دریچہ ادب پاکستان کی سلور جوبلی کا انعقاد
رپورٹ: عیشا صائمہ نمائندہ ہفت روزہ لاہور انڑنیشنل
2نومبر 2024ء راولپنڈی آرٹس کونسل میں دریچہ ادب پاکستان کی تقریب تقسیم انعامات کا انعقاد کیا گیا جس میں بہت سے ادبی ستاروں نے شرکت کی – اس تقریب کے مہمانان خصوصی”پروفیسر ڈاکٹر مقصود جعفری” اور” محترمہ فاخرہ بتول” تھیں – مہمانِ اعزاز میں “” ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ “اور ڈاکٹر فوزیہ سحر ملک -” تھیں – تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا” قاری عبدالجلیل فاروقی ” نے خوب صورت انداز میں تلاوت کی-
اس کے بعد دل موہ لینے والے انداز میں “سید اسد عباس” نے نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ والہ وسلم پڑھی – “میم فرخندہ شمیم صاحبہ” نے بہترین انداز میں پروگرام کا آغاز کیا اور “محترمہ سجل ملک” اور” تمثیلہ لطیف “نے نظامت کے فرائض انجام دیئے انہوں نے سب سے پہلے “سر قمر ہمدانی کو اسٹیج پر بلایا جو دریچہ ادب کے روح رواں ہیں انہوں نے اپنے قیمتی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے دریچہ ادب کے قیام سے لے کر اب تک تمام کامیابیوں کا تذکرہ کیا 1996ء سے اس ادارے کی بنیاد رکھتے وقت وہ تنہا تھے لیکن اتنے برسوں بعد وہ ایک قافلے کو ساتھ لیے آگے بڑھ رہے ہیں اور پاکستان میں اب اس کے 18 یونٹس کام کر رہے ہیں اس کے علاوہ انگلینڈ اور جرمنی میں بھی دریچہ ادب کے یونٹس اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اس پورے عرصے میں اس دریچہ ادب نے بہت سے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہوئے ادب کی خدمت کو اپنا شعار بنایا جو کہ بہترین کامیابی ہے – اور ہر سال وہ ادب سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور اس تنظیم سے جڑے عہدےداران اور ممبران کی حوصلہ افزائی کے لیے ایسی تقریبات کا انعقاد کرتے رہتے ہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ نہ صرف سینیرز کو سراہتے ہیں بلکہ نئے آنے والوں کو بھی آگے آنے اور اپنی صلاحیتوں کو بھر پور انداز میں منوانے کے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں اس کا ثبوت ان کے مختلف یونٹس ہیں جو بہترین انداز میں کام کر رہے ہیں اپنی اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے انہوں نے 4 مئ 2024ء کو ایوارڈز کی تقریب لاہور الحمرا آڈیٹوریم میں منعقد کی جس میں ممتاز ادبی شخصیات نے شرکت کی اور اب راولپنڈی آرٹس کونسل میں 2 نومبر 2024ء دوبارہ سے ان ادبی ستاروں کو مدعو کیاگیا جو اس تقریب میں شرکت نہ کر سکے تھے تاکہ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں سراہا جا سکے یوں مختلف ادبی سرگرمیوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور دریچے کے لیے کام کرنے والے عہدے داران و ممبران میں ایوارڈز اور اعزازی اسناد تقسیم کی گئیں-
جن ادیبوں کو ایوارڈز اور اسناد سے نوازا گیا ان میں” ڈاکٹر شہناز مزمل، پروفیسر ڈاکٹر منور ہاشمی، فاخرہ بتول، پروفیسر ڈاکٹر شیریں لغاری، ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ، سید ظہیر گیلانی، ڈاکٹر فوزیہ سحر ملک، رفعت وحید، رفعت انجم، ملک نسیم عباس ناصر ایڈووکیٹ، ڈاکٹر صائمہ جبین مہک، فضہ عرفان، عیشا صائمہ، ذوالفقار بیگ،ممتاز شاعر نقادپروفیسر ڈاکٹر مقصود جعفری، ممتاز شاعر نقادپروفیسر ڈاکٹر منور ہاشمی، نثر نگار ممتاز شاعرہ نقادفاخرہ بتول، اشتیاق احمد نوشاہی ، ممتاز شاعرہ محمودہ غازیہ ممتاز، شاعرمبشر سلیم بشر، ممتاز شاعر، نصرت یاب خان نصرت، ممتاز شاعرہ آسیہ ہارون آسی، ممتاز شاعر نئیر سرحدی، قاری عامر سعید قریشی، سید اسد عبّاس، ممتاز شاعر اسد رضا سحر، ممتاز شاعرہ رفعت وحید، اور پروفیسر عقیلہ ڈیوس افضل، تمثیلہ لطیف، شامل ہیں-



تنظیم کے بانی “قمر عباس ہمدانی کو امریکن ایسٹ کوسٹ یونیورسٹی کی طرف سے کمیونٹی سروسز کی اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری دینے کا اعلان کیا گیا اس ڈگری کا پیغام یونیورسٹی کی طرف سے” پروفیسر ڈاکٹر صائمہ جبین مہک نے دیا جو یونیورسٹی کی ایسٹ کوسٹ پروگرام کی نائب صدر ہیں ان کے ساتھ پروگرام میں رائل امریکن یونیورسٹی کے نائب صدر” پروفیسر ڈاکٹر سکندر مرتضیٰ نے خصوصی شرکت کی اور سید قمر عباس ہمدانی کو “مجلسِ صدارت ڈاکٹر منور ہاشمی” اور مہمان خصوصی ڈاکٹر مقصود جعفری” کے ساتھ مل کر نامزدگی کا لیٹر پیش کیا – “سید قمر عباس ہمدانی” کی اعزازی ڈگری کی نامزدگی امریکن ایسٹ کوسٹ یونیورسٹی کے” چانسلر پروفیسرڈاکٹر ٹونی – جے “کی طرف سے کی گئ اور یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ بانی دریچہ ادب پاکستان کی کاوشوں کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا ہے -اور یہ ڈگری انہیں لائف ٹائم ایچیومنٹ کے طور پہ دی گئ ہے اور اس اعزاز کا شمار دنیا کے اعلیٰ ترین اعزازات میں ہوتا ہے-
تقریب کے دوسرے حصے میں مشاعرہ ہوا جس میں شعراء نے اپنا بہترین کلام پیش کیا.
تقریب کے آخر میں مجلس کے” صدر ڈاکٹر منور ہاشمی “اور مہمان خصوصی” ڈاکٹر مقصود جعفری” نے خطاب کیا اور دریچہ ادب کے بانی” سید قمر عباس ہمدانی” کی کوششوں کو سراہا – اس کے ساتھ تمام سینیر عہدے داران کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا –
اور آخر میں مہمانوں کی تواضع کے لیے ریفریشمنٹ کا انتظام کیا گیا – یوں یہ تقریب نہایت عمدہ انداز میں اپنے اختتام کو پہنچی-
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

