چھپ کے بیٹھے ہوئے ہر بار کمینے نکلے
شاعر: ڈاکٹر فیاض احمد علیگ۔ انڈیا
چھپ کے بیٹھے ہوئے ہر بار کمینے نکلے
جب بھی دیکھا پس دیوار کمینے نکلے
دشمنوں میں کہیں دوچار کمینے نکلے
دوستوں میں تو سبھی یار کمینے نکلے
دوست میں نے انہیں ہر بار بنایا لیکن
جو کمینے تھے ، وہ ہر بار کمینے نکلے
میرے زخموں پہ نمک روز چھڑکنے آئے
کتنے بے درد یہ غم خوار کمینے نکلے
کتنے بیمار تو ہر روز نکلتے ہیں یہاں
کچھ مگر ذہن کے بیمار کمینے نکلے
رند تو مفت ہی بدنام یہاں ہیں جبکہ
کتنے واعظ بھی تو میخوار کمینے نکلے
ہم بھی فیاض فرشتہ ہی سمجھتے لیکن
شیخ جی تو بڑے مکار کمینے نکلے

