اردو

غزل

ڈاکٹر فیاض احمد علیگ
انڈیا
کرنے لگے ہیں شیخ بھی جانے کہاں کی بات
زیر زمیں کی بات کبھی آسماں کی بات ۔
جن کے بغیر آج بھی ممکن نہیں فساد
کرتے ہیں ایسے لوگ بھی امن و اماں کی بات۔
واعظ ترا بیان فسوں ساز ہے مگر
” پیرمغاں کی بات ہے پیر مغاں کی بات”۔
بیکار سب دلیل ہے فریاد بھی فضول
سنتا نہیں ہے کوئی یہاں ناتواں کی بات۔
اک امتحاں سے یار ابھی فرصت نہیں نصیب
کرنے لگی ہے زندگی پھر امتحاں کی بات۔
ہر شعر پر یوں نقد مناسب نہیں جناب
اہل زباں کی بات ہے اہل زباں کی بات۔
نفرت کے باوجود سبھی بولتے ہیں یار
اردو زباں کی بات ہے اردو زباں کی بات۔
فیاض عشق میں بھلا کس بات کا ملال
ہوتی نہیں ہے عشق میں سود و زیاں کی بات ۔

WhatsApp Group Join Now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *