قائداعظم بچپن کے حالات اور کاروبار
جناح کا مطلب ہے’’پرندے کاپر‘‘اورپروں سے اُڑنے والاہمیشہ بُلندتراورممتاز پوزیشن میں رہتا ہے۔ پرندے کے پر خُدا نے اِس ترتیب سے تخلیق کیے ہیں کہ اُڑان سے وہ آزمائش کا سبق لیتاہے،اپنے آپ کو آزمائش میںڈالتاہے، پھرجب بُلندی کی طرف رُخ کرتا ہے تو درختوں، پہاڑوں،جنگلوںپرسے گزرتا ہُوا بادلوں اور طوفان کی بَلاخیزیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے کامیاب ہوتاہے۔اِسی طرح جب کوئی شخص انسانیت اورقوم کی خدمت کو اپنا شعار بنا لیتا ہے تو بُلندیاں اُس کے قدم چومتی ہیں،وہ اپنی محنت کاثمرپاتاہے اورمُعاشرے میں اُس کامقام ایک نشان بن جاتاہے۔یہی حکایتِ بازگشت قائدِاعظم محمدعلی جناحؒ کی ہے۔وُہ دُبلا،پتلا،شوخ رخساروں والابچّہ عقیقہ سے قبل بادبانوں اورسمندرکی لہروں سے آشنا ہُوا۔ ابھی وہ سنِ شعور کو نہ پہنچا تھا کہ اُس کی شفیق والدہ مٹھی بائی اُسے گودمیں لئے پانیلی کی زیارت سے برکتیں حاصل کرنے کے لیے گئی تھی۔ محمد علی جناح میں نہ توقوت تھی نہ طاقت تھی۔اللہ کے فضل واحسان اورصبرکے سہارے مقامات کے سفرطے ہوئے۔ کسے معلوم تھا کہ استقامت کاسبق حاصل کرنے والایہ بچّہ اپنی صفات سے عالمگیرشہرت حاصل کرے گا اور کروڑوں مجبور انسانوں کوآزادی کی کشتی پر سوار کرے گا۔ہندوستان میںقریباً462 ریاستیں تھیں۔کاٹھیاواڑکی ریاست گونڈل ایک ایسی ریاست تھی جس کا راجا ٹھاکرداس تھا۔ وہ انگریز سرکار کا بڑا وفادار تھا۔ ہندوستان کی سیاسی روش، اُتار چڑھائوکاریاست میں کوئی اثرنہ تھا۔سیاسی سرگرمیاں مفقود تھیں۔ کاٹھیاواڑکی ریاست گونڈل میں ایک چھوٹاساگائوںپانیلی نام کاتھا۔ریاست میں راجائوں کی اپنی حکومت چلتی۔تعلیمی ادارے ریاست میں ناپید تھے۔ کاروبارکھیتی باڑی عام طرزکی ہوتی تھی۔اسی گائوںمیں پونجاجناح نے کھیتی باڑی سے ہٹ کرکپڑاتیارکرنے کی چند کھڈیاں لگارکھی تھیں۔بندہ محنتی تھا،دن رات ٹھکاٹھک رہتی۔کچھ عرصہ بعدچندملازم رکھ لیے۔کپڑاتیارہونے لگا۔ گاہک بھی آنے لگے۔کاروبارچل پڑا۔گویا وہ پانیلی گائوں کے سیٹھ کہلانے لگے۔پونجا جناح کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی جن کے نام سادگی اوررواج کے حساب سے رکھے گئے۔بڑا بیٹا دلجی، پھرنتھو بھائی اور چھوٹے کا نام جناح(جینا) اوربیٹی کانام منی بائی تھا۔پونجاجناح کی شادی 1857ء کی جنگِ آزادی سے چھ سات برس قبل ہوئی۔کراچی جناح کے لیے ایک نیااوربڑا شہرتھا۔اتنا بڑا شہراُنہوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ مکان کی تلاش شروع ہوئی۔نیونہام روڈپروزیرمینشن بلڈنگ کی دوسری منزل پر دو کمروں کاپورشن کرایہ پرحاصل کرلیا۔اس عمارت میںکافی لوگ رہتے تھے۔اُن کاتعلق کاٹھیاواڑسے تھا۔ اُس زمانے میں بجلی نام کی چیزنہ تھی۔ نئی جگہ میں روزگارتلاش کرنامشکل کام تھا۔تاہم جناح کے فطری حوصلہ اورہمت نے کام دکھایا۔ مشکلات سے نپٹتے ہوئے وہ اپنا کاروبار چلانے میں کامیاب ہوگئے۔کراچی سمندر کے کنارے ایک مشہوربندرگاہ تھی۔ انگریز تاجر اپنامال اس بندرگاہ سے منگواتے تھے۔ایک فرم گراہم شپنگ اینڈٹریڈنگ کمپنی تھی۔اس کے منیجر مسٹر فریڈرک سنوکرافٹ تھے۔اُن کے ساتھ جناح کی دوستی ہوگئی۔ اُس زمانے میں مسلمانوں کے لیے تعلیم کے میدان کم تھے۔مدرسے،سکول اورادارے نہ تھے۔مسلمانوں کاتعلیم کی طرف رجحان بھی کم تھا۔جناح بھی صِرف گجراتی زُبان جانتے تھے۔کاروبارمیں انگریزی زُبان کی ضرورت ہوتی ہے۔ انگریز کی حکومت تھی۔انگریزی زُبان تمام دفاتر، کالجوں اور سکولوں میں سمجھی جاتی تھی۔اب کیا تھا؟ضرورت ایجادکی ماں ہے۔جناح کے دِل میںاپنے کاروبار کے لیے انگریزی زُبان سیکھنے کا شوق پیداہُوا۔محنتی انسان تھے،آگے بڑھنے کی صلاحیت تھی اورانگریزی زُبان کے عوض گراہم شپنگ اینڈٹریڈنگ کمپنی سے تعلُّق ہوگیا۔آپ (جناح)نے گوندکتیرہ جیسی چیزیں برآمدکرنا شروع کر دیں۔بینکاری بھی ساتھ شروع کردی۔کئی ملکوںسے متعارف ہو گئے۔ جینا پونجا فرم کے ساتھ کراچی اورکھارادرکے علاقوںمیںلوگ اعتماد کے ساتھ کاروبار کرنے لگے اور وہ کراچی کے چند اونچے کاروباری لوگوںمیںشمارہونے لگے۔ آپ نے کراچی میں کاروبارکے لیے انگریزی بول چال سیکھی اوراپنامنفردمقام بنالیا۔ایک خاص تہذیب وتمدن کاشخص قسمت آزمائی کرکے اپنامقام بنالے اورتجارت کے پیشہ میں فروغ حاصل کرکے پُرسکون زندگی گزارے، یہ جناح ہی کاکام تھا،ورنہ لوگ نئی جگہ اور علاقوںمیں گھومتے رہتے ہیں۔کراچی میں باعزت مقام کی رہائش نصیب ہوئی۔لہٰذاآپ نے داخلی اورخارجی معاملات میں سرمایہ لگاناشروع کردیا۔ اُدھر اللہ سبحانہ‘وتعالیٰ کے فضل سے مٹھی بائی کے بطن سے اولادکی اُمیدبھی ہونے لگی۔اللہ کاکرم ایساہُواکہ اس محنتی جوڑے کو خُدا نے 25دسمبر 1876ء کوایک پیاراسابیٹاعطاکِیا۔اُس زمانے میں پہلے بیٹے کی پیدائش پربڑی خوشی منائی جاتی تھی۔بچّہ پیدائش کے وقت کمزورتھا۔وزن بھی کم تھا۔ہاتھ لمبے اِس لیے نظرآتے تھے کہ جسمانی لحاظ سے نحیف تھا۔ننھے بچّہ کو ڈاکٹر اورحکیم صاحبان کودکھایاگیا۔ ڈاکٹراورطبیب صاحبان نے والدین کوحوصلہ دیا،بچّہ تندرست ہے،صِرف کمزورہے۔ اسے ماں کا دودھ پلائیں۔قائدِاعظم محمدعلی جناحؒکی تاریخِ پیدائش اورجائے پیدائش کچھ اوربتائی جاتی ہے۔ کیوںکہ سندھ مدرسۃ الاسلام کے رجسٹرمیں تاریخ پیدائش 20 اکتوبر 1879ء درج ہے۔ قائدِاعظم کایومِ پیدائش جوسرکاری طورپرمنایاگیا 25دسمبر 1876ء ہے، اس پرانہوںنے اعتراض نہیں کِیا۔جائے پیدائش بھی اُنہوںنے کراچی ہی لکھی۔ قائدِاعظم ؒکا پاسپورٹ نمبر400878، 4 جولائی 1936ء کوجاری ہُوا۔ اس پاسپورٹ میں تاریخِ پیدائش 25دسمبر 1876ء اور جائے پیدائش کراچی ہی درج ہے۔محمدعلی جناح کانام والدہ نے رکھا۔آپ کے بعدچھ بہن بھائی پیدا ہوئے رحمت، مریم، فاطمہ، شیریں، احمدعلی اوربندے علی۔صِرف فاطمہ جناح نے نام کمایا۔باقی بہنیں بھائی گمنام رہے۔محمدعلی جناح کاعقیقہ مٹھی بائی کی خواہش کے مُطابِق ہُوا۔حسن پیرکی درگاہ پانیلی سے تیس میل کے فاصلے پرتھی۔وہاں بچّہ کولے جایاگیا۔ننھے محمدعلی کوچمکدار قیمتی کپڑے پہنائے گئے تھے۔محمدعلی گودسے ہی فطری طورپرہوشیارتھے۔وہ بچپن ہی سے دُبلے پتلے تھے پھرکھیل کود،دوڑنے بھاگنے میں لگے رہتے،خوراک کی طرف توجہ کم دیتے۔مزاج میںنفاست تھی۔وہ موٹا ہونا پسند نہیں کرتے تھے۔ ایک دِن کیاہُوا؟محمدعلی جناح نے سوچاکہ بنٹے گولیاں کھیلنے سے مٹّی ہاتھوں کولگتی ہے اور ہر بار جھکنا پڑتاہے۔انہوں نے کرکٹ کاسن رکھاتھا،چناںچہ وہ کرکٹ کی گینداورلکڑی لے آئے اور نیا کھیل اپنا لیا۔جوں جوں بڑے ہوتے گئے،اُن میں نکھارپیداہوتاگیا۔والد صاحب کے ہاں گھوڑے تھے۔ کاروبارکے سلسلہ میںسفرگھوڑے پرکِیا جاتا تھا۔ چناںچہ گھوڑسواری کاشوق پیدا ہو گیا۔ والدصاحب نے بگھیاں بھی لے رکھی تھیں۔اسی قسم کاتجربہ راقم کو بچپن میں ہُوا۔راقم کے والدِ بزرگوارکے پاس گھوڑسوارلوگ آتے تھے۔جب کوئی گھوڑا ہمارے گھرکے کھلے صحن میں کھڑا ہوتا تو ہم اس پرسوارہوکرخوش ہوتے۔ایک روزجونہی ہم گھوڑے پر سوارہوکرباہرسٹرک پرنکلے تو گھوڑا جو تیزرفتارنیزہ بازی والا تھا،بھاگنے لگا۔ ہماری شامت آگئی۔ لوگوں نے گھوڑا روکاورنہ ہم گِر کر فوت ہوچکے ہوتے۔محمدعلی جناح کوگھوڑے پرسوارہوکربڑی خوشی ہوتی۔جب اُن کوپڑھائی کا شوق پیداہُواوہ رات دیرتک لالٹین جلاکر پڑھتے رہتے۔ایک رات والدہ مٹھی بائی نے دیکھا تو محمد علی جناح سے کہاکہ ’’تم دیر سے پڑھ رہے ہو،سوجائو‘‘توذہین بچے نے کہا، ’’بڑاآدمی بننے کے لیے محنت کرناپڑتی ہے۔‘‘ محمدعلی جناح نے چہارم گجراتی سٹینڈرڈپاس کرنے کے بعدسندھ مدرستہ الاسلام میں داخلہ لیا۔یہاں ساڑھے چارسال تک پڑھا اور16برس کی عمرمیںدسویں پاس کرنے کے بعد انگلستان روانہ ہوگئے۔سندھ مدرستہ الاسلام مسلمانوں کاتعلیمی ادارہ کراچی کے مصروف علاقہ میں محترم حسن علی آفندی صدرمحمڈن نیشنل ایسوسی ایشن سندھ کی ہمت اورحوصلہ کی بدولت یکم ستمبر 1885ء کومعرضِ وجودمیںآیا۔اُس وقت کے وائسرائے ہندنے مسلمانوں کے اِس عظیم ادارے کاسنگِ بنیاد رکھا۔ اس سے قبل بچوں کی تعلیم کاسلسلہ جاری ہوچکاتھا۔اِس ادارے کو اعزازحاصل ہے کہ دُنیاے عالم کے نقشے کے اوپراُبھرنے والے مسلمان مُلک کی تخلیق کرنے والے طالب ِعلم محمدعلی جناح نے یہاں سے تعلیم حاصل کی۔سکول ہذاکے ریکارڈکے مُطابِق محمدعلی جناح سٹینڈرڈفرسٹ کلاس میں پہلی بار 14 جولائی 1887ء کوداخل ہوئے۔خوجہ خاندان سے اُن کا تعلُّق تھا۔کراچی ان کاآشیانہ تھا۔ساتھ یہ بھی درج تھا کہ ہونہار طالبِ علم نے چوتھی کلاس گجراتی زُبان میں پاس کررکھی تھی۔ تاریخِ پیدائش کاخانہ خالی تھا۔کچھ عرصہ کے بعد23دسمبر1887ء کووہ سکول ہذا چھوڑ کربمبئی اپنی پھوپھی کے پاس چلے گئے۔وہاںبمبئی میں انجمنِ اسلام کے سکول میںداخل ہوگئے۔پھردوبارہ داخل ہونے کراچی آ گئے۔ 5جنوری 1891ء کوجب محمدعلی جناح درجہ چہارم میں تھے سکول چھوڑدیا۔تیسری دفعہ ایک ماہ کے بعد9 فروری1891ء کوداخل ہوئے اورسٹینڈرڈمیں پہنچے۔ 30جنوری1892ء کوسکول چھوڑا۔نوٹ تحریرتھا شادی کروانے چلے گئے۔سندھ مدرسۃ الاسلام ترقی کی طرف گامزن رہا۔مکمل ہائی سکول ہوگیا۔ساتھ پرائمری کلاسز گجراتی، اُردواورسندھی میں ہونے لگیں۔قرآن کی کلاسزبھی،مسجدیعنی نمازوالے ہال میں جاری رہیں۔اعلیٰ پایہ کے اساتذہ سکول کومیسرتھے مثلاًخواجہ علی محمد،مسٹرتیجانی،مسٹر پرشوتم،مولوی اللہ بخش۔ایسی ٹیم مسٹرولی محمدپرنسپل کے ساتھ تعاون سے نئی نسل کاکِردار سنوارنے میں مصروف تھی۔حسن علی آفندی کاخلوص تھاکہ اُنہوں نے مسلمان قوم کی تعلیم کے فروغ میں بڑی دلچسپی لے رکھی تھی۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کاتعاون جسٹس امیرعلی آف کلکتہ سے ہوگیا۔جنہوں نے مسلمانوں کی تعلیمی حالت بدلنے کے لیے نیشنل محمڈن ایسوسی ایشن بنارکھی تھی۔حسن علی آفندی کے پاس جذبہ تھا۔لہٰذادونوںاکٹھے ہوگئے اوربرِّصغیرمیں سندھ مدرستہ الاسلام جیساادارہ قائم ہوگیا۔(پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی کی تصنیف ’’رہبرِ ملت: قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ‘‘ سے مقتبس)
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

