Latestاردوسیاستشعبہ انٹرنیشنل

دنیا میں آزادی صحافت پر حملے جاری

Share your Love

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دنیا کے ہر کونے میں آج آزادی صحافت حملوں کی زد میں ہے۔ صحافیوں کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا، جیلوں میں ڈالا جا رہا حتیٰ کہ انہیں قتل بھی کیا جا رہا ہے۔

آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر بدھ تین مئی کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے صحافیوں کو نشانہ بنانے اور غلط معلومات پھیلانے کی مذمت کرتے ہوئے دنیا بھر میں صحافتی برادری کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا:

’’ہماری ہر قسم کی آزادی کا انحصار پریس کی آزادی پر ہے۔ یہ جمہوریت اور انصاف کی بنیاد ہے اور انسانی حقوق کے لیے جسم میں خون کے مانند ہے۔‘‘

انٹونیو گوٹیرش نے نیو یارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ ایک تقریب سے اپنے ویڈیو خطاب میں کہا کہ آج دنیا کے ہر کونے میں آزادی صحافت حملوں کی زد میں ہے۔

انہوں نے مزید کہا:

’’دنیا میں آج سچ کو جھوٹ اور نفرت انگیزی سے خطرہ ہے۔ دراصل جھوٹ اور نفرت کا پھیلاؤ حقیقت اور افسانے کی درمیانی لکیر کو دھندلا کر دیتا ہے، سائنس اور سازش کے درمیان فرق کو مٹا دیتا ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے، انہیں ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے، انہیں حراست میں رکھا جا رہا ہے اور قید میں ڈال دیا جاتا ہے۔

گوٹیرش نے کہا کہ تین چوتھائی خواتین صحافیوں کو آن لائن تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جب کہ ایک چوتھائی خواتین صحافیوں کو جسمانی دھمکیاں بھی ملتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ان حملوں اور صحافیوں کے ان کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے باعث قید کیے جانے کے خلاف متحد ہوکر آواز بلند کریں کیونکہ

’’جب صحافی سچائی کے لیے کھڑے ہیں، تو دنیا کو بھی ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہیے۔‘‘

رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ سال 2022 میں اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہو ئے 55 صحافیوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے

سال 2022ء میں 55 صحافیوں کا قتل

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے بھی صحافیوں اور آزادی صحافت کے خلاف دنیا بھر میں ہونے والے حملوں کی مذمت کی ہے۔ اس ادارے نے کہا ہے کہ آن لائن اور آف لائن دونوں ہی طرح کی صحافت کرنے والے صحافیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

آزادی صحافت کے لیے آواز بلند کرنے والی عالمی تنظیم رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ سال 2022ء میں اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہو ئے 55 صحافیوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔ ان کے علاوہ چار دیگر میڈیا کارکنان بھی مارے گئے۔

یونیسکو نے اس موقع پر تین ایرانی خواتین کو سال 2023ء کا ورلڈ پریس فریڈم پرائز دینے کا اعلان بھی کیا۔ ان میں سے دو خواتین صحافی ہیں اور تیسری انسانی حقوق کی ایک کارکن۔

جن خواتین کو یہ انعام دینے کا اعلان کیا گیا ہے، ان میں الھہ محمدی اور نیلوفر حامدی نے مہسا امینی کی دوران حراست موت کی خبر کو اجاگر کیا تھا جب کہ نرگس محمدی انسانی حقوق کے لیے کام کرتی ہیں اور ان دنوں جیل میں ہیں۔

ورلڈ پریس فریڈم انڈکس2023ء میں میں دنیا کے 180 ملکوں میں پاکستان سات رینک کی بہتری کے ساتھ 150 ویں مقام پر جبکہ بھارت دس رینک نیچے گر کر 161 ویں مقام پر پہنچ گیا

امریکہ کا صحافیوں کی مدد کا اعلان

امریکہ نے دنیا بھر میں ایسے صحافیوں اور میڈیا اداروں کی مدد کا اعلان کیا ہے جنہیں حکومت مخالف آوازیں بلند کرنے پر قانون کی آڑ میں دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کی ایڈمنسٹریٹر سمانتھا پاور نے آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع اقوام متحدہ میں ’رپورٹرز شیلڈ‘ نامی پروگرام کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بہت سے آزاد اداروں کے لیے قانونی اخراجات اٹھانا مشکل ہوتا ہے اس لیے وہ حکومتوں کے عتاب سے بچنے کے لیے یا تو اپنا کام بند کر دیتے ہیں یا پھر خود ہی اپنی کارکردگی کو سنسر کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اس صورت حال کا فائدہ بدعنوان رہنما اٹھاتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *