غزل ۔ ۔ ۔ اے آر ساحل علیگ
شاعر: اے آر ساحل علیگ
اشکوں سے اپنی آنکھیں بھگوتا رہا غزال
بیٹھا ندی کے تیر پہ روتا رہا غزال
افسوس یہ ہے اس کو غزالہ نہ مل سکی
خود کو غموں میں خوب ڈبوتا رہا غزال
صحرا نوردیوں اسے راس آئی اس قدر
شانوں پہ خاک عشق بھی ڈھوتا رہا غزال
وحشت کا احترام جنوں میں کیا بہ چشم
ماضی کے خار دل میں چبھوتا رہا غزال
رنج و سرور و کیف جوانی کے چار دن
کیا کیا تمہارے عشق میں کھوتا رہا غزال
آنکھوں میں لال ڈورے سے پڑتے چلے گئے
آنسو یہ کس ہنر سے پروتا رہا غزال
ساحل تمام روز غموں کے عذاب میں
بے خوف جسم و جان سے ہوتا رہا غزال

