مجھے پتہ ہے کہ یہ سب کہاں سے آئے ہیں
شاعر: ڈاکٹر فیاض احمد علیگ۔ انڈیا
مجھے پتہ ہے کہ یہ سب کہاں سے آئے ہیں
تمام تیر اسی اک کماں سے آئے ہیں
ابھی تو ذکر خدا بھی فضول ہے ان سے
ابھی تو شیخ جی کوئے بتاں سے آئے ہیں
یہ اور بات کہ تم ہی نہ سن سکے ورنہ
زمانے ہوش میں میری اذاں سے آئے ہیں
وفور شوق میں یہ بھی خبر نہیں ہم کو
ہماری راہ میں کانٹے کہاں سے آئے ہیں
یہی یقین تو وہم و گماں کا حاصل ہے
یقیں تلک اسی وہم و گماں سے آئے ہیں
تمہارے شاہ کو فرصت نہیں ہے ملنے کی؟
اسے بتاؤ کہ ہم جیگہاں سے آئے ہیں
تمام زخم تو فیاض بھر ہی جائیں گے
مگر وہ زخم جو تیری زباں سے آئے ہیں

