شاعری

تم اتنا جو مسکرا رہے ہو

شاعر: کیفی اعظمی

تم اتنا جو مسکرا رہے ہو

کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو

آنکھوں میں نمی ہنسی لبوں پر

کیا حال ہے کیا دکھا رہے ہو

بن جائیں گے زہر پیتے پیتے

یہ اشک جو پیتے جا رہے ہو

جن زخموں کو وقت بھر چلا ہے

تم کیوں انہیں چھیڑے جا رہے ہو

ریکھاؤں کا کھیل ہے مقدر

ریکھاؤں سے مات کھا رہے ہو

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *