توکل کرتے ہوئے اس پر چڑھنا شروع کیا۔ میں نے محسوس کیا کہ میں ہوا میں تیر کر اس پہاڑ پر چڑھتا چلا جا رہا ہوں۔ کچھ دور جا کر مجھے   خیال آتا ہے کہ میں تو اس پہاڑ پر آسانی سے چڑھ رہا ہوں لیکن میرے بیوی بچے اسے کیسے عبور کریں گے۔ اس خیال سے میں پیچھے   مڑ کر دیکھتا ہوں تو میں حیران ہو جاتا ہوں کہ میرےپیچھے   ایک سڑک بنتی جا رہی ہے اور وہ سب بھی آسانی سے اس پہاڑ پر چڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ جب ہم سب پہاڑ پر چڑھ گئے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ایک بڑا اسلامی لشکر ہے جس میں آنحضرتﷺ بنفس نفیس شامل ہیں۔ اس لشکر کے تمام لوگ جھنڈے اٹھائے ہوۓ ہیں اور نعرے لگاتے چلے جا رہے ہیں اتنے میں مجھے   حکم ملتا ہے کہ حضورؐ نے فرمایا ہے کہ ٹوپی کی جماعت احمدیہ کے افراد اس لشکر میں سب سےآگے چلیں۔ چنانچہ میں نے اور سب افراد خانہ نے زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا اور ہم نے سب سے آگے چلنا شروع کیا۔ اس وقت میں اس قدر خوش تھا کہ خواب میں نہایت اونچی آواز میں الحمد للہ کہا۔اللہ اکبر اللہ اکبر کا ورد شروع کر دیا اور اسی حالت میں بیدار ہو کر بیٹھ گیا اس وقت میری بیوی بھی اس آواز سے بیدار ہو گئی اور مجھ سے پوچھا کیا ہوا تو میں نے اسے یہ خواب سنائی۔‘‘

ميں جب کلاس تھری میں تھی یعنی 60 کے اوائل میں۔ ایک خواب دیکھا باقی تو یاد نہیں لیکن انتا یاد ہے کہ ہم پوری فیملی حج کے لئے پیدل جارہے ہیں اور رستہ ایسا ہے جیسے فصل والی زمین سے تاذہ تاذہ فصل کٹ گئی ہو پھر دیکھتی ہوں کہ ہم یعنی امی اور ہم تینوں بہنیں گھر کے صحن میں جیسے کھجور کے پتوں کا مصلح سا بنا ہوتا ہے اس پر ہم چاروں بیٹھی ہیں ایک دو اور لوگ بھی ہوتے ہیں لیکن ان کو میں اتنا واضح نہیں دیکھ پاتی تقریباً سہ پہر کا وقت ہوتا ہے کہ اچانک میری بڑی باجی امتہ القیوم جن کا سر میری گود میں ہوتا ہے سر اٹھاتی ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے کوئی مرغی کی گردن کاٹ لے اسی طرح ان کی گردن کٹی ہوتی ہے میرا صدمے سے برا حال ہوتا ہے اسے پیار کرتی ہوں اور دوبارہ اسے گود میں لٹا دیتی ہوں اور اس کے لئے بہت ذیادہ دعائیں کرتی ہوں۔

ربوہ میں 29 مئی 1974ء کو پیش آنے والے واقعہ کے دو تین دن بعد اعجاز بھائ جو ان دنوں ٹی آئی کالج میں پڑھتے تھےگھر آئے اور اس واقعہ کے تفصیلات بتائیں ہم نے بتایا کہ پشاور یونیورسٹی میں بھی ہگامے ہوئے ہیں ہماری خالہ وہاں رہتی تہیں کالج کے لڑکوں نے ان کے گھر پر حملہ کر کے گھر کا سارا سامان توڑ پوڑ دیا خالہ جان اور بچوں نے پڑوسیوں کے ہاں پناہ لی جب ہنگامہ ختم ہوا تو خالہ جان نے جاکر وائیس چانسلر کو خوب سنائیں، دوسرے دن کالج کے لڑکوں نے ان سے معافی مانگی کہ ہمیں معلوم نہ تھا کہ آپ سر صاحبزادہ عبدالقیوم خان (اسلامیہ کالج پشاور کے بانی، پشاور یونیورسٹی کی بنیاد رکھنے والے) کی بھتیجی ہیں۔ خیر وہ بچوں سمیت گاؤں آگئیں کیونکہ ان کا گھر تو اب رہنے کے قابل رہا نہیں تھا۔

 اسکے بعد ہمارے گاؤں میں بھی ملک کے نامور مولویوں نے روزانہ آ آ کر جلسے کئے، مگر ناکام واپس لوٹے۔ کیونکہ گاؤں کے لوگ انکا ساتھ دینے کو تیارنہ تہے۔ شریف لوگ عقیدت سے اور شریر ناکامی کے ڈر سے، تو ایک نامور مولوی نے ہر طرح سے ناکام ہوکر گاؤں کے لوگوں کو گالیاں دیکر یہاں تک کہہ دیا کہ اگر ٹوپی کے لوگوں میں غیرت نہیں تو میں ڈی۔ آئی۔ خان سے اس جہاد کے لئے اپنے بدمعاشوں کو لیکر آؤنگا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون یعنی مولوی صاحب کے لئے یہ کوئی عار کی بات نہ تھی کہ اسلام کی خدمت کے لۓ غنڈوں اور بدمعاشوں کی مدد لیں۔

وہ جمعہ کا دن تھا (تاریخ اس لئے نہیں لکھتی کہ یاد نہیں) ٹوپی میں مولویوں نے پھر ہنگامہ کھڑا کیا اب کے وہ اپنے ساتھ باہر سے بھی کچھ سپورٹرز لائے۔ میرے بہنوئی جوکہ ہمارے پہوپھی زاد بھی تھےنے گھر آکر میری بہن سے کہا احمدیوں کے خلاف جلسہ ہے۔ باجی کے پاس گھر میں غیر احمدی مہمان آئے تھےاس لۓ انہوں باجی سے کہا کہ کسی طرح سے ان سے فارغ ہو کر تو اپنے ماموں صاحبزادہ عبدالحمید صاحب (مرحوم) کے گھر چلی جانا۔ میں خوشحال آباد جاکر امی وغیرہ کو خبردار کرتا ہوں کہیں انجانے میں کوئی انکو نقصان نہ پہنچائے۔

 جب مہمان چلے گئے، تومیری بہن  آرام سے پھر گھر کے کاموں میں لگ گئی کہ اب تو یہ روز کا معمول ہے۔ ہر جگہ جلسے ہو رہے ہیں۔ اتنے میں ماموں جان (مرحوم) خود  لینے آئے اور غصہ میں کہنے لگے تم یہاں کیا کر رہی ہو، جلدی چلو یہاں سے۔ (ماموں جان بہت نرم طبیت کے انسان تھےمگر وہ اپنے بہن بھائیوں، ان کے بچوں سے اس قدر پیار کرتے تھےکہ انکی ذرا سی تکلیف یا نقصان ان کے لئے ناقابل برداشت ہوتی۔ اسی فکر سے وہ غصہ میں بولے کہ باجی مزید دیر نہ لگاۓ) ماموں کے ساتھ انکے دو ملازم بھی تہے۔ باجی مریم صدیقہ کو لے کر انکے ساتھ چلی گئی۔ وہاں پہنچی تو سب گھر والوں کو اپنے لئے پریشان انتظار کرتے ہوئے پایا، اسے دیکھ کر سب پرسکون ہوگئے ۔

 مولوی  جلسہ کر کے چلے گئے۔ اباجان تربیلہ ڈیم میں ملازمت کرتے تہے۔ وہ بھی کام سے سیدہے ماموں کے ہاں آگئے، شام کو باجی، اباجان اور دو اور احمدی محمد شیر اور محمد الیاس صاحب بھی ان کے ساتھ خوشحال آباد آگئے۔ کیونکہ یہ بھی یہاں خوشحال آباد میں ہی رہتے تہے۔ ان کا ذکر ہمارے والد صاحب نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔

جب ہم نے سنا کہ لوگ ہمارے گھروں کو جلانے کے منصوبے بنا رہے ہیں، تو بجاۓ خوفزدہ ہونے کے ہمارے دل خدا کے فضل سے مضبوط ہوگئے۔ یہ سوچ کر کہ ہم نے خدا کے فضل سے ہمیشہ لوگوں کی عزت و خدمت کی ہے اور یہ لوگ بھی جانتے ہیں کہ ہم خدا اور اس کے رسولؐ کو سچے دل سے چاہنے اور ماننے والے ہیں۔ یہ لوگ ہمیں خدا کے فضل سے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ انشاءاللہ

ہمارے غیر احمدی رشتہ دار اور قریبی دوست احباب سب بہت پریشان تھےوہ آ آکر اپنی پریشانی کا اظہار کرتے کہ یہ ہم کیا سن رہے ہیں؟ اب کیا ہوگا؟ ہم آپکی کیا خدمت کریں؟

 آپ لوگوں کو اندازہ ہی نہیں کہ باہر لوگ کیا کچھ کہہ رہے ہیں اور ان کے کتنے خطرناک ارادے ہیں۔ آپ اپنا قیمتی سامان ہمارے پاس امانت کےطور پر رکہوا دیں، جب حالات ٹھیک ہو جائنگے، تو ہم آپ کو واپس کر دینگے۔ مگر ہم یہی جواب دیتے کہ انشاء اللہ سب کچھ ٹھیک ہو جائیگا۔ اللہ تعالىٰ ہمارے ساتھ ہے اور یہ چیزیں تو اللہ تعالىٰ کی دی ہوئی ہیں، اگر اس کی راہ میں قربان ہو جائیں، تو ہمیں کوئی دکھ نہیں۔ یہ خدا کی محبت اور ہماری عزت سے بڑھ کر نہیں۔ نہ ہم خدا کے فضل سے اپنے عقیدے سے پھرنے والے ہیں۔ نہ یہ لوگ خدا کی خاطر لڑنے والے ھيں۔ یہ یہاں آئینگے بھی تو جہاد بہول کر لوٹ مار شروع کر لینگے۔ اس طرح اللہ تعالىٰ ہماری عزت رکہے گا۔ انشاءاللہ

ہماری ایک بہت پرانی نوکرانی جو 1972ء میں اپنا ذاتی گھر بناکر اس میں شفٹ ہوگئی تھی اداس اور پریشان آئی کہ امی نے خیریت دریافت کرنے بھیجا ہے امی نے اسے تسلی دی اور اسے جلد از جلد جلوس کے آنے سے پہلے اپنے گھر پہنچنے کا کہا وہ یہاں سے تو کوئی صبح دس بجے کی نکلی مگر سب رستے بند ہونے کی وجہ سے سارا دن بیابانوں میں بھٹکتی رات گئے اپنے گھر پہنچی۔ یہ سب ہمیں بعد میں پتہ چلا۔ اس کے بعد میرے کزن نذیر محمد خان (شہید)نے میری بہن کی سلائی مشین اور جہیزکی چند چیزیں بچانے کے لئے اٹھائیں مگر ابا جان اور امی نے انہیں بھی منع کیا۔

 ہمارے ایک غیر احمدی تایا کا بڑا بیٹا نثار محمد خان ہماری مدد کے لئے آیا مگر اس کی طبیت جانتے ہوئے، اس کا اعتبار ذرا مشکل تھا کہ اسے کوئی ڈیوٹی دی جائے؟ مگر منہ سے کسی نے بھی کچھ نہ کہا۔ خدا تعالىٰ سے رہنمائی کی دعائیں مانگتے رہے تو میری بہن نے خواب دیکھا کہ ہم سب باجماعت نماز ادا کر رہے ہیں اور یہ بھی ہمارے ساتھ سفید کپڑے پہنے نماز پڑھ رہے ہیں۔ صبح اٹھ کر ناشتے کی میز پر انہوں  نے امی اور بہن بھائیوں سے اپنی پریشانی اور اس خواب کا ذکر کیا تو میرے بھائی اعجاز احمد خان نے حیران ہو کر اسی کیفیت کا اظہار کیا اور بتایا کہ رات کو جب نثار بھائی نے مجھے   سونے کو کہا کہ میں ڈیوٹی دونگا۔ تو میں لیٹ تو گیا مگر تمام وقت اسی پر نظر رکھی کہ کہیں اس کا اپنا کوئی بدارادہ نہ ہو۔ لیکن آنکھ لگ گئی تو میں نے بھی اسی طرح کا خواب دیکھا۔ پھر خدا کے فضل سے ہم سب کا دل اسکی طرف سے صاف ہو گیا اور ہم نے دیکھا  کہ کئی بار اس کے ذریعے اللہ تعالىٰ نے ہمارے بھائیوں کی ذندگی بچائی ۔ الحمد للہ

اس طرح اللہ تعالىٰ قدم قدم پر ہماری راہنمائی فرماتا اور ہمارے ایمان کو مظبوط سے مظبوط تر کرتا گیا۔ ہم تینوں بہنیں اور امی جان مشورے کرتے کہ کس صورتحال میں ہم کیا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ہر طرح کی تیاریاں ہم نے کیں۔ مورچوں کے لئے بوریوں میں

 ریت بھر دی۔ استعمال کے لئے پانی بھر لیا۔ تاکہ اگر کوئی پانی کی ٹینکی کو (جوکہ گھر کے حصہ سے باہر تھی) کوئی نقصان پہنچائے تو گھر میں پانی کی کمی نا ہو۔ مردوں کو سروں پر چادروں سے پگڑیاں باندھنے کو کہا کہ  دھوپ    اور چوٹ سے کسی حد تک بچاؤ ہو۔ میرے بہنوئی نے بجلی کے تمام فیوز نکال کر باجی کو رکھنے کے لۓ دئے۔ کہ کوئی بجلی کو آگ نہ لگا دے۔ جلانے کی لکڑی (جوکہ پورے سال کا ذخیرہ تھا) پر پانی ڈالا کہ کوئی اسے آگ نہ لگا سکے۔ اباجان نے گھر پر کام کرنے والے معماروں اور مزدوروں کو چھٹی دی نوکروں کو بھی گھر چھوڑکر جانے کو کہا کہ کسی  کو بھی ہماری وجہ سے کوئی نقصان نا پہنچے۔

 پولیس کی ایک بھاری نفری ہمارے گھر پر کئی دنوں سے بیٹھی تھی۔ کھاتی پیتی اور جہوٹی تسلیاں دیتی مگر جب جلوس آیا تو کہنے لگے کہ ہمیں تو ان پر فائر کرنے کی اجازت نہیں، آپ لوگ بھی اس جلوس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ کیونکہ ہماری اطلاع کے مطابق یہ لوگ ہر طرح کے اسلحہ سے مسلح ہیں۔ اس لئے بہتر ہوگا کہ آپ ہمیں کوئی محفوظ مقام بتائیں تاکہ ہم آپ کو وہاں پہنچا سکیں۔ سامان تو اللہ پھر دے دیگا مگر انسانوں کا نقصان تو کوئی نہیں پورا کرسکتا۔ (انکو پتہ چل گیا تھا کہ ہمیں سامان کی پرواہ نہیں)۔

 میرا بھائی اعجاز احمد چند دن پہلے ہی حالات خراب ہونے کی وجہ سے ربوہ سے گھر آیا تھا۔ وہاں پنجاب میں تمام واقعات دیکھ اور سن چکا تھا کہ کس طرح آخری منٹ میں پولیس گھر والوں کو محفوظ مقام پر پہنچانے کے بہانے، انکو اپنے گھروں سے نکال کر، باہر جلوس والوں کے حوالے کر دیتی تھی۔ اس لئے وہ پہلے ہی دن سے کہہ چکا تھا کہ بے شک یہ ادھر بیٹہے رہیں، کھائیں پئیں، مگران کے کہنے پر گھرسے نہیں نکلنا۔ ہم ان شاء اللہ پہلے تو مقابلہ کریں گے اگر شہید ہوئے تو بہت اچھا اور اگر گھر  چھوڑنا    پڑا، تو اپنے خدا پر توکل کر کے خود اپنے لئے پناہ کی جگہ ڈہونڈہیں گے۔ انشاء اللہ

جب پولیس نے گھر چہوڑنے کا کہا تو اعجاز بھائی اور ہم سب نے انکا یہ مشورہ ماننے سے انکار کیا، اعجاز بھائی نے پنجاب میں اپنی آنکہوں دیکھا حال بتایا تو پولیس افسر شرمندہ ہوکر والد صاحب سے منت کرنے لگا، کہ آپ لوگ بیشک مقابلہ کرلیں مگر گھر

 میں عورتوں کی موجودگی آپ لوگوں کو کمزور بنا سکتی ہے، اسلئے ان کو کسی محفوظ جگہ بھيج دیں تاکہ آپ آسانی سے مقابلہ کرسکیں۔ تو اباجان نے ہمیں ہمارے ایک غیر احمدی پڑوسی جو چند دن پہلے ہی خوشحال آباد میں اباجان کی دوستی اور مدد کی وجہ سے آکر آباد ہوئے تھےان کے ہاں جانے کو کہا، مگر ہم نے انکار کیا کہ یہ بزدلی ہے۔ آج امتحان کے وقت ہم گھر چھوڑکر کہیں نہیں جائنگے۔ لیکن اباجان اور ہمارے دوسرے کزنز کے سمجھانے پر ہم نے ان کی بات مان لی اور میرے بہنوئی، ایک کزن اور اس پولیس افسر کے ہمراہ پڑوسیوں کے گھرچلے گئے۔ حاجی صاحب کے گھر والوں نے ہمارا بہت خیال رکھا مگر ہم اداس اور پریشان کہ اس موقع پر ہم گھر میں رہ کرمردوں کی کچھ  خدمت کر سکتی تہیں۔ خیر ہم یہ تمام وقت نوافل اور دعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالىٰ سے مدد مانگتے رہے۔

 شام کے تقریباً چار بجے انکا 14 ،15 سالہ بیٹا گھر آیا اور ماں اور دادی سے کہنے لگا، کہ ٹوپی کے صاحبزادہ صاحب اور انکے بیٹے کو مار دیا گیا۔ تو ماں اور دادی نے جلدی سے یہ کہہ کراسے الگ لے جاکر خاموش کرایا کہ ٹوپی کے صاحبزادہ صاحب ان کے (یعنی امی کے) بھائی ہیں۔ اس لئے ان کے سامنے کچھ نا کہنا۔ (چونکہ یہ لوگ چند ہی دن پہلے یہاں آکر آباد ہوئے تہے، اس لئے بچے ابھی ہمارے خاندان سے واقف نہ تہے) لیکن ہم نے یہ سب باتیں سن لیں اور دعائیں کرتے رہے۔

محمد شیر اور محمد الیاس صاحب کا گھر بھی حاجی صاحب کے گھر کے سامنے تھا۔ ہم ان کو دیکھ سکتے تہے۔ تقریباً پانچ بجے کے قریب انکے گھر کو آگ لگا دی گئی۔ انا لللہ و انا الیہ راجعون۔ سب کو افسوس ہوا۔  میری بہن امۃالنصیر دل کی بہت کمزور تھی، دکھ سے سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ ہم سب نے اسے ہمت دلائی کہ یہی وہ وقت ہے جہاں ہم نے صبر اور حوصلہ دکھانا ہے، اللہ تعالىٰ ہمارے ساتھ ہے۔ وہ یہ سب کچھ ضائع نہ ہونے دیگا۔ ان شاءاللہ۔ تو اس میں ہمت آئی اور خود کو سنبھالا۔

بڑی بہن کے اس وقت دو بچے تھے، بیٹا  بلال احمد ابھی دو سال کا نہ تھا اور بیٹی مریم صدیقہ جو چند ماہ کی تھی، بیٹی کا بھوک سے برا حال تھا مگر باجی کا دودھ دکھ و پریشانی سے خشک ہو گیا تھا، ہم نے گھر والوں سے دودھ مانگا، انہوں نے دودھ تو دیا مگر چمچہ نہ تھا۔ شائد سامان ابھی پورا نہ کہول پائے تھےیا پریشانی میں ویسے نہیں مل رہا تھا تو ہم نے مالٹے کے پودے سے پتا توڑ کر بچی کو دودھ پلایا۔ اسکے بعد اس بچی کو 24 گھنٹے تک دودھ  نہ ملا، نا ہی ان بچوں نے کچھ مانگا نہ روئے۔ اس دن دوپہر کو بلال احمد گبھرا کر نیند سے بیدار ہوا، ابھی ٹھیک سے بول بھی نہ سکتا تھا۔ ہمیں کہنے لگا، “امی، اباجان بئی“۔ یعنی امی اباجان کو چوٹ لگی ہے۔ ہم سمجھے   یہ شائد فائرنگ کی آواز سن کر کہہ رہا ہے مگر بعد میں پتہ چلا کہ عین اسی وقت میرے بہنوئی کے سر پر گولی لگی تھی۔ اب ہمیں سمجھ آئی کہ اس کو خدا تعالىٰ نے خواب میں دکھایا تھا۔

شام تقریباً چار یا پانچ بجے کے قریب ایک ہیلی کاپٹر آیا، ہم سمجھے   شائد کوئی مدد کے لئے آیا ہو مگر وہ ہمارے گھر کے اوپر چند چکر لگا کر واپس چلا گیا۔ جب شام کا اندھیرا پھیلنے لگا، تو حاجی صاحب امی کے پاس آئے غمگین ہوکر کہنے لگے کہ بہن میں جاکر آذان دیتا ہوں، اگر یہ مسلمان ہونگے، تو آذان کی آواز سن کر یہ ظلم چھوڑدینگے اور اگر آذان کی آواز پر بھی انہوں نے اس ظلم سے ہاتھ نہ روکے، تو پھر سب کچھ اللہ پر چھوڑدینا، کہ وہی حفاظت کرنے والا ہے۔ انہوں نے جا کر آذان دینی شروع کی۔ جوکہ کھلی جگہ ہونے کی وجہ سے دور دور تک سنائی دے رہی تھی، مگر کسی پر کوئی اثر نہ ہوا۔ دو بار آذان دینے کے بعد وہ پھر ہمارے پاس آئے اور امی سے کہا، بہن میں ایک کمزور انسان ہوں۔ ان ظالموں کو سمجھانے کے لئے اتنا ہی کر سکتا تھا۔ اب اگر ان کے دل میں اللہ اور اس کی اس پکار کی پرواہ نہیں، تو پھر سوائے افسوس کے کیا کیا جا سکتا ہے۔ بس دعائیں کریں۔ اللہ فضل کرنے والا ہے۔ حاجی صاحب کی والدہ صاحبہ بھی آکر ہمیں دعائیں بتاتیں، کہ یہ دعا کرو، یہ دعا کرو، جب ہم کہتے کہ ہمیں یہ دعا آتی ہے، تو خوش ہو جاتی، کہ ہمیں وہ ساری دعائیں آتی بھی ہیں اور کر بھی رہے ہیں۔

تقریباً شام ہونے کو تھی۔ ہم ماں بیٹیاں چاروں زمین پر کھجور کے پتے سے بنے ایک مصلح ٹائپ چٹائی پر بیٹھے تھےے بلال احمد میری گود میں اور باجی میرے کندہے سے ٹیک      لگاۓ بٹھی تہیں ساتھ میں امی اور میری دوسری بہن امتہ النصیر گود میں مریم صدیقہ لے کر بیٹھے تھے کہ تائی نے آکر فیض محمد بھائی کی شہادت کی خبر سنائی اور باجی کی طرف بین کرتی ہوئی بڑہیں۔ تو باجی نے انکو منع کیا کہ تائی جان روئیں نہیں۔ میرا میاں مرا نہیں، وہ ذندہ ہے اور وہ اپنے مذھب کی خاطر شہید ہوا ہے۔ یہ رونے کی نہیں بلکہ فخر کی بات ہے۔ مجھے مبارکباد دو، کہ خدا نے ہمیں یہ موقع دیا۔ یہ ہم پر خدا کا فضل ہے۔ تو وہ چپ ہو گئیں۔ امی اور ہم دونوں بہنوں نے اسے  گلے لگا کر مبارکباد دی۔

جب شام کا اندھیرا پھیل گیا۔ تو حاجی صاحب کے گھر کی طرف سے، ہمارے گھر پر روشنی کرنے والے گولے پھینکنے شروع ہوئے۔ تو امی نے دیوار کے اوپر سے جھانک کر معلوم کرنا چاہا کہ کون ہے۔ دیکھا تو پولیس والے تھے۔ جوکہ حاجی صاحب کے گھر کے باہر بیٹہے تہے۔ امی نے ان کو ڈانٹا، کہ کیوں روشنی کر کے ان کو دشمن کی نظر میں لا رہے ہو؟ تو گھبرا کر کہنے لگے، نہیں جی ہم تو روشنی کر کے خان صاحب کو گھر سے نکلنے کا اشارہ اور رستہ دکھانے کے لئے یہ کر رہے ہیں۔ امی نے سختی سے  منع کیا کہ وہ بہتر جانتے ہیں کہ انہوں نے گھر سے نکلنا ہے یا نہیں اور رستہ بھی انکو آتا ہے۔

 جب اباجان اور اعجاز احمد گھر سے نکلے، تو اباجان نے جلوس کے قریب پہنچ کر مصلحتاً آواز لگائی کہ لوگو ہوشیار ہو جاؤپیچھے   سے قادیانیوں کی فوج آگئی۔ اس طرح یہ اپنا رستہ بنا کر باہر نکلے۔ جب اباجان جمگھٹے سے باہر نکلے، تو ایک شخص انکا پیچھا کرنے لگا۔ اباجان زگ زیگ میں کھیتوں میں آگے اور وہ شخص ان کے پیچھے پیچھے پیچھے۔ اباجان کہتے ہیں کہ مجھے   بہت افسوس ہو رہا تھا کہ کاش اس وقت میری بندوق میں ایک بھی گولی ہوتی، تو میں اس کے ہاتہوں اتنا پریشان نہ ہوتا۔ ایک ہی گولی سے اسکا کام تمام کر دیتا اور اب اتنا وقت نہ تھا کہ میں بندوق میں گولی ڈالتا کیونکہ یہ شخص بہت قریب تھا۔ کبھی خدا سے گلہ کرتا، کہ سارا دن لڑ کے تو اب یہاں پر ایسی بے بسی کی موت مروںگا؟ کافی دیر اس سے بچتے بچاتے مجھے   خیال آیا، کہ اس کے پاس ضرور خنجر ہے کیونکہ اگر اس شخص کے پاس بندوق یا پستول ہوتا، تو یہ کب کی گولی چلا چکا ہوتا۔ میں نے سوچا کہ یہ مجھے   تھکا کر آخر میں خنجر سے مارنا چاہتا ہے۔ اس لئے  بہتر ہے کہ میں اب اس پر وار کرنے میں پہل کر کے، اس سے پیچھا چھڑا لوں۔ اگر تھک گیا، تو پھر میرے لئے اس کا مقابلہ مشکل ہوگا۔ میں نے اپنی پوری طاقت سے نعرہ لگا کر اپنی بندوق کی بٹ سے اس پر وار کیا۔ تو وہ نیچہے گرا اور ساتھ ہی آواز دی،“ بابا میں ہوں اعجاز“ یہ سن کر تو میری جان نکل گئی اور اسے کہا کہ تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ تم اعجاز ہو؟ مجھے بھی تھکایا اور خود کو بھی خطرے میں ڈالا۔ اس نے بتایا کہ میں احتیاطاً نہیں بتا رہا تھا کہ دشمن نہ جان جائے۔ اباجان نے خدا کا شکر ادا کیا کہ جس نے اتنے بڑے نقصان سے بچایا۔ واقعی وہ جو بھی کرتا ہے بہتری کے لئے کرتا ہے۔ اگر اس وقت اباجان کی بندوق میں گولی ہوتی، تو وہ گولی چلانے سے دریغ نہ کرتے۔

رات کے تقریباً ساڑہے گیارہ بجے حاجی صاحب کے گھر کے دروازے پر ہمیں شور سنائی دیا۔ چونکہ سارا دن لوگ ان کے دروازے پر آ آکر پوچھتے کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ لوگوں نے قادیانیوں کو اپنے گھر میں پناہ دی ہے۔ یہ لوگ آگے سے انکار کرتے، کہ ہمارے گھر میں کوئی غیر نہیں اور کسی کو گھر میں نہیں آنے دے رہے تہے۔ اس لئے شور سن کر ہم سمجھے کہ شائد جلوس والے پھر ان کے دروازے پر آئے ہیں اور ذبردستی اندر آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لئے گھر والوں کو مزید کسی پریشانی سے بچانے کے لئے ہم خود  دروازے پر گئے، تاکہ جو بھی ہو، تو بہادری سے خود اسکا مقابلہ کریں۔ نہ کہ بزدلی سے چھپ کر، اپنے ساتھ  دوسروں کو بھی  مصیبت میں ڈالیں۔ اسلئے ہم بچوں کو ساتھ لے کر سب دروازے تک گئے۔ معلوم ہوا کہ میرا بھائی اعجاز احمد پولیس اور میرے تایا زادوں سے جھگڑ رہا تھا، اندر آنے کے لئے۔ چونکہ اسے تھکاوٹ اور پریشانی میں اندازہ ہی نہ ہوا کہ تایا کا گھریہ نہیں ہے۔ بلکہ کسی غیر کا گھر ہے۔ تایا کا گھر ان کے گھر کے پیچھے تھا۔ دراصل وہ تایا کے گھر جاکر وہاں سے مزید اسلحہ لینا چاہتا تھا کہ فیض محمد لالا (بہنوئی) اور نذیر محمد لالا (میرا کزن) شہید ہوگئے ہیں اور میرا چہوٹا بھائی امتیاز احمد ذندہ آگ میں گھرا ہوا ہے۔ وہ خدا نخواستہ آگ میں ذندہ جل جاۓ گا۔ میں نے انکو نکالنا ہے۔ اس وقت امی اس کے پاس پہنچیں اور اسے تسلی دینے لگیں کہ فیض محمد خان اور نذیر محمد شہید ہوگئے ہیں اور امتیاز احمد کی اللہ تعالىٰ خود حفاظت فرمائے گا۔ انشاء اللہ ۔ اس لئے تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ تم لوگوں نے خوب ہمت سے کام لیا اور ایک انسان کے بس میں جو تھا، وہ تم لوگوں نے کرلیا۔ آگے سب خدا پر چھوڑدو۔ نہ ہم ذاتی مفاد کے لئے لڑے ھيں اور نہ اپنی ذاتی طاقت پر بھروسہ کیا ہے۔ اگرہم نے خدا کی خاطر سب کچھ کیا ہے۔ تو سب کچھ اسی پر چھوڑدو۔ وہ حفاظت کے لئے کافی ہے۔ اس طرح اعجاز احمد کچھ سکون سے ہوگیا۔ پولیس والے اور جتنے غیراحمدی جاننے والے وہاں موجود تہے۔ سب نے خدا کا شکر ادا کیا کہ اس کی والدہ نے آکر چند فکروں میں ہی اس کا غصہ ٹھنڈا کر دیا۔ حیران ہو کر آپس میں کہنے لگے کہ یہ تو بہت بہادر اور ہمت والی عورت ہے۔

 اعجاز بھائی نے بتایا کہ اباجان ان گھروں سے کچھ فاصلہ پربیٹہے ہیں، مگر تھکاوٹ کی وجہ سے کسی  سے نہیں مل سکتے۔ پھر اس نے امی سے باجی کے بارے میں پوچھا۔ امی نے باجی سے ملایا۔ بچوں کو پیار کیا اور کہا، میں واپس جاکر بھائی جان کو وہاں سے نکال کر لاؤنگا، کل کو یہ بچے مجھ سے پوچہیں گے کہ تم ہمارے والد کی لاش کو آگ میں چھوڑکر آئے تہے۔ باجی نے کہا، اب تم واپس نہیں جاؤگے۔ انکا باپ خدا کی راہ میں احمدیت کے لئے شہید ہوا ہے یہ بڑے ہو کر اس بات پر فخر کریں گے۔

 اس کے بعد ہم نے اباجان کے پاس جاتے ہوئے تہوڑے فاصلہ پر کسی کو اپنی طرف بڑھتے دیکھا، باجی نے آواز دی اور پوچھا امتیاز؟ تو اسنے کہا جی ميں ہوں۔ اس رات چاند کی چودہويں تاریخ تھی، مگر پھر بھی دور سے پہچاننا مشکل تھا۔ اعجاز احمد سمجھا کہ شائد دشمن ہواس لئے اس کی طرف بندوق تھان لی مگر جب اس نے آواز دی، کہ میں ہوں، امتیاز، تو سب نے خدا کا شکر ادا کیا کہ اللہ تعالىٰ نے محض اپنے فضل سے اسے پہلے آگ سے زندہ نکالا اور اب بھی یہاں کسی غلط فہمی کی وجہ سے حادثہ سے بچا لیا۔ الحمد اللہ

امتیاز نے مختصراً آنکہوں دیکھا حال سنایا کہ وہ گھرسے نکل کر پہلے اپنے مزارعوں کے گھروں میں گیا۔ انہیں اپنے ذندہ سلامت نکلنے کی اطلاع دی۔ اپنی بندوق ایک مرغی (جوکہ گھر سے نکلتے وقت نثار محمد بھائی نے اسے پکڑائی، کہ لوگ انہیں بھی لوٹنے والوں میں سمجھیں اور گھر سے نکلنے میں آسانی ہو) انکے گھر پر چھوڑ آیا۔ پھر بھائی نذیر محمد کے بہنوئی کے گھر گیا۔ تقریباً سب غیر احمدی رشتہ دار مرد انکے گھر پر جمع تھے۔ انکو حالات سے آگاہ کیا کہ نذیر محمد لالا شہید ہوگئے ہیں اور فیض محمد لالا شدید زخمی ہیں۔ اس لئے ان دونوں کو گھر (پہوپھی جان کے گھر)لانے کا بندوبست کریں۔

ہميں بھی بار بار کہتا رہا کہ میں نے فیض محمد بھائی کو گھر سے نکلتے دیکھا ہے۔ وہ ننگے پاؤں آہستہ آہستہ چل رہے تہے۔ میں انکے قریب جانا چاہتا تھا، مگر لوگوں کی وجہ سے میں ان تک پہنچ نہ سکا کہ کافی لوگ اس کے گرد جمع ہوگئے تہے۔ وہ ذندہ ہے۔ مگر ہم سمجھ رہے تھےکہ یہ چہوٹا ہے۔ اسکا ذہن اتنا بڑا صدمہ برداشت نہیں کر رہا۔ اسلئے اپنے ساتھ ہمیں بھی تسلی دے رہا ہے۔ ہم سمجھانے کی کوشش کرتے کہ وہ شہید ہے اور شہادت کا مرتبہ بہت بڑا ہے۔ اب ان کے لئے دعا کرو۔ تو کہتا مجھے پتہ ہے مگر جو میں کہہ رہا ہوں وہ بھی سچ ہے۔

جب ہم سب اباجان کے پاس پہنچے۔ سب سے پہلے امی جان نے ان سے ملکر ان کو شاباش اور مبارکباد دی کہ آپ لوگ خوب بہادری سے لڑے ہیں۔ اللہ تعالىٰ ‍قبول فرمائے۔ آمین ثمہ آمین۔ ہم سب نے بھی اباجان کو مبارکباد دی۔ ہماری تائی بھی ہمارے ساتھ تہیں۔ اس نے پھر اسی طریقے سے رونا پیٹنا شروع کرنا چاہا۔ جیسا کہ غیر احمدی لوگ اظہار افسوس و ہمدردی دکھاتے ہوئے کرتے ہیں۔ تو میں نے انہیں منع کیا کہ تائی جان ہماری قربانیاں

   ضائع نہ کریں۔ یہ سب کچھ اللہ کا دیا تھا اور اسی کی راہ میں قربان ہوا۔ ہمیں اس کی خوشی ہے غم نہیں۔ تو وہ خاموش ہوگئیں۔ بعد میں اباجان اکثر کہتے کہ تمہارے ان الفاظ سے مجھے   انتہائی خوشی ہوئی، حوصلہ بڑھا اور خدا کا شکر ادا کیا کہ یہ محض اس کا فضل ہے کہ میری بیوی بچے بھی میری اس قربانی اور خوشی میں میرے ساتھ برابر شریک ہیں۔

اب اباجان بھی اسی بات پر اسرار کر رہے تھےکہ وہ واپس جاکر فیض محمد اور نذیر محمد کی لاشیں وہاں سے  نکال کر لائنگے۔ ہم سب نے منع کیا اور کہا کہ امتیاز ذندہ آگ کے اندر تھا۔ اسے خدا اپنے فضل سے نکال کر لے آیا۔ مگر وہ دونوں شہید ہیں۔ اب لوگ کچھ بھی کر لیں، اللہ تعالىٰ نے انہیں شہادت کا درجہ دے کر سرفراز کرلیا ہے۔ اب اگر آپ کو واپس جا کر لاشیں نکالتے وقت، پھر لڑنا پڑا، تو کہیں وہ ذاتی غصہ اور بدلہ میں شمار نہ ہو جائے۔ اس لئے سب کچھ اللہ پر چھوڑ دیں۔ اسطرح تسلیاں دے کر ان کو روک لیا۔

امی جان کے مشورہ پر، کہ سب سے پہلے ہماری پہوپھی صاحبہ جن کا بیٹا نذیر محمد شہید ہوا تھا۔ انکے گھر چلتے ہیں۔ ہماری تائی بھی ہمارے ساتھ چل پڑیں۔ ہم نے اسے بھی سہارا دیا کیونکہ ان کو رات کے وقت دیکھائی نہیں دیتا تھا۔ جب ہم تہوڑی دور گئے۔ تو ایک لڑکا جو ہمارے ساتھ حفاظت کے لۓ آ رہا تھا، ہمارے قریب آکر اباجان سے کہنے لگا کہ میری بات شائد سننے میں آپ کو بری لگے مگر آپ لوگوں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے، میرا مشورہ یہ ہے کہ ان بہنوں کی پردے والی  سفید چادریں اس چاندنی رات میں دور دور تک دکھائی دے رہی ہیں۔ سبھی کو پتہ ہے کہ اس علاقہ میں صرف آپ کے خاندان کی عورتیں سفید چادریں پہنتی ہیں اور اتنی رات گئے اس ویرانے میں آج کے دن سوائے آپ لوگوں کے اور کون ہوسکتا ہے۔ اس طرح آپ لوگوں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ میرا مشورہ مانیں اور یہ چادریں اتار دیں، مرد عورت کا فرق نظر آنا ختم ہوجائے گا۔ اباجان نے بھی اسکا مشورہ مناسب سمجھا اور ہم نے چادریں ہٹا دیں۔

اب پیدل چلتے چلتے ہم ایک دوسرے سے آگےپیچھے   ہوجاتے۔ ایک بار جب، میری بڑی دونوں بہنیں، امتہ القیوم، امۃالنصیر اور امتیاز احمد ہم سے آگے نکل گئے۔ تو ہمیں فکر ہوئی۔ میں انہیں ڈہونڈتے ہوئے امی اباجان وغیرہ سے ذرہ آگے نکل کر سب سے پوچتی  کہ اگرانہوں نے دو عورتوں اور چھوٹے لڑکے (امتیاز احمد) دیکھا ہو؟ ایک آدمی اپنے گھر کی دیوار پر کھڑا تھا۔ میرے پوچھنے پر اس نے کہا، ہاں ہمارے گھر میں ہیں اور جلدی سے اپنا ہاتھ بڑھا کر کہا کہ دیوار پھلانگ کر آپ بھی اندر آجائيں۔ تہوڑا سستانے کے بعد آگے چلے جانا۔ لیکن باوجود میرے بار بار کہنے کے کہ ان کو بلائیں ہم نے آگے جاناہے۔ وہ اپنی بات پر بضد تھا کہ آپ اندر آئیں۔ اتنے میں امی وہاں پہنچیں، میں نے امی کو بتایا کہ باجیاں ان کے گھر میں ہیں اور یہ انہیں بلا نہیں رہے۔ امی نے کہا یہ جہوٹ بہول رہا ہے۔ وہ میری بیٹیاں ہیں اور مجھے   معلوم ہے کہ وہ ان یذیدوں کے گھر میں کبھی بھی نہیں جا سکتیں اور کہا، وہ جہاں بھی ہونگیں خدا کے فضل سے ان کے ہاتہوں سے محفوظ ہونگیں اور واقعی جیسے ہی ہم  ذرا اور آگے آئے تو دیکھا کہ وہ لوگ اسی رستے پہ ہم سے آگے نکل گئے تھے۔ یعنی وہ آدمی جہوٹ بول رہا تھا بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ انہوں نے ہمارے ناظر عبدالحکیم کو بھی اپنے گھر پر باندھ رکھا تھا لیکن کسی بھلے آدمی نے اسے یہ کہ کر چھڑایا کہ یہ ایک غریب آدمی ہے۔ اپنی روزی روٹی کی خاطر انکی خدمت کرتا ہے۔ اگر تم لوگ اسے صرف اس لئے جان سے مارنا چاہتے ہو، کہ اس نے ان کا نمک کھایا ہے۔ تو اس علاقہ میں کوئی ایسا واحد شخص مجھے   دکھاؤ، جس نے ان کا نمک نہ کھایا ہو۔ تو پھر بیشک اسے قتل کر دو۔ اس طرح اس کی جان چہوٹی، اور وہ وہاں سے بھاگ گیا۔

تمام رستہ جگہ جگہ لوگوں کی مسلح ٹولیاں ہمارے گھر کی طرف جاتی ہوئی ہمیں ملتیں۔ توہم عورتیں مردوں کے پیچھے ہو جاتیں اور بھیڑ کی وجہ سے وہ ہمیں پہچان نہ پاتے لیکن اباجان ان کے کسی بھی وار کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھتے۔ ایک ٹولی نے اباجان کو پہچان کر ایک دوسرے کو بتانا شروع کیا کہ یہ تو صوبیدار صاحب ہیں اور اباجان سے کہا، ہم تو آپ کی مدد کے لئے آئے ہیں۔ ہمارے ساتھ چلیں۔ تو ہم نے کہا کہ ہمارے لئے اللہ کی مدد کافی ہے۔ اباجان نے اپنی بندوق ان کی طرف تھان کر کہا جاؤ جو کرنے آئے ہو وہ کرو۔ ابھی تمھارے لوٹنے کے لئے بھی وہاں کافی کچھ ہوگا تمہارا جہاد یہی سامان لوٹنا ہی تو ہے۔  وہ سر جھکا کر چل پڑے۔ اباجان اسی طرح تیار کھڑے ان کے دور چلے جانے کا انتظار کرتے رہے کہ یہ پیچھے سے حملہ نہ کر ديں۔ اس طرح کرتے کرتے ہم مینئی ہماری پہوپھی کے گاؤں پہنچے۔ تو رات کے تقریباً ڈیڑھ دو بجے کا وقت ہوگا۔ رات کے اس وقت جبکہ عام طور پر گاؤں کے لوگ سو چکے ہوتے ہیں۔ مگر آج  گاؤں کے تمام حجرے مردوں سے بھرے تہے۔ اباجان کو پہچان کر سخت حیران ہوتے اور ملنے کے لئے کھڑے ہوتے مگر ہمیں پردے کے بغیر دیکھ کر منہ پھیر کر بیٹھ جاتے۔ جب اپنے محلے میں پہنچے۔ تو تمام غیر احمدی رشتہ دار خواتین ننگے سر گلیوں میں بے چین ہمارے لئے انتظار کر رہی تہیں۔ ہمیں دیکھ کر سب نے خدا کا شکر ادا کیا۔ ہمیں پہوپھی کے گھر لے گئیں۔

امی نے سب کو سمجھایا تھا کہ جاتے ہی پہوپھی کو ان کے بیٹے کی شہادت کا نہیں بتانا، جب ہم پہوپھی کے گھر پہنچے۔ انہوں نے ہمارے آنے پر خدا کا شکر اور حالات پر افسوس کیا۔ ان کے سب مرد خوشحال آباد میں تہے۔ نہ پہوپھی نے اپنے بیٹوں کا پوچھا، نہ کسی اور نے اپنے خاوندوں یا بیٹوں اور بھائیوں کے بارے میں کوئی سوال کیا۔ بس ہمارے زخموں کی مرہم پٹی کرنے، چائے وغیرہ کا بندوبست کرنے لگے۔ ہم پانی مانگ رہے تھےمگر سب نے کہا کہ اتنی گرمی میں اتنا پیدل سفر کرنے کے بعد پانی نہیں پینا ہم چاۓ بنا رہے ہیں۔ ابھی چند ہی منٹ گزرے تھےکہ نذیر محمد بھائی کے چہوٹے بھائی نے آکر پہوپھی کو بھائی کی شہادت کی خبر دی۔ سب نے بین کرنا شروع کیا اور ساتھ ہی قریبی مسجد میں لاؤڈ سپیکر پر اعلان ہوا کہ قادیانی یہاں پہنچ گئے ہیں۔ جس کسی نے بھی انکو پناہ دی۔ ہم ان کے گھر جلائیں گے اور ان کا وہی حشر کرینگے جو قادیانیوں کا کیا ہے۔

یہ اعلان کرنے والا مولوی وہم کا مریض تھا۔ اسے ڈر ہوتا تھا کہ اگر اس کے پاس پانی نہ ہوا تو یہ مر جائے گا۔ اس لئے اکثر ہمارے گھر کے پاس سے گزرتے ہوئے، جب اس کے پاس پانی ختم ہو جاتا، تو ہمارے گھر سے پانی بھر کے اپنے ساتھ لے جاتا۔ اگر گھر سے نکلتے وقت پانی لینا بہول جاتا، تو ہم اپنے گھر سے برتن بھی دے دیتے۔ اس دن بھی ابھی ہمارا برتن اس کے گھر میں پڑا تھا اور یہ اعلان کر رہا تھا کہ ان کے گھر کا کھانا، پینا حرام ہے، ان کا جہوٹا کھانا یا ان کے برتنوں میں کھانا پینا حرام ہے اور خود جب وہاں سے سامان لوٹ کر اپنے گھر لائے تو پھر شائد کوئی اور فتوی دیکھا ہوگا۔

اباجان اور امی نے پہوپھی سے کہا کہ اب یہاں ٹہرنا مناسب نہیں، کیونکہ ہم اپنے ساتھ اور بے گناہ لوگوں کو مزید امتحان میں نہیں ڈالنا چاہتے، مگر پہوپھی، ان کی بہوئیں اور سارے گھر والے ہمارے گرد جمع ہوئے اور روکنے لگے کہ ہمیں موت کا کوئی خوف نہیں، اکٹھے جئیں گے اکٹھے مریں گے۔ پہوپھی کا رو رو کر برا حال تھا۔ کہہ رہی تہیں، کہ بیٹا تو کہو دیا، اس کے لئے تو دل کو سمجھا لونگی کہ فوت ہوگیا مگر آپ لوگ ذندہ بےگھر ہو جائیں، تمہیں کہاں ڈہونڈونگی اور دل کو کیا دلاسہ دونگی؟ ہم سخت پریشان کہ کہیں اباجان پہوپھی جان کی پریشانی کا خیال کر کے اپنا ارادہ بدل نہ دیں۔ اباجان کو اپنی بہن بہت عزیز تہیں مگر اس وقت ان کی یہ بات ماننا خود پھوپھی جان کے تمام گھر والوں کو جان کے خطرہ میں ڈالنے والی بات تھی۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اباجان کو وقت پر درست فیصلہ کرنے کی توفیق ملی۔ انہوں نے پہوپھی جان کو سمجھایا کہ باجی خدا کی زمین بہت وسیع ہے۔ آپ فکر نہ کریں۔ وہ بادشاہ ہے۔ اسے جو منظور ہوگا، وہ جہاں لے جائے۔ ہم اسی پر راضی ہونگے۔ اگر خدا نے چاہا تو ہم ضرور دوبارہ ملیں گے انشاء اللہ۔

جاتے ہوئے اباجان نے پہوپھی کو فیض محمد بھائی کی شہادت کا بھی بتا دیا اور کہا کہ نذیر محمد اور فیض محمد کی لاشیں وہاں سے نکال کر ان کی تدفین کا بندوبست کرلیں۔ وہ بیچاری تڑپ کر خاموش ہو گئیں اور اپنے دوسرے بیٹے کو ہمارے ساتھ روانہ کیا کہ ماموں جہاں جائیں تم نے ساتھ رہنا ہے۔ وہ باوجود ہمارے منع کرنے کے ساتھ ہو لئے۔

جس رستے سے مردوں نے جانے کا مشورہ کیا۔ اس علاقہ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہاں ہر جھاڑی کے نیچہے خطرناک زہریلے سانپ (رٹل سنیک) ہوتے ہیں۔ اس لۓ جاتے ہوۓ کسی اور چیز کا خوف نہیں تھا مگر سانپ سے ڈر لگ رہا تھا اور اپنا خوف بھی کسی پر ظاہر نہیں کیا نہ ہی اس کے بارے میں کسی سے ذکر کیا کہ اگر باقیوں نے نہیں سنا کہ ہم کس رستے سے جا رہے ہیں تو خواہ مخواہ خوف پھیلانا اچھا نہیں، بعد میں جب میں نے  اباجان سے پوچھا کہ ہم واقعی اس علاقے سے گذرے تہے؟ وہاں تو ہم نے کوئی سانپ نہیں دیکھا۔ تو اباجان اور چہوٹا بھائی امتیاز احمد حیران ہوئے اور خدا کا شکر ادا کیا۔ اباجان کہنے لگے کہ سوائے اس رستہ کے اور کوئی رستہ محفوظ نہ تھا۔ اس لئے ادھر سے جانے کا پروگرام بنایا تھا۔ لیکن جیسے ہی ہم اس علاقہ میں داخل ہوئے، تو میں نے خدا سے دعا مانگی کہ اے خدا تجہے پتہ ہے کہ میری بیوی اور بچیاں تو چپکلی سے بھی ڈرتی ہیں۔ اگر اس وقت ان کو کوئی سانپ نظر آیا تو ان کو یہاں سے گذارنا ناممکن ہو جائے گا۔ بس تو محض اپنے کرم سے کچھ ایسا کر دے کہ ان کو کوئی سانپ نظر نہ آئے۔ اللہ تعالىٰ نے تدبیر سجھائی اور میں جھاڑیوں ميں جان بوجھ کر پاؤں گھسیٹتا ہوا چلنے لگا کہ آہٹ سے سانپ بھاگ جائیں اور تمام وقت میں نے سانپوں کو بھاگتے دیکھا۔ بلکہ ایک جگہ امی جان نے بہت اسرار کر کے اباجان کو تہوڑی دیر کیلئے سستانے کے لئے کہا کہ اباجان بہت تھک گئے تہے۔ تو اباجان اور امتیاز احمد نے بتایا کہ جہاں امی جان نے اباجان کے لئے زمین پر اپنی چادر بچھائی، وہاں سے بھی سانپ بھاگے۔ مگر اللہ کی شان کہ ہم ماں بیٹیوں میں سے کسی نے بھی ایک کیڑا تک نہ دیکھا۔ الحمد للہ

‎‌‍اباجان تہوڑی تہوڑی دیر کے بعد کہتے کہ اب واپس گھر چلتے ہیں۔ لوگ جا چکے ہوںگے۔ ہم بتاتے کہ گولیاں چلنے اور لوگوں کا شور یہاں میلوں کے فاصلے پر سنائی دے رہا ہے۔ گھر سے اٹھنے والے شعلے یہاں تک دکھائی دے رہے ہیں۔ ابھی تک لوگ ٹرکوں میں ہمارے گھر کی طرف جا رہے ہیں۔ جب ہم وہاں پہنچینگے تو وہاں صرف ایک راکھ کا ڈھیر ہوگا، سر چھپانے کی جگہ نہیں۔ اس رات کے اندھیرے سے فائدہ اٹھا کرہمیں کسی محفوظ مقام پر پہنچنا ہے۔ تہوڑی دیر میں صبح ہونے والی ہے۔ پھر دن کی روشنی میں کئی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

اباجان کئی جگ راتوں اور اب سارا دن کھڑکتی  دھوپ    میں 12 گھنٹے مقابلہ کرنے کے، اور اب میلوں پیدل چلنے سے کافی تھک گئے تہے۔ کہنے لگے میرا تو ذھن بالکل خالی ہوگیا۔ کوئی دعا ذھن میں ہی نہیں آرہی۔ امی نے اونچی آواز سے قرآنی دعائیں، احادیث اور مسیح موعود علیہ سلام کی دعائیں پڑھنی شروع کئیں۔ ہم سب ان کے ساتھ پڑھنے لگے۔

دور سے ٹرکوں پر لوگ جاتے ہوئے نعرے لگاتے، قادیانیوں کو پکڑو، قادیانیوں کی حوروں کو پکڑو، انکے گھروں کو جلاؤ۔ ہم کچھ دیر جھاڑیوں میں چھپ کر ان کے گزر جانے کا انتظار کرتے۔ جب ٹرک گزر جاتے تو ہم آگے چلنے لگتے، چونکہ ہمارا گھر گاؤں سے باہر زمینوں میں تھا۔ جن پڑوسیوں کا ذکر ہے، یہ بھی سب اپنی اپنی زمینوں میں گھر بنا کر رہتے تھےاور یہ تمام رستہ سوائے میری پہوپھی کے گھر کے جو گاؤں میں تھا، باقی سب فصل والی زمینیں تہیں۔ اس لئے اور چاندنی رات کی وجہ سے، دور دور تک بڑی آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ اتنے خطرناک رستے پر چند لوگ رات کے اس پہر سوائے احمدیوں کے اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔

اباجان، اعجاز بھائی اور امتیاز احمد، تینوں زخمی بھی تھےمگر بغیر اپنے زخموں کی پرواہ کئے یہ لوگ بڑی ہمت سے ان کھیتوں میں چل رہے تہے۔ جس میں گندم کی کٹائی ہوئی تھی اور کٹائی کے بعد جو جڑیں رہ جاتی ہیں، اس سے  پاؤں چھلنی ہو رہے تہے۔  پیر کانٹوں سے بھر گئے تھےمگر کسی نے اف تک نہ کی اور میلوں سفر طے کیا۔

جاتے جاتے ہم ایک بہت بڑی کھائی کے پاس پہنچے۔ جو قد آدم سے گہری اور ایک میٹر سے ذیادہ چوڑی تھی لمبائی میں حدنظر تک پھیلی ہوئی تھی۔ جسے پھلانگنا ناممکن تھا تو اباجان کہنے لگے، کہ اگر ہم کسی طرح اس کھائی کے اس پار جانے میں کامیاب ہو گئے۔ تو دشمن کےپیچھے   سے وار کرنے سے بچ جائیں گے۔ مگر اسے پار کرنا باالکل ناممکن تھا۔ کیونکہ حد نظر تک صرف کھائی ہی نظر آرہی تھی۔ سمجھ نہیں آرہی تھی۔ کہ یہ کیسے پار کریں، اب تو شائد ادھر ہی صبح ہو جاۓ گی اور پھر پتہ نہیں دن کی روشنی میں یہاں کن حالات کا سامنا کرنا پڑے۔ دعا‏ئیں کرتے رہے کہ اللہ میاں خود سے ہمارے لئے اس رستے کی ہر رکاوٹ کو دور فرما۔ ابھی تک ہم بغیر کسی پلینگ کے جارہے تہے۔ ابا جان رستہ ڈہونڈتے رہے، اچانک خوشی اور امید کے ملے جلے جذبات سے ہمیں پکارہ کہ یہ دیکہو رستہ ہے دیکھا تو ایک طرف ایک پتلا سا رستہ بنا تھا جس سے ایک وقت میں بمشکل ایک شخص گذر سکتا تھا۔ اس کو پار کیا اور خدا کا شکر ادا کیا اس سے تہوڑا آگے تربیلہ ڈیم کے لئے مٹی سپلائی کرنے والا کنوئیر بیلٹ نظر آیا۔ یہ بھی کھائی کی طرح دور تک پھیلا ہوا تھا۔ ہم ابھی اس سے کافی فاصلے پر تھےکہ اسکے چلنے کا پہلا سائرن بجا۔ اب اباجان نے کہا کہ اگر ہم اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے صحیح رستے سے دوسری طرف جائینگے، تو رستہ بہت لمبا ہے، اس کے دونوں سروں پر سکیورٹی چوکیاں ہیں۔ تو پوچھ گچھ ہوگی اور آگے جانا شائد مشکل ہو جائے۔ اس لئے اگر ہمت کر کے تم لوگ تیز چلو، تو ہم یہیں سے بیلٹ پھلانگ کے دوسری طرف چلے جائیں گے۔ اور دشمن کے حملہ  سے محفوظ ہو جائیں گے۔ خیر ہم نے تیز چلنا شروع کیا مگر دوسرا سائرن بھی ہو گیا۔ ہم نے اور تیز چلنا شروع کیا، کیونکہ ابھی فاصلہ کافی تھا۔ سبھی امید اور ناامیدی کی ایک عجیب کشمکش میں تھےکہ آیا تیسرے سائرن سے پہلے ہم اس تک پہنچ کر اسے پھلانگ پائینگے یا نہیں؟ اباجان نے کہا کہ اگر یہ چل پڑا تو پھر ہمارے لئے دوسری طرف جانا ناممکن ہے۔ دعائیں کرتے اور جتنا ہو سکا تیز چلنے کی کوشش کرتے رہے۔ اتنے میں تیسرا سائرن بج گیا۔ سب پریشان ہو گئے کہ عموماً تیسرے سائرن کے چند سکنڈ بعد بیلٹ چلنے لگتی ہے۔ مگر اللہ میاں ہر قدم پر اپنے پیارے مہدی موعودؑ کی سچائی کے نشان ہم پر ظاہر کرنا چاہتا تھا۔ اپنے ذندہ و قادر ہرنے کا ثبوت دینا چاہتا تھا۔ کوئی لمحہ نہ تھا کہ اس عظیم ھستی نے ہمیں اپنی عظمت کا نشان نہ دکھایا ہو۔ ”سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم اللہم صلے علے محمد و آل محمد“ ہم سب دعائیں مانگتے اور درود شریف کا ورد کرتے اور اللہ تعالىٰ سے اس کی مدد مانگتے رہے کہ اللہ میاں اگر اس کے دوسری طرف نکلنے میں ہماری بہتری ہے تو ہماری مدد فرما۔ جب ہم اس کے پاس پہنچے تو یہ سب کو پتہ تھا کہ اب یہ کسی بھی لمحے چل پڑیگا۔ مگر اباجان نے کہا کہ خدا تعالىٰ کی ذات پر توکل کر کے اس بیلٹ کے دونوں پٹیوں کے درمیان سے گذر جاؤ۔ یعنی ایک اوپر کا حصہ جس پر مٹی لے جاتے ہیں اور دوسرا اس کے نیچہے وہ خالی بیلٹ جو واپس جارہی ہوتی ہے۔ ان دو حصوں کے درمیان سے ہمیں گذرنا تھا۔ ہم تینوں بہنیں اور امتیاز احمد بمع دونوں بچوں کے دونوں بیلٹس کے درمیان سے گذر گئے اور اعجاز احمد بیلٹ کے اوپر سے پھلانگ کر دوسری طرف آگیا۔ اب امی اور اباجان کے لئے یہ درمیانی فاصلہ کافی نہ تھا۔ یہ دونوں جسامت میں ہم سے بڑے تہے۔ امی کو اباجان نے ان دونوں بیلٹس کے نیچہے سے گذرنے کا مشورہ دیا۔ لیکن پتہ چلا کہ وہ بھی تنگ تھا اور بڑی مشکلوں سے امی کو ادھر سے گذارا۔ اباجان چاہتے تھےکہ پہلے ہم سب پوری حفاظت سے دوسری طرف نکل جائیں، تو تب اباجان بیلٹ کراس کرینگے۔ کیونکہ خطرہ تھا کہ اگر بیلٹ چلنا شروع ہوا تو خدانخواستہ کوئی نقصان نہ ہو جائے۔ اب اباجان اکیلے دوسری طرف رہ گئے۔ سبھی کے دل دھڑک رہے تھےاور خدا سے اباجان کی خیریت اور مدد کی دعائیں مانگ رہے تہے۔ اب ابا جان کو بیلٹ کے اوپر سے پھلانگنے کا مشورہ دیا، مگر بیلٹ کافی اونچھا تھا مگر اللہ تعالىٰ نے مدد فرمائی اور اباجان بھی خیریت سے بیلٹ پھلانگ کر ہمارے پاس آگئے۔ اللہ تعالىٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا ۔

یہ سب کچھ تیسرے سائرن کے بعد ہوا، ہمارے لئے یہ دورانیہ بہت لمبا تھا۔ لگتا تھا کہ کئی منٹ لگے ہونگے اور ہمارے اندازے کے مطابق بیلٹ کو کب کا چلنا چاہئے تھا۔ اس وقت کا صحیح علم تو اللہ کو ہوگا، مگر ایسا لگتا تھا، جیسے کوئی ہمیں دیکھ کر بیلٹ کو روکے ہوئے ہمارے گذرنے کا انتظار کر رہا ہے اور وہ ذات یقیناً صرف اللہ کی تھی۔ جیسے ہی اباجان نے بیلٹ کراس کیا تو بیلٹ چل پڑی، ہم نے خدا  کا شکر ادا کیا کہ بغیر کسی نقصان کے اللہ تعالىٰ نے اتنا بڑا فضل فرمایا۔ اباجان نے ہمیں تسلی دی کہ اب خدا کے فضل سے ہمپیچھے   سے دشمن کے حملہ سے محفوظ ہوگئے ہیں۔ الحمد للہ

اب کافی دور چل کر ہمیں تربیلہ ڈیم کی آبادی  نظر آئی مگر پیاس و تھکاوٹ سے میری دونوں بہنوں کو بہت کمزوری شروع ہوگئی اور چلنا مشکل ہو گیا۔ بڑی باجی نے کہا کہ اب میں اور نہیں چل سکتی تو اباجان نے پیار سے کہا کہ تہوڑی ہمت کرو، اب خدا کے فضل سے منزل قریب ہے مگر ان دونوں کے لئے مزید چلنا ناممکن ہو گیا تھا۔ اباجان پریشان ادھر ادھر دعائیں کرتے ہوئے پانی تلاش کرنے لگے کہ اچانک میرے چہوٹے بھائی امتیاز احمد نے آواز دی۔” بابا (اباجان) یہ پانی کا ڈبہ ہے۔ “ہمیں پہلے تو یقین نہ آیا مگر اس نے قریب لا کر دکھایا، تو اباجان اور ہم سب نے خدا کا شکر ادا کیا، امۃالنصیر نے پینے سے انکار کیا کہ اس میں سے زنگ کی بو آرہی ہے مگر ہم میں سے دو ایک اور نے اس سے گہونٹ گہونٹ بھر پی لیا۔ ڈبہ چہوٹا تھا۔ یہی چند گہونٹ پانی تھا جو ختم ہو گیا، اباجان نے تڑپ کر خدا سے دعا مانگی۔ میرا چہوٹا بھائی امتیاز احمد جوکہ اس وقت نویں کا طالب علم تھا۔ 12 گھنٹے  دھوپ    میں بہوکا پیاسا جلوس کا مقابلہ کرنے کے بعد میلوں پیدل چلنے کی تھکاوٹ اور پیاس سے بیحال ہوکر، اداس و پریشان زمین پر لیٹ گیا اور ہاتھ سر سے اوپر لے جاکرپیچھے   کو زمین پر پھیلائے، تو اس نے خوشی سے چیخ  کر اباجان کو آواز دی ۔” بابا پانی ہے“ ہم سمجھے   شائد پریشانی میں اسے ایسا نظر آرہا ہے۔ اس کا وہم ہے۔ اس ویرانے میں اور پانی کہاں سے آئے گا؟ مگر اسنے بار بار یہ کہہ کر کہ واقعی یہاں پانی ہے، سب کو بلایا۔ ہم سب ادھر گئے تو دیکھا کہ واقعی ایک چہوٹا سا حوض ہے۔ جو پانی سے بھرا ہے۔ سب نے خدا کے فضل سے پانی پیا، اگرچہ انتہائی گرم تھا پھر بھی جان میں جان آئی اور آگے جانے کی ہمت ہوئی الحمد للہ

عجیب بات یہ تھی کہ اس شدید گرمی میں باوجود پیاس کے ہم چلتے رہے۔ اگرچہ اس علاقہ میں جگہ جگہ بہت خوبصورت چشمے، پانی کے کنویں بھی ہیں۔ پورے رستہ میں ہمیں ایک بوند پانی کا نہ ملا مگر جہاں ہم ہمت ہار کر بیٹھ گئے وہیں پر اللہ تعالىٰ نے پانی کا اس طرح سے بندوبست کردیا۔ الحمد للہ

اب ہم پہاڑ سے اتر کر سڑک پر پہنچے تو خدا کا شکر ادا کیا کہ اب سڑک پر چلنا کسی حد تک آسان ہو گیا۔ کیونکہ پاؤں کے جوتے تو پہلے ہی اس دشوار گذار رستے میں ٹوٹ گئے تہے۔ اس لئے ناہموار رستے پہ چلنا کافی تکلیف دہ تھا۔ ابھی تہوڑا ہی گئے تھےکہ ایک گاڑی ہمارے قریب آکر رکی اور پوچھا آپ کون ہیں اور کہاں جا رہے ہیں؟ اباجان نے مصلحتاً اپنا نام نہ بتایا صرف کہا۔ ”ہمارے رشتہ داروں میں فوتگی ہوئی ہے، وہاں جا رہے ہیں۔“ جواب سن کر وہ آگے چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد اباجان نے کہا کہ ہو نہیں سکتا کہ اس نے ہمیں پہچانا نہ ہو۔ (اباجان کو تربیلہ ڈیم میں ہر کوئی جانتا تھا۔ مگر ہمیں لفٹ نہ دے کر، معلوم ہوتا ہے یہ آگے اطلاع دے کر، ہمارے لئے کوئی مصیبت کھڑی کرنا چاہتا ہے۔) ہم سب اور ذیادہ دعائیں کرنے لگے کہ اللہ میاں انہیں کسی بدی کی توفیق نہ دے آمین۔ دیکھا تو شائد ہی وہ ہم سے ایک فرلانگ آگے گئے ہونگے کہ گاڑی واپس کی اور ہماری طرف آنے لگے۔ اب ہم پریشان ہوئے کہ شائد یہ کسی بری نیت سے گاڑی پیچے لا رہے ہیں۔ تو ہم جلدی سے سڑک سے نیچہے اترنے لگے (سڑک پہاڑی پر تھی) اس لئے سڑک چہوڑتے ہوئے ہم پہاڑ سے نیچہے کو پھسل گئے۔ تو انہوں نے آواز دی کہ گھبرائیں نہیں، گاڑی میںپیچھے   بیٹھ جائیں۔ ہم آپ لوگوں کو کالونی تک چھوڑآئینگے۔ اس وقت ہم اپنے پیارے خدا کا جتنا بھی شکر کرتے کم تھا۔ اس دن یہ پہلا موقع نہ تھا بلکہ ہر قدم پر جو بھی دعا ہم خدا سے مانگتے اللہ میاں اپنے حبیبؐ اور اپنے امام مہدىؑ کے صدقے اسی لمحے ہماری دعا قبول کر دیتا اور ذھن یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا کہ اگر ہم جیسوں کو اللہ تعالىٰ اس طرح نواز رہا ہے۔ اس کے ان پیارے بندوں کو اس نے اپنے پیار کے کیا کیا نظارے نہ دکھائے ہونگے اور تبہی تو دنیا کی ہر تکلیف وہ خندہ پیشانی سے برداشت فرماتے۔ اتنے پیار کرنے والے خدا کی خاطر یہ سب کچھ برداشت کرنا کچھ بھی نہیں۔ لیکن پھر بھی تمام وقت اباجان بہت محتاط اور تیار بیٹہے رہے کہ اگر کسی بھی وقت یہ کوئی غلط حرکت کرنے کی کوشش کریں، تو ہم اپنا بچاؤ کر سکہیں۔ خیر ہمارے بتانے پر وہ ہمیں اباجان کے ایک غیر احمدی دوست کے گھر تک لے آئے۔ گاڑی سے اترتے وقت بلال احمد جو اس وقت دو سال کا نہ تھا۔ رونے لگا کہ گاڑی سے نہیں اترنا۔ یہ اس 16 /17 گھنٹوں میں پہلی مرتبہ رویا۔ اس کے رونے پر پولیس ہمارے گرد گھیرا ڈال کر پوچھنے لگی کہ کہیں یہ قادیانیوں کے بچے تو نہیں؟ بڑی مشکلوں سے انہیں سمجھایا کہ بچہ ہمارا اپنا ہے۔ اسے گاڑی پسند ہے، اس لئے اترنا نہیں چاہتا۔ یہ سب شور شرابا سن کر اباجان کے دوست گھر سے باہر آئے، ہمیں پہچان کر، اباجان سے لپٹ کرگلے ملے اور پولیس کو کہا یہ تو میرا بھائی ہے، تم لوگ جاسکتے ہو۔ ہمیں اپنے گھر کے اندر لے گئے تو دیکھا کہ ہماری چھوٹی خالہ جوکہ تربیلہ ڈیم کالونی میں رہتی تہیں وہ بھی ان کے گھر میں تہیں۔ ہمیں پتہ نہ تھا۔ حالات خراب ہونے پر حاجی صاحب انہیں اپنے گھر لے آۓ تھےکیونکہ خالو گاؤں جا کر ماموؤں کی مدد کرنا چاہتے تہے۔ مگر اللہ میاں نے اس طرح ہم سے ملایا ۔الحمد لللہ۔ ان کو دیکھ کر اللہ تعالىٰ کی اس شان پر اسکا شکر ادا کیا اور رونا بھی آیا کہ کس کس طرح سے اللہ تعالىٰ ہم سب کو ملا رہا تھا۔ ہمارے رونے اور حیرت سے ایک دوسرے کو بلانے کی آوازیں سن کر، پولیس پھر ان کے دروازے پر آئی اور پوچھا حاجی صاحب یہ آوازیں کیسی ہیں؟ آپ سب تو خیریت سے ہیں؟ اس نے پھر تسلی دی کہ یہ میرابھائی ہے اورعورتیں آپس میں بہنیں ہیں۔ بہت عرصہ کی بچھڑی آج ملی ہیں، تو جذبات سے رو پڑیں۔ اس لئے آپ لوگ تسلی رکہیں۔ مجھے   ان سے کوئی خطرہ نہیں آپ لوگ جا سکتے ہیں۔

ان کے جانے کے بعد حاجی صاحب (اباجان کے دوست) نے ہم سے حیران ہو کر پوچھا، کہ آپ لوگوں کے گھر سے تو ابھی تک گولہ باری کی آوازیں آ رہی ہیں اور ٹرک بھر بھر کر ابھی تک لوگ وہاں جا رہے ہیں۔ ان کا شور یہاں (میلوں فاصلہ پر) سنائی دے رہا ہے۔ لوگوں سے جو سنتے آئے ہیں۔ اس کے مطابق تو آپ کے گھر کو کب کی آگ لگائی گئی ہے اور خدانخواستہ آپ میں سے کوئی نہیں بچا، مرد مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے اور عورتوں نے بچوں سمیت کنوؤں میں کود کر جانیں دے دیں اور ٹوپی (ماموں صاحبزادہ عبداحمید صاحب کے گھر) میں بھی سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ مامو ں، ان کے بیٹے اور چند لوگ شہید ہو گئے ہیں۔ عورتوں کو پولیس اپنی نگرانی میں پشاور لے گئی ہے۔ پھر ہم نے ان کو تہوڑا بہت اپنا حال سنایا، وہ پانی لاۓ مگر سب کو نہ مل سکا کیونکہ ہم چاہتے تھےپہلے مرد پی لیں کہ سارے دن کے پیاسے تھےپھر باجیاں پیئں کہ ان کی  طبیعت ذیادہ خراب ہو رہی تھی سوچا کہ پہلے ان کو ملے، گھر والوں نے صرف اپنی ضرورت کے لئے ایک جگ میں پانی رکھا تھا کیونکہ وہاں روزانہ رات کو پانی بند ہوتا تھا اب پتہ نہیں کس کو پانی ملا اور کس کو نہیں، وہ کہنے لگے صبح ہونے والی ہے پھر پانی بھی آ جاۓ گا تو چاۓ وغیرہ بنا لیں گے لیکن اباجان نے کہیں اور جانے کی اجازت چاہی کہ یہاں ہماری موجودگی ان کے لۓ خطرے کا باعث بن سکتی ہے مگر حاجی صاحب ایسے کہیں بھی جانے کی بات پر راضی نہیں ہو رہے تھےکہ جب تک پتہ نہ ہو کہ آپ کسی محفوظ جگہ جا رہے ہیں یہاں سے نہیں جائیں گے۔ اس لئے اب ان کے گھر سے اعجاز بھائی کے ایک غیر احمدی دوست جوکہ راولپنڈی میں رہتے تہے۔ ان کے گھر جانے کا پروگرام بنایا۔ تو حاجی صاحب نے ہمیں کچھ رقم دینا چاہی۔ جو اباجان نے لینے سے انکار کیا اور ہم نے بھی کہا کہ ہمارے پاس کچھ زیور ہیں۔ جسے بیچ کر ہم اپنا گذارہ کر لینگے۔ مگر انہوں نے اباجان کو یاد دلایا کہ فلاں وقت میں نے آپ سے یہ رقم  ادھار لی تھی جوکہ محض میری سستی کی وجہ سے ابھی تک لوٹا نہ سکا۔ یہ آپ کی اپنی رقم ہے آپ اسے لے لیں۔ اللہ میاں نے ہماری عزت رکھی۔ ہماری اپنی ہی رقم کیسے ہمارے لئے یہاں بچا کر رکھی تھی۔ الحمد لللہ اباجان کو جب یاد آیا تو انہوں نے وہ رقم لے لی۔

 حاجی صاحب نے ہمارے لئے گاڑی کا بندوبست کیا ہم گاڑی لے کرہماری خالہ ان کے بچوں سمیت روانہ ہوئے۔ رستے میں ہمارے خالو (جن کی بیوی بچے ہمارے ساتھ تہے) کو اپنے ساتھ لیا۔ یہ ٹوپی میں جلوس سے مقابلہ کر کے بچتے بچاتے اپنے ایک اور دوست کے گھر پہنچ گئے تھےاور خالہ کو بذریعہ فون اطلاع دی تھی۔ ان کو ساتھ لیا خالو جان کو پک کرکے وہاں سے راولپنڈی کے لۓ ٹیکسی لی تو رستے میں انہوں نے آنکہوں دیکھا حال سنایا، بتایا کہ ہمارے دو نوکر”گل میر بابا “ایک اور نوکر کا جوان بیٹا ” عالم زیب “ ایک ہمارا پڑوسی نوجوان ” جلیل خان “ ہماری ممانی کا ایک بھانجا ”ایوب خان “ شہید ہو گئے ہیں۔ رستے میں خالہ جان نے مشورہ دیا کہ بجائے اعجاز احمد کے دوست کے گھر جانے کے کیوں نہ ہم کرنل احمد خان کے گھر جائیں۔ کسی غیر کے گھر جانے سے یہ ذیادہ بہتر ہے؟ (کرنل احمد خان ہمارے چچا اور خالو بھی ہیں) جب ہم نے چچا جان کا نام سنا تو سب خوش ہوئے کہ شکر ہے وقت پر کسی کے ذھن میں کوئی بہتر مشورہ آیا۔ کیونکہ اس سب کچھ کے بعد ہمارے ذھن جیسے سن ہوگئے تہے۔ راولپنڈی پہنچ کر وہاں سے لاہور کے لئے بس لی۔ چچا جان ان دنوں لاہور کے قریب چونیاں آرمی چھاؤنی میں رھتے تہے۔

بس میں بٹھتے ہی سب کو نیند آنے لگی، جیسے ہی آنکھ لگتی تو گولیوں کے چلنے اور

 گرنیٹس کے پھٹنے کی آوازیں آتیں۔ وہی آگ کے نظارے نظر آتے اور آنکھ کھل جاتی۔ بس جہاں بھی رکتی، سبھی صرف پانی مانگتے مگر پیاس بجھنے کا نام ہی نہ لیتی تھی۔ جب ہم لاہور، بادامی باغ والے اڈے پہ چونیاں کے لئے بس لینے کے لئے اترے، تو خالو نے کہا سب نے دو دن سے کچھ کھایا نہیں، پہلے کھانا کھا کر آگے سفر شروع کرینگے۔ اس لئے کھانا منگوایا۔

 مگر جیسے ہی کھانا آیا تو سب کی آنکہوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ ہر آنکھ سے جیسے چشمے پہوٹ پڑے۔ ہر ایک نے بمشکل دو نوالے لئے ہونگے مگر جگوں پر جگ پانی کے خالی کرتےگئے۔ بیرا اور ہوٹل میں بیٹہے ہوئے لوگ حیرت سے دیکھ رہے تھےکہ کوئی بھی نہ کچھ کھا رہا ہے اور نہ کسی کے زبان سے کوئی لفظ نکل رہا ہے مگر خاموشی سے آنسوؤں کے دریا بہہ رہے ہیں اور پانی پیتے جا رہے ہیں۔ یہ آنسو اور غم نہ تو کسی انسان کی شہادت، نہ گھروں یا سامانوں کے لٹنے یاجلنے کے تہے۔ بلکہ دکھ تھا، تو مسلمان کی حالت کا۔ کہ انکو کیا ہوگیا؟ ایک صدی سے اکھٹے رہ کر ایک تھالی میں کھانے والے، آج مولوی کی باتوں میں آکر اتنا پاگل ہوگئے۔ جس گھر ميں قرآن و نماز سیکھی، جہاں آکر مذہبی مسائل کا حل پوچھتے۔ آج انہی گھروں میں آکر اسی ‍قرآن کو اٹھا اٹھا کر پھاڑ رہے ہیں اور پیروں تلے مسل رہے ہیں۔ انا لللہ و انا الیہ راجعون ۔

خیر وہاں سے ہم بس کے ذریعے چونیاں روانہ ہوئے۔ بس میں بیٹھ کر پھر وہی سلسلہ شروع ہوا نیند آتی اور آنکھ لگنے پر وہی نظارے نظر آتے اور جھٹکے سے آنکھ کھل جاتی۔ چونیاں میں جب آرمی چھاؤنی پہنچے۔ تو اگرچہ اباجان ایک دو ھفتہ پہلے یہاں سے ہو کر گئے تھےمگر بالکل بہول گئے کہ کونسا گھر چچا جان کا ہے؟ دوسرا چھاؤنی

 کے ارد گرد کانٹےدار تار کی دیوار تھی، اس کے گیٹ میں داخل ہونے کے لۓ چچا جان کے گھر کے سامنے سے گذر کر آگے جانا تھا۔ ہم کانٹے دار دیوار کے ساتھ ساتھ چل کر گیٹ کی طرف جا رہے تھےکہ چچا جان کے چہوٹے بیٹے منظور احمد نےہمیں دیکھ لیا اور اپنے گھر کے گیٹ سے ہی چلایا۔ ”بابا اور خالہ جی آگئے“ (میرے اباجان کو سبھی بابا کہتے ہیں) تو چچا جان اورخالہ جان دوڑ کے باہر آئے۔ ہمیں دیکھ کر وہ بھی اس تار کی دوسری طرف بمع جوان بیٹیوں کے ننگے سر ننگے پاؤں چھاؤنی کے گیٹ کی طرف دوڑے جا رہے تہے۔ ان چند لمحوں کا بیان کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ ہمارے خیال میں چچا جان اور خالہ جان (انکی اہلیہ) کو حالات کا کچھ علم نہ تھا۔ یہ سوچ کر دکھ ہو رھا تھا کہ ان کو تمام حالات سے آگاہ کیسے کرینگے؟ جس گھر میں ہم12 گھنٹے جلوس کا مقابلہ

 کر کے آئے تہے، وہ گھر چچاجان نے اباجان کے کہنے پر بڑے ارمانوں سے بنایا تھا، آج اس کے جلنے کی خبر ان کو کیسے دیں یہ سوچ ہی تکلیف دہ تھی۔ یہ گیٹ تک چند گز کا فاصلہ میلوں لمبا لگ رہا تھا۔ گیٹ سے اندر آئے، سب آپس میں ملے اور چچا کے گھر چلے گئے مگر کسی نے کوئی سوال نہ کیا۔ تو ہم حیران کہ یہ پوچھ کیوں نہیں رہے، کہ جس حالت میں ہم یہاں آئے ہیں، یہ کیسے اور کیوں ہوا؟ آخر اس خاموشی کو میری بہن امۃ النصیر نے توڑا۔ یہ کہہ کر کہ ”خالہ جان ہم نے بہت کوشش کی مگر ہم آپکا گھر بچا نہ سکے، ہم دیکھ رہے تھےاور ہمارا گھر جل رہا تھا۔“ تو خالہ جان اور ہم سب نے اسے ایسا کہنے سے منع کیا۔ خالہ جان اور سب گھر والے ہمیں بار بار گلے لگا کر پیار کرتے اور خدا کا شکر ادا کرتے۔ پھر ہمیں بتایا کہ ہم کل سے آپ لوگوں کے لئے کتنے پریشان تھےاور آپ کی خیریت کے لئے خدا سے دعائیں مانگ رہے تہے۔ کل بھائی حمید (ہمارے ماموں) نے پشاور پہنچتے ہی ہمیں فون پر بتایا کہ ہمارے گھر تو جل گئے۔ اتنے لوگ شہید ہو گئے۔ پولیس ہمیں اپنی نگرانی میں پشاور چھوڑگئی مگر اب جلوس خوشحال آباد (ہماری طرف) گیا ہے اگر کچھ کر سکتے ہو، تو ان کی مدد کا کچھ ذریعہ کرو۔ خالہ جان کی اس بات سے ہمیں ماموں جان اور باقی خاندان والوں کے ذندہ بچ نکلنے کا پتہ چلا، خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا ۔

انہوں نے مذید بتایا کہ ہم (چچا جان) کوشش کر رہے تھےمگر کچھ بھی نہ کر سکے۔ اس لئے ہم چھٹی لے کر کل خود گاؤں آنے والے تہے۔ کل ہماری بات ہمارے پڑوس کے ایک میجر صاحب سے ہوئی۔ جن کا بھائی جنرل ہے۔ اس لئے ان کو مدد کے لئے کہا مگر

 ابھی تک ان کی طرف سے کوئی صحیح اطلاع نہیں آئی کہ انہوں نے کیا کیا۔ ابھی بھی جس وقت آپ لوگ آئے ہیں، ہماری ان کے ساتھ  فون پر بات ہو رہی تھی لیکن ادہوری رہ گئی۔ جس وقت ہم چھاؤنی کے اندر آئے تو چچا جان اور خالہ جان سے جس گھر کے سامنے ہم ملے۔ اس گھر سے بھی ایک افسر ننگے پاؤں گیٹ تک دوڑ کر آیا تھا مگر ہمیں ننگے سر اور ننگے پاؤں دیکھ کر واپس اندر چلا گیا تھا۔ چچا جان انہیں سے فون پر بات کر رہے تہے۔ جب منظور احمد کے چلانے پر چچا جان انکو بتائے بغیر رسیور پھینک کر باہر کی طرف دوڑے، تو میجر صاحب سمجھے   کہ خدانخواستہ  کرنل صاحب صدمے سے  بےہوش ہو گئے ہیں۔ اس لئے وہ پریشان ہو کر چچا جان کے پاس آنا چاہتے تھےکہ ہم سب ان کے گیٹ ہی پر اسے ملے اور وہ سارا معاملہ سمجھ کر واپس اندر چلے گئے۔

 دوسرے دن میجر صاحب نے چچا جان کو بتایا کہ آپ سے بات کر کے میرے بھائی (جنرل صاحب) ہیلی کاپٹر میں وہاں گئے تھےاور اس گھر کے کئی چکر لگائے مگر اترنے کی کوئی مناسب جگہ نہ ملنے پر واپس چلے گئے اور مجھے   فون پر بتایا کہ میں سب دیکھ آیا ہوں۔ ایک کھلے میدان میں ایک اکیلا گھر ہے۔ جس کے چھت پر بمشکل پانچ چھ مرد ہیں اور ارد گرد کم از کم بیس بائیس ہزار کا جلوس مسلسل ان پر فائرنگ کر رہی ہے۔ اب تک تو شائد وہ سب ختم بھی ہوگئے ہونگے۔ یہ سب میرے بھائی نے اسی دن بتایا مگر مجھ میں آپ کو بتانے کی ہمت نہ تھی۔ جب آپ نے گاؤں جانے کا پروگرام بنایا۔ تو میرے بھائی نے مجھے   آپ کو روکنے کے لئے کہا۔ کل جب میں نے اپنے بھائی کو فون پر آپ کے بھائی کے بمع بیوی بچوں کے، ذندہ سلامت یہاں پہنچنے کی خبر دی۔ تو ان کو یقین نہیں آرہا تھا کہ میں یہ کیسے مان لوں جو حالات میں وہاں دیکھ کر آیا ہوں۔ اس میں یہ ناممکن ہے۔ میں ایک فوجی ہوں جنگیں لڑی ہیں۔ جانتا ہوں۔ اس گھر سے اگر کوئی کہے کہ ایک بھی شخص ذندہ بچ کر آیا ہو۔ تو میں نہیں مان سکتا اور ہماری اطلاع کے مطابق وہاں پر آج صبح تک (یعنی 10 جون تک) فائرنگ ہوتی رہی۔ یہ کس وقت اس گھر سے نکلے کہ یہ آج لاہور بھی پہنچ گئے؟ میں نے بتایا کہ یہاں تو مرد، عورتیں اور دودھ پیتے بچے بھی خدا کے فضل سے ذندہ سلامت پہنچ گئے ہیں۔ یہ تو میں نے اپنی آنکہوں سے دیکھ لیا۔ مگر شرم اس بات پر آرہی ہے کہ پٹھانوں (میجر صاحب خود بھی پٹھان ہیں) کی مائیں بہنیں صوبہ سر حد سے لے کر پنجاب تک ننگے سر اور ننگے پاؤں آئی ہیں۔ ہم پٹھانوں کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔

ہم نے چچا جان اور خالہ جان کو اپنے اس وقت تک کے حالات بتائے اور بتایا کہ فیض محمد بھائی اور ایک اور پہوپھی ذاد بھائی نذیر محمد شہید ہو گئے ہیں۔ پھرانہوں نے ہم سب کے لئے اپنے کپڑے نکالے اور ہم نے بغیر یہ سوچے کہ کپڑوں کا سائز کیا ہے اسی طرح نہا دہو کر پہن لئے۔ کسی کو کوئی پرواہ نہ تھی، کہ کون ان کپڑوں میں کیسا لگ رہا ہے۔ ذھن ہر وقت صرف مسلمانوں کی حالت پرافسوس کر رہا تھا کیونکہ ہر وقت ایک نئی اطلاع آتی، یہاں یہ ہوگیا وہاں یہ ہوگیا۔ اگر قریب کوئی واقعہ ہوتا، تو چچا جان انھيں اپنے گھر لے آتے۔ انہوں نے ہمارے آتے ہی اپنے ساتھ والا بنگلہ بھی لے لیا تھا۔ اس طرح مرد ایک گھر میں اور عورتیں دوسرے میں ہوگئیں۔ ایک دو دن بعد ہمارے ماموں صاحبزادہ عبدالرشید نے فون پر بتایا کہ سنا ہے فیض محمد ذندہ دیکھا گیا ہے۔ اس لئے اسکا پتہ لگاؤ۔

یہاں اللہ تعالىٰ نے ایک اور اتنا بڑا فضل فرمایا کہ ہم جتنا بھی خدا کا شکر ادا کريں کم ہوگا۔ وہ یہ کہ جب گاؤں میں حالات خراب ہوئے۔ تواباجان نے میرے بڑے بھائی بشارت احمد کو (جوکہ ان دنوں منڈی بہاؤالدین میں سروس کرتے تہے) بذریعہ تار بلایا، چونکہ یہ تار ہمارے ناظر نے دیا تھا اور یہ میرے بھائی کے بچپن کا دوست اور کلاس فیلو بھی تھا۔ جب 9 جون کو گاؤں میں سب کچھ ختم ہو گیا۔ تو اسے میرے بھائی کا خیال آیا کہ کہیں وہ گاؤں نہ آجائیں۔ اس لئے اپنے ساتھ ہمارے تایا ذاد بھائی نثار محمد کو لے کر بھائی جان کو گاؤں آنے سے روکنے کے لئے، منڈی بہاؤالدین کے لئے روانہ ہوئے۔ اسوقت تک ہمارے ناظر کو ہمارے بارے میں معلوم نہ تھا کہ ہم خدا کے فضل ذندہ ہیں۔ ادھر بھائی جان تار ملتے ہی چھٹی لے کر گاؤں کے لئے روانہ ہو گئے۔ مگر ٹرین میں بیٹھتے ہی انہیں لگا کہ کوئی ان کا پیچھا کر رہا ہے۔ تو دوسری طرف دوسری ٹرین مخالف سمت کے لئے روانہ ہونے والی تھی۔ بھائی جان جلدی سے پچھلے دروازے سے اتر کر اس میں چڑھ کر اگلے سٹیشن پر اتر کر، پھر اپنی بس پکڑنے، بس کے اڈے پر گئے۔ اتفاق سے ہمارے ناظر کو بھی ڈائریکٹ بس کے بجاۓ صرف وہاں تک جانے والی بس ملی۔ تو وہ بجائے سیدھا منڈی بہاؤالدین جانے کے ادھر آئے ہوئے تھےاور منڈی بہاؤالدین کے لئے بس لینے اسی اڈے پر آئے۔ ادھر جب اسے بھائی جان نظر آئے، تو زار و قطار رونے لگے کہ اب کہاں جاؤ گے؟ وہاں تو سب کچھ ختم ہوگیا۔ بھائی جان نے انہیں جلدی سے خاموش کرایا۔ کہ یہاں بھی کوئی دوست یا ہمدرد نہیں۔ ہر جگہ یہی حال ہے اگر ابھی کسی کو شک بھی ہوا کہ میں احمدی ہوں۔ تو چاہے آپ احمدی نہ بھی ہوں۔ میرے ہمدرد ہونے کے ناطے آپ لوگ بھی مصیبت میں پھنس جائیں گے۔ پھر انہوں نے محتاط ہوکر آہستہ سے تمام حالات بتائے۔ اس پر تینوں نے مشورہ کیا کہ چلو چونیاں جاکر چچاجان کو تمام حالات سے آگاہ کرتے ہیں۔ یہاں سے انہوں نے چونیاں کی بس لی، یہاں آکرانکی حیرت اور خوشی کی انتہا نہ رہی ہم سب کو ذندہ دیکھ کر اور ہمیں ان کو دیکھ  کر، سب نے خدا کا شکر ادا کیا ۔

جب ڈرائنگ روم  میں آکر بیٹہے تو انہوں نے بھی یہ بتایا کہ فیض محمد بھائی ذندہ دیکہے گئےہیں۔ تو باجی رو پڑیں کہ آپ لوگ یہ سب کچھ میرا خیال کر کے بار بار ایسا کہہ رہے ہیں۔ آپ لوگ اس سچ کو مان کیوں نہیں لیتے کہ وہ شہید ہو گئے ہیں اور میرا ایمان  اتنا کمزور نہیں کہ اس بات سے متزلزل ہوجائے اور آپ کو پتہ بھی ہے کہ اباجان اور یہ سب گھر سے نکلتے وقت پوری تسلی کر چکے تھےکہ وہ ذندہ نہیں ہے۔ تبہی اسےپیچھے   چھوڑآئے تہے۔ اس کے بعد ہم خود کو کیوں ایک غلط خیال کےپیچھے   لگائیں؟ تو بھائی جان اور چچا جان وغیرہ نے اسے گلے لگا کر پیار کیا اور کہا کہ اگر لوگ کہتے ہیں کہ انہیں ذندہ دیکھا ہے۔ تو ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ان کو تلاش کریں۔ ہم اپنی کوشش کر لینگے، باقی جو خدا کی رضا۔ خالہ جان نے ہمارے ناظر عبدالحکیم اور ہمارے کزن نثار احمد کو مرہم پٹی، بسکٹ، پانی، بہت ساری ہدایات اور بہت ساری دعاؤں کے ساتھ  گاڑی اور ڈرائیور دے کر فیض محمد کو تلاش کرنے کے لئے بھیجا۔ وہ ہمارے علاقے کے ہر ہسپتال ہر تھانہ میں پوچھتے رہے جو بھی کچھ بتاتا، یہ اسی نشان کےپیچھے   جاتے۔

جب ہم چونیاں آئے، تو اباجان سجدے میں گر کر رو رو کر اور بچوں کی طرح  ضد کرکے خدا سے دعا مانگتے کہ اے خدا ہمیں پتہ ہے کہ تیرا امام مہدی سچا ہے مگر تو ان لوگوں کو نشان دکھا، اور اگر فیض محمد مردہ بھی ہے، اسے ذندہ کر کے ان لوگوں کو دکھا دے۔ ہم حیران کہ اباجان یہ کیا کہ رہے ہیں۔ ان کو شہید کا مقام معلوم ہے اور یہ پھر بھی ایسی باتیں کر کے ان کی شہادت خراب کر رہے ہیں؟ کیا وجہ ہے؟ تو اعجاز بھائی نے بتایا کہ جلوس کے آنے سے پہلے اباجان نے ہمارے غیر احمدی رشتہ دار جو ہماری  مدد کے لئے آئے تہے۔ ان سے کہا تھا۔ کہ مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ

میں کبھی آدم کبھی موسىٰ کبھی داؤد ہوں
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

اور فرمايا ہے کہ اللہ تعلىٰ نے مجھے   ان تمام نبیوں کی خوبیاں عطا کی ہیں جیسا کہ ابراہیمؑ کو آگ سے بچایا تھا میرے سچے ماننے والوں کو وہ اسی طرح بچائے گا اور اپنا سینہ   ٹہوک کر کہا کہ میں اس کا سچا ماننے والا ہوں اس لئے میرا ایمان ہے کہ میرے گھر کا ایک بھی احمدی ان لوگوں کے ہاتہوں نہیں مرے گا اگر ہم میں سے ایک بھی احمدی مر گیا تو جاکر کھلا اعلان کر دینا کہ ان کا امام مہدی جہوٹا تھا اور اگر ہم ذندہ بچے تو بھی تم لوگوں نے باقی فیملی میں اس کی گواہی دینی ہے جو میں نے اسوقت کہا ہے۔ تو مجھے   (اعجاز احمد کو) دکھ ہوا، کہ اباجان نے یہ کیا کہہ دیا۔ اب اگر ہم میں سے کوئی بھی شہید ہوا تو یہ لوگ اس کو غلط رنگ دینگے اور اس طرح یہ پھر بھی احمدیت قبول کرنے سے محروم رہ جائیں گے ۔

یہ لوگ 11جون کو بھائی فیض محمد کو لینے گئے اور 13 جون کی صبح 9 بجے جبکہ امۃالنصیر اور ہماری آیا صالحہ بیگم ناشتہ تیار کر رہی تہیں۔ تو کچن کی کھڑکی سے بنگلے کے گیٹ پر، فیض محمد بھائی کو دیکھ کر، باجی نے چیخ مارکر کہا، “لالا آگئے۔“ میں سب سے پہلے باہر دوڑ کر پہنچ گئی۔ مجھے   دیکھتے ہی بھائی جان  بیہوش ہوکر گر پڑے۔ اتنے میں سب پہنچے انہیں اٹھا کر اندر لے آئے۔ جب بھی ان کو ہوش آتا ہم انہیں بتانے کی کوشش کرتے کہ خدا کے فضل سے سب ذندہ سلامت آگئے ہیں۔ جب بلال احمد اور مریم صدیقہ کو نیند سے اٹھا کر ان کے پاس لائے تو ان کے چہرے پر ایک سکون اور خوش کی لہر دوڑ گئی۔ دوسرے گھر سے مردوں کو جگا کر بلایا۔

اباجان کو جیسے ہی بتایا وہ ادھر ہی سجدے میں گر کر دیر تک خدا کا شکر ادا کرتے رہے پھر آکر ملے۔ جب سب ان کے گرد اکھٹے ہوئے، تو رو کر کہنے لگے کہ ہسپتال میں یہی سنا تھا کہ ٹوپی اور خوشحال آباد میں سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ مرد مارے گئے۔ عورتوں نے کنوؤں میں کود کر جانیں دے دیں اور بچے جھاڑیوں میں مرے پڑے ہیں تو میں اپنے خیال میں اکیلا ذندہ بچ جانے والوں میں سے تھا۔ سوچا اس وقت ماموں (کرنل احمد خان) کے پاس چلا جاؤنگا۔ بعد میں دیکھا جائے گا۔ جب امۃالقدوس کو گیٹ پر دیکھا تو میری جان نکل گئی کہ یہ اکیلی کن کن مصیبتوں سے ہو کر یہاں تک پہنچی ہوگی۔

 کہنے لگے کہ یہاں چھاؤنی کے گیٹ پر پہنچے تو گارڈ نے ان کی حالت دیکھ کر روک لیا مگر انہوں نے بتایا کہ کرنل صاحب میرے ماموں ہیں اور میرا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔ (انکو پتہ نہ تھا کہ یہاں سب لوگ ہمارے حالات سے باخبر ہیں) تو گارڈ انکو خود گھر کے گیٹ تک لایا اور جب ہم نے اسے تسلی دی کہ یہ سچ کہ رہے ہیں، تو وہ انکو چھوڑکر واپس چلا گیا۔ کہنے لگے کہ جب تک میں نے بچوں کو اپنی آنکہوں سے دیکھا نہ تھا تو یہی سوچ رہا تھا کہ اتنی افراتفری میں بچوں کو بچانا ناممکن تھا۔ اس لئے صبر کیا کہ جو خدا کی مرضی۔ مگر خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے جو اصل بچانے والا ہے۔ اس نے اتنی افراتفری میں بھی ان ننّی جانوں کی خود حفاظت فرمائی۔ الحمد للہ

 چند دن علاج کے بعد جب ان کی کی طبیعت ذرا سنبھلی تو اپنے بارے میں مذید تفصیلات بتائیں۔ وہ جلوس کے آنے سے پہلے چھت کے سب سے اوپر والے چوبارے پر مورچہ بنا کر بیٹھ گئے۔ باقی سب چھت پرتھےجس کے ارد گرد چاردیواری تھی۔ سب اپنی اپنی جگہ سمبھال کر بیٹھ گئے۔1971ء میں یہ گھر بنواتے وقت اباجان نے اس کے دیواروں میں چاروں طرف مورچے بنائے تھےکہ احتیاطاً ہونے چاہئیے ہیں۔ چونکہ ماری فیملی بہت  امن پسند واقع ہوئی تھی۔ اس لئے ہمیں عجیب لگتا کہ جب ہماری کسی سے کوئی دشمنی ہی نہیں تو بھلا ہم کس سے جنگ کرینگے مگر آج  1974 ء میں صرف تین سال بعد وہ دن آیا کہ اس گھر پر جنگ کا میدان گرم ہوا اور سب نے اپنے اپنے مورچے سمبھالے۔ جب جلوس آیا تو سب سے پہلی گولی بھائی فیض محمد کے سر پر لگی۔ اور وہ شدید زخمی ہوئے۔ اباجان وغیرہ نے اس کو فوری طبی امداد کے بعد اسی کمرے میں لٹا دیا اور تہوڑی تہوڑی دیر بعد اس کی خیریت معلوم کرتے رہے۔ جب تقریباً شام ہونے لگی تو اباجان نے میرے بھائیوں سے کہا کہ فیض محمد خان کو اسکے کمرے میں لے جاکر اس کے بستر پر لٹا دو اور اس کی خیریت معلوم کرتے رہنا۔ فیض محمد بھائی کی حالت خراب سے خراب تر ہوتی گئی اور یہ لوگ کچھ نہ کر سکے کیونکہ گھر میں صرف اتنا ہی ہو سکتا تھا اور ان کو اب ڈاکٹر کی ضرورت تھی ۔ جب رات ساڑہے گیارہ بجے اباجان وغیرہ نکلنے لگے تو انہوں نے میرے بھائیوں سے کہا کہ جا کر فیض محمد کو دیکھ کر آؤ۔ انہوں نے جب دیکھا تو کہا کہ اسکی سانس اور نبض نہیں چل رہی۔ مگر ہم ان کو اپنے ساتھ لئے بغیر گھر سے نہیں جائیں گے۔ اباجان نے ان کو سمجھایا کہ یہ بیوقوفی ہے۔ اس وقت اسے اپنے ساتھ اٹھا کر جلوس کے اندر سے گذرنا، مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے دعا کرو، وہ خدا کی راہ میں شہید ہوا ہے، اس لئے اسکی حفاظت خود خدا تعالىٰ فرمائے گا۔ انشاءاللہ

 ان سب کے نکلنے کے بعد لوگوں نے گھر کو آگ لگا دی۔ اب خدا بہتر جانتا ہے کہ وہ آگ   ان کے بستر تک  کیسے پہنچ گئی؟ مگر بستر میں آگ لگنے کی گرمی سے انھيں ہوش آیا۔ آگ کو دیکھ کر انہوں نے غسل خانے کے رستے کمرے سے نکلنا چاہا، مگر غسل خانے میں بیہوش ہو کر گر گئے۔ ہوش آنے پر اٹھتے ہوئے، اندھیرے میں سر کسی چیز سے ٹکرایا، ٹٹول کر دیکھا تو سنک تھا۔ اس سے پانی پیا اور پچھلے صحن میں نکل کر پھر گر گئے، تو ایک شخص نے آکر سر پر بندوق تھانی، مگر ٹٹول کر انداذہ لگایا کہ زخمی ہے  تو یہ کہہ کر آگے چلا گیا کہ یہ تو پہلے ہی مرنے والا ہے، اسے کیا مارنا؟ جب انہوں نے یہ بات بتائی تو امتیاز احمد رو پڑا کہ بھائی جان وہ تو میں تھا۔ ميں بابا وغیرہ کے ساتھ نہ نکل سکا تھا۔ اس لئے ميں نکلنے کا رستہ ڈہونڈ رہا تھا اور ادھر آگیا، آپکا تو ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھےکہ یہ آپ ہونگے۔ میں تو اسے جلوس والوں میں سے کوئی سجھا تھا۔ مگر اسکی حالت دیکھ کر اس پر وار کرنا مناسب نہ سمجھا۔ (اس وقت امتیاز احمد 15 /14 سال کا تھا) اللہ تعالىٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میں نے گولی نہیں چلائی اور اللہ میاں نے آپ کو بچا لیا۔ الحمد لللہ اس طرح ہر بار چند قدم چلنے کے بعد وہ بیہوش ہو جاتے اور ہوش آنے پر پھر چل کر باہر نکلنے کی کوشش کرتے۔ گھر سے نکلے تو آگ کی روشنی میں کسی نے پہچان کر آواز لگائی کہ یہ تو فیض محمد خان ہے۔ سب سے بڑا اور پکا قادیانی۔ عین اسی وقت امتیاز نے یہ سنا اور دیکھا مگر یہ کوئی مدد نہیں کر سکتا تھا۔ انہوں نے بھائی جان کے سر پر بندوق تھانی اور یہی بات امتیاز احمد تمام وقت ہم سے منوانا چاہتا تھا کہ یہ وہم نہیں حقیقت ہے کہ بھائی جان خدا کے  فضل سے ذندہ ہیں۔ خیر اس شخص نے تین بارگولی چلائی مگر تینوں گولیاں مس ہوئیں۔ اتنے میں ایک پولیس افسر نے آکر اسے تربیلہ ڈیم ہسپتال پہنچایا۔

 وہ بتاتے ہیں کہ جب ہسپتال میں انکو ہوش آیا۔ تو ذھن میں اعجازاحمد اور باقی کزنز کی آوازیں ابھی بھی گونج رہی تہیں کہ اس کی سانس اور نبض نہیں چل رہی یہ فوت ہوگیا۔ اب جب آنکھ کھلی تو صاف ستھرا سفید بستر صاف ستھرا کمرہ، تو میں نے سوچا کہ میں تو مر گیا ہوں، اتنا اچھا کمرہ اور آرام دہ بستر محسوس کر کے خدا کا شکر ادا کیا۔ سوچا یقیناً میں جنت میں آگیا ہوں۔ الحمد لللہ۔ اتنے میں دیکھا تو جمعدار اندر آیا۔ میں حیران کہ جنت میں بھی جمعدار ہوتا ہے؟ میں نے اسے اپنے پاس بلا کر پوچھا کہ میں کہاں پر ہوں؟ تو اسنے بتایا، تمہیں پولیس زخمی حالت میں یہاں تربیلہ ڈیم ہسپتال لائی تھی اور لوگ تمہیں احمدیوں کے خلاف جہادی سمجھ کر خدمتیں کر رہے تھےمگر جب انہیں معلوم ہوا کہ تم احمدی ہو تو تمہیں مارنے کی کوششیں کرنے لگے۔ اس لئے تین بار تمھارا کمرہ بدلنا پڑا۔ پھر ہسپتال والوں نے ٹوپی تھانہ سے تمھارے بارے میں پوچھا تو پولیس نے منع کیا کہ یہاں نہ بھیجنا۔ ورنہ تو لوگ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینگے۔

پھر بھائی جان نے کسی کو پیسے دیکر کھانا منگوایا اور ایک عدد لفافہ اور کاغذ لانے کا کہا۔ جب انہوں نے جیب چک کیا تو جیب میں رقم موجود تھی وہ آدمی اسے جہادی سمجھ کر نان کباب، کاغذ اور لفافہ لے آیا۔ کھانا تو کھایا نہ گیا کہ سر پر زخم کی وجہ سے جبڑا کھل ہی نہیں رہا تھا۔ البتہ ایک خط کرنل احمد خان صاحب کے نام لکھ کر اسے پوسٹ کرنے کو دے دیا۔ اب ہسپتال والوں نے ان سے آکر کہا کہ ہمارا اب تک کا جو خرچہ تم پر ہوا ہے وہ دے دو اور یہاں سے دفع ہو جاؤ۔ حالانکہ انہوں نے جو پہلی پٹی لگائی اور پھر پتہ چلا کہ یہ احمدی ہے تو اس کے بعد اس کے لئے کچھ بھی نہیں کیا تھا۔ یہاں سے نکل کر تربیلہ کالونی میں ایک احمدی افسر اختر صاحب (اباجان کے دوست) کے گھر گئے

مگر ان کی بیوی چونکہ غیر احمدی تہیں۔ ان کو بھائی جان کا آنا اچھا نہ لگا، اور پھلکے پر بھنڈی کا سالن رکھ  کر دیا اور کہا یہاں سے چلے جاؤ مگر اس کے دیور نے جوکہ اس وقت چہوٹا بچہ تھا اس نے ان کو ادھر قریب ہی کہیں چھپ کر بھائی کا انتظار کرنے کو کہا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ جب اختر صاحب دفتر سے آئے اور بھائی جان کو دیکھا تو بہت خوشی کا اظہار کیا اور بہت عزت سے پیش آئے اور ان کو بتایا کہ ٹوپی میں سب کچھ ختم ہوگیا ہے۔ صوبیدار صاحب (اباجان) ایک بیٹے کے ساتھ گھر سے ذندہ نکل گئےہیں۔ مگر انکا داماد شہید ہوگیا ہے، لوگ اس کا سر کاٹ کر لے گئے ہیں۔ تو انہوں نے بتایا کہ  ان کا داماد تو میں ہوں۔ تو وہ خوشی کے مارے ان سے لپٹ گئے اور خدا کا شکر ادا کیا۔ بھائی جان کا جنازہ غائب سوائے ہمارے گھر والوں کے باقی تقریباً ہر جگہ سب نے پڑھ لیا تھا ۔

یہاں آرمی  ڈاکٹرز نے ان کا علاج کیا مگر جو گولی سر پر لگی تھی، اسے نہ نکال سکے اور کہا کہ زخمی حصہ کبھی نہیں بھرے گا اور نہ کبھی اس پر بال آئیں گے مگر اب خدا کے فضل سے وہ زخم بھر بھی گیا اور بال بھی آگئے۔  الحمد لللہ ۔ 1977ء میں بھائی جان  جرمنی آگئے۔ یہاں وقتاً فوقتاً ڈاکٹر معائنہ کرتے تھےمگر وہ کہتے تھےکہ یہ گولی بالکل  دماغ کے اوپر پڑی ہے اور چہرے کے حصہ میں پانچ ٹکڑے ہیں مگر انکو چھیڑنا خطرناک ہے۔ اسلئے وہ آخر تک جسم میں موجود تہے۔ اگست 2013ء میں ان کی وفات ہوئی۔

بھائی جان نے 1974ء کے اس واقعہ سے کچھ  پہلے ایک خواب دیکھی کہ ہم حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کے پاس ملاقات کے لئے گئے ہیں تو حضور مجھ سے (فیض محمد) فرماتے ہیں کہ چہرہ ادھر کرو، میں چہرہ حضور کے قریب کر لیتا ہوں۔ تو حضور میرا چہرہ چوم لیتے ہیں۔“ اس واقعہ کے بعد جب ہم چونیاں پہنچے تو حضور نے فون پر اباجان سے بات کی، فرمایا کہ کچھ دن آرام کرلو اور جب سفر کے قابل ہو جاؤ تو ملاقات کے لئے آجاؤ تو کچھ  دن بعد اباجان، بھائی جان اور میرے بھائی حضور کی ملاقات کو گئے۔ حضور نے از راہ شفقت تمام حالات پوچہے۔ حضور نے سب کو بہت پیار کیا۔ پھر بھائی جان سے فرمایا کہ تمہیں کہاں چوٹ آئی ہے؟ دکھاؤ، تو انہوں نے چہرہ دکھایا، حضور نے ان کا چہرہ ہاتہوں میں لے کر چہوم لیا۔ الحمد للہ

  جون9 کو جس تائی کو باجی نے بھائی جان کی شہادت پر واویلا کرنے سے یہ کہ کر روکا کہ میرا میاں شہید ہوا ہے۔ مرا نہیں وہ ذندہ ہے۔ جب اس کو بھائی جان کے زندہ بچ جانے کی اطلاع ملی تو سب سے کہتی کہ فیض محمد کو خدا نے اسی وقت ذندہ کر دیا تھا جب امۃالقیوم نے کہا کہ میرا میاں مرا نہیں زندہ ہے۔

 جب ٹوپی میں ہمارے ماموؤں کے گھروں کو آگ لگائی گئی تو میرے بھائی جو اوپر چھت پر ڈیوٹی دے رہے تہے۔ ہمیں بلا کر بتایا، میں نےچھت پر جاکر دیکھا اور نیچے آکر امی وغیرہ کو بتانے لگی تو اس وقت ہماری پہوپھی کے بیٹے نذیر محمد ہمارے پاس بیٹہےتہے۔ سن کر اداس بھی ہوئے اور ہماری وجہ سے پریشان بھی کہ شائد ہم ڈر گئے۔ جلدی سے کہنے لگے۔ بیٹا پریشان نہ ہو۔ آپ لوگوں تک پہنچنے کے لئے ان کو ہماری لاشوں پر سے گذرنا پڑیگا۔ تو ہم سب نے اسے بھی تسلی دی کہ ہمیں کوئی خوف نہیں یہ تو انبیاء کی سنت ہے کہ ان کے ماننے والوں پر اس طرح کے امتحانات آتے ہیں۔

جب سونا آگ میں پڑتا ہے تو کندن بن کے نکلتا ہے
بادل آفات و مصائب کے گر چھاتے ہیں تو چھانے دو

وہ تم کو حسین بناتے ہیں اور آپ یذیدی بنتے
یہ کیا ہی سستا سودا ہے دشمن کو تیر چلانے دو

 اعجاز بھائی نے نذیر محمد بھائی کی شہادت کا بتایا کہ جو شخص سب سے پہلے گھر میں داخل ہوا، اس نے خنجر سے پے در پے وار کرکے ان کو شہید کیا اور ان کی لاش کے اوپر سے گذر کر گھر کے اندر گیا۔ انا لللہ انا الیہ راجعون۔ اس طرح انہوں نے اللہ تعالىٰ نے ان کا وعدہ سچا کر دکھایا کہ تم لوگوں تک پہنچنے کے لئے ان کو ہماری لاشوں پر سے گذرنا پڑے گا۔ ان کی والدہ یعنی ہماری پہوپھی بہت جوانی میں بیوہ ہوگئیں تہیں۔ ان کے چار بیٹے تہے، ان کو سبہی بیٹے بہت پیارے تھےمگر نذیرمحمد بھائی اپنی حسن اخلاق کی وجہ سے  پہوپھی کے دل کے بہت قریب تھا مگر پہوپھی جان نے یا ان کی بہو نے ایک دن بھی کسی پچتاوے کا اظہار نہیں کیا ۔

جب دو تین دن بعد ہمارا ناظر فیض محمد بھائی کو ڈہونڈنے کی ناکام کوشش سے واپس آیا تو اس نے بتایا کہ اباجان وغیرہ کے گھر سے نکلنے کے بعد ہمارا ایک نوکر، جن کی عمر تقریباً 70 / 75 سال ہوگی، کہیں لوگوں سے چمبیلی کے باڑ میں چھپ کر بیٹھا تھا مگر ایک جہادی نے مرغیاں پکڑتے ہوۓ اس جھاڑی میں ہاتھ  ڈالا تو ان کی ٹانگ اس کے ہاتھ  میں آگئی۔ اس نے چلانا شروع کیا کہ قادیانی ہے اور ان کو شہید کر دیا۔ انا للہ واناالیہ راجعون۔ پولیس والوں نے ان کی تدفین ناشناختہ لوگوں میں کر دی۔ تو ہم اداس تو بہت ہوئے مگر حیران بھی تھےکہ اباجان اور امی نے تو سب نوکروں کو چھٹی دی تھی کہ فیملی ممبرز کے علاوہ  کوئی بھی گھر پر نہ رہے۔ سوائے ان چند لوگوں کے جو خود اسرار کر کے رہ گئے۔ مگر کچھ دنوں بعد پتہ چلا کہ وہ ہمارا نوکر نہیں، بلکہ ہماری دوسری پہوپھی کا بیٹا نور محمد تھا۔ یہ پولیس میں ملازم  تہے۔ ان دنوں ایک ماہ کی چھٹی پر آئے تہے۔ ان کو بھی اباجان نے بہت کہا کہ آپ لوگ چلے جائیں مگر یہ نہیں مانے کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ لوگ ادھر ہوں اور ہم جان بچا کر بھاگ جائیں۔ پھر رات کو نکلتے وقت یہ اباجان کے ساتھ تہے۔ بلکہ اباجان نے سب کو اکٹھا کر کے پوری پلینگ بتائی کہ میں میرے بیٹے اعجاز اور امتیاز آگے آگے ہونگے ہم جلوس کی توجہ اپنی طرف کرینگے اس دوران تم سب باہر نکل کر چلے جانا، پتہ نہیں یہ کیسے پیچھے   رہ گئے؟ یہ اپنے والد صاحب کی وفات کے دو تین ماہ بعد پیدا ہوئے تہےاور اکلوتے تہے۔ بہت شریف طبع، نیک اور پیار کرنے والے انسان تہے۔

ٹوپی سے جو ہمارے ماموں اور انکے بیٹے کی شہادت کی افواہ پھیلی، اسکی وجہ تھی کہ جب سے حالات خراب ہوئے تہے۔ تو سب دن رات ڈیوٹیاں دیتے۔ 9 جون کو ہمارے ماموں، ان کے بیٹے اور ہمارے خالو کو ہمارے ایک نوکر کے بیٹے، ایک 80 /85 سالہ نوکر، ایک پڑوسی نوجوان اور ہماری ممانی کے بھانجے نے اسرار کر کے ان کے ساتھ جگہ تبدیل کی کہ اتنے دنوں سے آپ لوگ ان مخصوص جگہوں پر بیٹھ رہے ہیں، ہو سکتا ہے۔ دشمن کو اس کا علم ہو گیا ہو اور وہ یہیں فائر کرے۔ تو آپ لوگوں نے آج یہاں قتعاً نہیں بیٹھنا، یہ چاروں ان کی جہگوں پر ذبردستی اسرار کر کے بیٹھ گئے۔ اب جیسے ہی جلوس آیا، تو پہلی چار گولیاں انہی جگہوں پر چلیں، یہ چاروں شدید زخمی ہوگئے۔

ان میں 80 / 85 سالہ بزرگ کا نام گل میر تھا۔ بہت جوانی میں ہمارے نانا کے پاس بمع فیملی کے آکر رہنے لگے تہے۔ بہت وفا دار، محبت کرنے والے بہادر انسان تہے۔ جب حالات خراب ہوئے تو امی کسی کام سے ٹوپی گئیں تو انہوں نے آکر امی سے گلہ کیا کہ صاحبزادہ صاحب (ہمارے ماموں) نے ہر بزدل اور نکمے کو بندوق پکڑا دی مگر صرف مجھے   نہیں دی۔ میں شائد ان کو بوڑھا اور نکما لگ رہا ہوں مگر وقت بتائگا کہ کون وفا دار اور بہادر ہے اور کون بزدل اور بے وفا؟ جب وقت آئگا تو پہلی گولی یہ گل میر اپنے سینے پر لیگا۔ اس کے بعد کسی اور کی باری آئے گی۔ امی نے تسلی دی کہ گل میر بابا میں جاکر بھائی صاحب کو کہونگی، وہ آپ کو بندوق دے دیں گے ماموں نے انہیں بندوق دے دی، اور پھر وہی ہوا کہ اس نے اپنی وفاداری کا ثبوت دے دیا۔ اگرچہ ہم اس کی وفاداری کے ہمیشہ سے قائل تھےمگر ماموں نے بزرگ سمجھ کر انہیں ان حالات سے دور رکھنا چاہا تھا۔ ان کو گولی تو بازو میں لگی تھی مگر گھر میں صحیح طبی امداد نہیں مل سکتی تھی۔ ادھر ماموں وغیرہ کو پولیس یہ وعدہ کر کے گھر سے نکال کر لے گئی کہ ہم ان زخمیوں کو ہسپتال لے جائیں گے مگر بعد میں پتہ چلا کہ انہوں نے ایسا کچھ نہ کیا۔

 جب جلوس کے لوگ گھروں میں داخل ہوئے تو لوگوں نے لوٹ مار کرتے ہوئے، ان کو چارپائی سے گرا کر چارپائی لے گئے اور ان کو لوگ پیروں تلے روندتے گئے اور اس طرح ان کی شہادت واقع ہوئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

دوسرے شہید ایک 17 / 18 سالہ نوجوان جلیل خان تہے۔  یہ ہمارے پڑوسی تھےان کے والد صاحب 1965ء کی جنگ میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے تہے۔ اس کو چند ماہ پہلے ملازمت ملی تھی۔ پہلی چھٹی لے کر چند دن پہلے گاؤں آیا تھا۔ ادھر حالات کا پتہ چلا، تو ماموں کے پاس آیا، سارا وقت یہیں پر گذارا اور شہادت کے بعد اسکی لاش اس کی ماں کے پاس لائی گئی۔ اس کی والدہ تمام وقت اپنے چھت پہ کھڑی ہمارے لئے دعائیں کر رہی تہیں  کہ لوگوں نے آکر کہا، نیچہے آکر اپنے گھر کی خبر لو، تمھارا بیٹا مارا گیا۔ تو اس نے یہ جواب دے کر سب کو حیران کیا کہ شہیدوں پہ روتے نہیں۔ میرا میاں ملک کے لئے جان دے کر شہید ہوا تھا، میں نہیں روئی، اب بیٹا، بہنوں کی عزت بچاتے اور خدا کے نیک بندوں کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوا۔ مجھے   اپنے بیٹے پر فخر ہے مگر شریر مولوی لوگوں کو ان کے پاس روز ایک نئی دہمکی کے ساتھ بھیجتے کہ تم لوگوں نے قادیانیوں کی مدد کی ہے۔ ہم تمھارے مردوں کو اپنے قبرستان میں نہیں رہنے دینگے۔ تم لوگوں کے ساتھ یہ کر لینگے وہ کر لینگے مگر یہ لوگ خدا کے فضل سے کوئی بزدلی والی بات زبان سے نہ نکالتے اور ان تمام دہمکیوں کا بڑی بہادری سے جواب دیتے رہے ۔

تیسرا شہید ہمارے ایک بہت پرانے نوکر کا 18 / 19 سالہ بیٹا عالم زیب تھا۔ یہ اسی سال نرسنگ اردلی کا کورس ختم  کر کے فوج میں بھرتی ہوا تھا۔ یہ بھی پہلی چھٹی لے کر آیا تھا۔ ان کی دادی صاحبہ انکے والد کو گود میں لے کر ہمارے نانا جان کے گھر آئیں تہیں اور ساری ذندگی ہماری خدمت کی۔ جب اس کا بیٹا جوان ہوا نانا جان نے ان کے شادی کرائی۔ ان کے ہاں تین بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ عالم زیب تیسرے نمبر پر تھے۔ ہم چونکہ اکھٹے پلے بڑے تہے۔ اس لئے بہن بھائیوں جیسا پیار تھا۔ ہم نے کبھی ان کو ملازم نہیں سمجھا تھا۔ ہمارے بھائیوں کے ساتھ پڑھتے، کھاتے پیتے۔ ان کی والدہ بتاتی ہیں کہ اس کی شہادت پر کھل کے رو بھی نہیں سکتی تھی۔ بس اس کی لاش پر ہاتھ پھیر کر اسے پیار کرتی رہی۔ کیونکہ گلیوں میں سارے شریر لوگ پھرتے اور معلوم کرتے کہ کس کس نے احمدیوں کا ساتھ دیا ہے۔ لاشیں دفنانے نہیں دے رہے تہے۔ رات کو جب لوگ سو گئے تو ہم اپنی لاشیں دفنانے لے گئے۔

باقی آئندہ قسط میں ملاحظہ کریں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *