Latestاردوتعلیم و صحتمعاشرہ

باؤلاپن ایک خطرناک اور جان لیوا مرض

تحریر: ڈاکٹر آصف چنڑ

گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان بالخصو ص صوبہ پنجاب اور سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جس سے لا علاج و جان لیوا مرض بائولا پن یا ریبیز ہو سکتا ہے۔باؤلا پن(Rabies) انسانی تاریخ کی ایک قدیم بیماری ہے جس کا ذکر انسانی تاریخ کے چار ہزار سال قبل کے ادوار میں ملتا ہے۔ لفظ (Rabies)لاطینی زبان Rebere سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے غصہ آنا، طیش آنا۔ بنیادی طور پر یہ جانوروں خاص طور پرکتوں کی بیماری ہے جوکتوں سے دوسرے جانوروں اور انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ اس بیماری کی وجہ ایک وائرس ہے جس کو Lyssavirus کہتے ہیں جو کہ گرم خون والے جانوروں خاص کر کتوں بشمول انسانوں کے دماغ اور حرام مغز کو متاثر کرتی ہے۔ 

  اس بیماری سے متاثرہ کتے یا انسان میں غصہ اور طیش جیسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور منہ سے کف یالعاب نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس بیماری کے جراثیم کو 1880کے اوائل میں سائنس دان لوئس پاسچر(Louis Pasteur) نے دریافت کیا تھا۔ باؤلا پن (Rabies) کا وائرس اس وقت کرہ ارض کے تما م براعظموں میں پایا جاتا ہے البتہ براعظم انٹارکٹکا میں یہ وائرس وجود نہیں رکھتا۔
دنیا کے بعض ممالک میں یہ بیماری مقامی طور پر پائی جاتی ہے اور اس کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ یہ بیماری متاثرہ کتے کے لعاب سے دوسرے جانوروں اور انسان تک پہنچتی ہے۔ جب ایک متاثرہ جانور کسی دوسرے جانور یا انسان کو کاٹتا ہے جس کے نتیجے میں زخم لگتا ہے یا جلد پرپہلے سے لگے ہوئے زخم کو چاٹتا ہے تواس طرح جراثیم جسم کے اند ر داخل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ناک، آنکھ اور سانس کے ذریعے براہ راست یہ جراثیم جسم کے اندر داخل ہو سکتا ہے۔ جب باؤلے پن کا وائرس جسم میں داخل ہو تا ہے تو بذریعہ عصاب (Nerve) دماغ اور حرام مغز تک پہنچتا ہے اور یہاں انفیکشن پیدا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ متاثرہ دماغ سے بذریعہ ا عصاب یہ لعاب پیدا کرنے والے غدود تک پہنچتا ہے اور ان غدود کو متاثر کرتا ہے۔

اس طرح جراثیم لعاب یاتھوک کے ذریعے دوسرے جانور یا انسان تک پہنچنے کا سبب بنتا ہے۔یہ جراثیم انسان کے جسم میں کاٹنے کے ذریعے پیدا ہونے والے زخم میں کافی دیر تک رہتا ہے اور دماغ میں پہنچنے کے بعدباؤلاپن کی علامات پیدا کرتا ہے۔ یہ بات بڑی توجہ کی حامل ہے کہ جانور کے کاٹنے کی جگہ دماغ کے جسقدر قریب ہوگی بیماری کے پیدا ہونے کے امکانات اتنے زیادہ ہوں گے، اس کے علاوہ اگر کاٹنے کی جگہیں بھی زیادہ ہیں تو بیماری کے بڑھ جانے کے امکانات بھی زیادہ ہو جاتے ہیں۔ دماغ میں پہنچنے کے بعد یہ جراثیم بڑی تیزی سے پھیلتے ہیں ۔اہم بات یہ ہے کہ جسم میں جراثیم کے داخل ہونے کے بعد اور علامات نمودار ہونے سے قبل کتا کسی دوسرے جانور یاانسان میں بیماری منتقل کر سکتا ہے۔
باؤلا پن اس وقت مہذب دنیا میں ایک بڑی خطر ناک بیماری تصور کی جاتی ہے۔محکمہ صحت، حیوانات، شکار وجنگلی حیات،زراعت ،جنگلات کے ملازمین اور اس کے ساتھ ساتھ جنگلات کے قریب رہائش پذیر افراد اس بیماری کے رسک پر ہوتے ہیں۔یہ بیماری ، بلیوں،لومڑیوں، ریچھ، گیدڑاور چمگادڑوں میں بھی پائی جاسکتی ہے۔
دس سال قبل ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں تقریباً17400 افرادRabies کی وجہ سے موت کا شکار ہوئے جن میں سے 95% کا تعلق براعظم افریقہ اور ایشیا سے تھا اور اس میں 40% اموات ان بچوں کی تھی جن کی عمر15 سال سے کم تھی۔Rabies اس وقت دنیا کے 150 سے زائد ملکوں میں پائی جاتی ہے۔پوری دنیا میں تین ارب سے زائد لوگ ان علاقوں میں رہتے ہیں جہاں Rabies اپنا وجود رکھتی ہے ۔اس کی عام علامات میں بخار ہوتا ہے، سر درد ہوتا ہے۔ غنودگی، بے چینی یا بعض اوقات ہیجان خیزی کی علامات پیدا ہوتی ہیں اور بتدریج جسم کے پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں اور ایک مخصوص علامت جسےHydrophobiaکہتے ہیں پیدا ہو تی ہے اور بتدریج مفلوج ہونے سے موت واقع ہو جاتی ہے۔
یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ بائولے پن سے متاثرہ جانور کے گوشت کھانے سے بیماری منتقل نہیں ہوتی۔وہ بدقسمت انسان جو بائولے پن کا شکارہوتاہے اس میں علامات پیدا ہونے میں چھ ماہ سے ایک سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ باؤلے کتے کے کاٹنے اور علامات پیدا ہونے کا دورانیہ تقریبا 1 سے 3 مہینے تک ہے۔یہ کم سے کم4 دن اور زیادہ سے زیادہ6 سال پر محیط ہوسکتا ہے جس کا انحصار زخم کی نوعیت اور جگہ پر ہوتا ہے۔Rabies کی بیماری نمودار ہونے کی ابتدائی علامات کوئی مخصوص نہیں ہوتیں جن میں بخار ہونا سر درد ہونا کتے کے کاٹنے والی جگہ پر چبھن کا احساس بھی اہم علامت شامل ہیں۔جیسے جیسے جراثیم دماغ کی جھلیوں اور نظام اعصاب کو متاثر کرتا ہے دیگر علامات پیداہوتی ہیں ۔

نیند کا نہ آنا ،گھبراہٹ ،کنفیوژن ،غیر ضروری خوف ،بے چینی ،بے قابوہونا اور خاص علامت پانی کا خوف جس کو ہائیڈرو فوبیا(Hydrophobia) کہا جاتا ہے وغیرہ شامل ہیں ۔اس کے علاوہ مکمل یا جزوی طور پر جسم کا مفلوج ہونا بھی شامل ہیں۔یہ علامات آ خر میں کومہ میں بدل جاتی ہیں عموماً پہلی علامت نمودار ہونے کے 2 سے 10 دنوں میں موت واقع ہوجاتی ہے۔یہ بات کافی توجہ کی طلب ہے کہ اگر ایک مرتبہ باؤلے پن کی علامات پیدا ہوجائیں تو انتہائی نگہداشت کے باوجود زندگی کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ایک محدود اندازے کے مطابق امریکہ میں بائولے پن کے کیسز 100 سے کم ہو کو1 2 کیس سالانہ ہوگئے ہیں۔ اس کامیابی کی بڑی وجہ کتے اور بلیوں کی بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن، انسانوں کے لیے ویکسین اور امیونو گلوبیولنImmono globulin کی دستیابی ہے۔ ساتھ ساتھ معاشرے میں اس بیماری سے متعلق شعو ر و آگاہی کا ہونا شامل ہے۔
یہ اہم سوال ہے کہ خدانخواستہ کسی شخص کو بائولا کتا کاٹ لے تو اس صورتحال میں کیا کرنا چایئے۔اس کے لئے درج ذیل ہدایت پرعمل کریں۔
فوراً صابن اور پانی سے زخم یا متاثرہ حصہ کو10 سے 15 منٹ اچھی طرح دھوئیں ۔زخم کے اوپر کس کر پٹی نہ باندھیں زخم کو مٹی اور گرد غبار سے بچائیں۔
ایسے ممالک جہاں یہ بیماری مقامی طور پر پائی جاتی ہے وہاں پر وہ تمام افراد جن کا پہلے ذکر کیا گیا ہے وہ رسک پر ہوتے ہیں ان کا اور جنگلی حیات کا رابطہ کم سے کم کیا جائے۔گلی کوچوں میں کھلے پھرنے والے آوارہ کتوں کو ما ردیا جائے۔
مریض کو فوراً ہی ویکسی نیشن کرانی چاہیے اور اس بات کو ہرگز نظر انداز نہ کریں چاہے کتے کے کاٹے کو دس دن ہی کیوں نہ گزر گئے ہوں کیونکہ یہ ویکسین بائولے پن (Rabies)سے بچانے میں بہت موثرہوتی ہے ۔
۔موجودہ جدید دنیا میں ایک طریقہ علاج جسے Milwaukee Protocol کہا جاتا ہے وہ بھی رائج ہے۔اس میں متاثرہ مریض کو دوائی کے ذریعے کومے میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اینٹی وائرل ادویات دی جاتی ہیں،یہ طریقہ 2003 میں شروع کیا گیا جس میں Giest Geanna نامی نوجوان لڑکی کو بچایا گیا جوکہ بائولے پن Rabies کی بیماری سے صحت یاب ہونے والا پہلا مریض بھی قرار پایا ۔عالمی ادارہ صحت ، عالمی ادارہ برائے حیوانات ،ادارہ برائے خوراک و زراعت اور عالمی اتحاد برائے انسداد ریبیز نے مشترکہ کاوشوں سے باؤلے پن سے ہونے والی اموات کو دنیا سے ختم کرنے کا ہدف2030 مقرر کیا ہے۔
Rabies ایک جان لیوا بیماری ہے۔پاکستان میں اس کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو اقدامات کرنے چاہئیں ۔ خصوصاً گلیوں، بازاروں میں آوارہ کتوں کو مار دینا چاہیے اور جو حضرات کتے بلیوں جیسے جانور پالتو جانور کے طور پر رکھتے ہیں وہ باقاعدگی سے اس کی ویکسی نیشن کروائیں اور گلیوں بازاروں میں پھرنے والے آوارہ جانوروں سے انہیں دور رکھیں۔ حکومت کو اس بات کا ادراک ہوناچائیے کہ باؤلاپن Rabies ایک جان لیوا مرض ہے اور اس کی شرح اموات 99% سے بھی زیادہ ہے اسی لیے آوارہ کتوں کے خلاف ایک جامع حکمت عملی تشکیل دینے کی اشد ضرورت ہے اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں پالتو اور گھریلو جانوروں کی ویکسی نیشن کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے تشہیری مہم ناگزیر ہے۔ عوام کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے Rabiesکی ویکسین تمام ہسپتالوں بشمول ڈسٹرکٹ ہیڈ کوآرٹر ہسپتال ،تحصیل ہیڈ کوآرٹر ہسپتال ، دہی مراکز صحت اور بنیادی مراکز صحت پر وافر مقدار میں فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور عوام کی قیمتی جانوں کو بچانے کے لیے ہنگامی انتظامات کریں ۔

باؤلے کتے کاٹنے کی صورت میں عملی اقدامات

نمبر شمار
کتے کے کاٹنے کی نوعیت
عملی اقدامات

1
کیٹگری I۔بائولے کتے کا چھونا یا کتے کو کھلانا پلانا،کتے کاجسم کے کسی حصے کو بغیر زخم لگائے زبان سے چاٹنا۔
کسی عملی اقدام کی ضرورت نہیں

2
کیٹگریII ۔کتے کے کاٹنے سے جلدکا پھٹنا، رگڑیں و خراشیں لگنالیکن خون کا اخراج نہ ہونا۔
1۔فوری ویکسی نیشن کروائیں
2 ۔زخم کا علاج کروائیں

3
کیٹگریIIٰI۔ایک یا ایک سے زائد کتے کے کاٹنے سے ایک یا ایک سے زائدگہرے زخم لگنا جس میں سے خون کا اخراج بھی شامل ہو،کتے کے لعاب کا زخمی جلد پر لگنایا کتے کا پہلے سے موجود زخم یا کٹ کو چاٹنا۔
1۔فوری ویکسی نیشن کروائیں
2۔Immunoglobuliلگوائیں
3 ۔زخم کا علاج کروائیں

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *