انٹرویو: سید قمر عباس ہمدانی
تحریر و تحقیق: عیشا صائمہ۔ نمائندہ ہفت روزہ لاہور انٹرنیشنل
یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
زندگی صرف خود جیے جانے کا نام نہیں بلکہ اسے بامقصد بنا کر جینا کمال ہے بہت کم لوگ ایسے ہوتےہیں جواپنےعلاوہ کسی کا سوچتے ہیں اور ان کی تاریک راہوں میں روشنی کا مینار بن کر ان کی زندگی کو منور کر دیتے ہیں ایک ایسی ہی شخصیت جنہوں نے جھنگ میں آنکھ کھولی اور اپنے شہر سے محبت کے تقاضوں کو یوں نبھایا کہ خود اعلی تعلیم حاصل کی پھر ادب سے منسلک ہوئے ایک ادارے کی بنیاد رکھی تاکہ اس شہر کے نوجوانوں کو نہ صرف تعلیم میں آگے آنے کا موقع ملے بلکہ جو نوجوان تخلیقی صلاحیتیں رکھتے ہیں وہ ان کے ساتھ منسلک ہو کر ادب کی ترویج و ترقی میں اپنا کردار ادا، کر سکیں یہ کہنا بجا ہو گا ایسے ہی لوگ اپنے ملک کا نام روشن کرنے میں پیش پیش ہوتے ہیں –
قمر ہمدانی عرصہ ٢۵ سال سے علمی ،ادبی اور فلاحی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ فروغ ادب کے حصول کیلئے انہوں نے عالمی سطح پر اپنا بہترین کردار ادا کیا۔
آپ نے ١٩٩٦ میں دریچہ ادب پاکستان کی بنیاد رکھی جس کو عالمی سطح پر بہت شہرت حاصل ہوئی ۔ انہوں نوجوانان کی ادبی صلاحیتوں کو نکھارنے اور ادبی تخلیقات کو منظر عام پر لانے کے لئے اپنا عمدہ کردار ادا کیا ۔
پاکستان بھر میں دریچہ ادب کے یونٹس قائم کیے تاکہ نوجوانوں کو اپنی ادبی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور اپنی ادبی تخلیقات کو منظر عام پر لانے کے لئے بہترین مواقع مل سکیں اس کے علاوہ مستحق طلباوطالبات کی مالی امداد بھی ہو سکے –
ان کی تنظیم کا مقصد ان مستحق شعراء کرام کی مالی معاونت بھی ہے جو صاحب کتاب ہیں اور مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اپنی کتب منظر عام پر نہیں لا سکتے اس کے علاوہ ان کے لئے اکادمی ادبیات اسلام آباد سے تاحیات ماہانہ وظائف اور بے شمار ادبی تقریبات کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے –
معروف شخصیت مجید امجد کلچرل کمپلیکس کے قیام کی تجویز بھی قمر ہمدانی کی کاوشوں کا ثمر ہے۔ملک کی نامور ادبی شخصیات نے آپ کو خزینہ ادب کے اعزازی خطاب سے بھی نوازا ۔آپ کو عالمی ادبی تقریبات میں صدارت کا اعزاز بھی حاصل ہو چکا ہے –
نوجوان قلم کاروں کی ادبی صلاحیتوں کو نکھارنے اور ان کی تخلیقات کو منظر عام پر لانے کے لئے سہ ماہی دریچہ ادب میگزین کا بھی اہتمام کیا گیا۔جس کے مدیر اعلی کا اعزاز بھی حاصل کر چکے ہیں ۔ آپ نے فروغ ادب کے لئے نہ صرف اہم کردار ادا کیا بلکہ دنیا بھر میں اپنی ادبی سرگرمیوں کا عملی طور پر بہت عمدہ مظاہرہ کیا۔
انعامات و اعزازات – –


قمر ہمدانی مسلسل ادب کی ترویج و ترقی میں اپنا کردار بھر پور طریقے سے ادا کر رہے ہیں ان کی بے شمار ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں بہت سے ادبی اعزازات سے بھی نوازا جا چکا ہے – –
*پہلا ایوارڈ برائے حسن کارکردگی بلڈ برادرز ایسوسی ایشن جھنگ ١٩٩٥ *
*ادبی ایوارڈ برائےحسن کارکردگی البلال ویلفیئر سوسائٹی جھنگ ١٩٩٨*
*معروف بین الاقوامی شخصیت بلال زبیری ایوارڈ ١٩٩٩*
*شمسی ایوارڈ غازی ہیومن رائٹس ویلفیئر سوسائٹی خانیوال ٢٠١٨*
*ایوارڈ برائے حسن کارکردگی چائنہ سٹیٹ کنسٹرکشن کارپوریشن لمیٹڈ ٢٠١٨*
*لائف ایچیومنٹ ایوارڈ ادب سرائے انٹر نیشنل ٢٠١٩*
*حرا فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کی جانب سے ایوارڈ ، میڈل اور اعزازی سند ١٩۔٢*
*گولڈ میڈل ، ایوارڈ اور اعزازی سند برائے حسن کارکردگی ادب سرائے انٙٹرنیشنل٢٠٢٠*
*ایوارڈ براے حسن کارکردگی ایف جی ماڈل کالج فار وومن اسلام آباد ٢٠٢٠*
حال ہی میں آپکو انٹرنیشنل شہرت یافتہ ادبی تنظیموں کی جانب سے دریچہ ادب پاکستان اسپیشل سلور جوبلی کے موقع پر ایوارڈز دینے کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔
*زرقا پبلیکیشنز انٹرنیشنل ، (لاہور)*
*خزینہ شعرو ادب انٹرنیشنل (یو . کے )*
*کاروان حوا ادبی فورم (کے پی کے)*
*نگار اردو ادب (کراچی)*
*قَلَم قافلہ انٹرنیشنل (کھاریاں)*
*بزم لطیف رجسٹرڈ (لیہ)*
ان سے کی گئ گفتگو لاہور انٹرنیشنل میگزین لندن کے نمائندے کی حیثیت سے تمام قارئین کی نذر ہے جو یقیناً آپ سب کو پسند آئے گی –
سوال: آپ کا پورا نام ؟
جواب : سید قمر عباس ہمدانی
سوال – قلمی نام کیا ہے اور کیا زیادہ پہچان اسی نام سے ہے؟
جواب :قلمی نام قمر ہمدانی اور پہچان ہمدانی
سوال – بچپن کی زندگی کیسی تھی؟ کوئی واقعہ شئیر کرنا چاہیں ہمارے ساتھ تو اچھا لگے گا-
جواب : بچپن کے لمحات بہت یادگار تھے لیکن کوئی ایسا خاص واقعہ نہیں ہے جو شئیر کر سکوں۔
سوال – بہن بھائی کتنے ہیں اور آپ کا نمبر کون سا ہے؟ اگر بڑے ہیں تو کیا رعب جمایا اور اگر چھوٹے ہیں تو کون سی شرارتیں کیں جس پہ ڈانٹ پڑی یا سب سے لاڈ اٹھوائے؟
جواب : ہم پانچ بہن بھائی ہیں اور میں سب سے بڑا ہوں اور رعب نہیں ہے میں بہت شائستہ طبیعت کا انسان ہوں لیکن والدین کی وفات کے بعد مزاج میں تبدیلی آئی چونکہ بڑا ہو نے کی وجہ سے بہت سی ذمہ داریاں سنبھالنی پڑیں۔
سوال – بچپن ہی سے زندگی کے کس رخ نے زیادہ متاثر کیا؟ اپنے اردگرد کے ماحول میں کون سی چیزیں تھیں جو آپ کی پسندیدہ رہیں؟
جواب : بچپن میں طالبعلمی کے دور نے زیادہ متاثر کیا اردگرد کے ماحول میں مجھے کتابیں پسند تھیں تمام معروف شعراء کی کتب میری چھوٹی سی لائبریری کی زینت ہیں ۔
سوال – والدین میں سے کس نے تربیت کی زمہ داری کو احسن طریقے سے سرانجام دیا؟
جواب :دونوں نے ہی بہت اچھی پرورش کی لیکن والدہ نے زیادہ زمہ داریاں نبھائیں والد کے انتقال کے بعد والدہ نے ماں اور باپ دونوں کا کردار نبھایا۔
سوال – کیا آپ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اولین درسگاہ ماں کی گود ہے؟
جواب : جی بالکل متفق –
سوال – کس عمر میں احساس ہوا کہ آپ دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ حساس دل رکھتے ہیں؟ اور تخلیقی صلاحتیں بھی؟
جواب : حساس طبیعت تو میری بچپن سے ہی تھی اور تخلیقی صلاحیتوں کا اندازہ بچپن میں ہو گیا تھا چونکہ والدہ اچھی افسانہ نگار اور والد نامور شاعر تھے۔
سوال – مطالعے کا کس حد تک شوق تھا اور اس عادت میں پختگی کیسے آئی؟
جواب :جنون کی حد تک ‘جب خود لکھنا شروع کیا تو پختگی آتی گئ۔
سوال – ادب میں آپ کی گراں قدر خدمات ہیں اس ادارے کے قیام کا محرک کیا تھا؟
جواب : اس فورم کا مقصد طلبا طالبات کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا کہ وہ اپنی ادبی تخلیقات کو منظر عام پر لا سکیں اور دنیائے ادب میں اپنی الگ پہچان بنا سکیں ۔
ادارے کا بنیادی مقصد ادب کو فروغ دینا ہے آجکل آپ جانتی ہیں موبائل انٹرنیٹ کا دور ہے لوگوں میں مطالعے کا ذوق کم پڑ گیا ہے ادب سے دوری اختیار کر کے دوسرے فنون کو اہمیت دی جاتی ہے اس لئے دریچہ ادب شب و روز فروغ ادب کی ترویج و ترقی میں کوشاں ہے ۔
سوال – اس ادارے میں آپ نئے آنے والوں اور نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں منوانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں اب تک کتنے طلباء و طالبات اپنے تعلیمی سلسلے کو اس ادارے کی وجہ سے جاری رکھے ہوئے ہیں؟
جواب : بہت سے ہیں، ہماری کوشش ہوتی ہے جہاں تک ہو سکے ایسے غریب نادار طلبا و طلبات کی مدد کی جائے جو بہت زہین ہوتے لیکن آگے بڑھنے کے لئے مالی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں ایسے نوجوانان کی ہم اپنے فورم سے مالی امداد اور رہنمائی کرتے چلے آ رہے ہیں ادارے کا مقصد ان شعراء کرام کی بھی مالی امداد فراہم کرنا ہے جو گمنامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں جو بہت اچھے تخلیقار ہوتے ہیں مگر انکی تخلیقات کو منظر عام پر لانے کے لئے کوئی ایسا فورم مہیا نہیں ہوتا جو انکی ادبی خدمات اور ادبی تخلیقات کو منظر عام پر لا سکے ہم ایسے افراد کی مالی امداد بھی کر رہے ہیں بہت سے شعراء کرام کی مالی امداد سے انکی کتب کی اشاعت میں انکی رہنمائی اور مدد کر چکے ہیں ۔
سوال – آپ کی زندگی کا کیا مقصد ہے جس کی تکمیل کے لیے آپ کوشاں ہیں؟
جواب : زندگی کا مقصد ادب کے فروغ کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہے اور دریچہ ادب پاکستان کے اغراض و مقاصد کو دنیائے ادب کے کونے کونے تک پہنچانا تاکہ اس کی روشنی سے نوجوانان کی ایک کثیر تعداد مستفید ہو سکے۔
سوال – آپ کا کس شعبے سے تعلق ہے؟ اور اس کا انتخاب کیوں کیا؟
جواب – میرا تعلق ایک حساس وفاقی ادارے سے ہے۔
سوال -کیا زندگی میں ہمیشہ مثبت سوچ کو لے کے چلے یا کبھی منفی سوچ بھی حاوی رہی؟ اس صورتحال میں کیا ردعمل رہا؟
جواب : ہمیشہ مثبت رویہ اپنایا اور اس مثبت سوچ کی وجہ سے بہت سی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن منفی اثرات کو کبھی اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا۔
سوال -آپ شاعر بھی ہیں اپنے زمانے میں کون سے شعراء کو آپ نے زیادہ پڑھا؟
جواب : فیض احمد فیض ،پروین شاکر، میر تقی ۔
سوال – علامہ اقبال کی شاعری میں کس چیز نے آپ کو زیادہ متاثر کیا؟
جواب :علامہ اقبال کی شاعری میں انکے نظریہء افکار نے بہت متاثر کیا ہے..
سوال – ادب کی ترویج و ترقی کے لیے ایک ادارے کی بنیاد رکھنے کے بعد آپ کو کبھی محسوس ہوا کہ ابھی بھی ادب پہ ویسے کام نہیں ہو رہا جیسا ہونا چاہیے تھا؟
جواب : جی کچھ یونٹس اپنی علمی اور ادبی خدمات اس طرح سے پیش نہیں کر رہے جیسے دریچہ ادب پاکستان کے آئین میں اغراض و مقاصد کا ذکر کیا گیا ہے لیکن ان شااللہ بہت جلد ہم تمام ادبی معاملات کو درست سمت کی طرف لے جانے میں کامیاب ہو جائیں گے کچھ شرپسند عناصر ہیں جو ہماری اس کامیابی سے جیلس ہیں مگر ہمارا مقصد کسی کو مات دینا نہیں بلکہ ہمارا مقصد تمام ادبی تنظیموں کے ساتھ مل کر فروغ ادب کے لئے کام کرنا ہے کیونکہ ہم نے اس سلسلے کو جاری رکھنے کے لئے نہ صرف انتھک محنت کی ہے بلکہ اپنا بہت قیمتی وقت بھی دیا اس لئے میں یہ سمجھتا کہ ہم سب نے مل کر صحیح معنوں میں اپنی ادبی خدمات کا حق ادا کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے ۔
سوال – کیا آپ سمجھتے ہیں؟ ادیب کو ہمارے معاشرے میں وہ مقام حاصل ہے جو بیرون ملک دیا جاتا ہے؟
جواب : یہاں تو پسماندگی ہی مقدر ہی رہا لکھاری شعراء کو انکا وہ حق نہیں دیا جا رہا جن کے وہ حقدار ہیں ۔
سوال – زندگی کا کوئی فارمولا جس نے آپ کی زندگی کو سہل بنایا؟
جواب : زندگی کا ایک فارمولا جو زندگی کو سہل بناتا ہے وہ ہے خدمت خلق اگر آپ نے کسی مشکل وقت میں کسی کی کوئی مدد کی ہو تو آپ کے مشکل وقت اللہ کی طرف سے خود ہی راستے بنتے چلے جائیں گے کسی کی مشکل آسان کر کے اپنے معاملات اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دینے چاہئیں ۔
سوال – کیا آپ سمجھتے ہیں پرسکون زندگی کے لیے کچھ اصول و ضوابط ضروری ہیں یا سب اللہ پہ چھوڑ دینا چاہیے؟
جواب : اصول و ضوابط تو ہر حال میں ضروری ہیں لیکن اللہ کے سپرد کر دینے سے مسائل کا بوجھ کچھ کم محسوس ہوتا ہے-
سوال – ماضی کے اوراق پلٹیں تو آپ خود کو کہاں دیکھتے ہیں؟ کیا شخصیت میں کوئی تبدیلی آئی؟
جواب :جی بالکل تبدیلی آئی ہے ماضی میں جو ایک شرمیلا جھجکتا سا لڑکپن تھا اب اس میں قدرے پختگی آ چکی ہے۔ایک لکھاری بننے کے بعد انسانیت سے شناسائی اور بھی بڑھ گئی ہے ۔
سوال – کامیابی کے زینے چڑھنے کے لیے کیا حکمت عملی ہونی چاہئے؟
جواب : کامیابی کے زینے چڑھنے کے لئے آپ کو اپنے سینئرز کو فالو کرنا چاھئیے-
سوال – ایک ادیب کو کیسا ہونا چاہیے؟
جواب : ایک ادیب کا غیرجانبدار ،مثبت اور اعلی ظرف ہونا ضروری ہے۔۔کیونکہ ادیب کا ہر حرف دل و دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے۔۔تو اس کا قلم اور اس کی تحریر معا شرے کی تشکیل اور فلاح وبہود کے لئے ہو۔۔نہ کہ بگاڑ پیدا کرنے کے لئے۔۔
سوال – کوئی اہم پیغام جو دینا چاہیں ؟
جواب : زندگی میں ہمیشہ اپنے کام سے مخلص رہیں جب تک سچا جذبہ جنون آپ کے اندر پیدا نہیں ہو گا اس وقت آپ اپنی منزل کی جانب گامزن نہیں ہو سکتے ہمیشہ مخلص افراد کا انتخاب کریں کیونکہ آپ کی شخصیت ہی آپ کی پہچان ہے ہمیں مل کر فروغ ادب کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کرناہے اپنی تحریروں کو اتنا خوبصورت انداز میں تحریر کریں کہ پڑھنے والا ایک دم اس طرف راغب ہو جائے اور اپنے کردار کو اتنا بلند کرو کہ ہر کوئی آپکی شخصیت سے متاثر ہو اورآپکو عزت دینے پر مجبور ہو جائے یہی زندگی کا حسن ہے اور یہی زندگی کی حقیقت ہے۔
آخر میں میں آپ کا ممنون ہوں کہ آپ نے میری عزت افزائی فرمائی اور مجھے اس لائق سمجھا ۔ والسلام
اسی کے ساتھ ہم نےسر قمر ہمدانی سے اجازت چاہی اس دعا کے ساتھ کہ وہ یوں ہی ادب کے فروغ کے لیے کام کرتے ہوئے مزید عزتیں اور کامیابیاں سمیٹتے رہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

