Latestاردوتاریخقومیمتفرق

دو چیزیں اب کراچی میں نہیں ہوتیں

کراچی کی اس تصویر کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں نظر آنے والی دو چیزیں اب کراچی میں نہیں ہوتیں ایک ٹرام اور دوسرا

بھشتی (سقہ)ماشکی

ٹرام

کراچی میں چلنے والی ٹرام کو بند ہوئے اب 45 سال ہو چکے ہیں، کراچی میں ٹرام تقریبن 90 سال تک چلتی رہیں

20 اپریل 1885ءکو وکٹوریہ روڈ موجودہ عبداللہ ہارون روڈکے سامنے سینٹ اینڈریو چرچ کے قریب اس کا افتتاح کیا گیا اور کراچی کی سڑکوں پر ٹرام چلنے لگی۔

1945ءمیں شہر میں ڈیزل سے چلنے والی ٹرامیں متعارف کرائی گئیں جو آخر وقت تک یعنی 1975 تک چلتی رہیں۔

یہ ٹرامیں ایسٹ انڈیا ٹراموے کمپنی کے تحت چلا کرتی تھیں۔ قیام پاکستان کے کم و بیش ڈیڑھ سال بعد کراچی کے تاجر محمد علی نے ٹرام وے کمپنی 32 لاکھ روپے میں خریدلی تھی اور اس کا نام بدل کر محمد علی ٹرام وے کمپنی رکھ دیا

ایک ٹرام کار میں 46 مسافر بیٹھ سکتے تھے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 18میل (25)کلو میٹر فی گھنٹہ تھی، یہ عام طور پر 12سے 15میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلا کرتی تھی، لکڑی سے بنی ہوئی نشستیں بیک ٹو بیک نصب کی گئی تھیں اور ایک نشست پر 6 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہو تی تھی۔ ٹرام کی ایک خاص اور دلچسپ بات یہ بھی تھی کہ ٹرام کا ڈرائیور کھڑے ہوکر اسے کنٹرول کرتا تھا۔ اس میں اسٹیئرنگ کے بجائے گھومنے والا لیور استعمال کیا جاتا تھا۔ اسے دائیں جانب گھمانے سے رفتار تیز اور بائیں جانب گھمانے پر رفتار کم ہوجاتی تھی، ہارن کی جگہ پیتل کی گھنٹی لگی ہوتی تھی، جس کا پنڈولم ایک ڈوری کے ذریعے کنٹرول ہوتا تھا۔ وہ ڈوری ڈرائیور کے ہاتھ میں ہوتی تھی، گھنٹی کی ٹن ٹن سے ٹرام اپنی آمد سے لوگوں کو خبردار کرتی تھی۔

ٹرام میں کوئی شیشے نہیں بلکہ صرف ایک چھت اور کھڑکیوں کی جگہ بڑ ے بڑے ہوادان ہوتے تھے جو ہنگامی صورت میں ایگزٹ ڈور کا بھی کام دیتے تھے،

ایک کنڈیکٹر اور ایک چیکر ہوا کرتا تھا، تینوں افراد کی خاکی وردی ہوتی تھی۔ کاغذ کے ٹکٹ تھے، جس پر ٹرام کا نمبر لکھا ہوتا تھا۔ ٹرام کے دونوں جانب لیور سسٹم نصب تھا۔ واپسی پر ڈرائیور اسے دوسری جانب سے کنٹرول کرتا تھا۔کیوں کہ ٹرام کی پٹری ایک ہی ہوتی تھی۔ ان کا کوئی رجسٹریشن نمبر نہیں ہوتا تھا۔ ٹرام وے کمپنی کے جاری کردہ نمبر دونوں جانب درج ہوتے تھے۔ کچھ وقت گزرا تو آج کی طرح جیسے بسوں پر اشتہارات لگے ہوتے ہیں، ٹراموں پر بھی تشہری بورڈ نصب کیے جانے لگے تھے جیسا کہ اس تصویر میں نظر آ رہے ہیں

31 اپریل 1975ء کراچی کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے۔ اُس روز کراچی کے شہریوں کے لیے ٹرام کی سہولت بند کردی گئی

بھشتی (سقہ) ماشکی

ماشکی فارسی لفظ ’مَشک‘ سے نکلا ہے، جس کے معنی چمڑے کا ایسا بیگ ہے، جس میں پانی بھرا جاتا ہو۔ آپ اس تصویر میں بھی اس آدمی کے كندهے پر مشک دیکھ سکتے ہیں ماشکی ایک قدیم پیشہ ہے۔ عربوں کے یہاں اس کا باقاعدہ محکمہ قائم تھا۔

ماشکی کا ایک دوسرا نام سقّہ، سقایہ سے نکلا ہے، جس کے معنے، پانی کا انتظام کرنے والا یا پانی پلانے والا ہے۔ عربوں کے یہاں جنگ میں زخمی سپاہیوں کو پانی پلانے کے لیے باقاعدہ ماشکی رکھے جاتے تھے۔ مغل دَور میں بھی ماشکی تھے، جو کنوئیں سے پانی نکال کر مشکیزہ گدھے یا كندهے پر لاد کر گھر گھر پانی پہنچانے کا کام کیا کرتے تھے۔

جنوب ایشیائی ممالک میں ماشکی کو بہشتی بھی کہتے ہیں، جو فارسی زبان کے لفظ بہشت سے نکلا ہے، جس کے معنی جنّت کے ہیں۔ اسلام میں پانی پلانا ثواب کا کام ہے۔

تاریخ میں ایک ماشکی ایسا بھی گزرا ہے، جسے ایک دن کی بادشاہت نصیب ہوئی تھی۔ یہ نظام سقّہ تھا، یہ قصہ بھی نہایت عجیب ہے – مغل بادشاہ نصیر الدین محمد ہمایوں شیر شاہ سوری سے شکست کھانے کے بعد دہلی واپس آ رہا تھا کہ راستے میں دریا پڑا۔ اُسے تیرنا نہیں آتا تھا۔ دریا کے کنارے پر نظام نامی سقّہ اپنے مشکیزے میں پانی بھر رہا تھا، اُس نے ہمایوں کو دریا پار کرانے میں مدد کی تھی۔ ہمایوں کو جب دوبارہ اقتدار نصیب ہوا تو اس نے سقّہ کو اپنے دربار میں بلوایا اور اس کی خواہش پر اپنا تاج اس کے سر پر رکھ کر اسے ایک دن کی بادشاہت عنایت کی تھی۔

(منقول)

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *