خامشی کہہ رہی ہے کان میں کیا
شاعر: جناب جون ایلیاء
خامشی کہہ رہی ہے کان میں کیا
آ رہا ہے گمان میں کیا
مجھ کو کوئی ٹوکتا بھی نہیں
یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا
اپنی محرومیاں چھپاتے ہیں
ہم غریبوں کی آن بان میں کیا
شام سے ہی دوکان دید ہے بند
نہیں نقصان تک دوکان میں کیا
وہ ملے تو یہ پوچھنا ہے مجھے
اب بھی میں تری امان میں کیا
بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
آبلے پڑ گئے ہیں زبان میں کیا
یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو
کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا
ہے نسیم بہار گرد آلود
خاک اڑتی ہے اس مکان میں کیا
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہاں میں کیا

