Latestاردوتاریخمتفرقمذہبمعاشرہ

جمہوریت اور انسانیت

تحریر: ارشد احمد شہباز۔ جرمنی

جمہوریت اور انسانیّت انسانی معاشرت کے دو بنیادی ستُون ہیں جن پر ایک خوشحال، مستحکم اور پرامن معاشرے کی بُنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ یہ دونوں تصوّرات ایک مہذّب اور ترقی یافتہ سماج کی تشکیل کے لیے لازم و ملزوم ہیں، کیونکہ یہ انسانی اقدار، اخلاقیات اور سماجی انصاف کو فروغ دیتے ہیں۔ جمہوریّت اور انسانیّت کی ہم آہنگی ایک ایسا نظام تشکیل دیتی ہے جہاں مساوات، انصاف اور اخوت کے اُصولوں کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے ۔ یہ نظام عوام کو یہ حق دیتاہے کہ وہ اپنے نمائندے خود منتخب کریں، جو ان کے مفادات کا تحفّظ کریں، ان کے مسائل کا حل پیش کریں اور اجتماعی فیصلے مشاورت اور اتفاقِ رائے سے کریں۔ اِس نظام میں ہر شہری کو  مساوی حقوق بشمول آزادیٔ اظہارِ رائے اور ووٹ دینے کا یکساں حق حاصل ہوتا  ہے

جمہوری نظام کی بنیاد مساوات، انصاف اور انسانی حقوق کے فروغ پر ہے۔ یہ نظام نہ صرف اقلیتوں کے حقُوق کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے بلکہ فرقہ واریت اور نفرتوں کو ختم کر کے امن، محبّت اور بھائی چارے کا پیغام دیتاہے۔ اور واضح کرتا ہے کہ تفرقہ ڈالنے والے عناصر کسی بھی معاشرے کی ترقی اور خُوشحالی کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں- اللہ پاک نے قرآنِ پاک میں فرمایا

  “اور سب مل کر اللہ کی رَسّی کو مضبُوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔”سورہ آل عمران، 103وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِیعاً وَ لا تَفَرَّقُوا

جمہوریت میں قانون کی بالادَستی سب سے اہم ہے۔ برطانوی فلسفی جان لاک نے کہا,, جمہوریت وہ نظام ہے جس میں حکومت عوام کی، عوام کے لیے، اور عوام کے ذریعے چلتی ہے۔ ابراہم لنکن کے الفاظ میں جمہوریت  کویوں بیان کیا,, حکومت عوام کی، عوام کی طرف سے اور عوام کے لیے ہوتی ہے,,

جمہوریّت کی ایک مثال اسکینڈینیوین ممالک ہیں، جہاں قانون کی حکمرانی نے خوشحالی کو جنم دیا ہے۔ اسی طرح کینیڈا میں اقلیتوں اور مہاجرین کو مساوی حقوق دیے جاتے ہیں، جس کی بدولت یہ ملک ترقی کی علامت بن چکُا ہے۔ جرمنی دوسری جنگِ عظیم کے بعد جمہُوری اُصولوں پر عمل کرتے ہوئے ایک بڑی اقتصادی طاقت کے طور پر اُبھرا ہے۔ سال 2024 میں جمہوریّت اور انسانیّت کے فروغ کے لیے مختلف افراد اور تنظیموں کو جرمنی اور دیگر ممالک میں اعزازات سے نوازا گیا-

اِنسانیّت وہ اخلاقی اُصول اور طرزِ عمل ہے جو ہمدردی، رَحم دلی، اور مساوات پر مبنی ہے۔ یہ فلسفہ ہر انسان کو برابر سمجھنے، ظلم کے خلاف کھڑے ہونے، اور اَخلاقی اقدار کو فروغ دینے کی ترغیب  بھی دیتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات انسانیّت کے عملی نمُونے پیش کرتی ہیں۔ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا

 (مسند احمد)”تم میں بہترین وہ ہے جو انسانوں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔”

اسلامی تاریخ میں انسانیّت اور عفو کا ایک عظیم الشان واقعہ فتحِ مکّہ کے موقع پر پیش آیا۔ رسولِ اکرم ﷺ نے اپنے دشمنوں کے ساتھ غیر معمولی رحم، انسانیّت، اور عفو و درگزر کا مظاہرہ کیا۔ جب آپ ﷺ نے دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ کا رخ کیا تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ کسی قسم کی خونریزی نہ کی جائے۔ قریش کے وہی سردار، جو مسلمانوں پر ظلم کرتے رہے تھے، آپ ﷺ کے رحم و کرم پر تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “آج تم پر کوئی گرفت نہیں! جاؤ، تم سب آزاد ہو۔” (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

مدینہ کی ریاست میں ہر شہری کو مساوی حقُوق حاصل تھے، خواہ وہ مسلمان ہو، یہودی ہو یا کسی اور مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ وہاں کسی کے ساتھ مذہب، نسل یا طبقے کی بنیاد پر امتیازی سلُوک نہیں کیا جاتا تھا۔ تمام معاملات میں عدل و انصاف کو اوّلین ترجیح دی گئی تھی۔

ایک روایت کے مطابق، ایک عورت جو قریش کے معزّز مخزوم قبیلے سے تعلق رکھتی تھی، چوری کے جُرم میں پکڑی گئی۔ قبیلے کی سماجی حیثیّت کی وجہ سے لوگوں نے اس کے لیے سفارش کی، اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ، جو رُسول اللہ ﷺ کے محبُوب صحابی تھے،اُنھوں نےاِس معاملے میں سفارش کی۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

’’تم سے پہلے کی قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ جب ان میں کوئی طاقتور شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے، اور جب کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتیں تو میں اُن کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا‘‘۔( صحیح بخاری، صحیح مسلم)

 خلافت ِ راشدہ کے دور   میں حضرت عمر فاروقؓ کا معمول  یہ تھا کہ رات کے وقت مدینہ کی گلیوں اور محلوں کا گشت کرتے تاکہ رعایا کے حالات سے باخبر رہیں اور ان کی مشکلات کو خود دیکھ سکیں۔ ایک رات وہ گشت کر رہے تھے کہ ایک خیمے سے بچوں کے رونے کی آواز سنی -حضرت عمرؓ نے عورت سے پوچھا،بچوں کو کیوں رُوتا چھوڑ رکھا ہے۔ عورت نے جواب دیا,, یہ بچے بھوکے ہیں، اور میں انہیں تسلّی دینے کے لیے چولہے پر خالی ہنڈیا چڑھا رکھی ہے تاکہ یہ سمجھیں کہ کھانا پک رہا ہے,, یہ سن کر حضرت عمرؓ کے دل پر گہرا اثر ہوا۔ وہ فوراً بیت المال گئے، ایک بوری میں آٹا، کھجوریں، گھی، اور دیگر ضروری اشیاء ڈالیں۔ خود اپنے کندھے پر وہ بوری اٹھائی اور عورت کے خیمے کی طرف چل پڑے۔ ساتھیوں نے عرض کیا-

’’یا امیر المؤمنین! ہم یہ بوجھ اٹھا کر لے چلتے ہیں تو آپ نے فرمایا‘‘ قیامت کے دن میرا بوجھ تم نہیں اٹھا سکتے۔,, آپ نے خود کھانا پکانے میں مدد کی اور اس وقت تک وہاں رہے جب تک بچے کھانا کھا کر خوش نہ ہو گئے۔ اس عورت نے آپ کی ہمدردی اور رَحم دِلی کو سراہتے ہوئے کہا،,, اللہ آپ کو جزا دے، آپ خلافت کےزیادہ حقدار ہیں نہ کہ عمر,,   آپ نے فرمایا کہ میں  وہ ہی عمر ہوں- یہ واقعہ حضرت عمرؓ کی رعایا کے ساتھ بے مثال ہمدردی، انصاف اور خدمت ِانسانیّت کے جذبہ کا عملی نمونہ ہے۔ یہ سکھاتا ہے کہ حکمرانوں اور سربراہوں کا اصل فرض اپنی رعایا  اور پیرو کاروں کے مسائل کو خود دیکھنا اور ان  کے حقوق کا حل نکالنا ہے، چاہے وہ کسی بھی حیثیت میں ہوں-

 اور اللہ کی مُحبّت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں-“وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا”اللہ تعالٰے قرآن پاک میں فرماتے ہیں-

(سورۃ الدہر، آیت 8) یہ آیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسلام میں خدمتِ خلق کا دائرہ کار وسیع ہے اور اس میں قیدیوں کی مدد بھی شامل ہے، چاہے وہ کسی بھی مذہب یا قوم سے تعلق رکھتے ہوںنیزنسل، رنگ یا زبان کی تفریق کے بغیر دوسروں کی مدد اور ہمدردی اللہ کی رضا کا باعث بنتی ہے۔

قائداعظم محمد علی جناح  نے 11اگست 1947 کو پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب  فرمایا,آپ آزاد ہیں؛ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مساجد میں جانے کے لیے یا کسی اور عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا عقیدے سے ہو، اس کا ریاست کے امور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔,, (ماخذ،قائداعظم کے 11 اگست 1947 کے خطاب سے اقتباس)

 1948 میں ایک موقع پر  ریڈیو پر قائد اعظم محمد علی جناح   نے امریکی عوام سےخطاب کرتے  فرمایاِ,, پاکستاں بہر حال مذہبی ریاست نہیں بنے گی، جس پر تبلیغی ملاوٗں کی حکومت ہو،پاکستان میں  مُتعدد غیر مُسلم بھی بستے ہیں۔جن میں ہندو،عیسائی،پارسی الغرض متعدد مذاہب کے ماننے والےشامل ہیں مگر سب وہ پاکستانی ہیں، ان سب کوکسی بھی دوسرے پاکستانی کے برابر  مراعات اور حقوق حاصل ہوں گے،اور وہ بھی پاکستان کے امور میں اپنا کردارادا کریں گے جو اُن کا جائز حق ہے۔ ,,  یہ قائداعظم محمد علی جناح کے اس وژن کی مثالیں ہے جس میں انہوں نے پاکستان کو ایک مساوی حقوق پر مبنی، سیکولر اور جمہوری ریاست بنانے کا عزم ظاہر کیا تھا-

اسطرح  اِنسانیت کے اُصولوں میں والدین اور بُزرگوں کے اِحترام کو مرکزی حیثیّت حاصل ہے۔ والدین نہ صرف ہماری زندگی کا سبب بنتے ہیں بلکہ اپنی قربانیوں اور شفقت کے ذریعے ہمیں جینے کا سلیقہ سکھاتے ہیں۔  جیساکہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ,,اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ ,, ( سورہ لقمان،14  ) نیز فرمایا

(سورہ اسرا،24) “کہہ اے میرے رب! ان دونوں (میرے والدین) پر رحم فرما، جس طرح انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی” قُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا

جمہوریت اور انسانیّت کی ہم آہنگی ایک مہذّب اور خُوشحال معاشرے کی بنیاد ہے۔ یہ دونوں اُصول نہ صرف ایک مضبوط معاشرتی ڈھانچے کی تشکیل کرتے ہیں بلکہ انصاف، مساوات، اور اخوت کے حقیقی عملی نمونے پیش کرتے ہیں۔ والدین اور بزرگوں کا احترام، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ، اور قانون کی بالادستی وہ عناصر ہیں جو ان اُصولوں کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اِنسان کو اشرفُ المخلُوقات بنایا ہے، لہٰذا ہر فرد ِخانہ کو چاہیے کہ وہ والدین کی عزّت کرے، بزرگوں کا اِحترام کرے، خاندان میں محبّت اور اعتماد کو فروغ دے، اور انسانیّت اور جمہوریّت کے اُصولوں کو اپنی زندگی کا حصّہ بنائے تاکہ ہر گھر امن کا گہوارہ بن سکے۔

ایک ایسا مُعاشرہ، جو جمہوریّت کی روشنی اور انسانیّت کی حرارت سے مزیّن ہو، دُنیا کے لیے اُمید کا چراغ بن سکتا ہے۔ ایسا معاشرہ نہ صرف کسی ایک ملک کی ترقی کا ضامن ہوگا بلکہ پوری دُنیا کو خُوشحالی اور امن کی طرف لے جا سکتا ہے۔

جمہوریّت ہر دِل میں اُمید کی رُوشنی جگائے
اِتحاد کا درس دے، اوروفا کا راز سکھائے

اِنسانیّت نفرتوں کے ہر نشان  کومٹائے
محبتّوں کے دَرخشاں چراغ ہر سوجلائے

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *