مجبور لوگوں کی خرید و فروخت کا عالمی دھندہ
اگرچہ انسان کی خرید و فروخت کا دھندہ شائد سلک روٹ کے ابتدائی ادوار سے بھی بہت پہلے سے جاری ہے جب مصر کے بازاروں میں غلاموں اور کنیزوں کی منڈیاں لگتی تھیں۔یہ مکرہ دھندہ کرنے والوں کی منفی سوچ، درندگی اور دولت حاصل کرنے کی حرص ہزاروں نوجوانوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں اور انگنت گھروں کے چراغ گل کرتے ہیں اور ان خاندانوں کو آسودہ اور خوشحال زندگی کی لالچ دے کر نسلوں کی تباہی کا باعث بنتے ہیں۔
گجرات، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، کھاریاں، سرائے عالمگیر، وزیرآباد، منڈی بہاؤالدین اور ان کے اردگرد کے نواحی علاقوں میں انسانی زندگیوں کے کاروبار میں ملوث دلال (ایجنٹ) شکار کی تلاش میں رہتے ہیں۔ بے روزگار، آوارہ اور اوباش نوجوانوں کے بارے میں معلومات حاصل کرکے ان کے والدین کو متوجہ کرکے ان آوارہ نوجوانوں ڈالروں میں دولت کمانے کا جھانسہ دےکر بیرون ملک بھجوانے پر آمادہ کرتے ہیں۔
یونان کے قریب سمندر میں ڈوبنے یا ڈبوئے جانے والی کشتی کے اندہناک واقعہ نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔اس موقف کی تصدیق کے شواہد رفتہ رفتہ سامنے آ رہے ہیں کہ انسانی سمگلروں کی جانب یونان لے جانے والوں کی کشتی جان بوجھ کر ڈبوئی گئی اور یہ بات بھی مصدقہ ہے کہ کشتی کے ڈوبنے کے عمل کے دوران ریسکیو ٹیمیں نے بروقت پہنچنے کے باوجود اسے ڈوبنے سے بچانے کی بجائے اس کے ڈوبنے کا تماشہ دیکھتے رہے۔کیا انصاف کی عالمی عدالتیں اور انسانی حقوق کے علمبردار ان سینکڑوں نوجوانوں کے لئے آواز اٹھا سکتے جو اس ملک کی ریسکیو ٹیموں کی غلط سوچ یا غفلت کی نذر ہو گئے؟
شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان افزاد حسین جو اس پر خطر اور انتہائی دشوار سفر کا تجربہ رکھتا ہے، مسلسل اصرار پر روداد سفر بیان کرنے کی حامی بھر لی۔
افزاد حسین نے اپنی الجھی ہوئی یادداشت کو یکجا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولنا شروع کیا، “یہ عبرت انگیز سفر ابتدائی مراحل میں ہی انسانی سمگلنگ کی صورت میں شروع ہوتا ہے اور اغواءکاروں کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور بھاری معاوضوں کی ادائیگی کے باوجود اپنی منشاء سے غیرقانونی راستوں سے اجنبی ممالک میں سمگل ہونے کے خود کو ان غیر انسانی سمگلروں کے حوالے کر دیتے ہیں جنہیں اغواء کاروں کی طرح یرغمال بنا لیتے ہیں یعنی ان پر بہیمانہ تشدد کی ابتداء ہوجاتی ہے۔ بھوک، پیاس، تشدد اور بلیک میلنگ سے نامعلوم منزل کی جانب شروع والا یہ سفر بڑھتا ہوا ہر قدم اپنی ہولناکی کا احساس دلاتا ہے۔کوئیٹہ پہنچے تو ایک ہوٹل میں یہ سوچتے ہوئے کہ اگلی منزل پر کیسا کھانا ملے گا، پیٹ بھر کر کھایا، اتنی دیر میں ڈبل کیبن ڈالے آگئے اور انسانی سمگلروں اور ان کے کارندوں نے ہمیں ان ڈالوں میں ٹھونسنا شروع کر دیا، اس دوران ان سے کپڑے اتروا لئے، پیسے، موبائل فون اور دوسرے اشیاء جھین لیں اور ایک ڈالے میں 40کے لگ بھگ بندے بھر دئیے اور بارڈر کی جانب روانہ ہو گئے، بارڈر کی طرف ہونے والا چھ گھنٹے سفر کا یہ سفر چھ ماہ سے زیادہ کا لگا، راستے میں ہمیں یہ بتا دیا گیا تھا کہ ہم مسافر نہیں بلکہ قیدی کی طرح ان کے ساتھ ہوں گے۔اسی دوران انسانی سمگلروں یا اغواء کاروں کے گروہوں درمیان کسی بات پر جھگڑا ہو گیا اور ان کے درمیان فائرنگ شروع ہو گئی لیکن ان کا تو کوئی نقصان نہیں ہوا البتہ ہمارے کچھ لوگ جو زخمی ہو گئے جنہیں وہ زخمی حالت میں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے اس دوران انہوں نے یرغمالیوں کو گاڑیوں سے اتار کر پیدل چلنے کا حکم دیا اور ایران بارڈر تک دشوار گزار اور خطرناک راستہ بھوکے پیاسے چھ گھنٹوں سے زیادہ وقت میں طے ہوا۔اس کے بعد مشکیل کی دشوار گزار پہاڑی سلسلہ 3/4روز کے پیدل سفر کے بعد طے ہوا۔دشواریوں اور پریشانیوں کا یہ سلسلہ آخری پڑاؤ تک جاری رہتا ہے اور مجرموں یاانسانی سمگلروں کا وطیرہ ہے کہ بیمار اور کمزور کو برداشت نہیں کرتے اور سمندر یا جنگل میں پھینکنے میں ایک لمحہ نہیں لگاتے۔یونان کی آخری منزل تک پہنچنے کے لئے راستے کے 8/9ممالک پار کرنے پڑتے ہیں جن کا صحیح سلامت گزرنا معجزے سے کم نہیں۔
صرف پاکستان کے اندر ایک ہفتہ تک دشواریاں برداشت کرنے کے بعد جب ایران کی حدود میں داخل ہوئے ہوئے تو وہاں انسانی سمگلروں کا گروں موجود پایا جن کی ذمہ داری ہمیں ترکیہ کی سرحد پر موجود ترکیہ کے انسانی سمگلروں کے حوالے کرنا تھا۔انہوں نے ان مسافروں کو پہلے سے موجود کرولا کاروں میں سوار کرنا شروع کیا اور ایک گاڑی میں گنجائش نہ ہونے کے باوجود 18/18لوگوں کو ڈگی اور سیٹوں میں ٹھونس دئیےاور روانہ ہوگئے۔پوری پوری رات انہیں حالات میں سفر کیا اور ترکیہ بارڈر کے قریب پہنچے تو سامنے فوجی (بارڈر فورس) اور پیچھے ایرانی راہزن یا جرائم پیشہ گروہ “خوردے” جو اس قسم کے شکاروں کی تلاش میں ہوتے ہیں، موجود پائے۔ یہاں سے بچ کے ترکیہ میں داخل ہو کر آگے بڑھے توش آگے “ماکو” کا برف پوش پہاڑی سلسلہ تھا جسے فوجیوں اور “خوردے” گروہوں سے بچ کر نکل جانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے، خوردے گروہوں کے ہتھے چڑھنے والے نئی مصیبتوں میں پھنس جاتے ہیں، خوردے ان لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو پاکستان میں دہشتگرد یا تاوان کے لئے اغواء کرنے والے پیشہ ور گروہ کرتے ہیں۔خوردے اغوا کئے جانے والوں کے والدین یا وارثوں کے ساتھ وڈیو فون پر رابطہ کر کے 10لاکھ تک تاوان طلب کرتے ہوئے دھمکی دیتے ہیں کہ اگر ان کا مطالبہ پورا نہ کیا گیا تو وہ ان کے بچے کو قتل کر دیں گے یا زندہ دفن کر دیں گے اس کے لئے وہ دفن کرنے کے لئے گھڈا بھی کھوتے ہیں یا بچے کے وارثوں کے سامنے اس کا کان خنجر سے کاٹ دیتے ہیں اور انہیں مطلوبہ رقم بھیجنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔سفر کے دوران اگر زندہ رہنا ہے تو ہر قدم پر پیسے دینے پڑتے ہیں ورنہ یہ لوگ پکڑے جانے والوں کو بارڈر فورس یا پولیس کے حوالے کر دیتے اور راستے کے تمام سرحدوں کے راستے پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA)کے حوالے کردیا جاتا ہے۔
بشکریہ: روزنامہ آج
نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

