شاعری

ضروری تو نہیں ہر بات پر جھگڑا نکل آئے

شاعر: ڈاکٹر فیاض احمد علیگ۔ انڈیا

ضروری تو نہیں ہر بات پر جھگڑا نکل آئے

اگر مل بیٹھ کر سوچیں کوئی رستہ نکل آئے

اگر آنکھوں کے صحرا سے کوئی دریا نکل آئے

تو سارے داغ دھل جائیں نیا چہرہ نکل آئے

ذرا سا دل کو اپنے نرم کر لو پھر میاں دیکھو

سبھی کے درد سے دل کا کوئی رشتہ نکل آئے

کسی بھی تخت پر بیٹھے بھکاری تو بھکاری ہے

جہاں دولت نظر آئے وہیں کاسہ نکل آئے

امیر شہر کی خواہش ٹکٹ جنٹ کا مل جائے

فقیہ شہر کا مقصد کہ بس چندہ نکل آئے

تمہارے بعد بھی جاناں ترے جیسا ہی دل چاہے

مگر ممکن نہیں ایسا کوئی تم سا نکل آئے

یہی سب سوچ کر اکثر دکاں سے لوٹ آتے ہیں

چلو دیکھیں گے پھر آفر کوئی اچھا نکل آئے

محبت کے فسانے میں مرا کردار ایسا ہو

جہاں بھی ذکر ہو میرا ترا چرچہ نکل آئے

مروت میں اگر فیاض قرضہ دے دیا تم نے

میاں پھر سوچنا بھی مت کہ وہ پیسہ نکل آئے

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *