شاعری

غزل ۔ ۔ ۔ کنیز بتول نجمہ

Share your Love

شاعرہ: کنیز بتول نجمہ

ڈاکڑ شیخ محمد محمود صاحب کا مقدمہ اللہ کی بارگاہ میں

دل درد سے لبریز ہے حالت ہے وہ غم کی
ہے پیش تیرے سامنے۔ فریاد الم کی
حد کر دی زمانے نے ہے اب ظلم و ستم کی
ہم رکھتے ہیں پر تجھ سے ہی امید کرم کی

اے منصف دارین تو قاتل سے ذرا پوچھ
مقتول نے کیا جرم کیا کیا تھی خطا پوچ
وہ درد کے ماروں کی تو کرتا تھا دوا پوچھ
ظالم نے اسے اتنا کیوں درد دیا پوچھ

کس ضعم میں قاتل نے ہے مقتول کو مارا
بے بیکار سمجھتا ہے وہ کیا خون ہمارا
ھم چپ ہیں کہ ہے پیش نظر حکم تمھارا
پر اب تو دیکھا ان کو جہنم کا نظارا

اسلام کے افلاک کے خورشید کا شاہد
اور کرہ ارضی پہ تیری دید کا شاہد
اس خون کو بہایا جو تھا تمجید کا شاہد
ہر قطرۂ خوں تھا تیری توحید کا شاہد

مقتول کے چہرے پہ لہو دیکھ رہے ہیں
اور خوں سے نمازی کا وضو دیکھ رہے ہیں
رکھ خوں کا بھرم اب کہ عدو دیکھ رہے ہیں
ہم ہاتھ اٹھائے  تیری سو دیکھ رہے ہیں

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *