اردو

‎مائنس آل اشرافیہ اور ۱۹۷۳ کا آئین

Share your Love

تحریر:عبدل کنڈی
آج آپ سے ۱۹۷۳ کے آئین پر بات کرنا چاہتا ہوں مگر پہلے ناکام جمہوریہ کی رپورٹ کارڈ۔ نیب کے چئیرمین نے یہ کہہ کر استعفی دی دیا کے وہ کسی پر ناجائز مقدمات نہیں بنا سکتے۔ یعنی نیب اب تک سیاسی انجینرنگ کا مرکز ہے۔ خبر یہ بھی آئی ہے کہ بلوچستان میں کسی سردار نے نجی جیل بنائی ہوئی ہے۔ ایک خاتون اور اس کے سات بچوں کو اس میں بند رکھا اور وہ اپنے دو بچوں کے ساتھ ماری گئی۔ عوام چلا چلا کر بتا رہی ہے وہ سردار کون ہے۔ مگر ریاستی پولیس نے نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ قائم کیا ہے۔ اس ظالم ریاست کو طاقتور مجرم نظر نہیں آتے۔ آخر میں آئی ایم ایف کی سربراہ نے صرف ایک منٹ کی ویڈیو میں اس ظالم جمہوریہ کی اشرافیہ کو دنیا کے سامنے ننگا کر دیا۔ مگر یہ بیشرم حکمران اب بھی اپنا مفاد چھوڑنے کو تیار نہیں۔ آئی ایم ایف کی سربراہ نے وہی بات کہی جو ہم کئی سال سے کر رہے ہیں۔ جواب میں ڈار صاحب نے ایک اور قرآنی آیت ٹوئیٹ کردی۔ ان کا شکریہ اس بات کا ثبوت دینے کا کہ تمام ظالم اور نااہل مذہب کے پیچھے چھپتے ہیں۔ عمران خان کی انا پرستی بھرپور انداز سے جاری ہے۔ ایکدفعہ پھر ان تمام واقعات نے ثابت کیا اس ظالم جمہوریہ کے بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس ظالم جمہوریہ کے مٹنے کے بعد کیا ہوگا۔ میں کئی سال سے یہ لکھ رہا ہوں کے ۱۹۷۳ کا آئین عوامی نہیں بلکہ استحصالی ہے۔ اس میں تمام انتہا پسندوں کو ان کے مفادات کا تحفظ ملا۔ مذہبی انتہا پسند اپنی پسند کے آرٹیکل لکھواتے رہے اور لسانی انتہا پسندوں نے اپنا مقصد حاصل کیا۔ اس آئین کی خرابیوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ آئین چند لوگوں نے مل کر لکھا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ۱۹۷۰ کے الیکشن میں حصہ لیا۔ مگر کسی نے الیکشن نتائج کو تسلیم نہیں کیا اور ملک دو لخت ہوگیا۔ جن کی انا پرستی سے ملک دو لخت ہوا وہی اس آئین کے خالق ہیں۔ چلیں آئین لکھ لیا مگر لکھ کر اسے عوام کے سامنے نہیں رکھا گیا۔ یعنی اس آئین کو عوام کی حمایت اور تائید حاصل نہیں ہے۔ دنیا کی کسی کامیاب جمہوریہ میں اس کی مثال نہیں ملتی کے آئین کو عوام کی حمایت حاصل نہ ہو۔ نتیجہ آج آپ کے سامنے ہے۔

میں ظالم جمہوریہ کی ناکامی کا ایک سبب اس استحصالی آئین کو بھی سمجھتا ہوں اگرچہ بہت سے دوسرے عوامل بھی ہیں۔ میں نے بات پر کئی سال زور دیا ہے کہ ہمیں آئین دوبارہ لکھنا ہوگا اور اسے عوام کے سامنے رکھنا ہوگا۔ جب میں نے یہ بات کہی تو کئی لوگوں نے الزام لگایا میں ملک میں غیر جمہوری اقتدار چاہتا ہوں۔ اس الزام کی تو خیر کوئی پرواہ نہیں۔ مگر کچھ دانشوروں نے یہ خطرہ ضرور ظاہر کیا کہ نیا آئین لکھنے میں کئی خطرات ہیں اور ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ میں نے کئی ماہ گہرائی سے ان خدشات پر غور کیا ہے۔ میں یہ بات مانتا ہوں کہ نیا آئین ایک پر خطر راستہ ہے اور شاید ہم موجودہ افراتفری میں اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

بہت غور کے بعد میں آپ کے سامنے ایک متبادل تجویز پیش کرتا ہوں۔ آئین موجودہ شکل میں ایک بگڑی ہوئی دستاویز ہے جس میں مارشل لاء جرنیلوں اور خود غرض نااہل سیاستدانوں نے اپنی پسند کی ترمیمات کی ہیں۔ اسلئے یہ تو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ مگر ایک حل یہ ہوسکتا ہے کہ ۱۹۷۳ کا آئین اس کی اصل شکل میں ایکدفعہ پھر ایک عوامی کمیٹی کے سامنے رکھا جائے جو اس کے ہر آرٹیکل پر غور کر کے اس کے استحصالی کردار کو ختم کریں اور اسے عوامی شکل دیں۔ یہ تجویز کردہ دستاویز پھر عوام کے سامنے رکھی جائے اور وہ اسے قبول یا مسترد کریں۔ مجھے یقین ہے اگر عوامی آئین لکھا جائے گا تو پاکستانی عوام اس کی ضرور حمایت اور تائید کرینگے۔ یہ ملک ایک آئینی جدوجہد کے نتیجہ میں آزاد ہوا۔

آئین، الیکشن قوانین، اسمبلی کے رولز آف بزنس، اور پینل کوڈ کو نئے سرے سے ترتیب دینا ضروری ہے تاکہ ایک عوامی جمہوریہ کا قیام ہو۔ اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں بچا۔ مائنس آل اشرافیہ، پھر آئین کی ترتیب اور پھر الیکشن۔ موجودہ ظالم جمہوریہ نہیں چل سکتی۔ باقی آپ کی مرضی ہے۔ میں تو ہاتھ دھو چکا ہوں۔

یہ تحریر مضمون نگار کے ذاتی خیالات اور رائے پر مبنی ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *