Latestاردوبزنسسیاستشخصیتشعبہ انٹرنیشنل

شیخ حسینہ واجد: لیڈر سے ڈکٹیٹر تک

تحریر: افضال ریحان

انسانوں کے نام

خامیاں جمہوریت میں بھی نکالی جاسکتی ہیں لیکن دنیا صدیوں کے سفر میں اتنے زیادہ تجربات سے گزر نے کے بعد یہ سمجھ چکی ہے کہ انسانیت کے حق میں جمہوریت سے بہتر کوئی نظام حکومت وضع نہیں ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، جمہوریت برداشت، حوصلہ اور دوسرے کی رائے کا احترام کرنا سکھاتی ہے۔‎ جمہوریت میں میجارٹی کی اتھارٹی ضرور ہے لیکن اس کا مطلب ون پارٹی استبداد نہیں، مینارٹیز کے بھی مسلمہ حقوق ہیں جو بنیادی انسانی حقوق میں ریڑھ کی ہڈی جیسے ہیں۔ دنیا بھر کی جمہوریتوں میں حزب اختلاف یا قائد حزب اختلاف کا بھی ایک مقام،وقار اور احترام ہے اپوزیشن کے بغیر جمہوریت لاحاصل و بے معنی یکطرفہ پروپیگنڈہ یا من گھڑت دھندہ ہے۔‎ ترقی یافتہ اور مضبوط جمہوریتوں میں اگر اس نوع کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ ایک ہی شخص پیہم یا تاحیات قوم کی گردن پر سوار نہ رہے تو اس کی حکمت کو سمجھا جانا چاہیے، امریکی آئین سازوں نے اپنے ہر صدر کیلئے، چاہے وہ کتنا ہی پاپولر صدر ہو، یہ حد مقرر کر رکھی ہے کہ وہ دو سے زائد ٹرمز کیلئے قومی قیادت پر فائز نہ ہو سکے چند ایکسیپشنز کے سوا امریکی ڈھائی صدیوں سے اسی آئینی روایت پر عمل پیرا ہیں۔ جارج واشنگٹن کی عظمت کو سلام ہے کہ جب اس کی پاپولیریٹی عروج پر تھی، ہر طرف سے آوازیں اٹھ رہی تھیں کہ آپ دوبارہ صدارتی الیکشن لڑتے ہوئے قومی قیادت فرمائیں مگر اس نے ہاتھ باندھتے ہوئے معذرت کی اور کہا کہ میری قوم میں اور بھی بڑے اہل لوگ موجود ہیں انھیں بھی موقع ملنا چاہیے کہ وہ منتخب ہو کر آئیں اور اپنی صلاحیتوں سے قوم کی خدمت کریں۔ ‎مہاتما گاندھی کی بیسویں صدی کے نصف اول میں جو پاپولیریٹی تھی اس سے کون انکار کر سکتا ہے وہ اٹھتے تو پوری جنتا اٹھ کھڑی ہوتی وہ چلتے تھے تو پوری قوم ساتھ چل پڑتی تھی اگر وہ کانگریس کے تاحیات صدر بن کر رہنا چاہتے تو کون آڑے آ سکتا تھا وہ آزاد ہند کے پہلے گورنر جنرل بننا چاہتے تو کیا رکاوٹ تھی مگر اس انسان نے کبھی کوئی عہدہ نہیں لیا خدمت اور جدوجہد سے جنتا کے دلوں میں جگہ بنائی اور دلوں پر راج کیا۔ ‎ساؤتھ افریقہ کے عظیم ہیرو نیلسن منڈیلا تو ابھی کل کی بات ہیں آزادی کی جدوجہد میں جس شخص نے اپنی ساری جوانی جیلوں میں گزار دی قوم کو آزادی دلائی تو جنتا نے انھیں سر آنکھوں پر بٹھایا وہ تاحیات جنوبی افریقہ کے صدر بن سکتے تھے مگر ایک ہی ٹرم کے بعد دوبارہ اس عہدے کیلئے الیکشن لڑنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ میری قوم کے دلوں میں میرے لیے جومحبت و عزت ہے اس کا تقاضا ہے کہ میں خود کو ان پرمسلط کرنے کی کوشش نہ کروں دوسروں کو موقع دوں کہ وہ آگے بڑھیں اور منتخب ہو کر قوم کی قیادت فرمائیں۔‎ یہ سب دانا و مدبر لوگ، انسانی نفسیات کو بخوبی سمجھتے تھے کہ ایک ہی شخص کو اپنے اوپر پیہم مسلط دیکھتے ہوئے لوگ بیزار ہو سکتے ہیں انسانی فطرت تبدیلی پسند ہے کہ ’’ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔‘‘ ابھی حال ہی کی بات ہے کہ انگلینڈ میں نئے انتخابات ہوئے ہیں جن میں کنزرویٹو پارٹی کے بالمقابل لیبر پارٹی کو بھاری مینڈیٹ کے ساتھ کامیابی ملی ہے حالانکہ کنزرویٹو پارٹی کے اندر سے تبدیلی کے تحت پانچ وزرائے اعظم بدلے گئے آخر میں ان کی پالیسیاں قومی مفاد میں بہتر جا رہی تھیں انہوں نے مہنگائی اور افراط زر کو ختم کرنے کیلئے بہتر اقدامات کیے۔ رشی سونک محنت، لگن اور بہترین صلاحیت کے ساتھ بہت بہتر جا رہے تھے مگر پچھلے 14برسوں سے کنزر ویٹیو پارٹی مسلسل برسراقتدار تھی اگرچہ پالیسیاں بظاہر دونوں کی ملتی جلتی ہیں کوئی خاص فرق نہیں مگر یہ جمہوریت کی عظمت ہے جو دوسروں کو بھی آگے آنے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔اس کے بالمقابل غیر جمہوری معاشروں میں خواہ کیسی ہی ترقی و خوشحالی ہو لیکن اندر ہی اندر ایک نوع کی گھٹن اور فرسٹریشن ملاحظہ کی جا سکتی ہے لوگ بے بس و مجبور ہوتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ بے وجہ اور شوقیہ طور پر سیاسی توڑ پھوڑ ،ہل چل یا عدم استحکام کو پروموٹ کیا جائے۔ سیاسی استحکام ہو گا تو ملک و قوم میں معاشی ترقی و خوشحالی بھی آئے گی ورنہ کنفرنٹیشن کی فضا میں جب ہر حکومت کو اپنی بقا کے لالے پڑے رہیں گے تو ترقی کیا خاک ہو گی۔ ‎اس سلسلے میں ہم بنگلہ دیش کی حالیہ مثال کو ملاحظہ کر سکتے ہیں بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمٰن کی سپتری شیخ حسینہ پورے بنگلہ دیش کی پالولر ترین لیڈر بن کر ابھری تھیں انکے والد مرحوم نے اپنی قوم کوآزادی دلوائی تھی اسکے باوجود شیخ صاحب کو ان کی اپنی فوج نے پورے خاندان سمیت موت کے گھاٹ اتار دیا سوائے دو بیٹیوں شیخ حسینہ اور شیخ ریحانہ کے جو اس وقت اپنے ملک کی بجائے جرمنی میں تھیں۔ بنگالیوں نے اپنے بابائے قوم کی بیٹی شیخ حسینہ کو سر آنکھوں پر بٹھایا فوجی استبداد سے ٹکر لے کر بھی 1996میں انھیں جتوایا، بنگلہ دیش کے اقتدار تک پہنچایا اور پھر وہ 2009سے تواتر کے ساتھ چار مرتبہ یعنی کل ملا کے پانچ مرتبہ پرائم منسٹر بنوائی گئیں۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *