سیاستقومیمتفرق

جنگل کا بھی کوئی قانون ہوتا ہے

مرتبہ: شیخ عبدالوکیل۔ کوئٹہ

کچھ دن ہوئے ایک تحریر نظر سے گزری جس کی سرخی تھی جنگل کا بھی قانون ہوتا ہے اس پر کچھ لکھنے کو دل چاہا مگر ایک نئے زاویے سے۔
پس ہماری اس دنیا میں جو نظام چلتے ہیں اگر ان کو خدا تعالی کی طرف منسوب کیا جائے تو وہ دو قسم کے نظام ہوتے ہیں
1۔نظام قدر یا دوسرے لفظوں میں قضاء و قدر کا نظام۔
2۔ نظام شریعت یا دوسرے لفظوں میں خدا تعالی کی وہ سنت جس کا ذکر مختلف مذہبی کتب یا تہذیبوں اور تمدنوں میں ملتا ہے۔
ان دو نظاموں کے تحت ہی ایک تیسرا نطام چلایا جاتا ہے جو انسانی قضائی نظام یا پنچائتی نظام یا ثالثی نظام یا اس کو جو بھی نام دیا جائے ہوتا ہے۔
خواہ کہ یہ تیسرا نظام ہمیشہ خود کو پہلے دو نظاموں سے منسوب کرنے کی ناکام کوشش کرتا نظر آتا ہے وہاں ہی اس نظام کے باعث انصاف فراہم کرنے میں جو تاخیر واقع ہوتی ہے اس کے باعث دنیا میں جرائم کی نشونما ہوتی ہے اور جرائم اور مجرموں کو ایک طرف تو تقویت ملتی ہے اور دوسری طرف جن کو انصاف ملنے میں انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ہے آہستہ آہستہ ان میں بھی جرم کا مادہ پروان چڑھنے لگتا ہے اور انصاف کی عدم فراہمی یا تاخیر کے باعث مظلوم کے دل میں بھی جرم کا پودا سرایت کر جاتا ہے اور اس کو بھی اس کا ضمیز بار بار اس طرف انگیخت کرتا ہے کہ جرم کرنے والا ظالم تو بظاہر سکون میں ہے اور وہ ان نظاموں کے باعث تکلیف کا شکار ہے اور یہ بات اگر خدا تعالی کا رحم شامل حال نہ ہو تو مظلوم کے اندر بدلہ یا دوسرے لفظوں میں جرم کی دبی چنگاری کو ہوا دینے کا باعث بنتی ہے اور اسے جرم کی ننگی گلیوں کا مسافر بنا دیتی ہے شاید کسی کی سوچ اس وقت بعض ایسی ہستیوں کی طرف جائے جو اسی سست روئی کے نظام کے باعث ایک لمبا عرصہ پابند سلاسل رہے مگر بعد میں دنیا میں انقلاب لانے کا موجب ہوئے اور ان کے پیروں کی زنجیروں نے انہیں ذہنی طور پر اس قدر مضبوط بنا دیا کہ بعد میں دنیا اب تک ان کے نام کی مالا جپتی نظر آتی ہے تو اس حوالہ سے پہلے بھی مضمون میں یہ بات لکھ چکا ہوں کہ سوائے ایسے لوگ جن پر خدا تعالی کا رحم نہ ہو وہ جرائم کی طرف گامزن ہوتے ہیں اور ہو سکتا ہے جو مظلوم اس سارے دور میں صبر کرتے رہیں اور بعد میں زندگی ان کو مہلت بھی دے تو شائد وہ بھی کوئی بڑا کام کر سکیں مگر چونکہ قانون اکثریت پر بنتے ہیں اس لیے انصاف فراہم کرنے والے ان دنیاوی نظاموں کی وجہ سے ہی ہمیں جرائم کی بہتات نظر آتی ہے۔
خاص طور پر جب گلی بازاروں دفاتر وغیرہ میں یہ بات ہوتی ہے کہ فلاں شخص نے یہ جرم کیا اور دیکھو کہ بظاہر وہ کس قدر عیش کی زندگی گزار رہا ہے اور جس پر ظلم ہوا وہ ظاہری طور پر تو تکلیف میں ہی نظر آتا ہے اس لیے دیکھنے والے چونکہ اپنی تخلیقی سرشت کے باعث جلد ہی اپنے لیے لائحہ عمل بنا لیتے ہیں تو مظلوم سے ہمدردری رکھتے ہوئے بھی بظاہر فاتح ظالم کے نقش قدم پر چلنا سہل اور سودمند سمجھتے ہیں الا ما شاء اللہ جن پر اللہ تعالی کی رحم کی چادر ہو۔
انصاف کی عدم فراہمی یا ظالم کے تاخیری حربوں کا اگر اسیصال نہ کیا جائے گا تو یاد رہے کہ انسانوں میں جنگل کا قانون بھی باقی نہ رہے گا پھر شرمندہ چہرے یہ کہتے نظر آئیں گے کہ جنگل کا بھی کوئی قانون ہوتا ہے خواہ کہ وہ قانون ہماری اس دنیا کے نام نہاد قانونوں سے یقینا زیادہ خوبصورت ہے۔
اس کا ایک بہانک پہلو ہمیں طالبانائزیشن کے فروغ کے رنگ میں نظر آتا ہے کیونکہ بظاہر وہاں انصاف کی فراہمی میں اس قدر وقت صرف نہیں ہوتا مجرم موجود جرم موجود گواہ موجود معاملہ نپٹا دیا جاتا ہے اس نظام کے جو منفی اثرات یا اس میں خو سقم موجود ہیں وہ اپنی جگہ موجود ہیں اس میں شک نہیں۔
پس اگر اب بھی انسانوں کی ایلیٹ کلاس یا پالیسی میکرز یا جنہیں تھنک ٹینک کہا جاتا ہے نے اس حوالہ سے اپنی سوچ کے گھوڑے نہ دوڑائے اور ان سوچوں کو کوئی عملی جامہ نہ پہنایا تو عنقریب عائلی تنازعوں سے لے کر اسرائیل و فلسطین کی جنگ جو اب عالمی جنگ کا پیش خیمہ بنتی نظر آرہی ہے جیسے سنگین معاملات ہمارے سامنے لاتی رہے گی اور پھر ہم شائد یہ کہنے کے بھی قابل نہ رہیں کہ جنگل کا بھی کوئی قانون ہوتا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *