Latestاردوسائنس و ٹیکنالوجی

انسان کے آخری لمحات میں اسے کیا نظر آتا ہے؟

موت کی وادی سے واپس لوٹنے والوں نے اکثر انتہائی غیرمعمولی تجربات کا سامنا کیا ہوتا ہے، جیسے انہیں کسی سرنگ کے دہانے پر روشنی نظرآتی ہے، روح کو اپنے جسم سے باہر دیکھنا، اس دنیا سے جانے والے اپنے پیاروں سے سامنا ہونا یا فوری طور پر زندگی بھر کے اہم واقعات کا کسی فلم کی طرح چلنا شامل ہے۔

حالیہ تحقیق میں یہ تو معلوم نہیں ہوسکا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے لیکن پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنس (PNAS) میں شائع ہونے والے نئے مقالے کے مطابق مشی گن یونیورسٹی کے محققین کو 2 مرنے والے مریضوں میں شعور سے وابستہ دماغی سرگرمیوں میں اضافے کے شواہد ملے ہیں۔

گوکہ یہ تحقیقی مقالہ نیا تو نہیں لیکن اپنی نوعیت کا منفرد مقالہ اس لئے ہے کیونکہ اس میں تفصیلی رپورٹ شامل ہے۔

مذکورہ تحقیق کے دوران جب ڈاکٹروں کو اس بات کا یقین ہو گیا کہ دل کا دورہ پڑنے سے کوما میں جانے والے 4 مریضوں کی زندگی طبی مدد سے بحال نہیں ہوسکتی تو انہیں وینٹی لیٹر سے ہٹا کر ان کا مشاہدہ کیا گیا۔

جب انہیں وینٹی لیٹر سے اتارا گیا تو 4 میں سے 2 مریضوں، ایک 24 سالہ خاتون اور ایک 77 سالہ خاتون، کی دل کی دھڑکنوں اور دماغی لہروں میں گاما فریکوئنسی میں اضافہ دیکھا۔ 

خیال رہے کہ دماغ میں پیدا ہونے والی یہ تیز ترین سرگرمی، شعور سے وابستہ ہے۔

یہاں یہ واضح رہے کہ 2022 میں بھی اسی نوعیت کی ایک تحقیق ہوئی تھی جس میں 87 سالہ خاتون کی موت گرنے سے ہوئی تھی، ان کی موت سے قبل ان کے دماغ میں بھی گاما فریکوئنسی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔

تاہم حالیہ تحقیق میں یہ جائزہ لیا گیا کہ موت سے قبل دماغ کے کون کون سے حصے روشن یا سرگرم ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ معلوم ہوا کہ دماغ کا وہ حصہ ’ پوسٹیریئر کورٹیکل ہاٹ زون‘ جو شعور سے وابستہ ہے، سرگرم ہوتا ہے۔

جب دماغ کے اس حصے میں سرگرمی ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مریض کچھ دیکھ، سن اور اردگرد ہونے والی حرکات کو محسسوس کر رہا ہے۔

محققین کے مطابق ان مریضوں کی زندگی کے آخری لمحات میں یک بعد دیگر ان کے دل و دماغ کی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ان میں مزید اضافہ دیکھا گیا۔

محققین ابھی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کیوں صرف ان 2 مریضوں کو ہی ان ’ خفیہ شعور‘ کی ممکنہ علامات کا تجربہ ہوا جبکہ دیگر 2 نے ایسا محسوس نہیں کیا۔

چونکہ اس تحقیق کے لئے نمونے کا سائز مختصر ہے اس لئے محققین ابھی کسی واضح نتیجے پر پہنچنے سے قاصر ہیں۔

مزید یہ کہ محققین ابھی اس بات کی تصدیق کرنے سے بھی قاصر ہیں کہ مریضوں کو واقعی کوئی خواب دکھائی دیتا ہے یا یہ سب صرف قیاس آرائیاں ہیں کیونکہ مریض اپنے تجربات بتانے کے لئے زندہ نہیں۔

محققین کو امید ہے کہ مستقبل میں مزید سینکڑوں لوگوں کا ڈیٹا جمع کرکے کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

بشکریہ: جنگ

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *