انجام پر نظر رکھیں
تحریر: قاسم علی شاہ
سہیل نے جب سے شعور سنبھالاتب سے اپنے باپ کو چائے کے ڈھابے پرکام کرتے دیکھا، جب اس کی عمرپانچ سال ہوگئی تو وہ بھی باپ کے ساتھ کام کرنے لگا۔ وہ میزوں کی صفائی کرتااور کبھی کبھار پیالیاں بھی دھوتا۔ڈھابے کے سامنے کچھ فاصلے پر ایک خوب صورت بلڈنگ تھی جو خاصی طویل تھی۔سہیل کی نظراس کی طرف اٹھتی، وہ عمارت کی نفاست ، خوب صورتی سے مرعوب ہوجاتا،وہ سوچتا کہ اتنی اونچی بلڈنگ بالآخر کسی نے کیسے بنائی ہوگی۔باپ جیسے تیسے کرکے اس کی تعلیمی اخراجات پورے کررہا تھا۔ بلڈنگ کا عکس سہیل کے دماغ میں نقش ہوچکا تھاجو اسے چپکے چپکے معمار بننے کی تحریک دیتا۔
وقت کے ساتھ ساتھ اس کا شوق جنون بنتا گیااورپھراس کے سر پریہی دھن سوارہوگئی کہ میں نے اتناقابل معمار بنناہے جو سامنے والی بلڈنگ کی طرح شان دار اورخوب صورت عمارتیں بنائے۔اسی خواب کو تعبیر دینے کے لیے اس نے بھرپور محنت شروع کی، وہ رات گئے تک ڈھابے پر کام کرتاتاکہ کچھ نہ کچھ رقم جمع کرسکے، غربت کی وجہ سے وہ مہنگے اداروں کی فیس ادا نہیں کرسکتا تھا، اس نے کئی جگہ اسکالرشپ کے لیے درخواست دی تھی لیکن اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وہ سوچتاکیامیں اپناشوق پورانہیں کرپائوں گا ، یہ چیز اسے ذہنی تنائو میں مبتلاکردیتی۔برسات کی ایک شام وہ اپنے خیالوں میں گم تھاکہ اچانک اس کی نظر ڈھابے کے کونے والی میز پر بیٹھے بوڑھے شخص پرپڑی جو اکثریہاں آکر چائے پیتارہتا اور گھنٹوں اپنی کاپی میں خاکے بناتارہتا۔سہیل اس کے پاس چلاگیا اور اس سے اپنی پریشانی کاذکرکیاتووہ مسکرایا، اس کے چہرے کی جھریوں میں زندگی بھر کے تجربات چھپے نظر آئے۔ وہ کہنے لگا، ’’بیٹامیرے سامنے موجود کاپی میں یہ صرف خاکے نہیں ہیں،یہ میرے خواب ہیں۔میں تخیل کی آنکھ سے اپنی بنائی اس شان دارعمارت کی تصویرکودیکھ رہاہوں، یہ شہر کی مصروف چوک میں کھڑی ہے۔لوگ اسے حیرت سے دیکھ رہے ہیں اورعمارت کے مینار پرموجودگھڑیال دوپہرکاوقت بتارہاہے۔بیٹاہمیشہ انجام کوذہن میں رکھ کام کاآغازکرو،یہ تصورتمہارے ارادوں کو مضبوطی دے گا۔‘‘بوڑھے آدمی کے آخری الفاظ سہیل کے دل پر نقش ہو گئے۔اس رات کام ختم ہونے کے بعد وہ گھر نہیں گیا،وہ کئی گھنٹوں تک ایک بڑے کاغذ پر اپنی پسندیدہ عمارت کاخاکہ بناتارہا،جب وہ مکمل ہوگیاتووہ میزوں کے سامنے کھڑے ہوکریوں بولنے لگاجیسے وہ ماہرین کے سامنے پریزنٹیشن دے رہاہو۔اس تجربے نے اس کے وژن کوواضح کیااوراسے معلوم ہوگیا کہ میں کیاچاہتاہوں۔اگلے روزوہ کراچی کے سب سے آرٹس کالج میں داخلہ لینے کے لیے چلاگیا،جہاں انٹرویو پینل نے اس کی خوداعتمادی،بڑے وژن اور جنون سے متاثرہوکراسے اسکالرشپ دے دی اورسہیل اپنے خوابوں کاتعاقب کرنے لگا۔
اسٹیفن آر کوئے سیلف ہیلپ انڈسٹری کی ایک معتبرشخصیت ہیں۔
highly effective people 7habits of کے نام سے کتاب لکھی جسے عادات شخصیت سازی میں بنیادی مقام حاصل ہے۔اس کتاب میں انھوں نے ’’آغاز سے پہلے انجام کو سوچنا ‘‘والی عادت پربھرپور روشنی ڈالی ہے ۔ وہ بتاتے ہیں کہ جو لوگ انجام کو دیکھ کسی کا م کا آغاز کرتے ہیں وہ ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں۔
ہماری آنکھ سے دیکھنے کی حدزیادہ سے زیادہ 60کلومیٹر ہے، اس کے بعددیکھناانسانی اختیار میں نہیں لیکن ایک چیز ایسی ہے جس کی بدولت انسان آج میں رہتے ہوئے کل کو دیکھ سکتا ہے۔اس کا نام ’’وژن‘‘ہے ۔یہ چیز جس کے پاس ہو وہ تخیل کی طاقت سے’’مستقبل‘‘ میں جھانک سکتا ہے اوراپنے اہداف دیکھ سکتاہے،لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثرلوگ اس بہترین عادت سے محروم ہیں۔آج ہم ان وجوہات پربات کریں گے ۔
واضح مقصد کی کمی:بہت سے لوگ واضح طورپر اپنا مقصد نہیں جانتے۔ جب کوئی مقصد یا منزل سامنے نہ ہو تو انجام بھی نظرنہیں آتا۔ لوگ صرف روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے میں مصروف رہتے ہیں اور طویل مدتی منصوبہ بندی نہیں کر پاتے۔
فوری نتائج کی خواہش:ہمارے فوری نتائج کو اہمیت دی جاتی ہے۔ لوگ طویل المدتی سوچ کے بجائے فوری فوائدپر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے وہ بڑے خواب دیکھنے یا انجام کو ذہن میں رکھ کر کام کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
ذہنی ارتکاز کی کمی:ٹیکنالوجی، سوشل میڈیااور روزمرہ کی سرگرمیوں کی بے ترتیبی کی وجہ سے ذہن منتشر رہتا ہے۔ لوگ ایک جگہ پر اپنی توجہ مرکوز نہیں کر پاتے جس کی وجہ سے ان کا ہدف دھندلا ہو جاتا ہے۔
ماضی کے تجربات اور منفی سوچ:ماضی میں ناکامی یا منفی تجربات بعض اوقات لوگوں کو مایوس کر دیتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ ان کا کوئی مقصد طے کرنا بے معنی ہوگا کیونکہ ماضی میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔
جلد بازی :جلد باز انسان تصور و تخیل کی قابلیت سے محروم ہوتا ہے جلدبازی ایسی عادت ہے جو انسان کے اہداف کو محدود بنادیتی ہے، ایسا شخص بڑانہیں سوچ سکتا۔
دیہاڑی /ماہانہ کی سوچ :یہ سوچ اس قدر خطرناک ہے کہ اس کی وجہ سے انسان وژن نہیں بناسکتا۔اگرچہ نوکری میں تحفظ کا احساس زیادہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ معاشی ترقی کاروبارمیں زیادہ ہے۔جو انسان اپنا کام کرتا ہے تو وہ تخیل کا استعمال زیادہ کرتا ہے جبکہ نوکری میں انسان کا دماغ تنخواہ سے آگے نہیں سوچتا۔ملازمت پیشہ فرد کی منصوبہ بندی اتنی ہوتی ہے کہ کس طرح مہینے کے اختتام تک تنخواہ پہنچائی جائے۔
اسی طرح مزدور کی سوچ دیہاڑی سے آگے نہیں جاتی ۔وہ سوچتا ہے آج میں کام کروں گا اس کے بعد کچھ اوورٹائم لگائوں گاتاکہ کچھ اضافی رقم ملے جو گھرکے خرچ کے لیے بھی کافی ہواوراس میں کچھ رقم بچ بھی جائے۔
یاد رکھیں ،دماغ ایک جیسے حالا ت میں رہتے ہوئے ان کاقیدی بن جاتا ہے ۔ وہ انہی حالات کے مطابق سوچتا ہے اورغیر محسوس طریقے سے ان میں محدود ہوجاتاہے۔
خواب دیکھنے کی حوصلہ شکنی:تیسری وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں خواب دیکھنا جرم قرار دیا گیا ہے ۔یہاں خواب دیکھنے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے ۔ہمیں دوسروں کی حوصلہ افزائی کرنا ،ان کاشکریہ ادا کرنا اورانھیں شاباشی دینانہیں سکھایا گیا ،حالانکہ خواب دیکھنے کی صلاحیت فطری ہے۔انسان پیدائشی طورپر خواب دیکھنے والا ہوتا ہے لیکن جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا ہے یہ معاشرہ اس سے خواب دیکھنے اور سوال کرنے کی عادت چھین لیتا ہے ۔
زندگی میں دُورتک نہ دیکھنے کی وجہ عدم تحفظ کااحساس ہے جس کی وجہ سے انسان اپنی صلاحیتوں سے بھرپورفائدہ نہیں اٹھاسکتا۔ہمارے ہاں عدم تحفظ اس قدر زیادہ ہے کہ لوگ خواب دیکھنے سے بھی ڈر تے ہیں ۔وہ اسے خام خیالی سمجھتے ہیں۔جوشخص بھی اس سوچ کا حامل ہو اس کی زندگی میں کوئی تحریک نہیں ہوتی، وہ بڑاسوچنا چھوڑدیتا ہے اورمعمولی زندگی کو قبول کرلیتا ہے،حالانکہ اللہ نے انسان کو جوقوت دی ہے اس کے مطابق وہ ناموافق حالات میں بھی اپنے لیے راستہ نکال سکتاہے لیکن وہ ایسا نہیں کرتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے دماغ میں یہ بات بیٹھ چکی ہے کہ خواب پورے نہیں ہوتے۔
دوسری وجہ ناکامی کاوہ خوف ہے جو ہم نے اپنی زندگی میں یا کسی دوسرے کی زندگی میں دیکھا ہوتاہے۔یہ خوف ہم سے تخیل کی طاقت چھین لیتا ہے ۔ بدقسمتی سے ہماراتعلیمی نظام بھی وژن اورخواب کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا ۔یہ نظام صرف نمبرز،ڈگری اور جی پی اے کوترجیح دیتاہے، یہی وجہ ہے کہ ڈگری حاصل کرنے کے باوجود جوانوں کے پاس واضح سمت نہیں ہوتی۔
انجام دیکھ کر آغاز کرنے کی عادت انسان کو نہ صرف بہتر فیصلے کرنے کی قابلیت فراہم کرتی ہے بلکہ اس کے بہت سے فوائد بھی ہوتے ہیں، جن کی تفصیل ذیل میں دی جارہی ہے۔
سمت:انجام دیکھ کر کام شروع کرنے سے انسان درست سمت میں رہتا ہے اور اس کے بھٹکنے کا امکان نہایت کم ہوتا ہے۔ انسان کا درست راستے پر رہنا بہت مشکل کام ہے کیونکہ انسان روبوٹ نہیں ہے جو مخصوص فارمولے پر چلے۔ اس کے رجحانات، ترجیحات اور مزاج بدلتا رہتا ہے اور اس کے فیصلے بھی متاثر ہوتے ہیں۔
ارتکاز:ایسے فرد کا ارتکاز مضبوط ہوتا ہے۔ اس کی توجہ ہمیشہ اپنے مقصد پر مرکوز رہتی ہے۔ اس کے باعث وہ بے مقصد خیالات اور کاموں سے بچا رہتا ہے اور اپنی تمام توانائی اپنی منزل پر خرچ کرتا ہے۔
لائحہ عمل:ایسے فرد کے لیے اپنا لائحہ عمل بنانا اور اس پر عمل کرنا انتہائی آسان ہوتا ہے کیونکہ اس کا ہدف واضح ہوتا ہے۔ ایسا انسان اپنی ترجیحات میں دروستی لاسکتا ہے اور وقت وہ ضوریات کے مطابق سامنے لاتا ہے۔
تعلقات:ایسے فرد کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان ہوتا ہے کہ کس شخص کو اپنی زندگی میں شامل کرنا ہے اور کسے نکالنا ہے، جس کی بدولت وہ اچھے لوگوں کی صحبت سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اپنی شخصیت کو نکھارتا ہے۔
قانون کشش :ایسا فرد قانون کشش کو استعمال کرسکتا ہے کیونکہ اس کے دماغ میں اپنی منزل کے متعلق خیالات ہوتے ہیں اور اسی بنیاد پر اسے نتائج بھی ملتے ہیں۔
یہ پختہ عادت بنالیں کہ جو بھی کام شروع کریں تو سب سے پہلے اس کا انجام سوچیں کہ اختتام پر مجھے کیاملے گا۔یہ عادت نہ صرف آپ کو تحریک دے گی بلکہ آپ کو بہت سی غیر ضروری چیزوں سے چھٹکارادلائے گی اورآپ مکمل توجہ کے ساتھ اپنی منزل کی جانب گامزن ہوں گے۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

