Latestاداریہاردو

مقدس ڈرامے بازیاں

Share your Love

پاکستانی سیاست سے دربدر ہونے کے بعد پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان ا کو احمدی کے برطانوی آقاؤں نے عالمی بیوروکریسی میں اونچے عہدوں پر فٹ کر دیا، جس طرح سی آئی اے نے ڈاکٹر عبدالسلام احمدی کو نوبیل پرائز سے نوازا اسی طرح، اس سے قبل، برطانوی خفیہ ادارے سر ظفر اللہ خان (احمدی) کو بھی نوازتے رہے

ظفر اللہ خان احمدی صاحب اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے ان عہدوں پر فائز کئے گئے جہاں پہنچنا بڑے بڑے یورپینز کیلئے محض خواب ہی رہا

پاکستان سے راندہ درگاہ ہوجانے کے باوجود سر ظفر اللہ احمدی عالم اسلام کے مختلف حکمرانوں بالخصوص آل سعود کے چہیتے رہے

عراق، شام اور اردن و سعودی عرب کے حکمران سر ظفر اللہ خان (احمدی) صاحب کی میزبانی کو اپنے لیے باعث فخر خیال کرتے

سر ظفر اللہ (احمدی) 1958ء میں پہلے بار عمرے پر گئے، وہاں ان کا سرکاری سطح پر زبردست استقبال کیا گیا اور حرم کے اندر بھرپور پروٹوکول بھی دیا گیا، خانہ کعبہ کا دروازہ کھولا گیا… ظفراللہ (احمدی) صاحب اندر داخل ہوئے… نماز پڑھی…. اپنے امام اور (احمدی) خلیفہ کی ہدایات کے مطابق وظائف پڑھے… سرکاری حکام کی طرف سے حرمین شریفین کی انتظامیہ کو ہدایت تھی کہ ظفراللہ (احمدی) اندر جائے تو کعبے کا دروازہ بند کردیا جائے تاکہ وہ تنہائی میں تسلی کے ساتھ عبادت کرسکیں … اور جب سر ظفراللہ خان (احمدی) خود عبادت سے فارغ ہوکر باہر نکلنے کا ارادہ کریں تو زینہ بلند کرکے دروازے پر لگایا جائے ۔۔۔۔ کہتے ہیں جدید دور میں کعبہ کے اندر سب سے طویل وقت گزارنے والی شخصیت پاکستان کے اولین وزیر خارجہ اور سیاست دان و قانون دان چوہدری سر ظفر اللہ خان (احمدی) ہی تھے

سر چوہدری ظفراللہ خان (احمدی) صاحب جب مدینہ حاضری کے لیے آئے تو وہی وی آئی پی پروٹوکول مدینہ میں بھی دہرایا گیا

سر چوہدری ظفراللہ خان (احمدی) کے لیے روضہ مبارکہ خصوصی طور پر کھول دیا

العیاذباللہ چوہدری ظفراللہ خان (احمدی) صاحب تن تنہا اندر گئے

پہلے نبی کریمﷺ کو (احمدی) خلیفہ کا سلام پہنچایا ۔۔۔۔ پھر اپنے درود و سلام پیش کیے

کہتے ہیں کہ جب وہ غدار (احمدی) روضہ رسولﷺ سے باہر آیا تو گریہ و زاری سے اس کی آنکھیں سرخ ہوچکی تھیں

سر چوہدری ظفراللہ خان (احمدی) حجازِمقدس کے بعد دارالحکومت ریاض تشریف لے گئے جہاں کئی دن تک شاہی محل میں سعودی بادشاہ کے مہمان خصوصی رہے

1967 میں چوہدری ظفر اللہ خان (احمدی) حج کی ادائیگی کے لیے ایک بار مکہ مدینہ آیا

اور حج کے بعد وہ (احمدی) پھر کئی دن تک شاہی محل میں خصوصی مہمان رہا

سر چوہدری ظفراللہ خان (احمدی) کی وفات پر سب سے زیادہ اظہارِ افسوس اردن اور سعودی حکومت نے ہی کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنرل خالد محمود عارف ( کے ایم عارف) جنرل ضیاء کے گرائیں اور ان کے ساتھ وائس چیف آف آرمی سٹاف رہے

وی انٹلکچول قسم کی شخصیت تھے، ریٹائرمنٹ کے بعد کتابیں لکھیں، وہ گزشتہ سال مارچ میں فوت ہوئے

جنرل خالد محمود عارف نے اپنی کتاب “ضیاء الحق کے ہمراہ” میں برسبیلِ تذکرہ لکھا ہے کہ جب پاکستانی وزیر اعظم یا صدر سے عوام کی نفرت اپنی انتہاء کو پہنچ جائے تو انٹیلی جنس ادارے حکمرانوں کو تسبیح ہاتھ میں لینے، ٹوپی پہن کر نماز پڑھنے اور حج و عمرہ پر جاکر اس کی پبلسٹی کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور ساتھ ہی سعودی حکام سے رابطہ کرکے وہاں خصوصی انتظامات ترتیب دیتے ہیں

صحافیوں کو بھرپور میڈیا کوریج کے لیے پہلے سے مکہ مدینہ بھیج دیا جاتا ہے

خصوصی سفارتی تگ و دو سے کعبہ کا دروازہ کھلوایا جاتا ہے اور پاکستانی صدر، وزیراعظم اور جنرل صاحب کا کعبے سے باہر نکلتے ہوئے خصوصی فوٹو سیشن کیا جاتا ہے

جنرل کے ایم عارف نے بےنظیر بھٹو کی مثال دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جب بے نظیر سے عوامی نفرت میں اضافہ ہوا تو انٹیلی جنس اداروں نے بےنظیر بھٹو کو عمرے پر جانے کا مشورہ دیا

یعنی کسی بھی پاکستانی صدر یا وزیر اعظم کا عمرہ فوٹو سیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ جناب سے عوام کی نفرت انتہا کو پہنچ چکی ہے

اور اب ہز ایکسلینسی مذہبی مچلکے جمع کرکے اپنی کرسی کے لیے چند ماہ کی توسیع کی بھیک مانگ رہے ہیں

ممتاز قادری شہید کی پھانسی کے فوری بعد (دو چار دن کے اندر) نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کو عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جانا پڑ گیا تھا اور طواف، روضہ رسولﷺ حاضری کی تصاویر کی پبلسٹی کی ضرورت پیش آگئی تھی

سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے paid میڈیا ایکٹوسٹ وزیراعظم عمران خان کی مکہ مدینہ حاضری والی تصاویر وائرل کررہے ہیں

عمران خان کے ننگے پاؤں گھومنے کو اجاگر کیا جارہا ہے

اس پر ہم “جانم فدائے عمران خان” والوں سے عرض کریں گے کہ کسی کے لیے کعبے کے دروازے کا کھولا جانا کمال نہیں، یہ دروازے ایک خاص قیمت اور گٹھ جوڑ سے کسی کیلئے بھی کھل سکتے ہیں

یہ کعبے کا دروازہ ماضی میں (احمدی) سر چوہدری ظفراللہ خان کے لیے بھی کھولاگیا اور جنرل مشرف، بےنظیر بھٹو کے لیے بھی

کچھ عرصہ قبل سعودی حکومت مولانا طاہر محمود اشرفی کو ان کی “خدمات” کے عوض امام کعبہ عبدالرحمن السدیس کے مبارک ہاتھوں سے ایوارڈ سے نوازنا چاہتی تھی

ہمارے مہا سیانے مولانا طاہر اشرفی نے شرط لگائی کہ وہ یہ ایوارڈ کعبہ کے اندر وصول کرنا پسند کریں گے

اب طاہر اشرفی کے لیے کعبے کا دروازہ کھول دیا گیا

علامہ طاہر محمود اشرفی اپنا بھاری بھر کم جسم ہلاتے ہوئے زینہ چڑھے…. ایوارڈ لیا… تصاویر لی (جو کہ اصل مقصد تھا)…. اور اوپر سے ہی سوشل میڈیا پر اسٹیٹس اپڈیٹ کرکے نیچے اترے

حکمرانوں اور انٹیلی جنس اداروں کو سوچنا چاہیئے کہ اب عوام میں شعور آرہا ہے، اب ان کو طریقہ واردات تبدیل کرنا چاہیئے

اب یہ مقدس ڈرامے بازیاں نہیں چلنے والی

(منقول)

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *