Latestاردوشخصیتشعبہ انٹرنیشنل

حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خان ؓ کی صلہ رحمی کی ایک دلکش داستان

تحریر: امۃ الباری ناصر۔ ۔امریکہ

آج میں  آپ کی ملاقات حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خان ؓکے ایک بیٹے سے کراؤں گی۔ اس ملاقات کا مقصد  اس عظیم شخصیت  کے اپنے رحمی رشتے داروں سے حسن سلوک کا ایک دلکش  پہلو اُجاگر کرنا ہے۔ تمہید یہ ہے کہ  ڈسکہ ضلع سیالکوٹ کے  معروف بزرگ صحابی حضرت  چودھری  نصر اللہ خان ؓ  کے مایۂ ناز  بیٹے حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خان ؓ کے چھوٹے  بھائی مکرم  چودھری شکر اللہ خان  کو اللہ تعالیٰ نے   چار بیٹے اور دو بیٹیاں عطا فرمائیں ۔ جن میں سے بڑے بیٹے مکرم چودھری محمود نصر اللہ خان کی  شادی مکرمہ امۃ الشافی سے ہوئی جو مکرم چودھری نذیر حسین (دولم۔ کاہلواں ‘ پاکستان ) کی بیٹی تھیں یہ خاندان بھی ڈسکہ میں رہتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں چار بیٹوں اور تین بیٹیوں سے نوازا ان میں چوتھے نمبر کا بچہ عمر نصراللہ خان آج موضوعِ گفتگو ہے یہ بہت خوب صورت پھول سا بچہ چھ مہینے کا   تھا جب اسے ٹائیفائڈ بخار ہؤا ۔  شدید علالت سے زندگی کے لالے پڑگئے۔ دعا ,علاج ,صدقہ خیرات  کیا گیا۔ آہستہ آہستہ بچہ صحت یاب  ہونے لگا۔ کمزوری دور ہو تی گئی اوریہ خوب صورت بچہ سب کی آنکھوں کا تارا دوبارہ سے چست و چوبند ہو کر کھیلنے کودنے لگا۔ ایک   ڈیڑھ سال  کا تھا جب ایک دن حضرت چودھری صاحب (جن کو خاندان میں سب با با جی کہتے تھے ) کی  صاحبزادی    امۃ الحئی   کے ساتھ کھیل رہا تھا انہوں  نے  محسوس کیا   کہ بچہ بات کی طرف توجہ نہیں دیتا، کوئی جواب  بھی نہیں دیتا شاید  سنتا  نہیں ہے۔ اس بات کا ذکر عمر  کی امی سے کیا تو ان کو بہت صدمہ ہؤا ۔

 ڈاکٹروں کے پاس لے کر گئے تو اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ ٹائیفائڈ کی وجہ سے سماعت متأثر ہوئی ہے بچہ سن نہیں سکتا۔ ایسے بچے بول بھی نہیں سکتے ۔ اور علاج  بھی مشکل ہے۔ وہاں ایسے  سپیشل بچوں کے علاج اور تعلیم  کی سہولتوں کی کمی تھی۔ جس کی وجہ سے والدین پریشان  رہتے تھے  ۔

ایک دن جبکہ عمر تین سال کا تھا ۔ڈسکہ میں اپنے گھر کے سامنے کھیل رہا تھا   ادھر سے ایک اونٹ سوار کا گزر ہؤا ۔اس نے بچے کو  گلی  میں دیکھ کر شور مچایا مگر عمر  تو سن نہیں سکتا تھا اپنے کھیل میں مگن  رہا  ۔ اچانک اونٹ کو قریب دیکھ کر بھاگا    ادھر اونٹ والے نے بچے کو بچانے کے لئے  اس کا رخ موڑنے  کی کوشش کی تو وہ  بدک  کر  بھاگا   ۔  عمر اس  کی ٹھوکر سے گرا ۔ جس سے اس  کی کلائی اور ہاتھ زخمی ہو گئے شکر ہے جان بچ گئی ۔ والدین ایسی باتیں دیکھ کر متفکر ہوتے اور اللہ پاک سے  مدد کی دعائیں کرتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے  والدین کی پریشانی دور کرنے  اوراس بچے کی تعلیم و پرورش کا کیا انتظام   کیا ؟یہ ساری تفصیل  مجھے  مکرم چودھری انور کاہلوں  نے سنائی جو    یو کے، کے سابق نیشنل صدر اور امیر جماعت رہے تھے۔ عمرکے والد صاحب کے ماموں اور حضرت   چودھری  با با جی ؓ کے قریبی عزیز  تھے اور اٹھارہ سال کی عمر سے ان کے بااعتماد  سیکرٹری ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔ مختلف سفروں میں ان کے ساتھ جانے کی سعادت  بھی ملتی  رہی  تھی ۔ زندگی کا لمبا عرصہ ان کی خدمت میں گزرا ۔ اس طرح حضرت باباجی  ؓ کو بہت قریب سے دیکھا تھا  ان کے ایمان افروز   اور دلچسپ قصے  مزے لے لے کر سناتے تھے ۔  انور  صاحب کی یہ بڑی خوبی تھی کہ  بہت ملنسار تھے ۔خاکسار سے محبت سے پیش آتے تھے ۔  مجھے اپنے خاندان سے متعارف  کرنے کی کوشش میں اپنی  دلچسپ  پنجابی میں بہت سے  رشتہ داروں عزیزوں   کا تعارف  کراتے تو میں ایک اچھے  سامع کی طرح سعادت مندی سے  باادب  ہوکر سنتی   رہتی ۔ البتہ  جب حضرت بابا جی   ؓکےواقعات کا خزانہ  لٹاتے  تو  میں خوشی   اور دلچسپی سے سنتی  اور دل و دماغ میں محفوظ کرنے کی کوشش کرتی۔ کیونکہ یہ باتیں تاریخی اہمیت کی ہوتیں۔ ایک دن باتوں باتوں   میں آپ نے   عمر کے لندن آنے کی کہانی سنائی ۔ جو میرے لئے نئی تھی اور  باباجی کی   صلہ رحمی اور خدا ترسی  کا ایک یادگار واقعہ تھا ۔ انہوں نے  بتایا  کہ ایک دن  وہ  باباجی  ؓکے ساتھ سیر کر رہے تھے اور آپؓ انہیں ہدایات دے رہے تھے کہ کس ضرورت مند ، بیوہ یا طالب علم کو  کتنا  کتنا وظیفہ بھیجنا  ہے۔ہدایات   سنتے ہوئے ان کا ذہن عمر کی طرف گیا  بابا جی ؓسے  کہا آپ اتنے لوگوں کا خیال رکھتے ہیں اپنے بھتیجے  عمرکے لئے بھی کچھ کریں بےچارہ بچہ  سماعت سے محروم  ہو گیا ہے پاکستان میں تو اچھا علاج  ہے نہ تعلیم  کا انتظام ہے۔باباجی ؓ نے وہیں ارشاد فرمایا کے وہ بچے کو لندن بلانے کا انتطام کریں   گے۔  ساتھ ہی بغیر  کسی تاخیر کے  بہرے بچوں کے لئے سکولوں کے بارے میں معلومات  حاصل کیں۔  ایک سکول مارگیٹ کینٹ انہیں  پسند آیا۔

The Royal School for Deaf Children Margate

عمر کو لندن بلانے کے لئے  انتطام شروع ہو گئے۔ سب سے پہلے انہوں نے  قانونی طور پر عمر کو اپنا بیٹا بنایا ۔ عمر  کو یاد ہے  کہ حضرت بابا جی  ؓ  ہمارے گھر آئے تھے۔ امی جان مجھے گود میں لے کر ان کے پاس آئی تھیں  ۔ وہ مجھے دیکھ کر مسکرائے تھے انہوں نے مجھے گود میں لیا تھا گلے سے لگایا تھا  ۔ ان کے پاس کاغذ تھے  میرے دائیں ہاتھ  پر سیاہی لگاکر کاغذ پر میرے انگوٹھے کا نشان لگایا تھا ۔ یہ میرے  پاسپورٹ بنانے  کی درخواست کے  کاغذات تھے۔ انہوں نے مجھے اپنا بیٹا بنانے کے لئے قانونی کاغذ بھی تیار کیا ۔  اس کے لئے چار روپے کے سٹامپ پیپر پر  انگریزی میں ایک معاہدہ  لکھا گیا۔

اس کاعبارت کا ترجمہ درج ذیل ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہ معاہدہ   فریق اوّل محمود نصر اللہ خان و امۃ الشافی  بیگم  اہلیہ محمود نصر اللہ خان جن کا تعلق مغربی پاکستان کے  علاقہ ڈسکہ کلاں ضلع سیالکوٹ  سے ہے اور فریق ثانی محمد ظفر اللہ خان جج انٹرنیشنل کورٹ  آف جسٹس ‘ ہیگ ہالینڈ  کے درمیان طے پایا ہے ۔پہلی پارٹی کا ایک بیٹا جس کا نام  عمر نصراللہ خان ہے  19 ستمبر1959 ء کو پیدا ہؤا تھاعمرکو چھ  مہینے کی عمر میں ٹائیفائڈ  بخار ہؤا تھا جس کے  بعد  وہ مکمل طور پر سماعت  سے محروم ہو گیا تھا ۔ جس کے اثر سے وہ بول بھی نہیں سکتا فریق ثانی شکراللہ خان مرحوم کا بڑا بھائی ہے جو  فریق اول کے ایک ممبر محمود نصر اللہ خان کے والد تھے۔فریق ثانی عمر نصر اللہ خان کی  دیکھ بھال پرورش تعلیم  اور زندگی میں  اسے سیٹ کرنے کی فریق اوّل سے بہت زیادہ  مناسب اور بہتر  استطاعت رکھتا ہےاس لئے  فریق ثانی پر  پورے اعتماد کے ساتھ کہ وہ  عمر نصر اللہ خان کو  پدرانہ شفقت اور محبت  فریق اوّل    بغیر کسی تردّد کے   پوری  رضامندی  کے ساتھ دیں گے ان کے حوالے کرتا  ہے۔  فریق ثانی کو  ملکیت  گارڈین شپ اور  ہر قسم کے پدرانہ حقوق   حاصل ہوں گے۔ اس معاہدے کی تاریخ سے فریق ثانی  عمر کے والد تصور کئے جائیں گے ۔اور  عمر ان کا بیٹا ہوگا فریق اول کو  عمر  پر اب کوئی حق دعوی  اختیار  ذمہ داری فرض  نہیں ہوگا۔فریق ثانی  اللہ تعالی کی مدد سے  اپنی بہترین کوشش سے عمر کے باپ کے سارے حقوق و فرائض  احسن طریق سے ادا کریں گے۔یہ معاہدہ   معتبر گواہان   کی موجودگی میں لکھا گیا  اور انہوں نے 21 دسمبر 1964 ء کو اس پر دستخط کئے۔

ظفر اللہ خان

محمود نصراللہ خان۔  ڈسکہ

امۃ الشافی بیگم

ادریس نصراللہ خان

اس کے ساتھ  سب رجسٹرار ڈسکہ کا ایک تصدیق نامہ بھی ہے  کہ معاہدہ فریقین اور  گواہان کو پڑھ کر سنایا گیا  اور انہوں نے رجسٹرار کے سامنے31 دسمبر 1964 ء کو دستخط کئے۔ اس پر حضرت چودھری صاحب ؓ کے ساتھ، محمود نصر اللہ خان، امۃ الشافی، ادریس نصر اللہ خان، مسعود نصر اللہ خان  کے دستخط ہیں۔

1964ء میں باباجی ؓ کے ایک بھتیجے مکرم  محمد نصر اللہ خان  عمر  کو اپنے ساتھ لے کر  انگلینڈ آئے۔  ایئر پورٹ سے ویسٹ لندنمکرم سعید باجوہ کے گھر گئے جہاں انکل سعید اور  ان کی بیگم   رہتی تھیں۔ ان کے گھر میں عمر کا پہلا قیام تھا۔میں نے عمر سے پوچھا  کہ آپ کو لندن آنا یاد ہے؟اس نے لکھ کر اور اشاروں سے بتایا  کہ   اچھی طرح یاد ہے۔ یہ پہلا گھر تھا جو انگلینڈ میں مَیں نے دیکھا  ۔  میرے لئے سب کچھ بہت مختلف تھا ۔ گھروں کی طرز تعمیراور  خالی خالی گلیاں  دیکھ کر عجیب سا لگتا ۔ ہر طرف گورے گورے لوگ نظر آتے تھے جو ڈسکہ کی طرح کے نہیں تھے۔ انکل سعید    جلسہ سالانہ کے موقع پر مسجد   فضل لے کر گئے جہاں  بہت سے لوگ تھے۔ اس وقت یہاں بہت سی عمارتیں نہیں تھیں پلاٹ خالی تھے 

سعید صاحب  ہی مجھے  مارگیٹ  کے رائل سکول لے کرگئے ۔یہ 1792 ءمیں قائم شدہ ’دی رائل اسکول فار ڈیف چلڈرن ‘‘کی ایک شاخ تھی  جو 1876 ءمیں مارگیٹ میں کھولی تھی۔ہیڈ ماسٹر صاحب کے  دفتر  میں  کاغذ دیئے پھر وہ دونوں مجھے دائیں بائیں سے میرا ہاتھ پکڑے ہوئے۔  ایک بڑی سی عمارت  میں  لے گئے جو بہت ہی شاندار نظر آرہی تھی۔ عمارت آرائشی پتھروں سے سجی  ہوئی  تھی اس کا   بڑا سا گیٹ تھا ۔ یہ  بہرے بچوں کا ہوسٹل تھا وہاں بہت سے بچے تھے  جو مجھے دیکھ رہے تھے۔ میں اس بات سے بہت گبھرایا  کہ مجھے یہاں رہنا ہوگا بچنے کی ایک ہی صورت تھی میں نے سعید انکل  سے ہاتھ چھڑایا اور پیچھے مڑ کر بھاگ کھڑا ہؤا۔  فرش پھسلواں تھا    میرے اس طرح یک دم ہاتھ چھڑانے سے دونوں اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکے    میں تیز بھاگتا ہؤا گرگیا اور چوٹ لگی ۔ آخر  انہوں نے مجھے  واپس دبوچ لیا۔ سعید انکل نے مجھے چپ کرانے کی کوشش کی مگر میں گھنٹوں روتا رہا ۔ مجھےہوسٹل میں رہنا  بالکل اچھا نہیں لگتا تھا۔

سکول میں میری ٹیچر کا نام مسز کاکس   تھا  یہ پہلی ٹیچر تھیں  جنہوں نے اشاروں کی زبان میں گنتی اور الفا بیٹ سکھائے ۔ ہم بچے اشاروں کے ساتھ  نرسری کے گیت گاتے تھے ۔ مجھے یہ زبان سیکھ کر اپنی بات سمجھانا آگیا تو اچھا لگنے لگا میں کلاس روم اور ہوسٹل میں بہتر محسوس کرنے لگا ۔ ایک بیلے ٹیچر تھیں  جو دو  سال ہمیں اپنے جسم کو مختلف طریق پر حرکت دینے  اور موڑنے کی مشق کراتی رہیں ۔  وہ ہمیں  بہت دیر ایک ہی پوزیشن میں رکھتیں ۔ بچے یہ سب پسند نہیں کرتے تھے ۔ ان کی شکایتوں کی وجہ سے اسے سکول چھوڑنا پڑا مگر ایک بات اس نے اچھی کی  وہ ہمیں لندن میں بیلے دکھانے لے گئیں۔ یہ ٹی وی سے بہت مختلف تھا  میں حیران تھا کہ وہ اپنے جسم کو کیسے استعمال کرسکتے ہیں اور جو چیزیں میں نے دیکھی ہیں اس نے میرے ذہن میں ایک نشان چھوڑ دیا ۔

وقت گزرنے کے ساتھ  کچھ کچھ دل لگنے لگا ۔ ایک دن میرے استاد مسٹر پگٹ نے کلاس روم میں طلباء کے سامنے  کہا کہ عمر اگلے سال پاکستان واپس جائے گا  مجھے بہت بُرا محسوس ہؤا۔میں نے کہا نہیں ‘نہیں ‘نہیں میں اس ملک میں ہمیشہ رہنا چاہتا ہوں۔انہوں نے  ہیڈ ماسٹر کو بتایا۔ ہیڈ ماسٹر نے بابا جی  کو بتایا کہ عمر یوکے میں رہنا پسند کرتا ہے با با جی بہت خوش ہوئے  انہیں اچھا لگا کہ میں ان کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں  برطانیہ کو پسند کرتا ہوں۔

میں ایک صحت مند مضبوط جسم کا لڑکا تھا ہوسٹل میں دوسرے لڑکے کبھی کبھی میرا مذاق اڑاتے تھے ۔  کیونکہ میرا رنگ ان سے مختلف  تھا ۔  میں انہیں پیٹ ڈالتا وہ جلدی سے زیر ہوجاتے اور روپڑتے ۔ میں ان سے کلائی پکڑ کر چھڑانے کا کھیل کھیلتا تو وہ ہار جاتے اور میری برتری تسلیم کرتے ۔

میں انکل سعید کے گھر کو ہی اپنا گھر سمجھتا تھا چھٹیوں میں وہاں رہنا مجھے پسند تھا  ان کے بچوں کے ساتھ کھیلتا تھا ۔ ایک انکل اقبال مرزا صاحب تھے جن کی بیگم کا نام   مسرت مرزا تھا۔ یہ میرے سکول کے پاس رہتے تھے اختتام ہفتہ  اور چھٹیوں میں  گھر لے جاتے۔

حضرت بابا جی یہ انتظام کرتے تھے کہ جب سکول میں  لمبی چھٹیاں ہوں اور ہوسٹل کے لڑکے اپنے اپنے  گھروں کو چلے جائیں تو مجھے بھی کسی فیملی کے ساتھ رکھا جائے تاکہ گھر کا ماحول ملے  اور مجھے اپنی فیملی کی کمی محسوس نہ ہو ۔  انکل سعید کے بعد مجھےانکل  اعجاز کے گھر بھیجا گیا ۔ان کی بیوی انگلش تھی اور مجھے ان کے تین بچوں کے ساتھ کھیلنا یاد ہے ۔ایک چھٹیوں میں   باباجی نے مجھے مکرم انکل بشیر رفیق کے گھر بھیج دیا ۔

عمرنے جب  انکل بشیر رفیق صاحب کا نام  لیا تو  مجھے خوشی ہوئی کیونکہ میں  اس مہربان  کی شفقت اور  متحمل مزاج  سے واقف تھی وہ تو اب اس دنیا میں نہیں رہے  اللہ تعالیٰ غریقِ رحمت فرمائے  ۔  ان کی بیگم مکرمہ سلیمہ صاحبہ  سے پوچھا   کہ   با باجی نے عمر کو ٹھہرانے کے لئے  آپ کا گھر کیوں منتخب کیا ؟ اور عمر کیسا بچہ تھا؟ انہوں نے بتایا کہ :

’’ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے کہ حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خان ؓہمیشہ ہم پر شفقت فرماتے وہ ہمارے خاندان کے بہت قریب تھے ۔ جب وہ ہیگ ہالینڈ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے صدر تھے جب بھی انگلینڈ تشریف لاتےہمارے ساتھ مشن ہاؤس میں ٹھہرتے تھے۔میرے شوہر کے ساتھ دوستانہ تعلق تھا بے تکلفی سے ایک  خاندان کی  طرح رہتے تھے ہمارے گھرانے کے ہر فرد سے پیار کرتے تھے ۔انہیں ہمارے بچوں سے بہت پیارتھا ان کو پسند کرتے تھے ۔ اغلباً یہی وجہ ہوگی کہ جب انہیں عمر کو اس کی چھٹیوں میں کسی کے گھر رکھنے کا خیال آیا تو انہوں نے ہمارا گھرانہ منتخب کیا  ۔ تاکہ عمر کو محبت کرنے والا خاندان اور اچھے بچوں کا ساتھ میسرآئے۔

مجھے یہ تو اچھی طرح یاد نہیں کہ جب عمر پہلی دفعہ ہمارے گھر آیا تو اس کی عمرکیا تھی چھوٹا بچہ تھا جیسے چھ سال کا ہوتا ہے ۔ اس وقت میرے اپنے تین کم عمر بچے تھے ان میں ایک  ایسے بچے  کا اضافہ ہؤا  جو  بات  سُن نہیں سکتا تھا اور اپنی بات بول کے بتا نہیں سکتا تھا۔ ہمیں  اشاروں کی زبان نہیں آتی تھی ۔ اورعمر کو ابھی لکھ کر بات کرنے کی مشق بھی نہیں تھی۔ اس کے باوجود ہم سب نے اسے محبت اور پیار  سے رکھا  عمر کی اپنی نرم مزاجی اور خوش طبعی کی وجہ سے وہ آسانی سے خاندان کا حصہ بن گیا۔ میرا بیٹے منیر  سے ’جو اس کا ہم عمر تھا ‘زیادہ دوستی ہو گئی ۔ عمر کا  خیال رکھنا اس نے خود پر فرض کرلیا    ان کی  دوستی آج تک قائم ہے ۔ ہم نے اپنے  بچوں  اورعمر میں کوئی فرق نہیں رکھا۔ وہ گھل مل کے رہتا تھا ہمیں اس کے ساتھ رہنا اچھا لگتا تھا  اسے بھی ہمارے ساتھ رہنا اچھا لگتا تھا۔ہمارے بچوں منیر اور اس کی بہنوں کو عمر سے بات کرنے میں  شروع میں میں کچھ دشواری ہوئی  مگر جلد ہی ساری جھجک دور ہوگئی ۔ اور وہ بڑی آسانی سے ایک دوسرے کو بات سمجھانے لگے ۔ مجھے یاد نہیں کہ ان میں کبھی کوئی مسئلہ ہؤا ہو  ان کو کھیلنے کے لئے ایک اچھا ساتھی مل گیا عمر تھا بھی بہت پیارا اور پیاری عادتوں والا بچہ  بالکل اجنبی نہیں لگتا تھا اب بھی وہ عمر کے ساتھ ہنسی خوشی مل جل کر کھیلتے تھے ۔ عمر نے مجھے کبھی مشکل وقت نہیں دیا ہر حال میں  خوش رہتا تھا اور خوش رکھتا تھا ۔ سب یادیں دلکش ہیں۔ اس کی معذوری اسے باقی بچوں کے ساتھ کھیلنے میں رکاوٹ نہیں  بنتی تھی۔ میں جب اس زمانے کو یاد کرتی ہوں مجھے ایک ہنستا مسکراتا خوش مزاج بچہ یاد آتا ہے ۔اسے اپنی معذوری سے احساس محرومی نہیں تھا ۔ اگر اسے کچھ دشواری ہوتی تو بچے اس کی مدد کرتے ۔ ہاں اس کو دیکھ کر میرے بچوں میں  اللہ کے شکر کا احساس پیدا ہؤا کہ انہیں ہر نعمت میسر ہے ۔ اور یہ بھی کہ اگر کسی میں کوئی  کمی دیکھیں تو اس کی مدد کریں۔وہ اپنی ضرورت سمجھا سکتا تھا لیکن اپنے جذبات بیان نہیں کرسکتا تھا اس لئے مجھے یہ کبھی اندازہ نہیں ہؤا کہ وہ اپنی فیملی کو یاد کرتا ہے یا نہیں ۔ایک وجہ تو یہ تھی کہ وہ بہت چھوٹاتھا جب پاکستان سے آگیا تھا اور اس زمانے میں رابطوں کی اتنی آسانیاں نہیں تھیں کہ  وہ اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے مل سکتا  اس لئے اس نے یہی سمجھ لیا ہوگا کہ یہی میری فیملی ہے  ۔کبھی کبھار منیر  کو بتاتا تھا کہ اس کی فیملی پاکستان میں ہے ۔  لیکن ایسا بہت کم ہوتا تھا کیونکہ وہ اتنا مثبت اور خوش مزاج بچہ تھا کہ اس نے اپنے خاندان کے بارے میں غم کا اظہار کم ہی کیا، بنیادی طور پر اس لیے بھی  کہ وہ ایسا کرنے سے قاصر تھا۔ حضرت چودھری صاحبؓ   عمر کے معاملات میں ذاتی دلچسپی لیتے تھے  ۔ کبھی جب وہ ان کے پاس ٹھہرتا  تو  ان کے پیار اور توجہ کی وجہ سے بہت خوش ہوتا آپؓ اسے فجر کے لئے اٹھاتے اور ایک ساتھ نماز پڑھتے آپؓ اسے اپنے پاس رکھنا پسند فرماتے تھے مگر مصروفیات  ایسی تھیں کہ وقت نہ نکال سکتے۔ زیادہ تر وقت ہالینڈ اور لندن کے درمیان سفر میں گزرتا ۔   چودھری صاحب بلا شبہ عمر کے بے حد چاہنے والے تھے اور اس کی زندگی میں بہت دلچسپی لیتے تھے اور اس کی  تعلیم اوراس کے سکون سے رہنے کا بہت فکر کرتے تھے ۔‘‘قدرتی طور پر میرا عمر سے اگلا سوال یہ تھا کہ انکل بشیررفیق  کے  علاوہ  آپ  چھٹیوں میں کہاں  کہاں  رہے؟عمر نے بتایا کہ’’میں کُل سات خاندانوں کے ساتھ رہا   ۔ میں ان کی باتیں سن نہیں سکتا تھا لیکن چہرے کو دیکھ کر بہت کچھ سمجھ جاتا  ۔ میں شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میرے لئے کچھ نہ کچھ کیا ۔   اللہ تعالیٰ ان کو اس کا اجر عطا فرمائے  آمین ۔پھر میں نے پوچھاآپ پہلی دفعہ پاکستان  کب گئے تھے  اپنے خاندان سے کیسے ملے تھے؟اکتوبر 1969 ءمیں میرے چچا مکرم اعجاز نصراللہ خان مجھے گیٹ وِک ایئرپورٹ لے جانے کے لیے سکول  سے  لینے آئے۔ باباجی نے میرا  پاکستان کے لیے ہوائی جہاز کا ٹکٹ خریدا تھا۔میں بابا جی کے ساتھ ہوائی جہاز میں سوار ہؤا ۔ میں سوچ رہا تھا  میری ا ماں کیسی       ہوں گی ؟راستے میں میں اپنی ماں کے چہرے کا تصور کر رہا تھا، جب میں لاہور ایئرپورٹ پہنچا  باباجی کی بیٹی امۃ الحئی اور  ایک خاتون نے میرا استقبال کیا جسے میں پہچانتا نہیں تھا ۔ مجھے اٹھانے والی خاتون مجھے گلے لگا کر رونے لگی ۔  اس نے مجھ سے اردو میں بات کی لیکن میں   ہونٹوں سے اردو    نہیں پہچان سکتا تھا  ۔  میں نے اس کا چہرہ نہیں پہچانا۔ یہ خاتون میری ماں تھی۔ آخری بار جب میں ان  کے ساتھ تھا جب میں چار پانچ  سال کا تھا، لیکن میں  جب واپس گیا تو میں نو سال کا تھا۔میں پاکستان میں اپنے خاندان کے ساتھ چار مہینے رہا  جو بہت خوشگوار تھے  ۔ میں وہاں  اچھا محسوس کرتا تھا اور اپنی ماں سے بار بار گائے کا دودھ مانگتا تھا۔ جب میں اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ کھیلتا تھا تو میں انگریزی الفاظ بولتا  تھا جس سے وہ ہنستے تھے۔میں اپنے بھائی اسد کے ساتھ باباجی کے گھر گیا وہاں اور بھی بچے تھے آپؓ نے  سب  بچوں سے دعائیں اور نماز سنی مگر میں ان میں کمزور تھا ۔  مجھے نماز پڑھنی بھی ٹھیک سے نہیں آتی تھی ۔میں  بچپنے کی وجہ سے کسی بات پر  نماز کے دوران ہنسنے لگا۔بابا جی نے کسی کو کچھ کہنے نہیں دیا  سب کو بتایا  کہ  یہ سن نہیں سکتا اس لئے غلطی ہوئی ہے۔

تعلیم کیسے حاصل کی؟

ہمارا سکول بہت اچھا تھا۔ سکول اور ہوسٹل میں ہمیں  نظم و ضبط سکھایا جاتا اور ایسے ہنر سکھائے جاتے جو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں مدد دیں ۔ سکھایا بہت کچھ جاتا مگر آخر میں   ہر طالب علم اپنی پسند کے مطابق  کوئی کام منتخب  کرلیتا۔ میں  نے لکڑی کے کام میں زیادہ دلچسپی لی۔لکڑی تراش کر مختلف چیزیں بنانا مجھے اچھا لگتا۔

میری تعلیم 1979ء میں مکمل ہوئی میں نے   سی ایس ای گریڈ فور اور آرٹ اینڈ کرافٹ ووڈ میں  گریڈ 1 حاصل کیا،  اور مارگیٹ کے بورڈنگ اسکول میں لکڑی کے کام میں انعام حاصل کیا۔ مجھے میرے سکول کی طرف سے لکڑی کے کام  میں تین سال کا کورس مکمل کر نے پر ووکیشنل ٹریننگ سرٹیفیکیٹ ملا۔ جس کے ساتھ ایک تعریفی تحریر بھی تھی  کہ میں نے لکڑی کے کام خاص طور پر کیبینٹ بنانے کی ٹریننگ عمدگی سے مکمل کی ۔اس پر لکھا تھا :’ عمر ایک با اخلاق‘ با ضمیر‘ محنتی اور کام میں دلچسپی لینے والا شاگرد تھا ۔ اس میں کام میں نئی اختراعوں کی صلاحیت ہے۔ کئی خوب صورت شاہکار بنائے ہیں۔ عمر کو اگر مناسب ماحول مہیا کیا جائے تو بہترین ورکر ثابت ہوگا ۔ ہم اسے یاد رکھیں گے اس کے بہترین مستقبل کے خواہش مند ہیں۔

’1997ء میں  T0ROGOOD  Ltd. TALWORTH ٹالورتھ میں کارپینٹر کے طور پر  ملازمت کا آغاز کیا۔ دسمبر 1980 میں میں ایک دفعہ پھر پاکستان گیا۔ میری  بہن  امۃ الجمیل، اس کے شوہر مکرم چودہری امتیاز اور ان کے بچے ایاز   لیبیا سے آئے تھے۔ اور مجھے ساتھ لے کر پاکستان گئے تھے ۔  اس وقت میرے والدین لاہور میں رہتے تھے لیکن مجھے ڈسکہ شہر  دکھانے کے لئے لے گئے تھے ۔میں نے 1983ء میں  ڈرائیونگ کا امتحان پاس کر لیا  سماعت سے محروم کے لئے یو کے میں یہ امتحان پاس کرلینا بڑی بات تھی  لوگ حیران ہوئے کیونکہ وہ سوچ نہیں سکتے تھے کہ  ایک ڈیف    لڑکا اچھا ڈرائیور ہو سکتا ہے۔

باباجیؓ کی  کون سی  باتیں یاد ہیں؟

مجھےاپنے ہنر سے باباجی کے لئے کچھ کام کرنے کا موقع ملا۔جب وہ مسجد فضل  والے فلیٹ سے  کنگسٹن میں چچا انور کے گھر کے پاس کرائے کے فلیٹ میں اپنے نواسے  محمد کے ساتھ  منتقل ہو رہے تھے تو میں نے وہاں لکڑی کا کام کیا تھا ۔ باباجی نے مجھے سیرت نبوی پرایک کتاب دی  تھی۔ وہ ہمیشہ مجھ پر مہربان تھے اشاروں سےبات کرنا نہیں جانتے تھے لیکن میں ان کا چہرہ پڑھ سکتا تھا وہ بہت خوب صورت مسکراتے تھے۔ مل کر خوش ہوتے تھے چچا انور نے مجھے بتایا کہ باباجی کہتے  تھے عمر بہت اچھا ہے خوش شکل ہے۔ وہ کئی دفعہ سفر کرکے برطانیہ آتے تھے اور مجھے ملتے تھے  ۔سکول میں سب طالب علموں کی فیس شہری انتظامیہ کی طرف سے دی جاتی جبکہ میری  سالانہ فیس بابا جیؓ خود ادا کرتے تھے ۔تربیت کا خیال رکھتے تھے ایک دفعہ میری قمیض کے اوپر کے بٹن کھلے تھے تو آپ نے پسند نہیں فرمایا۔ آپ  پسند کرتے تھے کہ آستین کے بٹن بند ہوں اور بال مناسب کٹے ہوئے اور سیٹ ہوں۔  آپ مجھے بہت یاد آتے ہیں  آپ کا مجھ پر بہت احسان ہے اگر وہ مجھے لندن لانے کا فیصلہ نہ کرتے تو میری زندگی مختلف ہوتی ۔میں خوش ہوں کہ میرا تعلق اس عظیم شخصیت سے ہے ۔ اس تعلق نے مجھے عزت دی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو بہت جزا دے ۔ آمین پیسے کا اس سے بہتر استعمال کیا ہے؟

مکرم انور کاہلوں نے اپنی کتاب Zafarullah Khan My Mentor کے صفحہ 89تا 90پر عمر کے حضرت باباجی کی سرپرستی میں آنے کا

واقعہ اس طرح لکھا ہے:

“بابا جی کے بھتیجے، محمود نصراللہ صاحب کا دوسرا بیٹا عمر ایک بیماری کی وجہ سے بچپن میں ہی بہرا ہو گیا۔ ایک بہت ہی خوبصورت صحت مند بچہ بے کار ہو جاتا  کیونکہ پاکستان میں اس کی مناسب تعلیم کا کوئی انتظام نہیں تھا۔مگراسے اپنے بڑوں کی توجہ اور بے شمار محبت حاصل ہوگئی اور وہ کسی بھی طرح محروم نہ رہا۔ وہ  ایک بے کار  سا لڑکا چھوکرا بن  جانے سے بچ گیا ۔ 1964ء کے لگ بھگ، ایک جمعہ کی دوپہر نماز جمعہ کے بعد، بابا جی اور میں ایک پارک میں معمول کی چہل قدمی کر رہے تھے۔ میں نے ان  سے کہا، ”آپ بڑی تعداد میں طلبہ کی تعلیم کے لیے مالی امداد کرتے ہیں۔ آپ کی طرف سے، میں ہر ماہ قریباً پچیس طلباء کو وظیفہ بھیجتا ہوں  ۔ کیاآپ  اپنے بھائی کے پوتے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے جو گونگا بہرا ہے؟‘‘ انہوں نے بڑے جوش سے جواب دیا کہ وہ اس کی ضرور  حتی المقدور  مدد کریں گے  ۔   اور وہ مدد کے لیے اتنے بے چین ہو گئے  کہ کام کا آغاز کرنے کے لئے  اگلے ہفتے کا انتظار  کرنا مشکل ہو گیا  ۔ پیر کی صبح وہ اسے لندن بلانے کے انتظامات کے لئے  لندن میں ہائی کمیشن سے رابطے میں تھے۔دوپہر تک انہوں نے ریمسگیٹ میں سننے اور بولنے سے معذور بچوں کے اسکول میں داخلے کا انتظام کر لیا تھا۔ میرے والد صاحب کوایک تار موصول ہوا کے عمر کو لندن بھجوانے کے لئے فوری انتظامات کئے جائیں۔  محمد جو بابا جی کے بھائی مکرم عبداللہ خان  کے بڑے  بیٹے تھے عمر کو لندن لے گیے ۔اس کے سکول کی  فیسیں غیرمعمولی طور پر زیادہ تھیں جس نے  مجھے  پریشان کر دیا۔  با با جی سے ذکر کیا تو فرمایا “پیسے کا اس سے بہتر استعمال کیا ہے؟” عمر نے اپنی تعلیم رامس گیٹ میں مکمل کی اور پھر بابا جی اور میں اسے لے کر مانچسٹر چلے گئے، جہاں رشید بھٹی صاحب کی مدد سے اسے جوائنری ٹریننگ کالج میں داخل کرایا گیا۔ اس کورس کو کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد وہ واپس لندن چلا گیا۔ بابا جی اور میں اس کے ساتھ ملازمت کے انٹر ویوز کے لئے گئے اس  نے  کئی جگہ کام کیا ہر  ملازمت  پہلی سے بہتر ہی ملی ۔ لندن میں مسجدفضل کے قریب  باباجی کی بہن کے ایک پوتے فیاض کاہلون نے عمر کے لیے ایک بیڈ روم کا فلیٹ خریدنے کا بندوبست کیا جس کے لیے بابا جی نے ابتدائی پچیس فیصد رقم ادا کی”

(انگریزی سے  ترجمہ)

حضرت بابا جی   نے اپنا وعدہ پورا کردیا ۔ عمر کی والدہ کے نام  مکتوب

لندن 24 ستمبر 1979ء

عزیزہ امۃ الشافی ۔السلام علیکم  ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

عزیز عمر سلمہ ربہ 2 ستمبر کو لندن آگیا تھا   اور عزیز انور احمد کے  ہاں ٹھہرا ۔ میں نے آپ کو لکھا تھا کہ 3 ستمبر کے جلد بعد  آپ کو اس کے پروگرام کی اطلاع  دوں گا میرے لکھنے میں تاخیر اس  دجہ سے  ہوئی  کہ عزیز  کے یہاں پہنچنے کے بعد اسے کئی سرکاری اور غیر سرکاری  محکمات میں اپنا نام درج کرانا پڑا ۔ اور بول چال کی مشق  کے ادارے میں  بھی داخلہ لینا تھا  ۔ اب جاکر بفضل اللہ  یہ سلسلہ مکمل ہؤا ہے۔بول چال کے ادارے میں داخلہ لینے کے بعد عزیز ایک بار کلاس میں حاضری بھی دے چکا ہے۔ ہفتہ میں ایک بار (جمعرات کی شام کو) اسے کلاس میں جانا پڑتا ہے ۔ پہلی بار کلاس ختم ہونے  پر استاد نے بتایا  کہ عزیز تمام کلاس میں  سب سے  زیادہ شوق اور توجہ سے   کوشش کرتا ہے اور انشاء اللہ جلد جلد ترقی کرے گا ۔ فالحمدللہ۔ عزیز  اب کلاس سے باہر بھی توجہ کرتا ہے  ۔کام پر لگنے کے لئے عزیز کو متعلقہ محکمے    کے تعاون کے نتیجہ میں   دو جگہ آزمائشی طور پر   کام شروع کرنے کی پیش کش  کی گئی تھی۔ جس  جگہ کو عزیز نے ترجیح دی تھی وہاں   بفضل اللہ آج سے کام شروع کردیا ہے۔ عزیز نے کام کے متعلق بھی بہت شوق کا اظہار کیا ہے  اور امید ہے کہ  انشاءاللہ  آزمائشی کام کے بعد  اے مستقل طور پر کام پر لگا دیا جائے گا ۔  آپ دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحم سے عزیز کو  ہر پہلو سے اعلیٰ کامیابی عطا فرمائے۔ آمین۔

عزیز اپنی عمر کے لحاظ سے  بھی تعلیم اور تربیت  کے مراحل کی  تکمیل کے لحاظ سے  اب بفضل اللہ  اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے  کے قابل ہوچکا ہے۔ مستقل طور پر کام میں لگ جا نے پر مالی  طور پر بھی بفضل اللہ محتاج نہیں رہے گا ۔ اور اپنا پروگرام اور اپنے  مشاغل  خود طے کرنے کے قابل ہوگا  ۔ اللہ تعالیٰ اپنے  فضل و رحم   سے  اسے گویائی  کی قابلیت  بھی عطا فرمائے تو دینی تربیت  کے لحاظ سے جو خالی مجبوراً رہ گئی ہے اسے پورا کرنے کی کوشش    کی جائے گی۔ واللہ المؤفق

اس وقت یعنی کل شام سے  اس کی رہائش کا انتظام  اس کے کام کہ جگہ سے بالکل قریب  محترم  جناب افضل ترکی صاحب  کے ہاں کیا گیا ہے ۔ ترکی صاحب عزیز محمود  نصراللہ کو اچھی طرح جانتے ہیں پاکستان آنے کے متعلق  ایک مہینے  کے  بعد عزیز خود فیصلہ کرے گا ۔ اللہ تعالیٰ سب کا حافظ  و ناصر ہو ۔ آمین

والسلام ۔ خاکسار

خاکسار۔ ظفر اللہ خان

ایک دوسرے خط میں تحریر فرمایا

لندن  ۲۷ ۔اپریل ۱۹۸۱ ء

عزیزہ امۃ الشافی ۔السلام علیکم  ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

عزیز عمر کے لئے بہتر کام کے  متعلق  عزیز انور احمد اور فیاض احمد  متواتر  توجہ کرتے  ہیں ۔ اللہ تعالیٰ  اپنے فضل و رحم سے بہتر کام میسر  کردے آمین ۔ اس  ملک میں اس وقت  بہت  لوگ بے کار ہیں ۔ عزیز عمر بہت  خوش قسمت ہے کہ  کچھ کام تو ملا ہؤا ہے ۔ حالات بہتر  ہونے پر انشاء اللہ  ۔ اس کے لئے بھی بہتر کام میسر آجائے گا۔

عزیز انور احمد  جس ڈاکٹر کے پاس  عزیز  عمر کو لے کر جاتے  رہے وہ ایک خاص فن کا ماہر ہے ۔ یہ ایک تجربہ تھا جس سے فائدے کی  امید ہو سکتی  تھی ۔ لیکن وہ امید پوری نہیں ہوئی۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ کوئی اور رستہ بہتری  کا کھول دے۔ ھو المستعان وھو علیٰ کل شئی قدیر

میں آپ سب کے لئے دعا کرتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحم سے  آپ سب کو اپنی حفاظت میں رکھے ۔ سب پریشانیاں دور کرے اور دینی اور دنیاوی سر فرازیوں  سے نوازے ۔ آمین ۔ سب کو میرا سلام پیار

والسلام ۔ خاکسار

خاکسار۔ ظفر اللہ خان

عمر ہمارے خاندان کا حصہ بنا 

 اب عمر کی کہانی  کا دوسرا حصہ  بیان کرتی ہوں ۔ کہ کس طرح  یہ  ہمارے خاندان کا حصہ  بن گیا۔ ہماری  بھی  ایک  بیٹی  امۃ الصبور ایک سال   کی عمر میں شدید  بخار کے بد اثر  سے  سماعت سے محروم ہوگئی تھی  ابھی  اس نے کچھ الفاظ بولنے شروع کردئے تھے اس لئے  بولنے کی صلاحیت  تو  موجود تھی  مگر کان میں الفاظ جاتے تو بولتی     بعد میں ہونٹوں کی حرکات سے الفاظ سمجھنے اور ادا کرنے کی مشق ہو گئی۔ کافی حد تک مافی الضمیر ادا کرلیتی۔ اس کی پرورش ‘علاج اور تعلیم  کے صبرآزما مراحل کا ذکر چھوڑ کر اتنا بتا دیتی ہوں کہ اس نے پورا قرآن مجید پڑھا تھا ۔ میٹرک  میں اپنے  بورڈ میں فرسٹ پوزیشن  لی تھی  اور فائن آرٹس کالج سے دو سال  ٹریننگ لی تھی ۔ خوب صورت پینٹنگز بناتی تھی ۔  کپڑوں کی سلائی  کے کورسز بھی کئے تھے۔ ایک صلاحیت کم تھی تو دوسری تیز ہو گئی تھیں۔

ہمیں اکثر یہ خیال آتا کہ  اس کا مستقبل کیا ہوگا اگر کوئی رشتہ ملا بھی تو کوئی چھوٹے موٹے کام کرنے والا  ادھورا سا انسان ہوگا۔  ہماری زندگی کب تک ہے اس کا کیا بنے گا ؟ صبورکو گھر میں  اللہ کے کرم سے آسائش کا ماحول ملا تھا اور طبعا ًبھی بہت نفاست پسند ہے۔ اس کے  لئےہماری   منصوبہ بندی  کے دائرے یہاں تک پہنچے کہ  ہم اسے سلائی کا سکول کھول دیں گے  تاکہ اپنا خرچ چلا سکے  یا ہم اس کے نام کوئی جائیداد کر دیں گے ۔  جس کی آمد  اسے ملتی رہے ۔خود کو اکیلی بے سہارا محسوس نہ  کرے۔ پھر یہ ہؤا کہ اس سے بڑی بہن کی شادی ہوگئی بڑے  بھائی کا رشتہ ہو گیا   تو فکر ہؤا  کہ اب  یہ سوچے گی کہ اس کی باری ہے۔ اللہ پاک سے ہی فریاد کی اور اس مسئلے کا حل مانگا  بچی کو  بھی دعا ئیں سکھائیں  اس آس پر کہ معصوموں کی دعا جلدی قبول ہوتی ہے۔ اللہ تبارک تعالیٰ  کے  رحم کو کھینچ لاتی ہیں۔ قادرو توانا خدا  کے کام نرالے ہوتے ہیں ۔ بار بار اس کی رحمتوں کے نظارے دیکھتے ہوئے بھی   کمزور عاجز بندے فکر کرنا شروع کردیتے ہیں۔ مالک کُل اپنے وقت پر مرادیں عطا فرماتا ہے۔ ابھی آرٹس کالج میں   تھی کہ  ایک مہربان نے   لندن  میں  عمر کا رشتہ بتایا ۔ ماشاء اللہ اچھا خاندان ‘  تعلیم یافتہ   ‘ہنر مند ‘خوش مزاج‘ خوش شکل لڑکا جو پیدائشی  طور سےنہیں بلکہ بیماری کے نتیجہ میں سماعت سے محروم   ہؤا تھا ۔دل کو اچھا لگا۔ اللہ پاک سے دعا شروع کی اور  مشورے اور دعا کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی خدمت میں درخواست کی۔آپ نے روحانی باپ کی طرح اس کام کو اپنا سمجھ کر کیا۔ ۳  دسمبر ۱۹۹۲ ء کے مکتوب میں  تحریر فرمایا:

“عزیزم عمر نصر اللہ خان کو پہلے بھی جانتا تھا ۔اب باقاعدہ رپورٹ منگوائی ہے دعا کر کے تسلی ہے تو کر لیں۔خاندان بھی اچھا ہے۔آپ کی رؤیا بھی مبارک ہے ۔لڑکا بھی ہمیشہ سے شریف النفس،قابل اور خود اعتماد ہے اللہ تعالیٰ مبارک فرمائے۔‘‘

اُسی  تاریخ  کے ایک دوسرے خط پر دستِ مبارک سے تحریر فرمایا:

’’عمر نصر اللہ کے متعلق میں نے الگ پیغام بھجوادیا تھا کہ ماشاء اللہ اچھا لڑکا ہے۔ دین و دنیا ہر لحاظ سے درست ۔اللہ کرے یہ رشتہ طرفین کے لئے دونوں جہان کی حسنات کا حامل ہو اور آپ کے لئے بھی ہمیشہ آنکھوں کی ٹھنڈک بنا رہے ۔آمین۔‘‘

عمر کے والد صاحب نے بھی  رشتے کے بارے میں مشورے  کے لئے    پیارے حضورؒ کو لکھا  آپ نے انہیں خوشی سے اجازت دی تحریر فرمایا:

آپ کا خط ملا جس میں آپ نے عزیزم عمر نصر اللہ کے رشتہ کے بارے میں لکھا ہے ۔ قریشی ناصر صا حب کی ساری فیملی کو میں اچھی طرح جانتا ہوں ۔ نہایت مخلص اور نیک خاندان ہے  بچی بھی بہت اچھی اور سلجھی ہوئی ہے۔  میرے خیال میں تو اچھا ہے لیکن پھر بھی تلقین کرتا ہوں  کہ دعا اور استخارہ کرکے شرح صدر ہو تو پھر فیصلہ کریں  عالم الغیب والشہادہ خدا ہی  بہتر جانتا ہے اسی سے رہنمائی حاصل کرنی چاہئے تاہم ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ اچھا رشتہ ہے  اللہ کرے کہ فریقین  کے لئے دونوں جہانوں میں  بہتر ثابت ہو ۔ خدا حافظ و ناصر۔

حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ؒ کے ساتھ عمر اور اس کے والد چودھری محمود نصراللہ خان صاحب

ایک دوسرے خط میں  تحریر فرمایا:    

مکرم ناصر احمد صاحب کی بیٹی کا  رشتہ بھی بہت مبارک  رشتہ ہے ۔ الحمدللہ ۔  آپ اللہ پر توکل رکھتے ہوئے قدم اٹھائیں ۔ اللہ ہر جہت سے  مبارک فرمائے ۔ اور سچی خوشی  عطا فرمائے اور دونوں کو ایک دوسرے کے لئے  باعثِ سکون و راحت بنائے  اور اپنے بے شمار فضلوں سے نوازے  سب محرومیوں کو دور فرمادے  اور اپنی رضا کی راہوں پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین

ہم نےاس رشتے کو الہی تصرف  سمجھ کر قبول کر لیا  ۔حسن اتفاق  سے کچھ ہی دن پہلے ہی    صبور نے ایک  خواب دیکھا تھا   کہ یورپ سے ایک رشتہ آیا ہے ۔ اُس نے حلیہ تک بتا دیا  تھا۔  اور جو بتایا تھا سب اسی طرح تھا۔ ایسا لگا کہ یہ  سارا سامان آسمان  سے ہؤا تھا ۔سب کچھ جیسے معجزہ تھا۔

ناصر احمد قریشی۔ منصور احمد قریشی۔عمر نصر اللہ خان۔ امیر جماعت کراچی چودھری احمد مختار مرحوم ۔ چودھری رشید احمد

عمر ہمارے گھر آیا تو خوش کردیا بہت اپنائیت اورپیار محبت  سے ملا ایسے لگا ہمارے گھر کا ہی فرد ہے۔ اور رشتہ طے ہوگیا ۔ عمر کے محترم والدین بھائی بہن جن سے بھی ملاقات ہوئی    بہت اچھے لگے۔ کراچی میں شادی ہوئی شادی پر ان کے خاندان کے معزز  افراد سے ملاقات   سے عزت  افزائی محسوس ہوئی  ۔ اللہ پاک کا شکر ادا کرتے ہوئے بچی کو رخصت کیا ۔

دوسرا مرحلہ اس کے لندن جانے کا تھا  ۔   لوگوں نے  اپنے تجربات سے خبردار کیا کہ صبور کو لندن لے جانے میں مشکل مراحل درپیش ہوں گے  کئی سال لگ سکتے ہیں کئی مہربانوں نے غیر قانونی رستے بھی بتائے   جو دل کو نہ بھائے ۔ ہمیشہ کی طرح اللہ کا کرم ہؤا ویزا آفس میں مجاز افسر نے صرف ان  دونوں کو انٹر ویو کے لئے کمرے میں  بلایا ۔ اور ان سے سب معلومات لے کر اسی وقت  ویزا دے دیا۔ دونوں ایک ساتھ لندن روانہ ہوگئے۔ جان سے پیاری بچی کو سمندر پار رخصت کردیا  تو یہ اندیشہ جان کھانے لگا کہ باقی بچے تو فون پر بات کر لیتے ہیں اس کے ساتھ رابطہ کیسے ہوگا؟ اللہ تعالیٰ کا  احسان   دیکھئے کہ عمر کے فلیٹ  کے برابر   میں اور اُوپر والے فلیٹ میں  دو بہت ہی مہر بان رشتہ دار خواتین  رہتی تھیں دونوں نے اس کا بہت خیال رکھا۔ میری بھتیجی مکرمہ مدثر عباسی اور  ناصر صاحب کی بھتیجی مکرمہ  امۃ القدوس احمد  نے بھی  بہت  ساتھ دیا ۔ خیریت کی اطلاع کا مسئلہ فیکس مشین سے حل ہو  گیا ۔سب اس کے ساتھ بہت محبت سے پیش آتے۔ سب سے بڑھ کرلندن میں پیارے  حضور نے بہت  پیار دیا ۔ عمر کی والدہ صاحبہ کے نام مکتوب میں  تحریر فرمایا:

’’عزیزم عمر کی شادی پر بہت خوشی ہوئی ہے  اللہ نے بہت اچھی جگہ رشتے کا انتظام فرمادیا ہے۔ خدا دونوں خاندانوں  کو یہ خوشی نصیب فرمائے  دلہا دلہن کو پیار  اور مبارکباد پہنچادیں‘‘

جب اس کے ہاں پہلا بیٹا ثمر نصراللہ خان  پیدا ہؤا  تو آپ بچے کو دیکھنے اس کے گھر تشریف لائے عمر کے  محترم  والدین وہیں تھے ان کے ساتھ تصاویر بنیں   بچے کو بھی گود میں لیا   اور اُسی دن خاکسار کو ایک مکتوب دستِ مبارک سے تحریر فرمایا

’’آج میں آپ کا نواسا دیکھنے آپ کی بچی کے گھر گیا تھا۔ بہت مزہ آیا ۔ماشاء اللہ دونوں بہت ہی خوش ہیں اور اپنے اپنے آرٹ سے اپنا گھر سجایا ہوا ہے۔اب جو مشترکہ آرٹ کا نمونہ بیٹے کی صورت میں تخلیق ہوا ہے۔وہ ماں باپ دونوں کی دلکش آمیزش سے تخلیق پایا ہے۔‘‘

صبور کے ہاں دوسرے بیٹے  نصر نصر اللہ خان کی پیدائش پر مولا کریم نے میرے لندن جانے کا سامان کردیا یہ  سفر بہت ہی مبارک ثابت ہوا   ۔ پیارے آقا اور عزیزوں سے ملاقات ہوئی  ۔ بچے  کو حضور انور ؒ کے آفس لے گئی آپ نے گود میں لے کر دعائیں دیں ۔  صبور اور عمر کی  ہر لحاظ سے ہم آہنگی دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے ۔  جیسے ایک دوسرے کے لئے بنے ہوں ۔ایک دفعہ میں نے دونوں کو بٹھا کر نئے علاجcochlear implantکے بارے میں بات کی  تو دونوں نے انکار کردیا انکار کی وجہ یہ بتائی کہ ہم ایسے ہی ٹھیک ہیں اگر ایک سننے لگا اور دوسرے کو فائدہ نہ ہؤا تو ہم ایک سے نہیں رہیں گے ۔ ان  کا اپنے جیسے  دوستوں  ملنے جلنے والوں کے ساتھ زیادہ رابطہ رہتا ہے۔

لندن میں سماعت سے معذور لوگوں کے لئے کئی قسم کی سہولتیں میسر ہیں ، مثلاً کال بیل بجائیں تو بلب آن ہو تا ہے، اسی طرح بچے کے رونے کی آواز پر بھی روشنی کے ساتھ بستر کے نیچے رکھے آلے سے تھر تھراہٹ محسوس ہوتی ہے ۔ سماعت سے محروم ماں  باپ کے لئے بچے پالنا انتہائی دُشوار کام ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے خود ہی اپنے فضل و احسان سے اس کی رہنمائی  فر مائی ۔ ہمیں یہ ڈر تھا کہ ماں باپ دونوں ہی ڈیف ہیں تو بچے بولنا کیسے سیکھیں گے ۔ شروع میں آڈیو کیسٹس بھر کے بھجوا تے رہےکہ کمرے میں لگا دیا کرے ۔ الفاظ سے شناسائی ہو  ۔ بچے سکول جانے لگے اردو اور انگلش دونوں زبانیں بولنے اور سمجھنے لگے۔ صبور اکثر یہ پوچھ کر رُلا دیتی   تھی کہ جو میرے بچے بولتے ہیں یہ وہی ہے جو آپ سب بولتے ہیں اور ان کی آواز کیسی ہے؟ اس نے قرآن پاک پڑھانے کے لئے بھی بہت کوشش کی ۔ سکول میں  ٹیچرز کو علم تھا کہ بچے گھر پر ہوم ورک نہیں کر سکیں گے وہ لکھ کر کام دیتیں صبور باقاعدگی سے ہر کام چیک کر کے بچوں کو پڑھنے کے لئے بٹھاتی  اللہ پاک نے بچوں کو ذہین بنایا ۔ دونوں بچے    ماشاء اللہ پڑھائی میں اچھے ہیں۔ یہ خود بھی  انگلش کے   کورسز کے لئے  کالج جاتی  رہی ہے۔

اللہ پاک کا شکر ہے کہ اس گھرانے کی طرف سے سکون کی خبریں آتی ہیں ۔دونوں نمازوں کی پابند  ہیں  روزے رکھتے  ہیں ۔ نماز  جمعہ اور  تراویح وغیرہ کے لئے مسجد حاضر ہو تے ہیں  چندے میں باقاعدہ ہیں ۔ پہلے ان  کا گھر مسجد فضل کے قریب تھا اب بیت الفتوح  کے قریب ہے ۔ خدا کے فضل سے وصیت بھی کر لی ہے اپنے حلقے میں سب سے ملنا جلنا رہتا ہے ۔ صبور  قرآن کلاس میں بھی جاتی ہے  ۔ الحمدللہ

مکرمہ صدر صاحبہ لجنہ یوکے کی فرمائش پر بیت الفتوح میں لجنہ کی لائبریری کی الماریاں   عمر اور صبور نے  ساتھ مل کر بنائیں  ۔جو حضور انور نے ملاحظہ فرمائیں ۔ اس  پر صدر لجنہ یو کے سے حسن کار کردگی کا سر ٹیفکیٹ بھی ملا۔ صبور کو  جلسہ سالانہ کے موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس  ایدہ اللہ تعالی سے میٹرک میں اول آنے پر تعلیم کا  گولڈ میڈل بھی ملا۔ الحمدللہ۔

امتہ الصبور کی بنائی ہوئی ایک پینٹنگ

تحدیث نعمت کے طور پر عمر کی  فرشتہ صفت والدہ مکرمہ امۃ الشافی مرحومہ کا ذکر کروں گی ۔ صبور کو  سسرال میں عزت اور پیار ملنے میں ان کی معاملہ فہمی ‘ تحمل اور میٹھی طبیعت کا بڑا ہاتھ ہے فجزاھم اللہ تعالیٰ احسن  الجزا

ہم اپنے رب کی کس کس نعمت کا شکر ادا کریں اُس نے اپنے کرم سے ہمارا گھر  اپنی نعمتوں سے ۔ بھر دیا ہے۔  یہ سفر مشکل تھا مگر اللہ پاک کی غیر معمولی رحمت  سے اسے مشکل کہنے میں بھی  جھجک   ہوتی  ہے  شکر  اور صرف شکر  لازم ہے ۔مولا کریم  ان دونوں پیاروں کو او ران کے  بچوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے ماشاءاللہ دونوں بچے ذہین اور خوش اخلاق ہیں   ۔ اللہ پاک  خود  ان کا متکفل اور مربی ہو۔  بزرگوں کی   متضرعانہ   دعائیں  رحمتیں بن کر قدم قدم  پر ساتھ رہیں۔ الحمدللہ رب العالمین۔

عمر اپنے بیٹوں ثمر اور نصر کے ساتھ

؎ سَر سے پا تک ہیں الٰہی ترے اِحساں مجھ پر

مجھ پہ برسا ہے سَدا فضل کا باراں تیرا

کس  زباں سےمَیں کروں شکر کہاں ہے وہ زباں

کہ مَیں ناچیز ہوں اور رحم فراواں تیرا

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *