Latestاردوتاریخقومیمتفرق

جنگیں قوموں کوبرباد نہیں زندہ کرتی ہیں؟

Share your Love

تحریر :قدیر نقوی

تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں لڑتی رہیں، وہی دنیا پر حکمرانی کرتی رہیں۔ جنہوں نے تلوار پھینک دی، وہ صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں۔ مغلوں کا انجام آپ کے سامنے ہے۔

تاریخی مثالیں:

• سکندرِ اعظم — اُس نے دنیا کو فتح کرنے کی ٹھانی، مسلسل جنگیں لڑیں، اور آج تک دنیا اُس کا نام لیتی ہے۔

• منگول — چنگیز خان اور ہلاکو خان نے آدھی دنیا روند ڈالی، وہ بھی جنگوں کے ذریعے۔

• عثمانی سلطنت — 600 سالہ حکومت، صرف جہاد اور مسلسل فتوحات کا نتیجہ۔

• خلفائے راشدین — اُنہوں نے تلوار کے ذریعے حق کا پرچم بلند کیا، اور اسلام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا۔

• نپولین بوناپارٹ — جنگیں اس کی شناخت تھیں، فرانس کو ایک عالمی طاقت بنایا۔

• جرمنی، جاپان، فرانس، کوریا — بیسویں صدی کی خوفناک جنگوں کے مرکزی کردار، آج ٹیکنالوجی، معیشت اور عسکریت میں دنیا کے ٹاپ ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔

اگر جنگیں تباہی کا دوسرا نام ہوتیں، تو ان ممالک کے نام آج تاریخ کے کوڑے دان میں ہوتے — لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

اسلامی پس منظر:

• اگر جنگیں غلط ہوتیں، تو غزوہ بدر، احد، خندق جیسے معرکے کبھی پیش نہ آتے۔

• اگر جہاد نقصان دہ ہوتا، تو مسلمان قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں نہ توڑتے۔

• اگر قربانی بے فائدہ ہوتی، تو امام حسینؑ کربلا میں خون نہ دیتے، بلکہ صلح کر کے جان بچا لیتے۔

موجودہ حقیقت:

• آج امریکہ، اسرائیل، روس — مسلسل حالتِ جنگ میں ہیں، مگر ہر سال پہلے سے زیادہ طاقتور ہو رہے ہیں۔

• جبکہ ہم، جنہیں امن کے خواب دکھائے گئے، کمزور، منتشر اور غلام بنے بیٹھے ہیں۔

یاد رکھو:

“جنگ نہ لڑنے والی قومیں یا تو غلام بن جاتی ہیں یا تاریخ سے مٹ جاتی ہیں۔”

ایک کہاوت ہے

“جنگ میں سب سے زیادہ نقصان اُن کا ہوتا ہے جن کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا”

لیکن اگر جنگ نہ لڑی جائے تو پھر سب کچھ ہی چھن جاتا ہے — عزت، زمین، ایمان، حتیٰ کہ پہچان بھی!

لہٰذا:

اگر ہمیں اپنے مقدر بدلنے ہیں،

اگر ہمیں اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کرنا ہے،

اگر ہمیں دشمنوں کو جواب دینا ہے —

تو ہمیں لڑنا ہوگا، قربانیاں دینا ہوں گی،

اور یاد رکھو…

“جہاد کمزوری کی نہیں، غیرت کی دلیل ہے!”

“جنگ بزدل کے لیے تباہی ہے، مگر غیرت مند کے لیے بقا۔”

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

One thought on “جنگیں قوموں کوبرباد نہیں زندہ کرتی ہیں؟

  • chaudhry columbus Khan

    تبصرہ سبز بیک گراؤنڈ میں مضمون پر بعنوان
    جو 5 مئی 2025 کو ہفت روزہ ” لاہور انٹرنیشنل “میں شائع ہوا
    جنگیں قوموں کوبرباد نہیں زندہ کرتی ہیں؟ جو قدیر نقوی کا تحریر کردہ ہے۔
    ۔1۔ “تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں لڑتی رہیں، وہی دنیا پر حکمرانی کرتی رہیں۔ ”
    تبصرہ: یہ حکمرانی کا جاہلانہ ذوق و شوق ہے جو سائینس دانوں کو کم ہوتا ہے ۔
    ۔2۔ “جنہوں نے تلوار پھینک دی، وہ صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں۔” مغلوں کا انجام آپ کے سامنے ہے۔
    تبصرہ: مغل محض تلوار پھینکنے سے مٹ نہیں گئے بائیولاجیکل پراسس ہے کہ لوگ جب تک استحصال کی استعداد رکھتے تھے ایک استحصالی بندھن میں بندھے تھے۔ اور یہ بھی کوئی انسانی دلیل نہیں بھیڑیائی منطق ہے۔
    لکھا ہے۔ تاریخی مثالیں:
    • سکندرِ اعظم — اُس نے دنیا کو فتح کرنے کی ٹھانی، مسلسل جنگیں لڑیں، اور آج تک دنیا اُس کا نام لیتی ہے۔
    تبصرہ: دنیا اس کا نام لیتی ہے وہ تو نیوٹن کا نام بھی لیتی ہے ۔ نام اس طرح لیا جانے کہاں سے بنی نوع کو کوئی فائدہ نہیں۔ نیک نتیجہ کس کے کام کا مسلسل جاری ہے یہ اہم بات ہے۔
    • منگول — چنگیز خان اور ہلاکو خان نے آدھی دنیا روند ڈالی، وہ بھی جنگوں کے ذریعے۔
    تبصرہ: گویا یہ دونوں چچا بھتیجا جو انسانوں کی کھوپڑیوں کے مینار بناتے تھے اور خون پینے کو جائز سمجھتے تھے وہ بطور انسان کسی طور مثالی نہیں تھے۔ لوگ مردم خور تو آج بھی افریقہ میں ہیں۔ یہ تو ظالم افراد کے ظلم کو جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے
    • عثمانی سلطنت — 600 سالہ حکومت، صرف جہاد اور مسلسل فتوحات کا نتیجہ۔
    تبصرہ: غیر مہذب طرز حکومت کو انسان چھوڑ کر بہتری کی طرف جا رہا ہے۔ یہ فتوحات کے نشہ کا اثر باقی ہے۔
    • خلفائے راشدین — اُنہوں نے تلوار کے ذریعے حق کا پرچم بلند کیا، اور اسلام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا۔
    تبصرہ: یہ اسلام امن جس کا مطلب ہے اس کی جڑ کاٹنے والی بات ہے۔ حق کا پرچم تلوار سے نہیں عدل و انصاف اور مروت سے بلند کیا گیا اور آج دجال کے پھیلایا جھوٹ ہے کہ اسلام دنیا کے کونے کونے میں تلوار نے پہنچایا۔ اور آج مسلمانوں کی نکبت کی اصل وجہ یہی نظریہ اشاعت اسلام ہے جو دجال کا الزام مسلمانوں نے بڑے فخر سے کارنامہ سمجھ لیا ہے۔
    • نپولین بوناپارٹ — جنگیں اس کی شناخت تھیں، فرانس کو ایک عالمی طاقت بنایا۔
    تبصرہ: نپولین نے صرف جنگیں ہی نہیں کیں بلکہ اس نے دنیا کو ایک مہذب سول کوڈ دی تھی جو اس کا حقیقی کارنامہ ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ مسلمان کہلانے والے ایک طرف کفار کے جنگی کاموں کی تنقیص کرتے ہیں لیکن خود وہی کرنا چاہتے ہیں۔ اور یہی پسماندگی کی اصل جڑھ ہے۔

    • جرمنی، جاپان، فرانس، کوریا — بیسویں صدی کی خوفناک جنگوں کے مرکزی کردار، آج ٹیکنالوجی، معیشت اور عسکریت میں دنیا کے ٹاپ ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔
    تبصرہ: اگر یہ ٹاپ ممالک میں شمار ہونا جنگوں کی برکت سے ہوتا تو سوٹزرلینڈ اور سکنڈے نیوین ممالک بھیک منگے ہو جاتے۔
    اگر جنگیں تباہی کا دوسرا نام ہوتیں، تو ان ممالک کے نام آج تاریخ کے کوڑے دان میں ہوتے — لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
    تبصرہ: جنگیں تباہی کا دوسرا نام کیوں پہلا نام ہے۔ ہیروشیما اور ناگا ساکی میں دو بموں نے جو تباہی پھیلائی اسے اس ملک کے لوگوں سے پوچھیں وہ بھی تاریخ میں پڑھائی جاتی ہے اور جو تاریخ میں پڑھائی جاتی ہے وہ انسان کو اس سے بچنے کے پڑھائی جاتی ہے۔
    اسلامی پس منظر: • اگر جنگیں غلط ہوتیں، تو غزوہ بدر، احد، خندق جیسے معرکے کبھی پیش نہ آتے۔
    • اگر جہاد نقصان دہ ہوتا، تو مسلمان قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں نہ توڑتے۔
    • اگر قربانی بے فائدہ ہوتی، تو امام حسینؑ کربلا میں خون نہ دیتے، بلکہ صلح کر کے جان بچا لیتے۔
    تبصرہ: یہ دلیل اسلام دشمنوں کے ہاتھ میں تلوار دینے کے مترادف ہے۔ جنگل میں جس ہتھیار کا پاس ہونا زندہ رہنے کے لئے ضروری ہے ۔ وہ تیار رکھنا چاہیئے ۔ اب اس “تیار رکھنا” کے لئے عقل کی اور علم کی ضرورت ہے۔ مسلمان اپنے علم کی بدولت ترقی کرتے رہے ہیں۔ اور آج بھی مسلمان مجموعی طور پر جتنا علم میں مگن ہیں اتنی عزت پا رہے ہیں۔
    موجودہ حقیقت: • آج امریکہ، اسرائیل، روس — مسلسل حالتِ جنگ میں ہیں، مگر ہر سال پہلے سے زیادہ طاقتور ہو رہے ہیں۔
    تبصرہ: امریکہ ، اسرائیل اور روس مسلسل حالت جنگ میں ہونے کی وجہ سے طاقتور نہیں۔ یہ تاریخ کا پہیہ اپنی مرضی سے اور بے شمار دیگر عوامل کی وقت سے چلتا ہے۔ ذرا تصور کریں ۔ آج مغربی ممالک اورامریکہ میں فرد اور ریاست کا جو تعلق ہے اس کو قائم ہونے پر کتنا عرصہ لگا ہے۔ اس کو چٹکی میں دیگر ممالک پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
    • جبکہ ہم، جنہیں امن کے خواب دکھائے گئے، کمزور، منتشر اور غلام بنے بیٹھے ہیں۔
    تبصرہ: اس فقرہ میں “ہم” ایک ایسا مبہم تصور ہے جس کی کوئی معیّن حالت نہیں۔ اور کم از کم برصغیر کے مسلمانوں کا المیہ ہے کہ وہ “ہم ” سے جو کچھ مراد لیتے ہیں۔ وہ درست شناخت نہیں۔ ہم کہنے والے ایک طرف چین کے مسلمانوں سے خونی رشتوں سے بڑھ کر قرب محسوس کرتے ہیں اور دوسری طرف مغربی ممالک میں حلف وفاداری اٹھاتے ہیں۔ اس سے وہ واقعہ یاد آ گیا ہے۔ کسی نوجوان نے ایک بزرگ سے اولاد کے لئے دعا کی درخواست کی۔ بزرگ نے پوچھا کہاں رہتے ہو۔ جواب کراچی۔ اور بیوی کہاں رہتی ہے ۔ جواب پشاور۔ بزرگ نے کہا : برخوردار میری دعائیں اتنا فاصلہ طے نہیں کر سکتیں۔ یہ “ہم” کا جھگڑا اتا ترک نے ختم کر دیا تھا۔ لیکن سو سال بعد بھی پاکستان کا ایک بڑا طبقہ “قومی نظرئیے” کےتعاقب میں جنگل جنگل بھٹک رہا ہے۔ بادشاہ سے وفاداری کا عہد اب ریاست سے وفاداری کی صورت میں ڈھل چکا ہے جس میں جمہوری (جسے باوجود اقبال جیسے فلاسفر کہلائے جانے والے کی طرف سے تحقیر کی نظر سے دیکھے جانے کے پاکستانی درست طرز حکومت سمجھتے ہیں) اور عادلانہ قوانین کو شاہی خوشنودی پر بالا دستی حاصل ہوتی ہے۔ اس اندرونی تضاد کے ساتھ پاکستانی جی رہے ہیں۔ اور اس جینے پر کُڑھتے رہنے پر مجبور بھی ہیں۔
    یاد رکھو: “جنگ نہ لڑنے والی قومیں یا تو غلام بن جاتی ہیں یا تاریخ سے مٹ جاتی ہیں۔”
    تبصرہ: جنگ سے اگر دفاعی جنگ مراد ہے تو بات قابل قبول ہے لیکن جو دلائل اوپر دوسروں پر جنگ مسلط کرنے کے دیئے ہیں ان کے مطابق جنگ کسی بھی طور بہتر آپشن نہیں۔ البتہ مرغے۔ کتے۔ بیل۔ بٹیرے لڑانے کا مزہ جن کو آتا ہے انکے ذوق کی تسکین کا سامان ضرور ہے۔ انکے نزدیک دونوں ممالک دس دس ایٹم بم گرا کر جاپان کی طرح ترقی کر سکتے ہیں۔ ظلم یہ ہے کہ اس درندگی کو اسلامی تعلیم سے ثابت کرتے ہیں جو سراسر ظلم ہے۔
    ایک کہاوت ہے۔ “جنگ میں سب سے زیادہ نقصان اُن کا ہوتا ہے جن کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا”
    لیکن اگر جنگ نہ لڑی جائے تو پھر سب کچھ ہی چھن جاتا ہے — عزت، زمین، ایمان، حتیٰ کہ پہچان بھی!
    لہٰذا: اگر ہمیں اپنے مقدر بدلنے ہیں، اگر ہمیں اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کرنا ہے، اگر ہمیں دشمنوں کو جواب دینا ہے ۔
    تو ہمیں لڑنا ہوگا، قربانیاں دینا ہوں گی،
    تبصرہ: درست ہے کہ جنگ میں سب سے پہلی موت تو سچ پر آتی ہے۔ اس کے بعد جو کچھ طاقتور چاہے وہ درست شمار ہوگا۔ لیکن اس طرز عمل سے انسانیت تو گئی بھاڑ میں۔ لیکن مضمون نگار کی اپنی ویلیوز ۔”عزت۔ زمین۔ ایمان حتیٰ کہ پہچان” ہیں جو بالکل نسبتی ہیں۔ یہی ویلیوز پاکستان میں روز پامال ہو رہی ہیں ۔ نہ کسی کی عزت ہے ۔ زمینوں پر طاقتور قابض۔ ایمان اتنا کمزور ہے کہ کسی دوسرے فرقے کے لوگوں کو نماز پڑھنے سے جاتا رہتا ہے۔اور پہچان بلکہ قومی پہچان جو پہلے چار قوموں کی ہوتی تھی اس سے نجات حاصل کرنے کےبجائے چالیس ہزار قومیں بنیں اور آپ آج بھی سوشل سٹرکچر میں پہلے کم تر ذاتوں کا اور زبانوں کے اثر کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔
    اور یاد رکھو… “جہاد کمزوری کی نہیں، غیرت کی دلیل ہے!” “جنگ بزدل کے لیے تباہی ہے، مگر غیرت مند کے لیے بقا۔”
    تبصرہ: اس آخری جملہ میں غیرت کو ابھارا گیا ہے۔ لیکن غیر ہے کیا۔ اس پر علامہ اقبال نے بھی خامہ فرسائی کی ہے اور ابن رشد نے بھی عملاً اس کا مظاہرہ کیا ہے۔جبکہ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پاکستان میں ہر فرد کی غیرت کا الگ الگ پیمانہ اور الگ الگ مقام ہے۔ اتنے تضادات اس اصطلاح میں موجود ہیں کہ اس کے لئے الگ مضمون کی ضرورت ہے۔ البتہ ایک واقعہ قابل ذکر ہیں جو ان تضادات کو واضح کرتا ہے جس کے مطابق:
    برصغیر کے ایک نامور حکیم مولانا کے ہسپتال میں ایک کنجر اپنی بہو کو لے کر آیا اور کچھ دن انکے ہاں قیام کیا۔ ایک روز حکیم صاحب نے بڑی ہی احتیاط سے کنجر صاحب سے کہا کہ آپ ان بچیوں کو گھر لاتے ہیں اور دوسروں کے حوالے کر کےان سے “کسب” کرواتے ہیں جبکہ رزق کے اور بہتر ذرائع بھی موجود ہیں۔۔ کنجر صاحب کا چشم کشا جواب تھا:
    “حکیم صاحب ہم کوئی بے غیرت ہیں کہ بیاہ کر لائی ہوئی بہوؤں سے ایسا کروائیں۔ اس کام کے لئے تو ہماری اپنی بیٹیاں ہوتی ہیں۔”

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *