اردو

انٹرویو- منصور امیہ خان-

تحریر و ملاقات – عیشا صائمہ
ہم نے دیکھا ہے کہ زندگی گزارنے کے کئ ڈھب ہیں لیکن وہ زندگی جو آپ کو نہ صرف جینا سکھائے بلکہ دوسروں کے کام آنا بھی وہ زندگی کسی نعمت سے کم نہیں – انسان کو محض دنیا میں بھیج کر اس میں کھو جانے کا نہیں کہا گیا بلکہ ایک مقصد حیات عطا کیا گیا جن لوگوں نے اس مقصد کو سمجھ لیا اور اس کے مطابق خود کو ڈھال لیا وہ ہی کامیاب ہیں – ایک ایسی ہی شخصیت جو دوسروں کو جینے کا ہنر سکھاتے ہیں بوائے اسکاؤٹنگ میں گولڈ میڈل بھی لے چکے ہیں اور خود کو رب کے لئے بدلنے کے بعد ایک پرسکون زندگی گزار رہے ہیں ان سے میری گفتگو لاہور انٹرنیشنل لندن میگزین کے نمائندہ کی حیثیت سے ہوئی کیونکہ یہ بوائے اسکاؤٹنگ میں بطور رضا کار کام کر چکے ہیں اور بطور ہیڈ تربیت کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے ہیں اور دے رہے ہیں -ایک ادارے میں پرنسپل کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں – بوائے اسکاؤٹنگ کے ساتھ ساتھ ان کی ذاتی زندگی کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی جو آپ پیارے قارئین کی نذر ہے –

آپ کی ایجوکیشن کیا ہے ؟
منصور خان – ایم ایس سی ان فزیکل ایجوکیشن ایم ایڈ-

بچپن کیسا گزرا؟
منصور خان – مکمل گاؤں کےقدرتی ماحول میں زندگی کے پورے مزے لیتے ہوےتشنگی نہیں ہے کیونکہ اس دورکی ہر لذت سےمستفید ہونے کا شرف حاصل رہاوہ دوستوں سے گپ شپ میں دیر سے گھر آنے پر وہ والدہ کی طرف سے عزت افزاٸی اب احساس ہو رہا ہے کہ کاش وہ دن دوبارہ لوٹ آٸیں.

بچپن میں کون کون سے کھیل پسند تھے؟
منصور خان – اٹی ڈنڈا ، جمعرات آٸی اے ، سنتولیہ ، چیتو ایچک پیچک، ،چھپن چھپائی
اور بھی اس وقت کے کھیل تھے جو یاد نہیں –

بچپن میں شرارتی تھے یا سنجیدہ؟
منصور خان – بہت زیادہ شرارتی تھا –

فزیکل ایجوکیشن کا انتخاب کیوں کیا؟ کیا اس کی وجہ کھیلوں میں دلچسپی تھی؟
منصور خان – جی کھیلوں میں بہت زیادہ دلچسپی تھی اسی لیے اس کا انتخاب کیا –

بوائے اسکاؤٹنگ کی طرف کیسے آنا ہوا؟
منصور خان – سکول میں اسکاؤٹنگ کے کورسز کرائے جاتے تھے دوران سروس بھی یہ سلسلہ جاری رہا جس کی وجہ سے دلچسپی بڑھی دوسری بڑی وجہ اس میں آنے کی یہ تھی کہ اخلاص، بغیر معاوضہ کام کا جذبہ-

بوائے اسکاؤٹنگ کی طرف آنے کے لیے کسی تربیتی ورکشاپ کی ضرورت ہوتی ہے یا کوئی بھی آسکتا ہے؟
منصور خان – جی اس میں آنے کے لیے دلچسپی اور آمادگی کا ہونا بہت ضروری ہے دوسرا اس کے کورسز میں بیسک ایڈوانس علامہ اقبال ، قاٸداعظم اتحاد تنظیم وڈبیج اے ایل ٹی، ایل ٹی-شامل ہیں جس سے آپ کی دلچسپی بڑھتی ہے –

بوائے اسکاؤٹنگ کے لیڈر ٹرینر کے طور پہ کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟
منصور خان – جو چیزیں دلچسپی سے نہیں سیکھی تھی وہ دوبارہ سیکھ کر کلاس میں جانا پڑتا تھا – پہلے پہل مشکل ہوئی لیکن بعد میں دلچسپی بڑھنے کی وجہ سے اس میں مزا آنے لگا -کیونکہ آپ خود کو بہتر طور پر تیار کر کے دوسروں کو بہترین سکھا سکتے ہیں –
بوائے اسکاؤٹنگ کے جو تربیتی کورسز کروائے جاتے ہیں وہ کس حد تک فائدہ مند ہوتے ہیں؟
منصور خان – سو فیصد فاٸدہ مند صحت مند سرگرمیاں اور کورسز ہوتے ہیں معاشرے کامفید شہری بننے میں یہ کورسز بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں –

کیا اس کورس میں طلباء کے علاوہ اساتذہ بھی حصہ لے سکتے ہیں اس کا پروسیجر کیا ہے؟
منصور خان – جی ہاں بالکل یہ سارے کورسز اساتذہ بھی کرتے ہیں اور اس شعبہ میں عمر کی کوٸی قید نہیں کیوں کہ یہ بلامعاوضہ نظام ہے اور صحت مند زندگی کی طرف ایک اہم قدم ہے چونکہ ان سرگرمیوں سے انسان میں مثبت تبدیلی آتی ہے اور جو بھی ان کورسز میں حصہ لیتے ہیں وہ خود کو چست محسوس کرتے ہیں – اور ان کی زندگی سے منفی سوچ ختم ہو جاتی ہے وہ خود کو اس قابل بنا لیتے ہیں کہ دوسروں کے لیے کچھ کر سکیں –

اس فیلڈ میں آپ کو گولڈ میڈل ملا کیا تاثرات تھے جب آپ کو منتخب کیا گیا؟
منصور خان – ظاہر ہے جی میرے لٸے یہ ایک اعزاز کی بات تھی کہ بے لوث خدمات پر صرف اللہ کی رضامندی کی خاطر اگر اللہ پاک نے عزت سے نوازا تھا بہت زیادہ جذباتی تھا اور بہت خوشی محسوس ہو رہی تھی-

اب تک اس فیلڈ میں آپ نے بہت سے طلباء اور، اساتذہ کی تربیت کے فرائض سرانجام دییے کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہر اسکول کالج میں ایسے تربیتی کورسز ہونے چاہئیں؟
منصور خان – جی جی بالکل – بلکہ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اسکاوٹنگ کو تو ہر شعبہ میں لازمی رکھا جاٸےیہ شعبہ میرے نزدیک انسانیت کو بہت قریب سے دکھاتا ہے-دوسروں سے محبت، احساسِ زمہ داری ،اسلامی اصولوں کو اپنانے میں بہت معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے –

ایک عام طالب علم اور ایک بوائے اسکاؤٹنگ کی تربیت لینے والے دونوں بچوں میں کیسے فرق کیا جا سکتا ہے؟
منصور خان – جی واضع فرق محسوس ہو گا اخلاق و کردار سے، لباس سے، قربانی کے جذبہ سے، احساس ذمہ داری سے، نماز کے اہتمام سے-

بوائے اسکاؤٹنگ طلباء میں کیسے مثبت تبدیلی لاتا ہے؟
منصور خان – اسکاوٹ طلباء کی سوچ مثبت ہو گی ہر کام انسانی جذبہ سے آگے بڑھ کر کرنے کی صلاحیت ہی أن طلباء کا مثبت پہلو ہے-

کیا آج کی تعلیم تربیت کی زمہ داری پوری کر رہی ہے؟
منصور خان – جی میں تو سو فیصد اس سے مطمئن نہیں ہوں بلکہ یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ آج کی دنیاوی تعلیم میں تربیت ہی کی کمی کے باعث ہی تمام دنیاوی تعلیم حاصل کرنےوالے پریشان ہیں اور تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں نہ معاشرے کی پہچان رہی نہ ماں باپ اور اساتذہ کا احترام نظر آرہا آج کی تعلیم میں مجھے تو ہر طالب علم کتابی کیڑانظر آتا ہے – میں سمجھتا ہوں تعلیم کے ساتھ تربیت کے پہلو کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھایا جائے کہ طلباء صرف ڈگری حاصل نہ کریں بلکہ بہترین انسان بن کر معاشرے میں فعال کردار ادا کریں –

بحثیت استاد اور ایک منتظم کے آپ کیا سمجھتے ہیں تعلیمی اداروں میں کس قسم کی پالیسیاں یا اقدامات طلباء کو مفید شہری ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین انسان بھی بنا سکتی ہیں؟
منصور خان – ایک استاد ہونے کے ناطے میں تو یہ کہتا ہوں کہ ہرادارے میں ایک تو اسکاوٹ کے شعبہ کو لازمی قرار دیتے ہوے فعال رکھا جاٸے- دوسرا دینی تعلیم کو کسی صورت نظر انداز نہ کیا جاٸے خصوصاً نماز کی طرف توجہ دی جاٸے کیونکہ نماز ہر براٸی اور بے حیاٸی سے روکتی ہے طلباء کے اخلاق کو بہتر بنانے کے لیے استاد ہی اہم کردار ادا کر سکتا ہے –

آپ چونکہ تعلیمی شعبے سے وابستہ ہیں اور آپ کا رابطہ والدین سے بھی ہوتا ہے کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آج کے والدین تربیت کی زمہ داری احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں؟
منصور خان – جی میں ایک استاد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک باپ بھی ہوں اس میں ایک بات واضع کرتا چلوں والدین یعنی ماں باپ دونوں کی سوچ کامفیداور مثبت ہونا بہت ضروری ہے اگر دونوں اچھی سوچ کے مالک ہیں اور اسلامی اصولوں کے مطابق بچوں کی تربیت کی زمہ داری کو نبھا رہے ہیں تو بچے اعلیٰ اخلاق وکردار کے مالک ہونگے لیکن اس کے لیے والدین کو خود عملی طور پر بچوں کو ایسا ماحول فراہم کرنا پڑے گا تو وہ صحیح راستے کا انتخاب کریں گے –

معاشرے میں موجود بے راہ روی کی بڑی وجہ کیا ہے؟
منصور خان – اس کی میرے نزدیک سب سے بڑی وجہ دینی علوم سے ناواقفیت اللہ پاک کے احکام اور نبی پاک صلی اللہ وسلم کے طریقوں سے لا تعلقی ہے -بے روز گاری، تربیت کا فقدان، برے دوست یہ سب بھی اس کی وجہ ہیں –

زندگی کو آپ نے کیسا پایا؟
منصور خان – الحمد للہ – بہت اچھا – لیکن پہلے زندگی کا کوئی واضع مقصد نہیں تھا – اب جب سے اللّٰہ سے تعلق جڑا ہے تو کوشش ہوتی ہے اللّٰہ کی رضا اور خوشنودی کے لیے کام کئے جائیں –

خود کو اللّٰہ کے لیے کیسے بدلہ یا کس واقعے نے آپ کا رب سے تعلق مضبوط کیا؟
منصور خان – اللہ کی خاص کرم نوازی ہوٸی – والدہ کی خصوصی دعائیں اور علماء کی صحبت اور دعائیں، اس کے ساتھ ایک بہت ہی خوبصورت خواب میں خانہ کعبہ اور گنبد خضرہ کا دیدار بھی بدلنے کی وجہ ہے – دوسرا مجھے لگتا تھا کہ میرے اندر ہل چل ہے مجھے اچھائی کی طرف جانا چاہیے-اس لئے سیدھے راستے کا انتخاب کیا –

آجکل رشتوں میں احساس نہیں رہا اس کی بڑی وجہ کیا ہے؟
منصور خان – میرے نزدیک اس کی سب سے بڑی وجہ بے دینی، مال کی ہوس اور تربیت کا فقدان ہے –

کوئی اہم پیغام جو آپ دینا چاہیں؟
منصور خان – بس ایک ہی گزارش ہے کہ تمام کلمہ گو انسانوں نے اس کلمہ میں اللہ پاک سے وعدہ کیا ہوا ہے کہ اے اللہ ہم دنیا میں صرف آپ کے احکام اور نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے طریقے پر زندگی گزاریں گے اب اللہ پاک کے احکام اور نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے طریقے ہم سب کی زندگیوں میں آ جاٸیں اس کے لئے محنت ہے کہ اپنا مال جان وقت اللہ پاک کے راستہ میں خرچ کر کے خود بھی دین سیکھنا، نماز سیکھنا، اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دینا – اللہ پاک مجھے اور تمام دنیا کے مسلمانوں کو ایمان، نیک اعمال والی زندگی نصیب فرماٸے اور موت کے وقت کلمہ شہادت نصیب فرماٸے آمین ثمہ آمین-

یہ تحریر مضمون نگار کے ذاتی خیالات اور رائے پر مبنی ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *