غزل ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر فیاض احمد علیگ
شاعر: ڈاکٹر فیاض احمد علیگ ۔ انڈیا
یہ عروج کیا، یہ زوال کیا، یہی جیت ہے، یہی ہار ہے
کبھی چاند تھا سر آسماں، وہی آج زیر مزار ہے
تو نظر اٹھا، تو نظر ملا، تو نظر سے ہی مجھے پھر پلا
ترے جام میں کہاں ساقیا ! تری آنکھ میں جو خمار ہے
وہی درد ہے، وہی اشک ہیں، وہی رتجگے، وہی بے کلی
یہی عشق ہے یہی بندگی یہی بندگی کا وقار ہے
وہ تمام عمر مرا نہ ہو سکا، پھر بھی دل کا خیال ہے
وہی دل نشیں، وہی دلربا، وہی جان و دل کا قرار ہے
وہی حسن ہے، وہی عشق ہے، وہی رسم ہے، وہی ریت ہے
وہی مصر ہے، وہی تخت، ہے وہی بخت ہے، وہی دار ہے
وہی دھوپ ہے، وہی چھاؤں ہے، وہی راستے، وہی منزلیں
وہی رہنما، وہی مشکلیں، وہی راستے کا غبار ہے
وہی رنگ ہے، وہی روپ ہے، وہی آرزو، وہی حسرتیں
وہی زندگی، وہی مسئلے، وہی درد کا بھی حصار ہے
ترے عشق میں مجھے کیا، ملا مری زندگی ذرا تو بتا
مرے درد کی کوئی انتہا، نہ تو زخم کا ہی شمار ہے
وہی مسئلہ، وہی تجزیہ، وہی عدلیہ، وہی فیصلہ
وہی عزم ہے، وہی حوصلہ، وہی رسم ہے، وہی دار ہے

