Latestاردومتفرق

نابینا نجومی بابا وانگا کی 2023ء سے متعلق اہم پیشنگوئی

بلغاریہ سے تعلق رکھنے والی عالمی شہرت یافتہ آنجہانی خاتون نجومی ’’بابا وانگا‘‘ کی 2023ء کے لیے کی گئی ایک پیشن گوئی کافی مقبول ہو رہی ہے جس میں ایک ہولناک انکشاف کیا گیا تھا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 91 سال کی عمر میں 1996ء میں انتقال کرجانے والی خاتون نجومی بابا وانگا کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ وہ روحانی صلاحیتوں سے مالا مال تھیں۔ ان کی دنیا سے متعلق کی گئیں پیشن گوئیاں یکے بعد دیگرے درست ثابت ہورہی ہیں۔

بابا وانگا نے یہ پیشن گوئیاں اپنی موت سے قبل کر رکھی تھیں اور سال بہ سال ہونے والے مستقبل کے واقعات کو پہلے ہی بیان کردیا تھا۔ ان کی پیشن گوئیاں 1989ء سے 5079ء تک کے لیے ہیں۔ انھوں نے 5079ء کو دنیا کے اختتام کا سال قرار دیا ہے۔

بابا وانگا کی ان پیش گوئیوں کو اس وقت سنجیدگی سے دیکھا گیا جب ان کی موت کے بعد نائن الیون کا واقعہ پیش آیا۔ بابا وانگا نے 1989ء میں پیشن گوئی کی تھی کہ امریکا کے لوگ اُس وقت شدید خوف زدہ ہوں گے جب دو آہنی پرندے بڑی عمارتوں سے ٹکرایں گے اور ہر طرف دہشت کا راج ہوگا۔

شہزادی ڈیانا کی موت، سویت یونین کے خاتمے اور 2004ء میں تھائی لینڈ کے سونامی جیسی بڑی پیش گوئیاں بھی پوری ہوئی تھیں۔  2022ء میں خطرناک زلزلے، سیلاب اور پینے کے پانی کی قلت کی پیشن گوئی بھی سچ ثابت ہوئی تھی۔

بابا وانگا کے پیروکاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ 2023ء میں ایک بڑے جوہری پاور پلانٹ میں دھماکے کی پیشن گوئی بھی کی تھی۔ جس سے ایشیا میں زہریلے بادل چھا جائیں گے اور ہزاروں افراد بیمار پڑ جائیں گے۔

یاد رہے کہ مندرجہ بالا پیشن گوئی پہلی بار منظر عام پر آئی ہے۔ اس سے قبل بابا وانگا کی 2023ء سے متعلق یہ پیشگوئیاں سامنے آئی تھیں کہ اس سال قدرتی طور پر بچے پیدا کرنے پر پابندی عائد ہوجائے گی اور 2023ء کی نسل کو لیبارٹری میں تیار کیا جائے گا۔

والدین بچوں کے رنگ اور خصوصیات بھی خود منتخب کریں گے اور لیبارٹری میں بالکل ان کی پسند کے مطابق بچے تیار ہوں گے۔

علاوہ ازیں زمین کے مدار میں تبدیلی اور زمین پر رہنے والوں کے خلائی مخلوق کے حملے میں مارے جانے کی پیشن گوئی بھی کی گئی تھی۔

بشکریہ: 24 نیوز

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *