!وٹامن پھانکنے کا شوق
تحریر: ڈاکٹر طارق مرزا۔ آسٹریلیا
قارئین کرام، پھانکنے اور پھیکنے میں صرف ایک حرف یعنی الف اور ی کا فرق ہے لیکن یہ فرق بہت وسیع، یعنی الف تا ی پھیلا ہوا ہے جس کی پیمائش غالباً نوری سال کے پیمانہ سے ہی ممکن ہے!۔ کسی بھی نفسیاتی رویّے یا کیفیت کو الف سے ی تک کا سفرمکمل کرنے میں صدیاں بیت سکتی ہیں۔ چنانچہ جن افراد کوقسما قسم کی وٹامن کی گولیاں پھانکنے کا شوق (یا بصد معذرت) خبط ہوتا ہے وہ انہیں پھینکنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ کیونکہ انہوں نے اپنی محنت کی کمائی (یا مالِ مفت) سے کیمسٹ کی دکان یا گروسری سٹورسے ایک وٹامن ہڈیوں اور پٹھوں کی مضبوطی کے لئے خریدی ہوتی ہے تو دوسری ناخنوں ،بالوں اور جلد کی خوبصورتی کے لیئے، جبکہ تیسری دانتوں اور مسوڑھوں کے لیئے اورچوتھی پراسٹیٹ یا رحم کی طاقت کے لیئے ۔اسی طرح 360 گولیوں پر مشتمل ایک اچاری مرتبان نما بوتل میں امیونٹی بوسٹر (Immunity Booster) یعنی قوت مدافعت بڑھانے والے امرت دھارے کا پورے سال کے لیئے ذخیرہ گھر میں ڈالا ہوتا ہے تو دوسرے میں اینٹی ایجنگ یعنی دافع بڑھاپا قسم کی ففٹی پلس مینزنامی (50Plus Mens Multi) یا ویمنز وٹامن (Multi for women rescue) وغیرہ کا۔ اسی طرح نام نہاد “نیچرل” یا ہربل سپلیمنٹس کی چارپانچ بوتلیں جن پرپُرکشش چمکیلے،رنگیلے اوربھڑکیلے قسم کے لیبل لگے ہوتے ہیں،اور ہر ایک کی قیمت بسا اوقات سوڈالر یا ساٹھ پاؤنڈ یا اس سے بھی زیادہ تک ہوتی ہے ، ڈائننگ ٹیبل پر بڑے اہتمام سے رکھی ہوتی ہیں تاکہ انہیں دیکھ دیکھ کر اور کھا کھا کرنفسیاتی سکون حاصل کرنے کے علاوہ سسرال ، غریب ، یا کم پڑھے لکھے مہمانوں یا ‘شریکوں’ پررعب ڈال سکیں۔ ایک ایک انچ یا اس سے بھی بڑے ان کیپسیولوں یا گولیوں کے حلق سے اترتے ہی انہیں ایک عجیب سا سرور، شادابی و شبابی کیفیت اور طاقت سی محسوس ہونا شروع ہوجاتی ہے خواہ وہ کیپسیول یا گولی ابھی معدے تک بھی نہ پہنچی ہو!۔
انہی قسم کے افراد، جن میں اچھے خاصے پڑھے لکھے افراد شامل ہیں، کی بدولت دنیا بھرمیں وٹامن اور سپلیمنٹس (Supplements) کا کاروبار دن دگنی رات چوگنی بلکہ دہ گنی ترقی کررہا ہے۔ دنیا بھر میں وٹامن کی گولیاں سالانہ ملین نہیں بلین ڈالرز کی بک رہی ہیں۔ ایک سروے کے مطابق امریکہ میں ستر فیصد افراد وٹامن کی گولیاں باقاعدگی سےکھاتے ہیں جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا میں ہر دس افراد میں سے 8 افراد وٹامن اور سپلیمنٹس استعمال کرتے ہیں۔آسٹریلیا دنیا بھر میں “اصلی تے خالص” وٹامن تیار کرنے کے لیئے مشہور ہے۔ شائع شدہ اعدادوشمارکے مطابق صرف سال 2023 ء میں آسٹریلیا نے 20 ملین کلو گرام وٹامن اور سپلیمنٹس ایکسپورٹ کیئے جن کی مالیت 480 ملین امریکی ڈالرز کے لگ بھگ بنتی ہے۔
سوال ، بلکہ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ کیا ہمیں واقعی روزانہ کی بنیاد پر وٹامن پھانکتے رہنا چاہیئے یا انہیں کوڑے کے ڈھیر پہ جاکر پھینک دینا چاہیئے؟۔ ماہرینِ غذایات بتاتے ہیں کہ وٹامن اوردیگرسپلیمنٹس استعمال کرنے سے پہلے اپنے ذاتی معالج (GP) سے ضرور مشورہ کرلینا چاہیے کہ کیا آپ کووٹامن کی گولیاں کھانے کی ضرورت ہے بھی یا نہیں۔ اگرکسی کو شبہ ہو کہ اس کی جملہ علامات کہیں کسی وٹامن کی کمی سے تو نہیں توڈاکٹرکو اپنی یہ مخصوص علامات بتا کر لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعہ کنفرم کروا لینی چاہیئے اور پھر ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق صرف وہی وٹامن یا منرل (Mineral) لیں جس کی کمی ٹیسٹ کے ذریعہ ثابت ہو چکی ہو۔اور پھر یہ بھی کہ اس کے بعد وہ وٹامن یا سپلیمنٹ وغیرہ کھانا کتنا عرصہ ہے، فالو اپ ٹیسٹ کتنے عرصے بعد کروانا ہوگا وغیرہ۔
یہ حقیقت بھی ملحوظ خاطر رکھنی چاہیئے کہ اگر کسی فردکی روزانہ کی خوراک معتدل ہے یعنی وہ گوشت ،انڈے، مچھلی، مرغی، سبزیاں، دودھ، دہی،پھل فروٹ، روٹی ، چاول اور دالیں وغیرہ سارا سال کھاتارہتا ہے تو اس کی جملہ وٹامن کی ضروریات اسی خوراک سےپوری ہوجاتی ہیں۔اسے اپنا قیمتی پیسہ بازار میں دستیاب رنگ برنگی وٹامن کی گولیوں اورکیپسیولوں پر لٹانے سے باز رہنا چاہیئے۔ اور جیسا کہ اوپر بیان ہو چکاڈاکٹر کے مشورہ سے ہی ان کا استعمال کیا جانا چاہیئے۔ جن کو اضافی وٹامن کی ضرورت ہوتی ہے، ڈاکٹر عموماً خود ہی اس کا مشورہ دے دیتے بلکہ تاکید کردیتے ہیں کہ آپ کے لیئے اس مرض میں یا اس آپریشن کے بعد اضافی وٹامن یا فولاد(Iron) وغیرہ روزانہ کی بنیاد پر کھانا نہایت ضروری ہے۔
بہت سے لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ڈاکٹر کے پاس کون جائے اور ٹیسٹ کون کرائے، ایک گولی لینے میں حرج کیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے اور حال ہی میں بہت سے کیس بھی سامنے آئے ہیں ، کہ وٹامن جہاں ایک طرف تقویت بخش چیز ہیں تو دوسری طرف اگر خون میں ان کی مقدار ایک حد سے تجاوز کرجائے تو یہی نفع بخش چیز زہر بن جاتی ہے۔ جس کے نقصان اور اس سے پیدا ہونے والی علامات کو ہائیپروٹامنوسس (Hypervitaminosis) کہا جاتا ہے۔ اس کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں۔ایک تو یہ کہ بازار میں بکنے والی مختلف ناموں اور لیبل لگی وٹامن کی کم وبیش تمام گولیوں میں ایک جیسے اجزاء شامل ہوتے ہیں۔ ففٹی پلس مینز وٹامن کا بھی وہی فارمولا دیکھنے کو ملے گا جو ہڈی پٹھہ جوڑ یا بال ناخن و جلد والی بوتل پہ درج ہوتا ہے۔ صرف یہ کہ کسی میں کیلشیم معمولی سا زیادہ شامل ہوتا ہے تو کسی میں آئرن یا سیلینیم یا فولک ایسڈ لیکن جملہ اجزاء ایک ہی ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ہر تین ، بظاہر مختلف بوتلوں سے ایک ایک گولی کھاتا ہوا انسان دراصل ایک ہی فارمولے کی تین خوراکیں لے رہا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں خون میں ان کی مقدار ضرورت سے زیادہ ہو جاتی ہے۔
دوسرے یہ کہ گزشتہ چند دہائیوں سے خصوصاً ترقی یافتہ ممالک میں آج کل بہت سی روزمرہ کی خوردونوش کی اشیاء مثلاً دودھ، دہی، مشروبات،ڈبل روٹی، ،تیار شدہ کھانے جو ٹین ڈبوں یا پیکٹوں میں بکتے ہیں، حتیٰ کہ “لانگ لائف” والے گوشت میں محکمہ صحت سے منظور شدہ یا ان کی ہدایت پر وٹامن شامل کی جاتی ہیں تا کہ صارفین کی جملہ غذائی ضروریات پوری ہوتی رہیں۔بعض وٹامن گوشت کی “شیلف لائف” بڑھانے کے لیئے بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ چنانچہ اس قسم کی اشیاء کے صارف اگر وٹامن کی گولیاں بھی ساتھ لینے لگ جائیں تو ظاہر ہے خون میں وٹامن کی مقدار ضرورت سے زیادہ ہو جائے گی۔ گائے کے دودھ یا فارمولا دودھ پہ پلنے والے بچوں میں پہلے فولاد یعنی آئرن کی کمی پیدا ہوجاتی تھی کیونکہ گائے کے دودھ میں فولاد نہیں ہوتا، اب جدید فارمولا دودھ کے پاؤڈر میں محکمہ صحت کی ہدایت پرفولاد یعنی آئرن شامل کرنا لازمی ہوچکا ہے۔اب ایسے بچوں کو اضافی آئرن پلانے کی ضرورت نہیں رہی سوائے اس کے کہ ڈاکٹرتجویزکریں۔
چنانچہ ماہرین غذایات کا کہنا ہے کہ بازارسے جو چیز بھی خریدیں اس کے اجزاءضرورپڑھ لینا چاہئیں۔اگرتین چار اشیاء میں موجود وٹامن، منرل اورآئرن کی مقدارسے آپ کو وٹامن کا مناسب “ڈوز” (Dose)مل جاتا ہے تو وٹامن کی اضافی گولیاں خریدنے کی کیاضرورت ہے۔
تیسرے یہ کہ جیسا پہلے بیان ہوچکا، سبزیاں ، پھل، دودھ ،انڈے، مچھلی، گوشت، دالیں وغیرہ قدرتی طور پرویسے بھی وٹامن، منرلز،آئرن وغیرہ سے بھرپورہوتی ہیں۔ ہفتہ بھر میں خوراک کی ان اقسام کوباری باری معتدل مقدار میں کھاتےرہنے سے جسمانی ضروریات پوری ہوتی رہتی ہیں۔اضافی سپلیمنٹ گولیاں وغیرہ کھانے کی کوئی تک نہیں بنتی سوائے اس کے کہ آپ کاذاتی معالج ٹیسٹ کرکے تجویزکرے، وہ الگ بات ہے۔
حال ہی میں آسٹریلیامیں چند واقعات ایسے دیکھنے میں آئے ہیں کہ ازخود بازارسے وٹامن کی گولیاں خرید کر استعمال کرنے والوں میں ایسی اعصابی اورعضلاتی علامات پیدا ہوناشروع ہوگئیں جن کی بظاہرکوئی توجیہہ نہیں مل رہی تھی کیونکہ یہ سب ہی اس سے قبل تندرست افراد تھے جن میں اس قسم کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئی تھیں۔ جب ان کے وٹامن اورمنرلز کے لیول چیک کیئے گئےتو خون میں خاص کر وٹامن بی 6 (B6) کی مقدارزہریلی حد تک بلند پائی گئی جن کی وجہ سے ان کےنروس سسٹم یعنی اعصابی نظام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا تھا۔
اب یہاں کے صارفین اور متاثرین کے ایک “ایکشن گروپ” نے وٹامن بنانے والی ایک بڑی اور مشہورکمپنی کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کاعندیہ دیا ہے کہ اس نے کیوں اپنی مصنوعات کی پیکنگ کے اوپر بڑے الفاظ میں یہ وارننگ نہیں لکھی کہ “بلا ضرورت یا زائد المقدار استعمال پر وٹامن کی یہ گولیاں آپ کے لیئے زہریلی ثابت ہوسکتی ہیں”۔اوریہ بھی درج ہونا چاہیے کہ روزانہ ایک بالغ شخص کو کسی وٹامن کی کتنے ملی گرام یا مائیکروگرام مقدار درکار ہوتی ہے جس سے تجاوز کرنا مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔
راقم کے نزدیک یہ تجاویزبالکل درست ہیں تاکہ اس خوفناک حقیقت سے آگاہ ہونے کے بعد صارفین ایسی گولیوں کوبلاوجہ پھانکنے کی بجائے پھینکنے کوترجیح دیں۔ راقم یہ بھی سمجھتا ہےکہ بغیرڈاکٹری نسخہ (Script) وٹامن کی گولیوں کی فروخت پر پابندی لگانا اس مسئلہ کا سب سے مؤثرحل ہو سکتا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

