Latestاردومتفرقمعاشرہ

ننگی گلیاں

Share your Love

مرتبہ: عبدالوکیل۔ کوئٹہ

کچھ دن ہوئے میں نے ایک مضمون لکھا اس میں یہ الفاظ استعمال کیئے تو ایک پیارے دوست نے پوچھا کہ یہ ننگی گلیاں کیا ہوتی ہیں۔
لاشعور میں جو چیزیں ہوتی ہیں بعض دفعہ وہ سامنے آجاتی ہیں تو لاشعور میں جو ننگی گلیوں کا میرا تصور ہے وہ ہی درحقیقت آج کا مضمون ہے۔
ننگی گلیاں درحقیقت کسی بھی نظام تنظیم معاشرہ یا جو بھی نام دے دو کے کچھ وہ چھپے ہوئے کونے ہوتے ہیں جو سب سے زیادہ عریاں ہونے کے باوجود بظاہر سب سے زیادہ مہذب اور سب سے زیادہ خوبصور لباسوں میں ملبوس نظر آتے ہیں۔
وہ کسی نے معاشرہ کی ایک تلخ حقیقت یہ بتائی تھی کہ یہ وہ حمام ہے جہاں سب عریاں ہیں تو ننگی گلیاں بھی درحقیقت وہی حمام ہوتے ہیں ہاں فرق صرف یہ ہے کہ اس کا سب سے زیادہ عریاں شخص سب سے زیادہ مہذب اور معتبر گرداناں جاتا ہے اور اس کے ہمنوا ہمیشہ اس کو اس خوش فہمی میں رکھنے کی انتھک کوشش کرتے رہتے ہیں کہ وہ عریاں نہیں اور بدقسمتی یہ کہ اگر کوئی سفید پوش شخص جب دنیا کے سامنے ان کی حقیقت ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس نام نہاد معتبر شخصیت کے پہریدار اس کو بچانے کے لیے ایسی بساط بچھاتے ہیں جس سے دنیا میں وہ سفید شخص بظاہر عریاں ہو جاتا ہے اور چونکہ اس کو حقیقت میں عزت پیاری ہوتی ہے اور مقابل پر موجود لوگ نہایت ہی خطرناک ہوتے ہیں تو یا تو اس کو ستر بچا کر نکل جانا پڑتا ہے یا پھر وہ حلقہ اسے خود سے الگ کر دیتا ہے اور پھر ان ننگی گلیوں میں یہی تصور کیا جاتا ہے اور خوشی کے بگل بجائے جاتے ہیں اور یہی صدائیں کونجتی ہیں کہ وہ سب سے زیادہ معتبر اور مہذب ہیں۔
مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہی وہ ننگی گلیاں اور لوگ ہیں جن کو تنبیہ کرتے ہوئے ہمارے نبی نے ان سفید پوش لوگوں کے حوصلہ بلند کیئے ہیں اور ایسی ننگی گلیوں کے حاکموں اور ان کے محکوموں کو بتا دیا کہ “فَرُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ فِي الْآخِرَةِ”(صحیح بخاری کتاب العلم) پس بہت سی ایسی ہی جو دنیا میں کپڑوں میں لپٹی ہیں مگر آخرت میں عریاں ہوں گی۔
اب یہاں کوئی یہ نہ سمجھےکہ ایسی ننگی گلیوں والے اس دنیا میں سرخروئی کے ساتھ اگلے جہاں میں تشریف لیجاتے ہیں ان کو ان مظالم اور اپنی حقیقی عریانیوں کا خمیازہ اس دنیا بھی اٹھانا پڑتا ہے اور وہ اس کا مزا مختلف صورتوں میں چکھتے رہتے ہیں اور دوسری طرف وہ سفید پوش لوگ ان ظالم عریاں لوگوں کی دلی جلن اور ان کے نفس کی ان ملامتوں کو جو ان کے لیے ایندھن کا کام دیتی ہیں محسوس کرتے رہتے ہیں اور یہ خدائی فعلی شہادتیں ہمیشہ ان سفید پوش عاجزوں کے لیے موجب تسکین ہوتی ہیں اس لیے کوشش کریں کہ خود بھی سفید پوش رہیں اور جب کبھی موقع ملے تو ان سفید پوش لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنے ضمیر کے سامنے سرخرو رہیں یہی سب سے بڑی کامیابی ہے!!!!!

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *