آسٹریلیا ’افغان فائلز‘ وما بعد
تحرہر: طارق احمد مرزا۔ آسٹریلیا
سنہ 2001 ء کے ’’نائن الیون‘‘ واقعہ کے بعدجب اس وقت کی طالبان حکومت کا خاتمہ ہوا اورافغانستان میں نیٹو، امریکہ اور اتحادی افواج داخل ہوئیں تو آسٹریلیا کے فوجی دستے بھی آسٹریلیا امریکی معاہدہ (ANZUS Treaty ) کے تحت شامل ہو گئے اور پھراگلے بیس برس یعنی 2021ء تک ہزاروں آسٹریلین فوجی، نیم فوجی اور دیگر اہلکاروں کا افغانستان آنا جانا لگا رہا۔ سنہ 2017ء میں آسٹریلین آرمی کے ساتھ کام کرنے والے ایک سابق وکیل نے اپنے ضمیر کی آواز پہ لبیک کہتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ افغانستان میں تعیناتی کے دوران آسٹریلیا کے بعض فوجی جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے تھےجن پر مبینہ طور پر پردہ ڈال دیا گیا تھا۔ اس وکیل نے ، جس کا نام ڈیوڈ میک برائیڈ (David McBride) ہے، یہ خفیہ معلومات آسٹریلیا کے نشریاتی ادارے اے بی سی کو "لیک" کردیں جنہوں نے آٹھ قسطوں میں ان معلومات کو شائع کردیا۔ آٹھ اقساط پر مشتمل یہ آرٹیکلز "افغان فائلز" کے نام سےمشہور ہو گئے۔ ان خفیہ معلومات کا شائع ہونا تھا کہ نہ صرف آسٹریلیا بلکہ دنیا بھر میں ایک تہلکہ مچ گیا۔سب سے پہلے تواس وکیل کے خلاف انکوائری شروع ہوگئی کہ اس نے ایسی حساس اور خفیہ معلومات کیوں افشا کیں۔ "جرم" کا اقرار کرنے پر اسے قید کی سزا بھی سنا دی گئی۔ ساتھ ہی آسٹریلین ڈیفنس فورس نے افغان فائلز کے حوالہ سے اندرونی تحقیقات کا آغاز کردیا۔ نومبر 2020 ء میں اس وقت کے آسٹریلین آرمی چیف اینگس کیمبل (Angus Campbell ) نے تحقیقاتی رپورٹ میڈیا کے سامنے پیش کی جس میں بتایا گیا کہ آسٹریلین ملٹری کےپچیس 25 سابق یا حاضر سروس فوجی افغانستان میں بھیانک جنگی جرائم میں براہ راست یا بالواسطہ مجرم قرار پائے گئے ہیں ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آرمی چیف نےبتا یا کہ 19 آسٹریلین فوجی افغانسان تعیناتی کےدوران مجموعی طورپر 39 نہتے شہریوں اورقیدیوں کے "قتل" جبکہ دومزید افراد کے ساتھ ظالمانہ سلوک اپنانے میں ملوث پائے گیئے اور ان تمام کو مزید تحقیقات کے لئے آسٹریلین فیڈرل پولیس کے حوالے کیاجارہاہے۔ ان جنگی جرائم کی تفصیلات خاصی گھناؤنی اورروح فرسا ہیں جنہیں یہاں بیان کرنا مناسب نہیں۔ صرف یہ ایک دومثالیں دینا کافی ہیں کہ کچھ فوجیوں نے قانون اپنے ہاتھ میں لے لیاتھا، تو کسی نے من گھڑت کہانی پیش کرکے قتل کوجائز ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اسی طرح رپورٹ کے مطابق ایسی مثالیں بھی ہیں جب ادھر ادھر سے حاصل کردہ غیر ملکی (غیر آسٹریلین) ہتھیار، ہینڈگرینیڈ یا دیگر مشکوک اشیاء نہتے شہریوں کے قریب خود ہی گرا کر فضا سے پھر ان پر گولیاں برسا دی گئیں تاکہ جب تحقیقات ہوں تو مقتولین کی لاشوں کےساتھ پڑا ہوا یہ اسلحہ بم بارود "برآمد " کروا کر اس قتل کو جائزثابت کیا جا سکے۔ اسی طرح حالت قید میں شوٹ کردینے کے واقعات بھی اس رپورٹ میں تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں، جسے میجر جنرل بریریٹن (Major General Brereton) نے تیار کیا ، بتایا گیا کہ یہ جنگی جرائم کسی لڑائی کے دوران رونما نہیں ہوئے تھے کہ جن کے بارہ میں کوئی یہ کہہ سکے کہ دوبدو معرکوں (under pressure in the heat of battle) میں ایسا جانی نقصان ہو ہی جاتا ہے بلکہ قطعی طور پر ثابت ہوا ہے کہ یہ تمام واقعات بلاوجہ "قتل" کے زمرے میں آتے ہیں کیونکہ مقتولین میں سے کسی کا بھی وقوعہ کے وقت "حالتِ جنگ " میں (combatant) ہونا ثابت نہیں ہوسکا ہے۔ قارئین کرام ، افغان فائلز 2017 ء میں منظر عام پرائیں، تین سال تحقیقات میں لگ گئے اور 2020 ء میں رپورٹ پڑھ کر سنائی گئی،اس کے بعد آج یعنی جولائی 2024ء میں آسٹریلوی وزیر دفاع کی موجودگی میں موجودہ چیف آف ڈیفنس فورس ایڈمرل ڈیوڈ جونسٹن (Admiral David Johnston )، نے یہ اعلان کیا ہےکہ آسٹریلین ڈیفنس فورسزکا ادارہ ان 39افغان مقتولین کے ورثاء کو معاوضہ دینے کے لیئے تیار ہے جبکہ اس کا لائحہ کار اورطریقہ عمل طے کرنا باقی ہے۔
مبصرین کے مطابق ایک طرف تو بہرحال یہ امرخوش آئیند ہےکہ "افغان فائلز" کے منظرعام پرآنے کے بعد(یا اندرون خانہ اس سے قبل ہی) فوج نے شفاف اور منصفانہ تحقیقات کروا کر مجرموں کی نشاندہی کرنے، انہیں آسٹریلین فیڈرل پولیس اورسپیشل انویسٹی گیٹر کے حوالے کرنے اور متاثر خاندانوں کو "خون بہا" یا معاوضہ وغیرہ اداکرنے کا بھی عندیہ دے دیا ہے لیکن جو بھی ہو، بے گناہوں کی زندگیاں اور ان کے پیاروں کی خوشیاں تو ہمیشہ کے لئے لٹ چکیں ، ہمیشہ کے لیئے رخصت ہوگئیں، اب معاوضہ کس چیز کا اور تلافی کیسی؟۔۔۔زندگیوں کی؟، یا جیتے جی مرجانے والوں کی؟
یہاں ضمنی طور پر یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ آسٹریلیا میں چیف آف ڈیفنس فورسز فضائیہ سے بھی ہوسکتا ہے اورنیوی سے بھی۔ ایڈمرل جونسٹن نے 10 جولائی کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔ اس سے قبل آپ وائس چیف آف ڈیفنس فورسز تھے۔ آسٹریلیا کے چار چیف آف ڈیفنس فورسز فضائیہ سے تھے، اور چھ بحریہ سے ، جبکہ بارہ کا تعلق آرمی سےتھا۔اور جمہوریت کی شان دیکھیں، ان میں سے کسی ایک کا بھی دماغ خراب نہیں تھا !۔
آمدم برسرمطلب، جنگ بالکل بھی اچھی چیز نہیں، تاریخ اس پہ شاہد ہے، اور زمانہ حال میں آج فلسطین اور یوکرائن میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بھی۔
ساؔحر نے بے ساختہ کیا اچھا کہا تھا ؎
ٹینک آگے بڑھیں کہ پچھے ہٹیں
کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے
فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ
زندگی میتوں پہ روتی ہے
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی
اس لئے اے شریف انسانو
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں
شمع جلتی رہے تو بہتر ہے
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

