صرف یکجہتی ہی کیوں کیا کشمیر آزاد ہوگا؟
تحریر:سفیر احمد خان عباسی۔
5 فروری پر ہر سال ایک یکجہتی کی امید دینے سے کیا کشمیر آزاد ہو جاۓ گا ۔۔۔ کیا آپ کشمیر کی تاریخ پر غور کر سکتے ہیں یا امید اور یکجہتی پر ہی جینا ہو گا ایک نظر تاریخ پر ۔۔۔ کشمیری قوم کے 75 سال کسی قیامت سے کم نہیں جس دن بھارت نے جنت کشمیر پر اپنے ناپاک قدم رکھا اور یرغمال بنایا لیکن کشمیری قوم پھر بھی تن تنہا اپنی آزادی و بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں، ان 75 سالوں میں کشمیریوں کا مورال کمزور نہیں ہوا نہ ہی کشمیری گزشتہ 5 سال سے تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم جبراً نظر بند ہیں، وادی کا دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔بھارت نے کشمیر میں آرٹیکل 35 اے اور 370 کا خاتمہ کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی اور اسے بھارت کا حصہ قرار دے دیا، ان دو مخصوص آرٹیکلز سے واضح تھا کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے، کشمیر کا خصوصی قانون ہوگا اور ان پر بھارت کا آئین لاگو نہیں ہوگا، بھارتی شہری کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتے کشمیر کے لیے علیحدہ بنیادی حقوق ہیں لیکن اس کا خاتمہ کر کے بھارت نے کشمیر سے خصوصی حیثیت چھین لی، اسے دو حصوں (یونین ٹیریٹری آف کشمیر اور یونین ٹیریٹری آف لداخ) میں تقسیم کر دیا اور اس کا کنٹرول بھارت کے وفاق یعنی نئی دہلی کو دے دیا گیا۔
اس جبراً ریاستی اجارہ داری پر کشمیری رد عمل سے بچنے کے لیے بھارت نے نہتے کشمیریوں اور کشمیری قیادت کو نظربند کر دیا، ان سے تمام تر بنیادی سہولیات چھین لی تاکہ کشمیریوں کی آواز دبائی جا سکے اور بھارت کا مکرہ چہرہ دنیا کو نہ دکھائی دے کہ وہ کشمیر میں کس طرح ظلم و جبر اور انسانی حقوق کی پامالی کر رہا ہے۔ آج کا دن کشمیر اور پاکستان کے لیے سیاہ ترین دن ہے، کشمیر کے لیے اس لیے کہ کشمیریوں کے حق کا مکمل قتل کیا گیا اور پاکستان اس لیے کہ گزشتہ 75 سالوں سے پاکستان دعویٰ کرتا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے پاکستان کی زمہ داری زیادہ بنتی ہے کیونکہ پاکستان کشمیر کا فریق بھی ہے اور وکیل بھی۔۔۔ کشمیر کی آزادی ”حق خودارادیت ” کیلۓ پاکستان مکمل ساتھ دے گا دیتا رہا اور پاکستانی حکومتوں نے ہر پلیٹ فورم کشمیر کا مقدمہ پیش کیا اور آواز بلند کی جو قابل ستاٸش ہے جس کو کشمیری قوم ہمشیہ مقدم سمجھتی ہے لیکن بھارت نے ہٹ دھرمی سے اپنی فوج بھیج کر جبراً کشمیر پر قبضہ کیا ہے۔
پاکستان جو کہ کشمیر کے لیے بھارت سے تین جنگیں لڑ چکا ہے جس کا حوالہ تاریخ میں موجود ہے لیکن اس سب کے باوجود پاکستان کشمیر آزاد کرانے میں ناکام رہا ہے، تمام سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت کشمیر پر یک زباں ہوکر لبیک تو کہتی ہیں لیکن عملاً اس پر کوئی نتیجہ خیز فیصلہ نہیں کر پاتیں۔
کشمیر کاز اور کشمیر کمیٹی سیاسی مفاہمتوں کی نذر ہو چکی ہے، تمام سیاسی قیادت لفظی بیان بازی جلسے جلوسوں نعروں وعدوں اور دعوؤں تک ہی محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ کشمیر پر کمزور بیانیے اور کمزور حکمت عملی پر کوئی فرد واحد نہیں بلکہ تمام سیاسی قیادت ذمہ دار ہیں جو کشمیر پر صرف سیاست کر رہے ہیں، قوم اور کشمیریوں کے جذبات سے کھیل رہے ہیں اور کشمیریوں سے صرف ہمدردی کر رہے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ کشمیری قوم جنگ نہیں چاہتی امن کی خواں ہے لیکن اس کا مضبوط حل ضروری ہے کیونکہ کشمیری شہدا اپنی لاشیوں کو پاکستانی پرچم میں دفنانا فخر سمجھتے ہیں
اب جب کہ بھارت کشمیر پر اپنی مکمل اجارہ داری تھوپ چکا ہے کشمیریوں کے استحصال پر 75 سال مکمل ہو چکے ہیں اب اقوام متحدہ بھارت کے تمام ظلم و جبر سے واقف ہے ملک و قوم ہر بار کی طرح آج بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کر رہے ہیں کیا یہ کافی ہے
مگر چند تلخ سوالات جن کا کشمیری قوم کو انتظار رہے گا ۔۔۔
کیا بھارت اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ دے گا اور اپنی فوجیں نکال دے گا ؟
کیا سلامتی کونسل اور بین الاقومی ادارے کے اپنے قوانین کے زریعے بھارت کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کردے گا اور کشمیر میں لاگو طویل 75 سال پر محیط کرفیو ہٹا دے گا ؟
کشمیری قوم دنیا کی ایک باوقار قوم کی تاریخ رکھتی ہے کیا اسے اپنا پیداٸشی بنیادی آزادی رائے کا حق ” حق خودارادیت ” دیا جائے گا ؟
کیا کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ آزادنہ طور پر کر سکیں گے اور آخر کب ؟
مثبت جواب کا انتظار ۔۔۔
کیوں کہ گزشتہ 75 سالوں میں بھارت نے کشمیر کو ہڑپ کرنے کے لیے ہر دور میں چالیں چلی ہیں ایسے میں بھارت اپنی ہٹ دھرمی اور دعویٰ سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گا نہ ہی کسی بیرونی یا بین الاقوامی دباؤ میں آئے گا۔ کیونکہ بھارت کو ہمشیہ بین الاقومی اداروں کی آشرباد حاصل رہی
کشمیر اور کشمیریوں کی آزادی کے لیے بیان بازی اور جلسے جلوسوں نعروں اور ہمدردی کے بجائے پاکستان کو نتیجہ خیز فیصلہ کرنا ہوگا جو کشمیریوں اور پاکستانیوں کی امنگوں کے مطابق ہو، کیونکہ اب ہمارے پاس نہ تو قائداعظم موجود ہیں جنہوں نے اپنی فکر و فلسفے اور قلم سے دنیا کا نقشہ تبدیل کیا
ہر بار آزاد کشمیر میں الیکشن کیلۓ تمام پاکستانی سیاسی پارٹیاں اور مقامی کشمیری قیادت نے دن رات ایک کرتے ہیں اسطرح کشمیر کاز پر کام کر کے بڑی پیش رفت حاصل کیوں نہیں کی جا سکتی ہے مگر ۔۔۔ خاموشی اس پر آخر کیوں ۔۔۔!
بھارت نے کشمیری قوم کی اور کشمیر کاز کی ہر میدان میں مخالفت کی جس کی مثالیں ایک سال قبل اور چند روز پہلے کی موجود ہیں
کشمیری نوجونواں کی معروف تنظیم آل کشمیر فورم کے خلاف بھارتی بدنام ترین دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس نٕے نریند مودی کو خط لکھا کہ آل کشمیر فورم بھارت کے خلاف نفرت اور بدنامی کا باعث بن رہا ہے یہ ایک دہشت گرد کشمیری تنظیم ہے اس کو بینڈ اور سوشل میڈیا پر بالکل بلاک کر دیا جاۓ نہیں تو یہ ہمارے لیے پوری دنیا باعث شرمندگی کا اور مشکلات میں اضافہ کرے گی۔
مودی حکومت نے فورا ایکشن لیا فیس بک اور یوٹیوب انتظامیہ سے سوشل میڈیا پر بلاک کروا دیا کیونکہ وہاں آٸی ٹی ہیڈ سب بھارتی ہیں ساتھ ہی انسانی حقوق پر نظر رکھنے والی بین الاقومی ادارے کی تنظیم ہیومن راٸٹس واچ کو خط لکھ دیا اور اپنے ادارے سے ٹویٹ بھی کروا دیا کہ آل کشمیر فورم ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس کا جواب ٹویٹر پر ہی دیا گیا آل کشمیر فورم کو کلٸیر کرار دیا کہ یہ دہشت گرد تنظیم نہیں بلکے یہ کشمیری پڑھے لکھے نوجونواں کی ایک تنظیم ہے جو اپنے بنیادی انسانی حقوق کیلۓ کام کر رہی ہے ان کو یہ حق حاصل ہے کشمیر کاز پر امن اور انسانی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوۓ آزادی ۔ انصاف ۔خوشحالی ۔امن پر کام کر رہی ہے
ایک سال قبل مظفرآباد آزاد کشمیر میں کے پی ایل پر انقعاد بھارت کا جو ردعمل سامنے آیا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کو کشمیر سے کتنا خوف و بغض رکھتا ہے بھارت کو کسی بھی میدان کشمیر کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہتا ہے
بھارت کا پوری دنیا میں اس گھیٹا فعل پر بدنامی ہو رہی ہے
بھارت نے اپنا نقشہ تیار کیا جس میں کشمیر کو اپنا حصہ دیکھایا جس کو سامنے رکھتے ہوۓ کشمیر کے بیس کیمیپ آزاد کشمیر نے اپنا نقشہ تیار کیا جس میں پوری دنیا کو یہ باور کروایا کے سارے کا سارا کشمیر ہے ہمارا ۔۔۔
پوری دنیا کرونا کی وبا سے دو چار ہوٸی اور خود بھارت کی وباہ نے تباہی مچاٸی اور بھارتی عوام سڑکوں پر خوار ہوٸی اور مسلم قوم کے سامنے ہاتھ جوڑتی نظر آٸی اور دوسری طرف اسی مسلم کشمیری قوم کو کرونا میں بے یارو مدگار چھوڑا اور کسی میڈیا چینل کو کوریج اور کسی صحت پر کام کرنے تنظیم کو اجازت تک نہ دی کشمیری قوم دو سال سے حالت جنگ میں ہے لیکن میں سلام پیش کرتا ہوں اپنی کشمیری قوم کو جہنوں نے تمام بھارتی اندھے قوانین کو مسترد کیا ۔۔۔
موجودہ اس جدید دور میں بھی کشمیری قوم بنیادی حققوق و سہوليات سے محرمیات کے ساتھ کرفیو قید و بند ہے جو لفظ انسانيت اور دنیا کی عالمی تنظمیں کیلے لمحہ فکریہ ہے
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ساری زندگی کشمیری قوم یکجہتی پر ہی گزارہ کرے گی بس اس امید پر ہی رہے لیکن یہ سب دھکے کے علاوہ کچھ بھی نہیں جو 75 سالوں میں ملے
لیکن ایک بات ضرور سوچنا خدا دیکھ رہا ہے
انسانیت کا نام بھی بھارت میں شرمندہ ہے
اسلیۓ کہتے ہیں دشمن طاقت ور ہو اس کا مقابلہ انسان کر سکتا ہے گھٹیا اور منافق بزدل اور ذہنی مریض نہ ہو ۔۔۔
میں اپنے کشمیری ماٶں بہنوں بھاٸیوں بچوں بزرگوں کو یہ پیغام دیتا ہوں کہ آپ تہنا نہیں ہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں ہمشیہ ساتھ رہیں گے
تن سے جدا ہیں تو کیا ہوا
ہماری سانسیں تو ایک ساتھ دھڑکتی ہیں۔
یہ تحریر مضمون نگار کے ذاتی خیالات اور رائے پر مبنی ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

