آسٹریلیامیں الیکشن کیسےہوتے ہیں؟
تحریر: طارق احمد مرزا۔ آسٹریلیا
مؤرخہ 3 مئی 2025 ء کو آسٹریلیا بھر میں قومی اسمبلی اور سینیٹ (ایوانِ بالا) کے انتخابات منعقد ہوئے۔
ان انتخابات میں حکمران جماعت آسٹریلین لیبر پارٹی کو ریکارڈ کامیابی حاصل ہوئی ۔ یہ انتخابات کئی اعتبار سے تاریخی ثابت ہوئے .مثلاًحزب اختلاف کی لبرل پارٹی کے سربراہ پیٹر ڈٹن (Peter Dutton) نہ صرف یہ کہ اپنی پارٹی کو خاطرخواہ کامیابی نہ دلوا سکے بلکہ خود اپنے ہی حلقہ میں شکست سے دوچار ہوکر اپنی سیٹ بھی گنوا بیٹھے۔
ادھر وزیراعظم انتھونی البانیزی (Anthony Albanese) جنہیں پیار سے لوگ “البو”(Albo) کہتے ہیں ، 2004 ء کے بعد پہلے وزیر اعظم ہیں جو دوسری مدت کے لئے منتخب ہوئے۔ اسی طرح آپ گزشتہ ایک سو(100) برس میں پہلے آسٹریلوی وزیراعظم ہیں جو اپنی وزارت عظمیٰ کی پہلی مدت کے مکمل ہو جانے کے بعد پارلیمنٹ میں اپنی پارٹی کی نشستوں میں اضافہ کے ساتھ دوبارہ منتخب ہوئے ہیں۔ یعنی اس بار پارلیمنٹ میں آپ کی جماعت کوپچھلی دفعہ کی نسبت زیادہ بھاری برتری حاصل ہوئی ہے۔
الیکشن 2025ء کے ان غیرمعمولی اور کچھ غیر متوقع نتائج کی وجوہات اور ان کا پس منظر کئی پہلوؤں سے دلچسپ حقائق پر مشتمل ہے، جن کی تفصیلات کا بیان الگ سے ایک تحریر کا متقاضی ہے ۔ احقرمناسب سمجھتا ہےکہ قارئین کی خدمت میں آج صرف آسٹریلیا کے الیکشن کے نظام اور انتخابی عمل کے بارے میں کچھ معلومات پیش کی جائیں۔
دولت مشترکہ (کامن ویلتھ) کے رکن ملک آسٹریلیا میں پارلیمانی جمہوری نظام قائم ہے اور یہ برطانوی آئینی بادشاہت کے ماتحت ہے۔ فیڈرل پارلیمنٹ (قومی اسمبلی) کے الیکشن ہر تین سال بعد اور سینیٹ کے الیکشن ہر چھ سال بعد ہوتے ہیں لیکن چونکہ بعض سینیٹراپنی مدت ساتھ ساتھ پوری کرچکے ہوتے ہیں تو فیڈرل الیکشن کے ساتھ سینیٹ کی ان سیٹوں کے لئے بھی الیکشن ساتھ ہی منعقد کرالئے جاتے ہیں جو تین سال بعد خالی ہو چکی ہوتی ہیں۔ سینٹ کے ممبران بھی براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں۔اس مقصدکے لیئے ہر ووٹر کو ایک سفید اور ایک سبز بیلٹ پیپر دیاجاتا ہے ۔ سفید والا کاغذ قومی اسمبلی جبکہ سبز سینیٹ کے لیئے استعمال ہوتا ہے۔دونوں کے بیلٹ باکسز الگ الگ ہوتے ہیں۔ گویا ہر ووٹر بیک وقت دو ووٹ کاسٹ کرتا ہے۔
فیڈرل الیکشن کے برعکس ریاستوں اور نیم خودمختارعلاقہ جات (State & Territorial) کے الیکشن ہر چار سال بعد ہوتے ہیں۔، اور اسی طرح لوگل کونسل کے ممبران کا انتخاب بھی کہیں دو توکہیں چار سال بعد ہوتا ہے۔ وفاقی دارالحکومت کینبرا کی ٹیریٹوری میں لوکل کونسل کا انتخاب نہیں ہوتا۔
فیڈرل اورسٹیٹ الیکشن میں ووٹ ڈالنا 18 سال اور اس سے اوپر ہر عمرکے افراد کے لئے لازمی ہے۔اٹھارہ برس کی عمر کے ہر فرد کے لیئے اپنا نام ووٹر لسٹ میں شامل کروانا بھی لازمی ہے۔ ووٹ کا حق استعمال نہ کرنے والے کو جرمانہ کی سزا مقرر ہے سوائے اس کے کہ الیکشن والے دن کوئی کومہ (مکمل بے ہوشی) میں ہو، پاگل ہو یا شدید ڈیمینشیا(Dementia) وغیرہ میں مبتلا ہو۔اگر کسی نے الیکشن والے دن سفر کرنا ہو، دائمی بیمار یا معذورہو ،یا پھرکوئی وبا پھیلی ہو تو اس کے لیئے بذریعہ ڈاک یعنی پوسٹل ووٹ کی سہولت موجود ہے۔اسی طرح الیکشن کی تاریخ سے چند ہفتے قبل شہروں اور قصبوں میں قبل ازتاریخ پولنگ سٹیشن (Early Polling Stations) بھی کھل جاتے ہیں تاکہ ملازمت یا سفر وغیرہ پہ جانے والے ووٹنگ کے عمل میں شامل ہو سکیں۔ کووڈ کی وبا کے بعد سے قبل از تاریخ ووٹنگ میں کئی ملین ووٹوں کا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
پوسٹل ووٹ کے علاوہ گونگوں کے لیئے اشاروں کی زبان میں ، اندھوں کے لیئے ٹیلیفونک ووٹ اور بریل ووٹوں کی سہولت موجود ہے۔ جو شہری عمررسیدہ یا معذور ہوں ، ان کے گھروں میں یانرسنگ ہوم میں الیکشن کمیشن کا عملہ بیلٹ پیپر اور بیلٹ باکس اٹھائے پہنچ جاتا ہے، غرضیکہ آپ کہیں بھی اور جس حالت میں بھی ہوں ووٹ کا حق ادا کرنے سے فرار کی راہ نہیں پاسکیں گے!۔
اسی طرح بیرون ملک مقیم آسٹریلین شہریوں کے لیئے بھی پوسٹل ووٹ یا بیرون ملک قائم شدہ الیکشن سینٹر(جو عموماً سفارت خانوں میں قائم ہوتے ہیں) کی سہولت مہیا ہوتی ہے۔ ہر ایسا بالغ آسٹریلین جس کا بیرون ملک قیام چھ برس سے کم متوقع ہو ووٹ دے سکتا ہے جبکہ اوورسیز آسٹریلین یعنی تارکینِ وطن جو باہر کے ملکوں میں مستقل رہائش اختیار کرچکے ہوں انہیں آسٹریلین الیکشن میں ووٹنگ کی اجازت نہیں۔
یہاں بیلٹ پیپریعنی ووٹ کی پرچی بھی کچھ اس طرح کی بنائی جاتی ہے کہ ووٹر کو ترجیحی بنیاد پررائے دہی (Preferential Vote) اختیارکرنا پڑتی ہے۔ یعنی اگر دس امید وار ہیں ، یا دس پارٹیاں ہیں تو ووٹر کسی ایک امیدوار یا پارٹی کے نام کے آگے کوئی ٹھپا ، ٹھیکا، نشان یا انگوٹھا نہیں لگاتا بلکہ ایک تا دس نمبر لکھتا ہے، یعنی اس کی پہلی چوائس کون سا امیدوار یا پارٹی ہے، دوسری چوائس کون سی ہے، تیسری ، چوتھی،دسویں وغیرہ۔ اگر ایسا نہیں کرے گا تو اس کا ووٹ مسترد کردیا جاتا ہے۔ اور پاکستانی خاص کر یہ جان کرحیران ہونگے کہ نمبر لکھنے کے لیئے پکی سیاہی والا مارکریا پین نہیں بلکہ پنسل مہیا کی جاتی ہے۔
بیلٹ پیپر پر پنسلوں سے نمبر لکھنے کے باوجود یہاں الیکشن عمومی طور پرصاف شفاف، ایماندارانہ اور آزادانہ ہوتے ہیں، الیکشن کے ایام سے قبل جو حکومت چل رہی ہے، دوران الیکشن اسی طرح چل رہی ہوتی ہے،کسی نگران حکومت کے قیام کی ضرورت پیش نہیں آتی۔
ہارنے والی پارٹیاں اور امیدوارالیکشن کے نتائج بخوشی تسلیم کرتی ہیں۔ کوئی امیدوارہار جائے تو چند گھنٹوں یا دنوں کے اندر اندراخلاقی جراءت ،غیرت ، شرافت اورمعروف جمہوری سیاسی روایات کے مطابق نیز حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے ، اگر اس کے پاس کوئی عہدہ ہے تو، پارٹی کی سربراہی ، دیگر پارٹی عہدوں بلکہ بسا اوقات سیاست سے ہی ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیتا ہے یا پھرہارنے والی پارٹی ہنگامی طور پر کور کمیٹی کا اجلاس بلا کر اپنے سربراہ اور عہدیداروں سےاعتماد کا ووٹ لینے کا اہتمام کرتی ہے۔
قائد حزب اختلاف یعنی لبرل پارٹی کے سربراہ پیٹر ڈٹن نے بھی ہارنے کے بعد پارٹی کی سربراہی سے فوری استعفیٰ کااعلان کردیا تھا۔
لیکن اگر کوئی امیدوار (یا کوئی بھی شہری) انتخابی نتائج سے مطمئمن نہ ہو تو چالیس روز کے اندر اندر وہ ان نتائج کے خلاف پیٹیشن بھی دائر کرسکتا ہے جسے ہائی کورٹ کا سپیشل بینچ دیکھتا ہے ۔ یہ بینچ “کورٹ آف ڈسپیوٹد ریٹرنز(Court of Disputed Returns) کہلاتا ہے۔ اس مقصد کے لیئے مقررہ فیس موصول ہونے کے بعد پیٹیشن کی کاپی عدالت کی طرف سے فوری طورسے پارلیمنٹ کےسیکرٹریٹ، گورنرجنرل یا الیکشن کمشنر کو بھجوائی جاتی ہے تاکہ وہ بھی اس بارہ میں مطلع رہیں کیونکہ اگر کورٹ کی طرف سے کسی نشست کا انتخاب کالعدم قراردے دیا جائے تو اس نشست پر دوبارہ انتخاب کروایا جا سکے۔
آخر پر یہ کہ آسٹریلین پارلیمنٹ میں کسی قسم کی “مخصوص” نشستیں نہیں ہوتیں۔ خواتین ممبران اسمبلی کی تعداد کافی عرصہ سے کم چلی آرہی ہے۔اس کے تدارک کے لیئے سیاسی پارٹیاں رضاکارانہ طور پر خواتین امیدواروں کی تعداد 35 تا50فیصد بڑھانے کے لئے پارٹی ٹکٹ کا “کوٹہ” مخصوص کرنے کا سوچ رہی ہیں ، نیز ہر کابینہ میں خواتین وزراء کی تعداد بڑھانے پر بھی خاطرخواہ کاوش کی جاتی ہے۔آسٹریلیا کی پہلی خاتون وزیراعظم جولیا گیلرڈ (Julia Gillard) سنہ 2010 ء میں منتخب ہوئی تھیں اورتین سال لگاتار انہیں شدید صنفی امتیاز کا سامناکرنا پڑاتھا۔اس کے بارہ میں پارلیمنٹ میں انہوں نے مردممبران پارلیمنٹ (خصوصا اپوزیشن) کی جانب سے روا رکھے جانے والے صنفی امتیاز (misogyny) کا چیخ چیخ کر گلہ کیاتھا۔ آپ کی یہ تقریر دنیا بھر میں مشہور ہوئی اور اس پر آپ نے پھر ایک کتاب بھی لکھی۔اسی طرح ویمن اینڈ لیڈرشپ (Women & Leadership) کے نام سے آپ کی ایک اور تصنیف بھی آپ کی ویب سائٹ پردستیاب ہے۔افسوس کہ آپ سیاست کو خیربادکہہ چکی ہیں۔
یہ 2010 کی بات تھی، اب 2025ء ہے اور پیٹرڈٹن کی جگہ لبرل پارٹی کی سربراہی اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی مسند بھی آسٹریلیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون سیاستدان سوزن لی(Sussan Ley) نے حاصل کی ہے اور مختلف قسم کی چہ میگوئیاں ابھی سے شروع بھی ہو گئی ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

