Latestاردواسلامتاریخمذہب

رمضان المبارک کا آخری عشرہ

تحریر: خواجہ محمد افضل بٹ- نیو یارک اسٹیٹ

”آخری عشرہ کے بارےعمومی ذکر“

رمضان المبارک کا پورا مہینہ دیگر مہینوں سے زیادہ اہمیت کاحامل ہے اور رمضان تمام مہینوں کا سردار ہے ۔ لیکن ماہ رمضان کے آخری دس دنوں کی اہمیت اور عظمت بہت زیادہ ہے۔

آخری عشرہ جہنم کی آگ سے نجات کا عشرہ ہے ۔ رسول کریم ﷺپورا رمضان عبادت و ریاضت میں گزارتے تھے۔ مگر  آخری دس دنوں میں آپ ﷺ کی عبادت میں اضافہ ہوجایا کرتا تھا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا !جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی کریم ﷺکمربستہ ہو جاتے اور آپؐ  آخری دس دن اعتکاف بھی فرماتے تھے ۔ اس عشرہ کی فضلیت یہ بھی ہے کہ اس میں لیلۃ القدر بھی آتی ہے۔

حضرت سلمان فارسی ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے شعبان کے آخری دن ارشادفرمایا لوگو! تم پر ایک عظیم مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے، یہ مبارک مہینہ ہے، اس میں ایک رات (ایسی رات ہے) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس ماہ کے روزے رکھنا فرض قرار دیا ہے اور اس کی راتو ں میں (نوافل کے لئے ) قیام کو نفلی عبادت قرار دیا ہے۔ یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے۔آپ ؐ نے یہ بھی فرمایا !یہ ایسا مہینہ ہے جس کی ابتدا نزولِ رحمت ہے اور جس کا وسط مغفرت کا وقت ہے اور جس کاآخر کامل اجر پانے یعنی آگ سے نجات پانے کا ہے۔آگ سے نجات کی قرآنی دعائیں ، آنحضورﷺ کی دعائیں۔

اسی طرح اس عشرہ میں افضل ترین رات یعنی لیلۃ القدر آتی ہے یہ طاق راتوں میں سے ایک نہایت بابرکت رات ہے۔ اس کا ثواب ہزار راتوں سے بہتر ہے۔ اس کا ذکر قدرے تفصیل سے مضمون میں دیا جا رہا ہے۔

اس آخری عشرہ میں ہم سب کو زیادہ توبہ استغفار اور بخشش کی دعائیں مانگنی چاہئیں ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان برکات کو حاصل کرنے والا بنائے اور ہمارا ہر عمل خدا تعالیٰ کی حمد، اس کی راہوں پر چلنےو الا بنائے۔ آمین

خاکسار اور خاکسار کی فیملی کو بھی اپنی خاص دعاؤں میں یاد رکھیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین ثم آمین

رمضان المبارک کا آخری عشرہ

عَنْ عَائِشَةَ  قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشَرَ شَدَّ مِئْزَرَہٗ وَاَحْيَا لَيْلَهٗ وَاَيْقَظَ اَهْلَهٗ

( بخاری کتاب الصوم)

ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (رمضان کے) آخری عشرہ میں داخل ہوتے تو کمرِ ہمّت کس لیتے اور اپنی رات کو  (عبادت میں شب بیداری سے)  زندہ کرتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے ۔

تشریح :- جب کسی پیاری چیز کے الوداع ہونے کا وقت آتا ہے تو بے اختیار جذباتِ محبت جوش مارتے ہیں ۔ کچھ یہی کیفیت ہمارے آقا سید و مولیٰ ، آنحضرت صلی اللہ علیہ کی رمضان کی رخصتی پر ہوتی تھی ۔ جب روحانیت کی بہار اپنی رونق دکھا کر رخصت ہونے کو آتی تو آپ ان آخری ایّام میں کمر کس لیتے اور بر کات ِرمضان کے حصول میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرتے ۔

حضرت عائشہ ؓ کی ہی دوسری روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں عبادات میں جتنی کوشش و محنت اور مجاہدہ فرماتے تھے وہ جد و جہد اس کے علاوہ ایّام میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔ ( ابن ماجہ)

معلوم ہوتا ہے ایک تو حضورﷺ رمضان کی رخصتی کے اس خیال سے کہ پھر یہ پیارا برکتوں والا مہینہ سال بعد آئے گا پوری ہمّت اور طاقت خرچ کر کے ان بر کتوں کو حاصل کرنے کی کوشش فرماتے تھے ۔ دوسرے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ان آخری ایّام میں جو خاص برکات رکھی گئی ہیں ان کا حصول بھی مقصود ہوتا تھا۔

 جیسا کہ حدیث میں آیا ہے رمضان کے آخر میں اللہ تعالیٰ لوگوں کو آگ سے آزاد کرتا ہے (بہیقی) آخری عشرہ میں آنحضورؐاعتکاف بھی فرماتے تھے اور لیلۃ القدر کی تلاش میں راتیں بھی زندہ کرتے تھے ۔

رمضان المبارک کے اس آخری عشرہ کی ایک اور برکت آنحضورؐ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ

’’رمضان کی آخری رات میں میری امت کی مغفرت ہوتی ہے ۔‘‘ آپ ؐسے پوچھا گیا اے خدا کے رسول ؐ!کیا رمضان کی آخری رات لیلتہ القدر ہوتی ہے؟ فرمایا:نہیں، بلکہ عمل کرنے والا جب عمل سے فارغ ہوتا ہے تو اس وقت اسے اس کا اجر دیا جاتا ہے اور یہ مغفرت اس کا اجر ہے۔ (مسند احمد بحوالہ مشکوٰۃ)

اس لئے رمضان کی عبادات اور اعمال سے فراغت پر ان مومن بندوں کو آخری رات اللہ تعالیٰ اپنی مغفرت عطا فرماتا ہے۔ کتنے مبارک ہیں وہ روزہ دار اور رمضان کی عبادات بجالانے والے جن کو جلد ہی ان کا اجر دے دیا جاتا ہے ۔

تیسرا اور آخری عشرہ آگ سے نجات پانے کی قرآنی دعائیں

  • اَلَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اِنَّنَآ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (آل عمران:17)

جو لوگ کہتے ہیں اے ہمارے رب ! یقیناً ہم ایمان لے آئے پس ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔

  • رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ  (آل عمران : 195)

اے ہمارے رب ! اور ہمیں وہ وعدہ عطا کر دے جو تُو نے اپنے رسولوں پر ہمارے حق میں فرض کر دیا تھا اور ہمیں قیامت کے دن رُسوا  نہ کرنا ۔یقیناًتُو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

  • وَالَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا (الفرقان:66)

وہ لوگ جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہم سے جہنم کا عذاب ٹال دے یقیناً اس کا عذاب چمٹ جانے والا ہے۔

  • اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيْمِ۔ رَبَّنَا وَاَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ الَّتِيْ وَعَدْتَّهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَاَ زْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰتِهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۔ وَقِهِمُ السَّيِّاٰتِ وَمَنْ تَقِ السَّيِّاٰتِ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ وَذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ (المومن:-9-8 10)

وہ جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ جو اس کے گرد ہیں وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے بخشش طلب کرتے ہیں جو ایمان لائے ۔ اے ہمارے رب ! تُو ہر چیز پر رحمت اور علم کے ساتھ محیط ہے۔ پس وہ لوگ جنہوں نے توبہ کی اور تیری راہ کی پیروی کی ان کو بخش دے اور ان کو جہنم کے عذاب سے بچا۔ اور اے ہمارے رب ! انہیں اُن دائمی جنتوں میں داخل کر دے جن کا تُو نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے اور انہیں بھی جو ُان کے باپ دادا اور ان کے ساتھیوں اور ان کی اولاد میں سے نیکی اختیار کرنے والے ہیں۔ یقیناًتُو ہی کامل غلبہ والا (اور ) بہت حکمت والا ہے۔ اور انہیں بدیوں سے بچا اور جسے تُو نے اس دن بدیوں (کے نتائج) سے بچایا تو یقیناًتُونے اس پر بہت رحم کیا اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔

آنحضور ﷺ کی دعائیں

  • اَسْاَلُكَ أَنْ تُعِیْذَنِي مِنَ النَّارِ وَاَنْ تَغْفِرْ لِي ذُنُوبِيْ (ابن ماجہ)

میر اسوال تیرے دربار میں یہ ہے کہ مجھے آگ کے عذاب سے پناہ دے اور میرے گناہ بخش دے۔

  • اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُبِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ (بخاری)

اے اللہ ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔

  • اَللّٰهُمَّ اَجِرْنِي مِنَ النَّارِ (ابوداؤد)

اے اللہ ! مجھے آگ سے پناہ دے۔

  • اَسْئَلُكَ اَنْ يُجِيْرَنِيْ مِنَ النَّارِ

میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھ کو آگ سے بچا۔

  • يَا شَافِيَ الصُّدُوْرِ كَمَا تُجِيْرُ بَيْنَ الْبُحُوْرِ أَنْ تُجِيْرَنِيْ مِنْ عَذَابِ السَّعِيْرِ وَمِنْ دَعْوَةِ الثُّبُوْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْقُبُورِ(ترمذی)

اے دلوں کو تسکین عطا کرنے والے! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جس طرح بھرے سمندروں میں تو انسان کو بچالیتا ہے اُسی طرح مجھے آگ کے عذاب سے بچالے۔ ہلاکت کی آواز اور قبر کے فتنہ سے مجھے پناہ دے۔

  • اَللّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ كَرِيْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی (ترمذی)

اے اللہ ! تو بہت معاف کرنے والا کریم ہے۔ تو عفو کو پسند کرتا ہے پس مجھ سے در گزر فرما۔ (دعالیلۃ القدر)

  • رَبِّ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَ عَذَابٍ فِي الْقَبْرِ (ابوداؤد)

اے میرے پروردگار ! میں تجھ سے آگ اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگتا ہوں۔

  • اَللّٰهُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ، وَلَا تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ، وَعَافِنَا قَبْلَ ذٰلِكَ (ترمذی)

اے اللہ ! تو ہمیں اپنے غضب سے قتل نہ کرنا، اپنے عذاب سے ہمیں ہلاک نہ کرنا اور اس سے پہلے ہمیں بچا لینا۔

  • اَعُوْذُبِكَ مِنَ النَّارِ (ابوداؤد) میں آگ سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔
  • اَللّٰهُمَّ قِنِيْ عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ (ابوداؤد)

اے اللہ ! مجھے اپنے عذاب سے بچانا جس روز تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔

  • اَعُوذُ بِاللهِ مِنْ حَالِ أَهْلِ النَّارِ (ترمذی)

میں آگ والوں کے حال سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں۔

  • أَسْأَلُكَ يَا اللهُ أَنْ لَّا تَشْوِيَ خَلْقِى بِالنَّارِ (مستدرك)

اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے وجود کو آگ سے نہ جھلسانا۔

  • اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَارْضَ عَنَّا وَتَقَبَّلْ مِنَا وَأَدْخِلْنَا الْجَنَّةَ وَنَجِّنَا مِنَ النَّارِ وَأَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهُ۔(ابن ماجہ)

اے اللہ ! ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر ہم سے راضی ہو اور ہم سے دعائیں اور عبادتیں قبول کر اور ہمیں جنت میں داخل کر اور آگ سے بچا اور ہمارے سب کام خود بنادے۔

  • اَللّٰهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْاُمُوْرِ كُلِّهَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ (مستدرك)

اے اللہ ! سب کاموں میں ہمارا انجام بخیر کر اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے بچا۔

  • اَعُوْذُ بِاللهِ مِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ

میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں آگ کی تپش کے شر سے۔

اس کے علاوہ دعائے قنوت۔ درود شریف۔ دعاء لیلۃ القدر – صفات الہٰیہ کا ذکر میں بھی آگ سے نجات طلب کی گئی ہے۔

اعتكاف

اعتکاف کے لغوی معنے کسی جگہ بند ہو جانے یا ٹھہرے رہنے کے ہیں۔ اسلامی اصلاح میں اس سے یہ مراد ہے کہ عبادت کی نیت سے روزہ رکھ کر مسجد میں ٹھہر جائے ۔ جیسا کہ ہدایہ میں لکھا ہے:

  • اَللَّبْثُ فِي الْمَسْجِدِ مَعَ الصَّوْمِ وَنِيَّةِ الْاِعْتِكَفَ

یعنی عبادت کی نیت سے روزہ رکھ کر مسجد میں ٹھہرنے کا نام اعتکاف ہے۔(هدايہ باب الاعتكاف )

قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ دیگر مذاہب میں بھی اعتکاف کا وجود پایا جاتا تھا۔ جیسا کہ کلام پاک میں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے ذکر میں آیا ہے کہ :

  • وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهٖمَ وَإِسْمٰعِيْلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّآئِفِيْنَ وَالْعٰكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ (البقرة: 126)

’’اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید کی کہ تم دونوں میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف بیٹھنے والوں اوررکوع کرنے والوں (اور ) سجدہ کرنے والوں کے لئے خوب پاک وصاف بنائے رکھو “

بعثت سے قبل ہمارے پیارے نبی حضرت اقدس محمد مصطفیﷺ کئی کئی روز دنیا سے الگ تھلگ ہو کر غار حرا میں اپنے رب کی عبادت کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ یہ بھی ایک طرح کا اعتکاف ہی تھا۔ گویا انسان جب اور جس دن چاہے اعتکاف بیٹھ سکتا ہے اور اس کے لئے کوئی معین وقت اور دن مقرر نہیں ۔ لیکن رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف بیٹھنا مسنون ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:۔

  • كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتّٰى تَوَفَّاهُ اللهُ ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهٗ مِنْ بَعْدِهٖ

(بخاری صفحہ271مسلم کتاب الاعتكاف باب اعتكاف العشر الاواخر صفحہ 497)

یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی وفات تک یہ معمول رہا کہ آپ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف بیٹھاکرتے تھے۔ آپؐ   کی وفات کے بعد آپ کی ازواج مطہرات بھی اس سنت کی پیروی کرتی رہیں۔“

کتنے دن اعتکاف بیٹھنا چاھئے

کتب احادیث میں حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق لکھا ہے کہ:

  • كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فِى كُلِّ رَمَضَانَ عَشْرَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي

قُبِضَ فِيْهِ اِعْتَكَفَ عِشْرِيْنَ   (بخاری باب الاعتكاف فی العشر صفحہ274)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ماہ رمضان میں دس دن اعتکاف بیٹھا کرتے تھے البتہ جس سال آپ کی وفات ہوئی۔اس سال آپ بیس دن کا اعتکاف بیٹھے۔“

كب اعتکاف میں بیٹھنا چاہیے

اعتکاف بیس رمضان کی نماز فجر سے شروع کرنا چاہئے کیونکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں واضح روایات موجود ہیں کہ آپؐ دس دن کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے ۔ دس دن اسی صورت میں مکمل ہوتے ہیں جب بیس رمضان کی صبح کو اعتکاف کے لئے بیٹھا جائے حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر اداکرنے کے بعد معتکف میں چلے جاتے تھے۔ جیسا کہ درج ذیل روایت سے ثابت ہوتا ہے:

  • اِذَا اَرَادَ اَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الْفَجْرَ ثُمَّ دَخَلَ مُعْتَكَفَهٗ

( مسلم باب متى يدخل من اراد الاعتكاف صفحہ 497)

” جب آپ اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو نماز فجر ادا کرنے کے بعد اپنے معتکف میں جو اس غرض کے لئے تیار کیا جاتا چلے جایا کرتے تھے ۔“ اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت بھی اس کی تصدیق کرتی ہے۔

کس جگہ اعتکاف بیٹھنا چاہیے

  • اعتکاف کے لئے سب سے موزوں اور مناسب جگہ مساجد ہیں۔ کیونکہ یہی وہ جگہیں ہیں جو خاص طور پراللہ تعالیٰ کے ذکر اور اُس کی عبادت کے لئے مخصوص ہوتی ہیں ۔ قرآن کریم بھی اسی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
  • ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَاَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ فِي الْمَسٰجِدِ (البقرة: 188)جب کہ تم مساجد میں اعتکاف بیٹھے ہوئے ہو۔“
  • احادیث مبارکہ میں بھی مساجد ہی میں اور خاص طور پر جامع مسجد میں اعتکاف کرنے کی توجہ دلائی گئی ہے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں:۔لَا اِعْتَكَافَ إِلَّا فِيْ مَسْجِدٍ جَامِعٍ (ابو داؤد المعتكف يعود المريض صفحہ 335)
  • یعنی جامع مسجد کے علاوہ اعتکاف نہیں ہو سکتا۔

اعتکاف میں کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے

  • اعتکاف بیٹھنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ حوائج ضروریہ کے علاوہ کسی اور وجہ سے مسجد سے باہر نہ نکلے۔ نہانے اور بال کٹوانے کے لئے بھی مسجد سے باہر نہیں آنا چاہئے ۔ البتہ ضروری امور مثلاً وضو غسل جنابت کے لئے مسجد سے نکلنا جائز ہی نہیں بلکہ ضروری ہے ۔ جمعہ پڑھنے کے لئے جامع مسجد جانے کی بھی اجازت ہے اس کے علاوہ باقی ضروریات مثلاً درس القرآن یا اجتماعی دعا میں شامل ہونے، بال کٹوانے ، کھانا کھانے ، نماز جنازہ پڑھنے، کسی عزیز کی بیمار پرسی کرنے یا کسی کی مشایعت کے لئے باہر آنے کی اجازت میں اختلاف ہے۔ اکثر ان اغراض کے لئے مسجد سے باہر آنے کو جائز نہیں سمجھتے ۔ اعتکاف کی روح بھی اس امر کی متقاضی ہے کہ ان ثانوی اغراض کے لئے معتکف مسجد سےباہر نہ آئے اور اس قسم کی ترغیبات اور خواہشات کی قربانی دینے کا اپنے آپ کو عادی بنائے۔

دوران اعتکاف معتکف کو کیا کرنا چاہیے

  • اعتکاف بیٹھنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت یاد الہٰی اور عبادت میں گزارے ۔ اِدھراُدھر کی فضول باتوں کی بجائے ذکر الہٰی پر زور ہو۔ تلاوت قرآن کریم بہترین ذکر الہٰی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :
  • ” معتکف کلی طور پر اپنے آپ کو خدا کے حضور میں ڈال دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اے خدا مجھے تیری ہی قسم میں یہاں سے نہیں ہٹوں گا یہاں تک کہ تُو مجھ پر رحم فرمائے ۔“ (در منثور صفحہ202 جلد اوّل زیر آیت وانتم عاكفون فی المساجد)
  • اعتکاف کی اہمیت و برکات
  • ہمارے پیارے آقا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف کی اہمیت وفضیلت بیان کرتے ہوئے فرماتےہیں:
  • ” جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ایک دن اعتکاف بیٹھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین ایسی خندقیں بنادے گا جن کے درمیان مشرق و مغرب کے مابین فاصلہ سے بھی زیادہ فاصلہ ہوگا۔“
  • عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمُعْتَكِفِ هُوَ يَعْتَكِفُ عَنِ الذُّنُوْبِ وَيَجْرِىْ لَهٗ مِنَ الْحَسَنَاتِ كَعَامِلِ الْحَسَنَاتِ كُلِّهَا (ابن ماجہ كتب الاعتقاد باب ثواب الاعتكاف صفحہ127)
  • حضرت ابن عباس ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کرنے والے کے متعلق فرمایا:۔
  • معتکف اعتکاف کی وجہ سے جملہ گناہوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اُسے ان نیکیوں کا بدلہ جو اس نے اعتکاف سے پہلے بجالائی تھیں اسی طرح اجر ملتارہتا ہے جیسا کہ وہ اب بھی انہیں بجالا رہا ہے۔“

(ابن ماجہ کتاب الاعتکاف باب ثواب الاعتکاف صفحہ 127)

عيد الفطر

عید الفطر کے لفظی معنے ہیں روزہ چھوڑنے کی تقریب خوشی ۔ یہ عید ان روزہ داروں کے لئے جشنِ مسرت ہے۔جنہوں نے رمضان المبارک میں بھوکا پیاسارہ کر خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کی۔

مسائل عيد الفطر

  • صدقۃ الفطر ادا کر کے عید گاہ کی طرف روانہ ہوں۔
  • عید کے دن غسل کرنا مستحب اور خوشبو کا استعمال مسنون ہے۔
  • عید الفطرکی نماز میں کچھ نہ کچھ کھا کر شامل ہونا سنت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم طاق کھجوریں کھایا کرتےتھے۔
  • آتے اور جاتے وقت راستہ تبدیل کرنا سنت ہے۔
  • نماز عید کے لئے نہ اذان ہے اور نہ ہی اقامت
  • عورتیں بھی نماز عید میں شامل ہوں۔
  • عید کی نماز میں پہلی رکعت میں سات اور دوسری میں پانچ تکبیرات ہیں، جو تلاوت سورہ فاتحہ سے پہلے کہی جاتی ہیں۔
  • خطبہ اہتمام سے سننا چاہئیے ۔
  • عید کی نماز سے پہلے اور بعد میں کوئی نماز نہیں۔
  • آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اپنی عیدوں کو تکبیرات سے مزیّن کرو۔ تکبیر کے الفاظ یہ ہیں۔
  • اَللهُ اَكْبَر، اَللهُ اَكْبَر، لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ، وَاللهُ اَكْبَر، اَللهُ اَكْبَر، وَلِلهِ الْحَمْد۔
  • نماز عید کے بعد ایک دوسرے کومل کر مبارکباد دیں اور ایک دوسرے کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کے روزے قبول کرے۔
  • عید الفطر کے بعد شوال کے مہینہ میں چھ روزے رکھنے مسنون ہے۔ حدیث میں آیا ہےکہ : ’’ جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے گویا اس نے ایک سال کے روزے رکھے۔‘‘ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *