Latestاردوسیاستقومی

! چوسنی دے کر بہلایا گیا ہوں

Share your Love

تحریر: طارق احمد مرزا

چند ہفتے قبل یہ  خبر پڑھنے کو ملی کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے خیبر پختونخوا میں 3 اسٹون کرشنگ پلانٹس کو فوری بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ یہ پتھر توڑ پاور کرشنگ پلانٹ ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہے تھے۔ اس خبر میں چونکا دینے والی بات ان پتھر توڑ پلانٹس کے نام ہیں، جو اخبارات کے مطابق ” حاجی خطاب گل” ، ”نیازی ون” اور ”نیازی ٹو” کہلاتے ہیں۔ خبر میں اس سے بھی مزید چونکا دینے والی اور بہت کچھ سمجھا دینے والی بات یہ تھی کہ نیازی ون اور نیازی ٹو (اور حاجی خطاب گل) کے وکیل اور کوئی نہیں ہمارے پیارے چوہدری اعتزاز احسن صاحب ہیں۔ وہی جو سابق وزیراعظم پاکستان عمران احمد خان نیازی کے ہمدرد اور “ماورائے عدالت” یعنی میڈیائی وکیل بھی رہے ہیں۔آپ کے اس قسم کے پہلے مؤکل عمران خان نیازی توآپ کی اصولی اور میڈیا وکالت کے باوجود بند ہی رہے اور اب یہ دونوں نیازی (ون اینڈ ٹو) بھی بند کردیئے گئے۔محترم چوہدری صاحب ہی جانتے ہیں کہ بظاہر وکیل بن کر ان کا اصل مقصد ایک ایک کرکے سارے نیازیوں کو بند کروانا تو نہیں؟۔بقول غالبؔ ”ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو؟”۔ ہم تو یہی کہیں گے کہ نیازی ہوشیارباش۔

دونوں کیس ویسے بھی ملتے جلتے ہیں۔ عمران خان نیازی پر بھی ماحول کو آلودہ کرنے کا الزام بلکہ الزامات ہیں۔ حالانکہ وہ دو عدد سنگدل  افراد کے پتھردلوں کو کرش کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ کبھی یہ دونوں ان کا ‘کرش’ ہوا کرتے تھے اور ‘پاورکرشنگ’  میرا مطلب ہے پاور شئیرنگ کا کام مل کرسرانجام دیا کرتے تھے۔

 ویسے یہ ‘نیازی ون’ اور ‘نیازی ٹو’ کے نام بھی ہمیں کچھ مایوس کن یا توہین آمیز قسم کے محسوس ہوئے کیونکہ ہم تو کرکٹرعمران احمد خان نیازی کو ہی ‘نیازی ون’ سمجھتے تھے۔ ممکن ہے کہ جیل میں بند کرا دیئے جانے کے بعد سے کچھ لوگ اپنے تئیں انہیں’ مائنس ون ‘ قرار دے چکے ہوں ۔اوران کے (کم ازکم پارلیمنٹ سے) مائنس ون ہونے کے بعد اگر کوئی نیازی ون یا نیازی ٹوکہلائے جانے کے لائق  ہو تو وہ کوئی سٹون کرشنگ پلانٹ ہی ہو سکتے ہیں کیونکہ پی ٹی آئی میں تو کوئی اور مرد یا خاتون نیازی ون یا نیازی ٹو کا کردار نبھانے کے لائق ہے ہی نہیں۔ یقین نہ آئے تو شیرافضل مروت یا فواد چوہدری  سے پوچھ سکتے ہیں۔

بے نیازیوں سے بھرپور الفاظ کے ان گورکھ دھندوں سے جان چھڑا کر واپس مذکورہ خبر کی طرف آتے ہیں کہ سپریم کورٹ کو ان دوعدد نیازیوں کو بند کردینے کا حکم صادر کرنے کی وجہ

آخر کیا بنی؟۔اخبارا ت کے مطابق  سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ دنیا میں ہر 9 سے ایک موت فضائی آلودگی کی وجہ سے ہوتی ہے، ڈبلیو ایچ او کے مطابق فضائی آلودگی سالانہ ستر لاکھ اموات کا باعث بن رہی ہے،  بنگلہ دیش، بھارت، نیپال اور پاکستان دنیا کے آلودہ ترین ممالک ہیں۔

دنیا کی کل آبادی کا 22.9% بنگلہ دیش، بھارت نیپال اور پاکستان میں ہے، ایئر کوالٹی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کا دوسرا آلودہ ترین ملک ہے، صاف شفاف ماحول میں رہنا ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے۔

عدالت کا ای پی اے خیبرپختونخواہ کو صوبے میں قائم 900 سٹون کرشنگ پلانٹس کے جائزے کا حکم، آلودگی سے متعلق قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے کرشنگ پلانٹس کیخلاف کارروائی کی جائے، عدالت نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو فضائی آلودگی سے متعلق قواعد کی تجدید کا حکم دے دیا۔

  عدالت نے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے پیش رفت رپورٹ طلب کر لی ،کیس کی مزید سماعت نومبر کے پہلے ہفتے میں ہوگی، 17صفحات پر مشتمل حکم نامہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ، سٹون کرشنگ پلانٹس کیخلاف سورج گلی خانپور کے رہائشیوں نے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔  عدالت کے سامنے بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ آلودگی مقامی آبادی پھیلا رہی ہے نہ کہ کرشنگ پلانٹ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کیا عدالتوں کا کام ہے یا انتظامیہ اور وزیر ماحولیات کا؟۔

واضح رہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی یہ مسلسل تیسری حکومت ہے۔ ان کے زیر سایہ صوبے میں 900 سٹون کرشنگ پلانٹس کام کررہے ہیں۔ جہاں تک وزیر ماحولیات کے پی کے کی قابلیت اورکارکردگی کا تعلق ہے تو اس وقت جبکہ نیازی ون اور نیازی ٹو ماحول کو مبینہ طور ہر آزادانہ طورپر آلودہ کرنے میں پوری طرح سے مصروف تھے ، اس وقت کے پی کے وزیر ماحولیات کیا بیان جاری فرما رہے تھے، مندرجہ ذیل خبر میں ملاحظہ فرمائیں۔

معروف صحافی رفعت اللہ اورکزئی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’خیبر پختونخوا کو اس وقت دہشت گردی اور شدت پسندی کے بعد ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی صورتحال کا سامنا ہے اور اس وقت فضل حکیم خان کے پاس چار اہم محکمے ہیں جن میں جنگلی حیات، ماحولیات، جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی شامل ہیں۔

’اس انٹرویو کا مقصد صوبائی حکومت کی پالیسی جاننا تھا کہ حکومت ماحولیات اور خاص طور پر ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے کیا منصوبہ بندی کر رہی ہے۔‘

انٹرویو میں پہلا سوال یہ تھا کہ یہ اہم وزارتیں ہیں اور کیا فضل حکیم کے پاس اس بارے میں کوئی تعلیم یا تجربہ ہے تو انھوں نے اس کا ہاں یا نہ میں جواب نہیں دیا لیکن پھر کہا کہ ’ہسپتالوں سے جو کچرا اٹھایا جاتا ہے اس میں بہت گند ہوتا ہے اور یہ پھر فیکٹریوں میں لے جاتے ہیں جہاں مختلف اشیا بنائی جاتی ہیں جیسے بچوں کی چوسنیاں جو انتہائی خطرناک ہے اور ان کی کوشش ہے کہ ماحول کو صاف رکھنے کے لیے وہ اس کو کنٹرول کریں گے۔‘

رفعت اورکزئی کا کہنا تھا کہ انھوں نے فضل حکیم خان سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ عمران خان نے کلائمیٹ چینج اور ماحولیات کے حوالے سے بہت سے بیانات دیے ہیں لیکن اب تک موجودہ صوبائی حکومت کے کلائمیٹ چینج کے حوالے سے کوئی بڑے فیصلے نظر نہیں آ رہے تاہم اس پر بھی کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔

فضل حکیم خان کا تعلق خیبر پختونخوا کے علاقے سوات سے ہے اور خیبرپختونخوا اسمبلی کی ویب سائٹ پر درج معلومات کے مطابق ان کی تعلیم بی اے بتائی گئی ہے۔ ان کے بارے میں صوبائی اسمبلی کی ویب سائٹ پر لکھا گیا ہے کہ وہ ایک کاروباری شخصیت ہیں۔

فضل حکیم خان تیسری مرتبہ پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں”۔

واہ جناب کیا بات کی ہے چوسنی کی وزیر ماحولیات صاحب نے۔ کبھی ان کی جماعت نئے پاکستان کا چورن اسلامک ٹچ کے ساتھ بیچ رہی تھی تو آج غربت کے ہاتھوں روتی بلکتی قوم کو نئی نکور غیر آلودہ  خالص چوسنیوں کی نوید دے کر بہلایا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ راقم کو پاکستان کی کسی مردہ یا زندہ سیاسی جماعت سے کوئی پرخاش تھی، نہ ہے اور نہ ہوگی کیونکہ یہ  نرا گناہ بے لذت ہے ۔ جو بھی ہے سائینس کے ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے لکھ رہا ہوں کہ معلوم نہیں نئے پاکستان کی داعی یہ جماعت ماحولیات کی وزارتوں کے لیئے ایسی ہی نابغہ روزگار شخصیات کا انتخاب کیوں کرتی ہے؟۔

اس سے قبل پی ٹی آئی کی ہی مقرر کردہ وزیر مملکت برائے ماحولیات محترمہ زرتاج گل صاحبہ نے لائیو ٹی وی نشریات میں یہ انکشاف فرمایا تھا کہ کووڈ 19 کا مطلب یہ ہے کہ اس کے 19 پوائنٹس یعنی 19 نکات ہوتے ہیں اور یہ ہر ملک کے حساب سے کم یا زیادہ بھی ہوسکتے ہیں۔ آپ کا کام یہ ہے کہ اپنی امیونٹی کو بڑھائیں۔

محترمہ نے نہ تو کووڈ 19 کے 19 نکات کی تفصیلات پیش کیں اور نہ بتایا کہ ان نکات کے خلاف امیونٹی کیسے بڑھائیں؟۔

ایک اور موقع پر محترمہ نے برسات کے آغاز پر بڑی خوشی اور مسرت سے بتایا تھا کہ انہوں نے کہیں پڑھا تھا کہ جب نیک اور اچھی حکومت ہو توبارشیں ہوتی ہیں۔ جبکہ ادھرسندھ میں پی پی پی کے بلاول بھٹو بڑی بے بسی سے عوام کو یہ باور کروانے میں مصروف تھے کہ جب زیادہ بارش ہو تو زیادہ پانی آتا ہے !۔

پی ٹی آئی والے وزیر اطلاعات نامزد کرنے کے لئے بھی نابغہ روزگار شخصیات کا بڑی محنت سے انتخاب کرتے ہیں۔ جب پی ٹی آئی کے دور میں ریل کا ایک حادثہ ہوا تو وزیر اطلاعات محترمہ فردوس عاشق اعوان نے چہرے پہ اطمینان اور بشاشت سجائے پریس کانفرنس میں اعلان فرمایا کہ الحمد للہ اس سال ریل کا یہ پہلا حادثہ ہے !۔

نون لیگی وزراء کی ذہانتوں کے قصے اگلی مرتبہ لیکن اس تحریر کو قلمبند کرتےایک عدد تازہ ترین  نون لیگی فیصلہ بھی اخبارات کی زینت بنا دیکھنے کو مل گیا اور وہ یہ کہ مبینہ طور پر ”شہباز” حکومت نے وائلڈ لائف بورڈ کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ غالباً انہیں علم ہو گیا تھا کہ ”ہر شاخ پہ الو(یا الو کا بچہ) بیٹھا ہے، انجام گلستاں کیا ہوگا”۔ اور جس طرح سے یکے بعد دیگرے وزراء داخلہ “عوام کالانعام” کو وحشی و جنگلی حیات سمجھ کر ڈانگ سوٹے چلاکر اور ہنکا کرکامیابی سے انہیں ڈیل کرتے چلے آرہے ہیں، توانہیں وائلڈ لائف بورڈ کے اراکین اورخود وائلڈ لائف کے معاملہ میں بھی ان کے اس تجربہ سے فائدہ اٹھانے کی سوچی ہوگی۔

کہا جارہا ہے کہ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ وائلڈ لائف بورڈ والے مارگلہ نیشنل ہلز میں واقع مونال ریسٹورنٹ میں چرنے چگنے اور پلنے والوں پرکچھ کچھ وائلڈ ہوتے دکھائی دے رہے تھے، اور جس طرح وزیر داخلہ صاحب کمال ہنر مندی سے پاکستان کرکٹ بورڈ  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس اب مزید لکھنے کی ہمت نہیں، فی الحال چوسنی پہ اکتفا کیجیئے !۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *