امراض قلب کی شرح اموات کم کرنے کےآزمودہ ٹوٹکے
تحریر:ڈاکٹر طارق مرزا۔ آسٹریلیا
آسٹریلیا بھر میں امسال یکم مئی سے قومی سطح پر دل کی صحت کے بارہ میں ہفتہ آگہی ( heart health awareness week )
منایا جا رہا ہے ۔اسّی کی دہائی کے بعد سے آسٹریلیا میں گوامراض قلب کی وجہ سے شرح اموات میں بہت کمی واقع ہو ئی ہے اس کے باوجود اب بھی ہر تیس منٹ بعد ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ایک شخص کی موت واقع ہو رہی ہوتی ہے۔ یہ تقریباً 50 افراد روزانہ کی تعداد بنتی ہے جو ایک تشویش ناک امر ہے۔
آسٹریلیا کے مقابلہ میں پاکستان کی کیا صورتحال ہے ؟۔ اگر آسٹریلیا میں روزانہ 50 افراد امراض قلب کے ہاتھوں جاں بحق ہو رہے ہیں تو مستند ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً اتنے ہی یعنی 47 افراد ہر گھنٹے میں بوجہ امراض قلب اپنے عزیزوں اور پیاروں کو داغِ مفارقت دے جاتے ہیں۔
پاکستانی ارباب اختیار،حل و عقد نے گزشتہ چند برسوں میں اگر کچھ ترقی کی ہے تو وہ دل کے سٹنٹ (Stent) کی کم قیمت پر دستیابی کے سلسلے میں ہی کی ہے، جو بجائے خود ایک مستحسن اقدام ہے لیکن سٹنٹ کی نوبت تک نہ پہنچنے ،یعنی امراض قلب کی روک تھام کے معاملہ میں کوئی قابل ذکر یا مؤثرکارکردگی دیکھنے کو نہیں آرہی ۔پاکستان پر ہی موقوف نہیں دنیابھر کے غریب اور ترقی پذیر ممالک کی یہی صورتحال ہے،جنانچہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق جبکہ صرف سال 2019 میں امراض قلب کے ہاتھوں دنیا بھر میں تقریباً 18 ملین اموات واقع ہوئیں تو ان میں سے پچھترفیصد اموات کم اور اوسط آمدنی والے ممالک میں ہوئیں۔
گزشتہ تین دہائیوں میں آسٹریلیا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں امراض قلب کے ہاتھوں شرح اموات جن مجرب ، آزمودہ اور تیر بہدف طبی ٹوٹکوں کو اپناکر کم کی جا سکی ہے ،افادہ عام کی خاطر ذیل میں درج کیئے جاتے ہیں:
٭ کسی خاندان میں اگر دل کا مرض چل رہا ہے تو نئی نسل کو ان کی اوائل عمری میں ہی ٹیسٹ کرنا اور تاحیات کم از کم سالانہ چیک اپ کرنا، صحتمند رجحانات کی ترغیب و ترویج اور ابتدا سے ہی مرض کی تشخیص اورعلاج شروع کردینا اورمعالج کی ہدایات کے مطابق جاری رکھنا صحتمند،بھرپوراور لمبی عمر کی ضمانت بن جاتا ہے۔
٭ ہائی بلڈ پریشر کے مرض کی ابتدا میں ہی تشخیص اور پھر اسے بھرپور طریقے سے کنٹرول میں رکھنا۔کیونکہ دل کے امراض کی ایک بڑی وجہ ہائی بلڈ پریشر یعنی بلند فشار خون بھی ہے۔
٭ شوگر ،یعنی ذیابیطس کی ابتدا میں ہی تشخیص اور پھر اسے بھرپور طریقے سے کنٹرول میں رکھنا۔ کیونکہ دل کے امراض کی ایک بڑی وجہ (بالواسطہ یا بلا واسطہ) ہروقت خون میں شکرکی مقدار کا بڑھے رہنا بھی ہے۔
٭خون میں کولیسٹرول کی مقدار کو کم رکھنا،خواہ صحتمند خوراک اور باقاعدہ ورزش سے اور خواہ کولیسٹیرول کم کرنے والی ادویات سے،یا دونوں سے۔ کیونکہ دل اور شریانوں کے امراض کی ایک بڑی وجہ ہروقت خون میں کولیسٹیرول کی مقدار کا حد سے بڑھے رہنا بھی ہے۔
٭موٹاپے سے بچاؤ اور اس کا علاج۔ کیونکہ موٹاپا نرا سیاپا ہوتا ہے،خاص کر دل کے معاملے میں۔ قد اور جنس کے لحاظ سے ہرفرد کا ایک صحتمند وزن ہوتا ہے،جس کے ذریعے دل کی ہی نہیں ۔متعدد دیگر موذی امراض سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ وزن کے حوالے سے اپنے ذاتی معالج سے مشورہ لیا جاسکتا ہے۔
٭تمباکو نوشی (اور دیگر مسکرات ،خصوصاً الکوحل) سے مکمل پرہیز۔
٭دیگر مزمن امراض مثلاً امراض گردہ،جگر وغیرہ کی بروقت تشخیص اور علاج اور
٭ہر ہفتہ کم از کم تین دن ،اور ہر مرتبہ کم از کم تیس منٹ ، ایسی ورزش کرنا جس سے نبض اور سانس کی رفتارتیز ہوتی ہو۔
پیارے قارئین ، یہی وہ مجرب، تیر بہدف اور آزمودہ ٹوٹکے ہیں جنہیں استعمال میں لا کر ترقی یافتہ ممالک ،خصوصاً آسٹریلیا میں گزشتہ پچیس تیس برسوں میں امراض قلب کے ہاتھوں قبل از وقت اموات کی شرح میں حیرت انگیز حد تک کمی لانا ممکن ہوا،نہ کہ کسی نام نہاد “خاندانی ” ٹوٹکے ، ” فقیری بائی پاس تعویذ ” یا عطائیوں کے تیارکردہ “کشتۃ جاتِ دلربا،سفوفِ دلکشا،معجونِ دل عطا،طلاءِ دل صفا،سٹینٹی لیپ کلاں،دلِ نوخیزدھونی،شربتِ دل افزاء” وغیرہ کے استعمال سے۔
عطائی “خاندانوں” سے معذرت کے ساتھ،اگرآپ کے طبقہ کے یہ خاندانی ٹوٹکے اور سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے نسخے کارگر ہوتے توآج پاکستان میں دل کے امراض کے ہاتھوں ملک بھر میں یہ فی گھنٹہ چالیس چالیس،پچاس پچاس کی تعداد میں موتا موتی دیکھنے کو ہرگز نہ ملتی۔
ہاتھ کنگن کو آرسی کیا؟۔
یہ تحریر مضمون نگار کے ذاتی خیالات اور رائے پر مبنی ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

