فلسطین کے لئے دعا
شاعرہ: امۃ الباری ناصر۔ امریکہ
ہے فلسطیں کے لئے دل سے دعا لیل و نہار
’اے خدا اے کارسازو عیب پوش و کردگار‘
کب سے ہے یہ ملک زد میں ظلم و استبداد کی
ہو گئے سارے مکیں وحشی درندوں کا شکار
اب نہیں تیرے سوا کوئی بھی ان کا آسرا
میرے مولا آسماں سے امن کی صورت اُتار
کھٹکھٹاتی ہے ہوا اُجڑے مکانوں کے کواڑ
سوگ ہے چاروں طرف آہ و بکا زارو قطار
ہر طرف بکھری ہوئی لاشیں ہیں بے گور و کفن
اس قدر زخمی ہیں بے چارے نہیں جن کا شمار
تھام لیں اے کاش اب بھی دل سے حبل اللہ کو
سب مسلماں مل کے اب اک دوسرے کو دیں سہار
آج بھی دنیا کو دیتا ہے مسیحا یہ صدا
’ہیں درندے ہر طرف میں عافیت کا ہوں حصار‘

