اردو

غزل

Share your Love

ماہ لقا بائی چندا اردو زبان کی پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ تھی۔ ماہ لقا بائی کا تخلص چندا تھا۔ ماہ لقا کا شمار حیدرآباد، دکن کے اردو زبان کے اولین شعرا میں کیا جاتا ہے۔ اٹھارہویں صدی عیسوی میں ماہ لقا کی شاعری نے اردو زبان کی شاعری کے دبستان دکنی کو نیا فروغ دیا۔ 1824ء میں ماہ لقا کے اُردو دیوان کی اشاعت کے بعد اُسے اردو زبان کی پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ کا مقام حاصل ہوا۔ جنوبی ہند میں اردو زبان کے فروغ میں ماہ لقا کی شاعری سنگ میل کا درجہ رکھتی ہے۔ شاعرہ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ نظام حیدرآباد کے دربار سے بھی وابستہ رہی۔ 1824ء میں ماہ لقا کا انتقال ہوا۔

طویل عرصہ نواب رکن الدولہ کے زیر سایہ پرورش پاتی رہی۔ اِس دوران ماہ لقا نے شاعری میں اپنے ذوق کو بڑھانا شروع کیا۔ نوجوانی کے دور میں اُسے حیدرآباد، دکن کے تمام ادبی سرمائے شاہی کتب خانوں میں فراہم ہوتے رہے۔ 14 سال کی عمر میں وہ گھڑ سواری اور تیر اندازی میں مہارت حاصل کرچکی تھی۔ اپنی مہارتوں کے سبب وہ نظام حیدرآباد علی خان آصف جاہ ثانی کے ہمراہ تین جنگوں میں شریک رہی۔ جنگی لباس مردانہ طرز کا ہوتا اور ہتھیاروں سے لیس ہوکر میدانِ جنگ کے لیے نکلا کرتی تھی۔
جہاں تک چندا کی شاعری کا تعلق ہے اس کے قلمی دیوان کے تین نسخوں کا پتہ چلتا ہے ۔ ایک کتب خانہ سالار جنگ حیدرآباد کی زینت ہے ۔ دوسرا اورینٹل مینواسکرپٹ لائبریری میں محفوظ ہے اور تیسرا نسخہ انڈیا آفس لائبریری (لندن) کا مخزونہ ہے ۔
چندا کا دیوان پہلی بار 1908ء میں ’’گلزار ماہ لقا ‘‘کے نام سے نظام المطابع چھتہ بازار حیدرآباد سے شائع ہوا تھا ۔ دوسری بار اس دیوان کی اشاعت 1959ء میں ثمینہ شوکت کی کتاب ’’مہ لقا‘‘ میں عمل میں آئی ۔ تیسری بار پروفسیر شفقت رضوی نے چندا کے دیوان کو 1990ء میں اپنے عالمانہ مقدمے کے ساتھ مجلس ترقی ادب لاہور سے شائع کیا۔ چوتھی بار 1998ء میں یہ دیوان راحت عزمی کی کتاب ’’ماہ لقا‘‘ میں شاملِ اشاعت ہوا ۔

چنداؔ کے دیکھنے کی جو خواہش کرے کوئی
رکھتا ہو وصف اپنے میں وہ عز و جاہ کا
——
بجز حق کے نہیں غیر سے ہر گز توقع کچھ
مگر دنیا کے لوگوں میں مجھے ہے پیار سے مطلب
——
گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہے
ہر کلی جان کو مٹھی میں لئے بیٹھی ہے
کبھی صیاد کا کھٹکا ہے کبھی خوفِ خزاں
بلبل اب جان ہتھیلی پہ لئے بیٹھی ہے

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *