غزل ۔ ۔ ۔ مقصود جعفری
شاعر: مقصود جعفری
جیسی طلب رہی ہمیں، ویسا نہیں ملا
یوں تو کئی ملے ہیں، مسیحا نہیں ملا
اے دل غمِ فراق میں شکوہ کُناں نہ ہو
دستِ طلب کو زیست میں کیا کیا نہیں ملا
حوروں سے کیا مثال تجھے دوں اے رشکِ حور
حوروں میں بھی تو تُجھ سا سراپا نہیں ملا
جس حشر کی امید پہ آۓ تھے ہم یہاں
وہ حشر ہم کوشہر میں برپا نہیں ملا
سب لوگ رتجگوں سے لگے چشمِ نیم باز
مدّت سے ایک شخص بھی سویا نہیں ملا
زیرِ قدم زمیں بھی سرکتی چلی گئی
اور سر پہ آسمان کا سایہ نہیں ملا
طبعِ روانِ جعفری کا مُعجزہ تو دیکھ
دریا کے آر پار بھی دریا نہیں ملا

