غزل ۔ ۔ ۔ ڈاکٹر فیاض احمد علیگ
شاعرہ: ڈاکٹر فیاض احمد علیگ۔ انڈیا
بات جب بھی دل ناداں ! تری مانی ہم نے
دشمنی ایک زمانے سے ہے ٹھانی ہم نے
اس قدر اس کو محبت میں شرابور کیا
سانولی کو بھی کیا پیار سے دھانی ہم نے
حسن کو تیرے نکھارا، تجھے شہکار کیا
پھر ترا نام رکھا ، رات کی رانی ہم نے
کچھ سراغ دل گم گشتہ نہ ملا اب تک
’’خاک تک کوچہ دلدار کی چھانی ہم نے‘‘
جان محفل ہو تو اتراو نہ ذرا بھی جاناں
جان تم کو جو بنایا ہے تو جانی ہم نے
دست بستہ سبھی غزلیں تھیں قطاروں میں کھڑی
جب بھی چھیڑی ہے کبھی میر کی بانی ہم نے
تب کہیں جا کے غزل تجھ پہ جوانی آئی
تیرے کوچے میں گنوا ئی ہے جوانی ہم نے
گھر نیا ہے تو ہر اک چیز نئی ہے لیکن
گھر میں رکھا تری تصویر پرانی ہم نے
وقت کے ساتھ ہی دھندلا گئی آخر وہ بھی
دل میں رکھی تھی سجو کر جو نشانی ہم نے
آخرش خاک ہوا خاک کا پتلا اک دن .
اور چادر بھی اسی خاک کی تانی ہم نے
جو بھی گزرے ہے میاں دل پہ گزر جانے دو
اب نہ تڑپیں گے کبھی آج یہ ٹھانی ہم نے
قدر فیاض محبت کی نہیں کی اس نے
کاٹ دی جس کی محبت میں جوانی ہم نے

