غزل ۔ ۔ ۔ فیاض احمد علیگ
شاعر: ڈاکٹر فیاض احمد علیگ۔ انڈیا
لینا محال ہو گیا جب سانس بھی مجھے
منزل نے بڑھ کے آپ ہی آواز دی مجھے
بازار میں وہ بھیڑ کہ چلنا محال ہے
ملتا نہیں ہے کوئی مگر آدمی مجھے
میری نگاہ میں تو کوئی طور بھی نہیں
چبھنے لگی ہے آنکھ میں کیوں روشنی مجھے
جس میکدے میں دھوم تھی حسن و شباب کی
ملتے رہے ہیں روز وہیں شیخ جی مجھے
ہر روز تیرے واسطے مرتا رہا ہوں میں
اب تو حیات بخش دے اے زندگی مجھے
میرے جنوں نے مجھ کو خرد سے بچالیا
گمراہ کر رہی تھی بہت آگہی مجھے
جس کو بھی دل دیا ہے , سدا کے لئے دیا
آتی نہیں ہے راس فقط دل لگی مجھے
انگلی پکڑ کے جن کو پڑھاتا تھا میں کبھی
وہ لوگ بھی پڑھانے لگے فارسی مجھے
تک بندیوں کا شوق ہے فیاض کیا کروں
آتی ہے ورنہ یار ! کہاں شاعری مجھے

