شاعری

غزل ۔ ۔ ۔ حبیب جالب

شاعر: حبیب جالب

اُٹھا رہا ہے جو فتنے مری زمینوں میں
‏وہ سانپ ہم نے ہی پالا ہے آستینوں میں

‏کہیں سے زہر کا تریاق ڈھونڈنا ہوگا
‏جو پھیلتا ہی چلا جا رہا ہے، سینوں میں

‏کسی کو فکر نہیں قوم کے مسائل کی
‏ریا کی جنگ ہے بس حاشیہ نشینوں میں

قصور وار سمجھتا نہیں کوئی خود کو
‏چھڑی ہوئی ہے لڑائی منافقینوں میں

‏یہ لوگ اس کو ہی جمہوریت سمجھتے ہیں
‏کہ اقتدار رہے اُن کے جانشینوں میں

‏یہی تو وقت ہے آگے بڑھو خدا کے لیے
‏کھڑے رہو گے کہاں تک تماش بینوں میں

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *