تاریخشاعریشخصیت

مرزا اسداللہ خان غالب کا یومِ ولادت

تلخیص و تالیف: نجم حسن نقوی

مرزا اسد اللہ خان غالب کی یوم ولادت کی مناسبت سے ایک تحریر۔۔۔۔

**ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے،

کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور**

کہا جاتا ہے کہ مغل سلطنت نے ہندوستان کو تین چیزیں عطا کیں، اردو ، تاج محل اور غالب۔

انیسویں صدی کے عظیم شاعر اسداللہ خاں غالب1797ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے

انکے اجداد سمرقند سے ہجرت کر کے مغلیہ دور میں ہندوستان آکرآباد ہوئے تھے۔

غالب کے والد انکی اوائل عمری میں ہی وفات پا گئے تھے ۔ اسکے بعدانکے چچا نے انکو سایہ عاطفت میں لیا مگر وہ بھی جلد ہی دار فانی سے کوچ کر گئے ۔ 13 برس کے تھے کہ انکی شادی کر دی گئی اور وہ اپنے وطن آگرہ کو

چھوڑ کر دلی منتقل ہو گئے۔ اور تاحیات وہیں رہے ۔ یہ مغل دور تھا جب 1850ء میں بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے انکو نجم الدولہ، دبیر الملک، نظام جنگ کا خطاب عطا کیا اور تیموری تاریخ لکھنے پر مامور کیا ۔ 1854ء میں شیخ ابراہیم ذوق کے انتقال کے بعد بادشاہ کے استاد مقرر ہوئے۔

اس وقت مغلیہ سلطنت کا چراغ گل ہونے کے قریب تھا اورمشرقی تہذیب کا آفتاب غروب ہو رہا تھا ۔ مرزاغالب اسی عہد کے نامورشاعرثابت ہوئے ۔ انکے دم سے اردو شاعری کی دنیا میں انقلاب پیدا آیا۔

15 فروری 1869ء کو 72 برس کی عمر میں اردو شاعری

کا آفتاب غروب ہوا ۔ انکا مزار پرانی دلی بھارت میں ہے۔

مرزا غالب زبان اور لہجے کے چابک دست فنکار ہیں ۔ اردو

محاورے اور روز مرہ کو یوں بیان کرتے ہیں کہ سادگی دل میں اتر جاتی ہے ۔ انہوں نے اردو شاعری میں ایک نئی روح پھونکی اوراسے نئے موضوعات و اسلوب سے نوازا ۔ انہوں نے شاعری میں فلسفیانہ طرز فکر کو فروغ دیا ۔ غالب کے انداز بیان کو سمجھنے کے لئے ایک عمر

چا ہیئے ۔ انکے چند اشعار زیر میں درج کئے جا رہے ہیں۔۔۔

*جب توقع ہی اٹھ گئی غالب۔۔۔

کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی۔

* بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آسان ہونا۔۔۔ آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا۔

*زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالب۔۔۔

ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے۔

* کوئی ویران سی ویرانی ہے۔۔۔

دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

* ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد۔۔۔

یا رب اگران کردہ گناہوں کی سزا ہے۔

* قیدو حيات و بند غم ، اصل میں دونوں ایک ہیں۔۔۔

موت سے پہلے آدمی سے نجات پائے کیوں۔

* ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن۔۔۔

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔

* موت کا ایک دن معین ہے۔۔۔

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی۔

* ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے۔۔۔

بے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *