Latestاردومتفرق

دھوتی سے جڑے مسائل

Share your Love

تحریر: خالد جاوید چودھری

جب مجھے گاؤں سے لا کر بورے والا کے پرائمری سکول میں داخل کیا گیا تو مجھے ایسے لگا۔ جیسے کہ آزاد پنچھی کے پر کاٹ کر اُسے پنجرے میں بند کر دیا گیا ہو۔ کہاں گاؤں کی صاف، معطر، پاکیزہ اور پر لطف فضائیں اور کہاں شہر کا گٹھن زدہ اور پر تعفن ماحول کہاں گاؤں میں ہر ایک سے واقفیت، انسیت، تعلق، واسطہ اور کہاں شہر کی اجنبیت اور بیگانگی، کہاں گاؤں میں ہر چہار اطراف تاحد نگاہ پھیلے ہوئے سرسبز و شاداب کھیت، لہلہاتے درختوں کی بہار، آزاد پرندوں کی مسرت بھری اُڑانیں اور کہاں شہر میں بے ہنگم سنگ و خشت کا پھیلا ہوا جنگل اور قسم قسم کی کثافتوں سے بھری پڑی فضائیں کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا۔ سکول میں تو پھر بھی کسی نہ کسی طرح وقت کٹ ہی جاتا۔ لیکن سکول ٹائم کے بعد تو وقت جیسے ٹھہر سا جاتا۔ رہنے کے لئے عارف بازار میں ڈاکٹر شیر علی جو میرے تایا بھی تھے کی دکان کے اوپر ایک تنگ و تاریک اور آسیب زدہ سا چوبارہ تھا۔ جہاں میرے بڑے بھائی صادق بھی میرے ساتھ ہی رہائش پذیر تھے۔ جو ہائی سکول کے طالب علم تھے۔ سکول جاتے وقت پاجامہ یا پتلون پہننا ہی میرے لیے ایک مصیبت تھی۔ جونہی سکول سے واپس آتا سب سے پہلے وردی کے پتلون پاجامے سے باہر نکل کر دھوتی باندھتا تو چھٹی کا احساس ہوتا اور یہ کیفیت آج بھی ہے۔ حالاں کہ دھوتی نے شہر میں میرے لیے بڑے مسائل کھڑے کیے رکھے۔

چوبارے کے تنگ و تاریک ماحول سے گھبرا کر باہر نکلتا تو دکانوں کے اوپر لگے ہوئے سائن بورڈز کو ہجوں کی مدد سے پڑھنے کی کوشش کرتا اور عموماً غلط ہی پڑھتا۔ مثلاً ہمارے پاس ہی ایک دکان تھی۔ رانا الیکٹرک سروس اس کو ہمیشہ رانا علی کڑک سروس پڑھتا اکثر اوقات ایسا ہوتا کہ میں منہ اوپر اٹھائے دکانوں کے سائن بورڈ پڑھنے کی کوشش کرتا۔ ہماری دھوتی بھی ایک ایسے ہی سائن بورڈ کی حیثیت رکھتی تھی۔ جو زبان حال سے پکار پکار کر برسر عام ہمارے پینڈو ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتی ہوئی نظر آتی تھی۔ رہی سہی کسر ہماری حرکات و سکنات نکال دیا کرتیں۔ گویا کہ دھوتی کی شکل میں اپنی ذات پر مجسم پینڈو کا اشتہار لگائے ہوئے شہر کے بازاروں میں گھومتے اور منہ اوپر اٹھا کر سائن بورڈز غلط ملط پڑھنے کی کوشش کرتے تو شہری لڑکے عموماً پیچھے سے ہماری دھوتی اوپر اٹھا کر بھاگ جایا کرتے تھے۔ شام کو سکول کے گراؤنڈ میں وقت گزاری کے لیے چلے جاتے۔ اس وقت گراؤنڈ بھر پور طور پر آباد ہوا کرتے تھے۔ لیکن یہاں بھی ہماری دھوتی ہماری اجنبیت کا سر عام اعلان کر رہی ہوتی۔ یہاں بھی شہری لڑکے ہماری بے رنگ پھیکی بلکہ افسردہ غمگین زندگی کو مزید عذاب بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑتے۔ ایک شرارتی سا لڑکا ہمیں باتوں میں مصروف کر لیتا کہاں سے آئے ہو۔ کون سی جماعت میں پڑھتے ہو۔ کون سی گیم کھیلتے ہو اور اسی اثنا میں اس کا ساتھی لڑکا غیر محسوس طریقے سے پیچھے کی طرف سے آ کر ہماری ٹانگوں کے بالکل ہی قریب آ کر بیٹھ جاتا۔ باتیں کرنے والا اپنی باتوں کے دوران اچانک ہی ہمارے اس قدر قریب آ جاتا کہ گھبرا کر ہمیں پیچھے ہونا پڑتا اور پیچھے بیٹھے ہوئے لڑکے کے اوپر سے گزرتے ہوئے زمین پر جا گرتے اور اس دوران ہماری دھوتی خود بخود ہی اوپر اٹھ جایا کرتی تھی۔ فطری طور پر میں شاید ایک بزدل اور ڈرپوک لڑکا تھا۔ اس لیے کسی بھی قسم کے ردعمل کے بغیر نہایت خاموشی اور بے بسی سے تضحیک کا نشانہ بنتا رہتا۔ مجھے اس بات کا تو بخوبی ادراک تھا کہ اس سارے فساد کی جڑ یہ دھوتی ہی ہے۔ اگر اس پر تین حرف بھیج دوں اور شلوار یا پاجامہ وغیرہ ہی پہن کر باہر نکلوں تو ہمارے پینڈو پن کو پہچان لینا شاید اتنا آسان نہیں ہو گا۔ لیکن ہماری سادگی اور مستقل مزاجی دیکھیے کہ ہم نے ساری عمر اپنی تضحیک و توہین اور اپنے اوپر ظلم و ستم کو تو گوارا کر لیا لیکن دھوتی کی سنگت کو آج تک نبھاتے چلے آرہے ہیں۔ فرق صرف یہ پڑا کہ بعد میں دھوتی کے ساتھ اپنے اس دیہی التفات کو صرف گھر کے اندر تک ہی محدود کر لیا۔ لیکن دھوتی کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ اس کی موجودگی کے اثرات گھر کے اندر بھی پوری عمر وہی رہے جو گھر کے باہر ہوا کرتے تھے۔ لیکن یہ بڑی مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے اس وصف کو نبھاتی ہی چلی آ رہی ہے اور اب تو ہم خود بھی اس کے خوب عادی ہو گئے ہیں۔

گاؤں میں تو تقریباً سبھی لوگوں کا معیار زندگی ملتا جلتا سا ہی ہوا کرتا تھا۔ لیکن شہر میں باقاعدہ طبقات موجود تھے۔ بہت امیر طبقہ بھی موجود تھا بہت غریب لوگ بھی یہیں کے باسی تھے اور درمیانے طبقے میں بھی مزید دو تین طبقے موجود تھے۔ لیکن معاشرے میں لوگوں کی عزت و تکریم عام طور پر عصر حاضر کی طرح اُن کی دولت کی بنیاد پر نہیں کی جاتی تھی۔ بلکہ اُن کے کردار کی بدولت اس کا تعین کیا جاتا۔ مشکوک ذرائع سے کمائی گئی دولت اور ناجائز ذرائع سے حاصل کی گئی آمدنی وجہ اشراف ہرگز ہرگز نہیں تھی۔ لوگ سر عام ایسے اشراف سے بے زاری کا اظہار کر دیا کرتے تھے ایسے لوگ اپنی تمام تر امارت کے باوجود معذرت خواہانہ سا طرز زندگی اختیار کرنے پر مجبور ہوا کرتے تھے۔ آج کی طرح معاشرہ میں سینہ تان کر نہیں چلا کرتے تھے۔ لوگ اپنی ذات گوت اور قبیلہ برادری کو چھپانا پسند نہیں کرتے تھے۔ موچی، تیلی، نائی، دھوبی، لوہار، ترکھان، جولاہا اور ماچھی اپنی ذات کے اظہار میں کسی بھی قسم کی کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے تھے۔ یہاں پر کچھ مشہور و معروف بدمعاش لوگ تھے جن کے نام کے ساتھ بدمعاش بطورِ لاحقہ کے لازمی استعمال کیا جاتا تھا۔ جیسے قولا بدمعاش، سیلا بدمعاش، بمبئی بدمعاش، جبرو بدمعاش، بھولا بدمعاش وغیرہ وغیرہ۔ اس وقت بدمعاش اور بدقماش لوگوں نے اپنی ذات کو شریفوں کے نقاب کے پیچھے نہیں چھپایا ہوا تھا بلکہ جو کچھ وہ تھے وہ کہلاتے بھی وہی کچھ تھے اور نظر بھی ایسے ہی آیا کرتے تھے۔

ہمارے ساتھ چوبارے میں رفیق نامی ایک کزن بھی رہتا تھا۔ جو ضلع ساہیوال سے یہاں پر تعلیم حاصل کرنے کے لیے آیا ہوا تھا اور دسویں جماعت کا طالب علم تھا۔ چوبارے کے عین نیچے دکان پر بھی میرا دوسرا کزن علی حسن ڈینٹسٹ کے طور پر کام کرتا تھا۔ دونوں ہم عمر ہی تھے وہ جب بھی کبھی اکٹھے ہوتے تو علی حسن عام طور پر جبرو بدمعاش کے کارنامے بیان کرتا۔ آج جبرو بدمعاش نے فلاں آدمی کے خنجر مار دیا۔ فلاں کو سات گراری کے چاقو سے زخمی کیا۔ آج اس نے ہنٹر سے سر بازار چار لوگوں کی وہ دھلائی کی کہ بیان سے باہر۔ آج تین لوگوں کو اٹھا کر دکان سے باہر پھینک دیا اور فتو کو دکان کا قبضہ دلا دیا۔ ہر روز اس کا نیا کارنامہ نئی لڑائی بیان کی جاتی تھی۔ یہ باتیں سن سن کر رفیق کے کان پک چکے تھے اور اس کے اندر کا پینڈو مکمل طور پر بیدار ہو چکا تھا۔ دیہاتی لوگوں میں مسابقت اور مقابلے کا رجحان شہریوں سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے اور وہ اسی جذبے کی تسکین کی خاطر بعض اوقات نسلوں تک لڑائیاں لڑے چلے جاتے ہیں۔ بہرحال اب رفیق علی حسن کے پیچھے تھا کہ مجھے ذرا اپنے جبرو بدمعاش کو تو دکھاؤ میں اُسے ایک نظر بس دیکھنا ہی چاہتا ہوں۔ ایک دن علی حسن دوڑا دوڑا آیا اور رفیق کو ساتھ لے کر چلا گیا۔ جبرو بدمعاش پرانے ڈاک خانے چوک کے پاس سے گزرنے والے گندے نالے کے کنارے پر کھڑا تھا۔ علی حسن نے دور سے ہی اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رفیق کو بتایا کہ وہ جبرو ہے رفیق نے آؤ دیکھا نہ تاؤ سیدھا اس کی طرف چلا۔ اس کا منہ دوسری طرف تھا۔ رفیق نے پیچھے سے جا کر اُسے کمر سے پکڑا وہ دھان پان سا تھا اور رفیق گاؤں کی صحت مند کھلی فضاؤں میں رہنے والا تندرست و توانا کڑیل نوجوان، رفیق نے اُسے کمر سے پکڑ کر سر سے بلند کر کے دھڑم سے گندے نالے میں پھینک دیا اور ساتھ ہی پانچ سات گالیاں بھی دے ڈالیں سالا بڑا آیا ہے جبرو بدمعاش، جبرو بدمعاش جبرو بدمعاش سن سن کر کان پک گئے ہیں۔ جبرو بدمعاش بڑی مشکل سے بھیگے ہوئے چوہے کی طرح باہر نکلا۔ اس کے ناک اور منہ میں گندا پانی جانے کی وجہ سے وہ حواس باختہ سا لگ رہا تھا۔ وہ چپ چاپ کسی بھی ردِعمل کا اظہار کیے بغیر یہاں سے یہ جا وہ جا۔ کسی بھی بدمعاش کی بدمعاشی صرف اسی وقت تک ہی ہوتی ہے جب تک کوئی اس کے سامنے کھڑا نہیں ہوتا۔ اس نے خوف اور دہشت کا ایک مصنوعی حصار اپنے اردگرد قائم کیا ہوا ہوتا تھا اور جب بھی کوئی شخص خوف اور دہشت کے حصار کو توڑ کر اس کے اندر داخل ہو جاتا ہے تو بدمعاش کی بدمعاشی خود بخود ہی ختم ہو جاتی ہے۔

بوریوالا میں بسلسلۂ تحصیل علم میرا قیام 1973 ء تک رہا۔ جب تک میں نے بی ایس سی نہیں کر لی۔ لیکن دھوتی پروگرام میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ کمی بھی واقع ہوتی گئی۔ پتہ نہیں کہ شہریوں کی یہ کیسی جبلت ہے کہ سیدھے سادھے دیہایتوں کو جہاں بھی ان کا داؤ چلے مشق ستم بناتے رہتے ہیں۔ مشتاق بھٹی میرے دوست تھے اور ٹیلی فون محکمے میں ایس ڈی او تھے۔ اُن کی پرموشن ہو گئی اور انہیں ڈی ای (ڈویژنل انجنیئر) بنا کر اسلام آباد بھیج دیا گیا۔ وہ اس پوسٹنگ کو لے کر بڑے پریشان تھے اور چاہتے تھے کہ پرموشن چھوڑ دیں۔ بس یہیں پر ہی رہیں۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ سرکاری ملازم کو اپنی پروموشن ضرور لینی چاہیے۔ میرے کہنے سننے پر اس نے اسلام آباد میں اپنی پوسٹنگ جائن کر لی۔ تین چار ماہ کے بعد وہ واپس بوریوالا میں چند دنوں کی چھٹی پر آیا تو بڑا پریشان تھا۔ ہم لوگ کلب میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا بھٹی کیا حال ہے بولا کوئی حال نہیں وہاں دل نہیں لگتا کسی نے پوچھا کہ دل کیوں نہیں لگتا تو مجھے وہ اپنا گاؤں سے بوریوالا آنا یہاں پر دل نہ لگنا اور دھوتی واردات والے سارے مناظر ذہن میں گھوم گئے میں نے کہا کہ بوریوالا اسلام آباد کے مقابلے میں ایک گاؤں کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ لوگ وہاں پر ہمارے بھٹی کی پیچھے سے دھوتی اوپر اٹھا دیتے ہیں۔ بڑا زور دار قہقہہ پڑا لیکن جب تفصیل معلوم کی تو بات اس سے ملتی جلتی ہی تھی۔

ویسے آپس کی بات ہے کہ دھوتی کے ہاتھوں اتنی خواری کے بعد بھی اس کا ساتھ جاری و ساری رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کو صرف گھر کے اندر ہی محدود کر دیا۔ ویسے اس بات پر میری بیوی کو بھی شدید اعتراضات تھے۔ وہ اکثر کہا کرتی کہ کبھی اچھے صاف ستھرے کپڑے پہن کر ہمارے پاس بھی بیٹھ جایا کرو۔ اتنی توجہ سے آپ کے کپڑے دھلواتی ہوں۔ میرے پاس بیٹھنے کے لیے یہ گندی دھوتی ہی تمہارے پاس رہ گئی ہے۔ لیکن میری مجبوری یہ تھی کہ جب تک میں دھوتی نہ پہنتا مجھے چھٹی اور فراغت کا احساس نہ ہوتا۔ دھوتی پہنے بغیر میں اپنے آپ کو ڈیوٹی پر ہی تصور کرتا۔ اپنی دھوتی کے ساتھ یہی رسم وفا ہم آج بھی پورے خلوص دل سے نبھاتے چلے جا رہے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *